اسلامی تاریخ میں مذہبی کارڈ کا پہلا استعمال
سیاست میں انتخابی منشور اور سیاسی ایجنڈوں کی تشہیر کے لیے مہم چلائی جاتی ہیں لیکن سیاست میں کسی ”سیاسی ایجنڈے“ کے لیے ”تبلیغ“ کرنے کی تلقین اس امر کی غمازی ہے کہ سیاسی ایجنڈوں کو ”مذہبی لبادہ“ پہنا کر ایک نئی روایت قائم کی جا رہی ہے۔ پاکستانی سیاست میں ”مذہبی کارڈ“ کا استعمال نئی بات نہیں ہے لیکن جس انداز اور طرز سے سابق وزیر اعظم عمران خان مذہبی کارڈ کھیل رہے ہیں اس کی مثال پاکستانی سیاسی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔
جہاں تک ملک کی مذہبی جماعتیں بالخصوص جمعیت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی جیسی جماعتوں کا معاملہ ہے تو وہ ان کی سیاست کا دعویٰ ہی یہی ہے کہ ان کی سیاست کا محور ملک میں ”اسلامی نظام“ کا نفاذ ہے لیکن ملکی سیاسی تاریخ میں اپنے سیاسی ایجنڈے کے حوالے سے مذہبی کارڈ کا غیر معمولی استعمال سابق آمر جنرل ضیاء الحق کی طرف سے کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان نے افغانستان میں روس کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑی اور اس کا خمیازہ آج تک وطن عزیز بھگت رہا ہے۔
بہر کیف بات ہو رہی تھی سابق وزیر اعظم عمران خان کی جو اپنی سیاست کے مقبول عام کے لیے نہ صرف ”مذہبی اصطلاحات“ استعمال کر رہے ہیں بلکہ ان کے سیاسی افکار نوجوانوں میں متشددانہ جذبات کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ”نوجوان میرا پیغام لے کر گلی محلوں میں جائیں اور لوگوں کو بتائیں کہ یہ“ حقیقی آزادی ”کی جنگ ہے، آپ نے پاکستان کے لیے“ تبلیغ ”کرنی ہے، یہ پیغام دینا ہے کہ اللہ کے سوا انسان کسی کے سامنے نہیں جھکتا، یہ بھی بتانا ہے کہ ملک پر سازش کے تحت“ امپورٹڈ حکومت ”مسلط کی گئی، آپ (نوجوانوں ) نے آرام نہیں کرنا بلکہ لوگوں کو بیدار کرنا ہے، عید والے دن عید ملیں تو لوگوں کو تبلیغ بھی کریں، ان کے کان میں کہیں کہ آزادی کی جنگ لڑنی ہے۔
پاکستانی سیاست میں سابق وزیر اعظم عمران خان جس طرح کا رنگ بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ نوجوانوں کے لیے کسی حد تک جاذبیت رکھتے ہوں گے لیکن یہ رنگ ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک بات ایسی ہے جو اپنے اندر حیرانی ہی نہیں بلکہ دلچسپی بھی رکھتی ہے۔ تاریخ میں آپ نے ایک ایسے اسلامی فرقہ کا نام تو سنا ہو گا جو ”خوارج“ کے نام سے پکارا جاتا ہے اور یہ وہ فرقہ تھا جس نے پہلے اپنے خلیفہ (حضرت علیؓ) سے سیاسی اختلاف کرتے ہوئے نہ صرف علیحدگی اختیار کی بلکہ اپنے نظریات اور عقائد کی بنیاد پر ”نئے مذہبی فرقہ یا گروہوں“ کی شکل بھی اختیار کرلی تھی۔
ایسے ہی آج سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیاست نظر آتی ہے جس پر کسی ”نئے فرقے“ کا گمان ہونے لگا ہے یعنی ایسا سیاسی فرقہ جس میں عقیدے کی حد تک کسی ”سیاسی شخصیت“ پر ایمان رکھا جاتا ہو، اور اس کے عقائد میں یہ بات ایمان کی حد تک لازم ہو کہ یہاں سے جو کہا جائے گا وہ حق ہے اور باقی سیاست میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کچھ جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ یہاں اپنے عریضے کو اختتام کرنے سے پہلے اسلام کے پہلے سیاسی فرقہ کی مختصر تاریخ بیان کرتا چلوں کہ۔
اسلام کا پہلا سیاسی فرقہ ”خوارج“ کو کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا لیکن اس سیاسی فرقہ نے خود کو نہ صرف ”مذہبی گروہوں“ کے طور پر پیش کیا بلکہ اس کی انفرادی طور پر تبلیغ بھی کی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہل خوارج بھی بہت سے نئے فرقوں میں بٹ گئے جن میں ”ازارقہ“ اور ”اباضیہ“ نمایاں فرقے ہیں۔ فرقہ ازارقہ کے مطابق اگر کوئی مسلمان کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ ”مرتد“ قرار پاتا ہے جس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی، یعنی وہ شفاعت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا ہے۔
فرقہ اباضیہ عقائد کے اعتبار سے دوسرے خارجیوں سے کم نہیں ہیں لیکن خارجیوں کے دوسرے فرقوں کے مقابلے میں یہ نسبتاً معتدل جذبات رکھتے ہیں۔ اسلام میں فرقہ خوارج کی ابتداء کیسے ہوئی، اس ضمن میں اسلامی تاریخ کی کتابوں میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن سب سے زیادہ بحث ان ”مکالمات“ میں ملتی ہیں جو اہل خوارج کے ساتھ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، حضرت عمر بن عبد العزیزؒ اور حضرت امام ابوحنیفہؒ کے درمیان ہوئے تھے۔
اگر ان مکالمات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس سے بہت سے مذہبی و سیاسی معاملات کو مختلف پہلوؤں سے جانچنے کی ترغیب ملتی ہے۔ جہاں تک اسلام میں فرقہ خوارج کے وجود میں آنے کا معاملہ ہے تو قصہ کچھ یوں ہے کہ اسلامی کیلنڈر کے مطابق 37 ہجری میں امیر المومنین حضرت علیٰ اور حضرت معاویہ ؓکے درمیان جنگی حالات پیدا ہوئے جس کے نتیجے میں ”مقام صفین“ پر جنگ ہوئی اس موقع پر حضرت معاویہ ؓ نے دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے ”ثالث“ کے ذریعے تنازعات کے حل کی پیشکش کی جسے حضرت علیؓ نے قبول کر لیا لیکن حضرت علی ؓ کی فوج میں شامل قبیلہ ”بنو تمیم“ نے حضرت علیؓ کے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور قرآن کریم کی آیت مبارکہ ”ان الحکم الا للٰہ“ سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ حکم دینا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور انسانوں میں سے کسی کو حکم اور ثالث مقرر کرنا کفر ہے۔
اور اس طرح حضرت علی ؓ کے لشکر سے چھ ہزار افراد نکل کر الگ ہو گئے اور ”حروراء“ کے مقام پر پہنچ کر ”عبد اللہ بن وہب راسی“ کو اپنا امیر منتخب کر لیا۔ حضرت علی ؓ کی فوج سے الگ ہونے اور امیر المومنین کی اطاعت سے انکار کے بعد انھیں ”خارجی“ کہا گیا، جنھیں ”حروریۃ“ بھی کہا جاتا ہے جو مقام حروراء کی نسبت سے ہے۔ یوں تو یہ ایک سیاسی فرقہ تھا کہ جو بعد ازاں اپنے متشدد عقائد اور خیالات کی باعث ایک مذہبی گروہوں میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔
غیر مدلل بیانیہ اور اندھی تقلید کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ یہاں کوئی یہ جاننے کی کوشش کرے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان پاکستان کو ایک ”فلاحی ریاست“ بنانے کے لیے کوئی منصوبہ یا پروگرام بھی رکھتے ہیں جس پر وہ عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں کامیاب ہو پائیں گے۔ جاننے کی کوشش میں یقیناً تھکاوٹ کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ جہاں تک پاکستان کو ”ریاست مدینہ“ بنانے اور اب پاکستان کی ”حقیقی آزادی“ کے لیے تبلیغ کرنے کی بات ہے تو یہ جگالی کہاں سے منہ میں ڈالی جا رہی ہیں اس کا اندازہ لگانا اب مشکل نہیں رہا لیکن اتنا ضرور ہوا ہے کہ پاکستانی سیاست نے ایک ”خارجی“ فرقہ کو جنم دیا ہے جو ”آئین اور قانون“ کی تشریح بھی اپنے منشاء کے مطابق چاہتے ہیں، بصورت دیگر سب ”کفر“ ہے۔


