دیوان سنگھ مفتون


اکبر الٰہ آبادی کا ایک مصرعہ ہے۔

جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

گزشتہ صدی میں بیس تا پچاس کی دہائیوں کے درمیان تقریبا ً  33 سال تک اس کلیۓ پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ ایک شخص نے کچھ ایسی ہلچل مچاۓ رکھی کہ ان  کی مثل کوئی اور مہتاب آسمانِ صحافت پر ایسی دھج سے ایک بڑے عرصہ تک پھر نہ چمکا۔
دیوان سنگھ مفتون کا آبائی تعلق( ضلع )حافظ آباد سے تھا۔آپ بس پرائمری تک ہی تعلیم حاصل کر پاۓ۔ والد ڈاکٹر تھے اس لیۓ آپ نے کمپاؤڈر کا کام سیکھ لیا۔ والد ان کے لڑکپن ہی میں  چل بسے اور یوں ایک متموّل زندگی آہستہ آہستہ مسائل کا شکار ہونے لگی۔ بہت سے معمولی کاموں کو زریعہ روزگار بنانے کے بعد آپ نے ریاست نابھ میں ملازمت اختیار کی جس کے دوران ایسے ایسے تکلیف دہ واقعات نظر سے گزرے کہ اس ملازمت سے دلبرداشتہ ہو کر اسے خیر باد کہہ دیا۔ آپ دلّی چلے آۓ اور صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ سب سے پہلے خواجہ حسن نظامی کی شراکت کے ساتھ روزنامہ ً رعیت ً کا اجراء کیا۔ اس کے بعد اپنی دنیا آپ پیدا کرتے ہوۓ ً ریاست ً نامی روزنامہ جاری کیا۔ 1924 میں اس کا آغاز اور 1957 میں اس کی بندش ہوئی۔
ریاست، دورِ راج کی ریاستوں کی سکینڈل نما خبریں چھاپا کرتا تھا۔ یہ ریاستیں ایک لحاظ سے آزاد تھیں اور اپنا نظام رکھتی تھیں۔ برِ صغیر کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ان ریاستوں کی تعداد 565 تھی ۔ ان میں رقبے کے لحاظ سے کافی بڑی ریاستوں کے ساتھ ساتھ بہت چھوٹی ریاستیں بھی شامل تھیں۔
ریاست اخبار میں ” ناقابلِ فراموش ” کے عنوان کے تحت ان ریاستوں میں پیش آنے والے ایسے واقعات سامنے لاۓ جاتے  جو کسی نہ کسی طرح ظلم وذیادتی کی دلگداز داستان ہوتے تھے۔ اس ضمن میں والیانِ ریاست سے ان بن ہونا قدرتی امر تھا جو بعض اوقات مدیر کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمات کی شکل احتیار کر لیتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یوں  آپ نے دو درجن سے ذیادہ مقدمات کا مختلف وقتوں میں سامنا کیا۔ ان میں سب سے پریشان کن مقدمہ وہ تھا جو بھوپال کے نواب کی طرف سے دائر کیا گیا۔ مشہور تھا کہ اس مقدمہ میں وکلاء کو دی گئی فیسوں اور دیگر اخراجات کی مد میں نواب صاحب کا دس لاکھ روپیہ خرچ ہوا جبکہ دیوان سنگھ کا ایک لاکھ سے ذیادہ ۔اور یہ ان کی مالی حیثیت کے مقابلے میں کافی بڑی رقم تھی۔چنانچہ آپ اس دور میں مالی پریشانی کا شکار بھی ہوۓ۔
ذیادہ تر ناقدین کے نزدیک ریاستوں میں دبائی ہوئی خبروں کو آپ کا سامنے لانے کا مقصد بے لوث اور مثبت تھا لیکن ایک راۓ یہ بھی ہے کہ یہ ذرد صحافت کے سوا کچھ نہ تھا  جس کا مقصد والیانِ ریاست کی کمزوریوں کا فایدہ اٹھا کر ذاتی مفاد کا حصول تھا۔ دیوان سنگھ اس راۓ کو جھٹلاتے تو نہ تھے لیکن یہ عذر پیش کرتے تھے کہ ایسی صورت میں حاصل شدہ مالی فائدہ انہوں نے کبھی اپنی ذات پہ خرچ نہیں کیا بلکہ ریاست اخبار کو بہتر سے بہتر بنانے پہ لگاتے رہے۔ اس کی موافقت میں وہ یہ دلیل دیتے تھے کہ گاندھی جی جیسے بے لوث لیڈر بھی  تو اپنی تحریک کے لیۓ مالی امداد امراء، کارخانہ داروں اور تاجروں سے لیتے رہے ہیں۔
کتاب ” ناقابلِ فراموش ” میں وہ واقعات درج ہیں جو اسی عنوان کے تحت ریاست اخبار میں ہفتہ وار شائع ہوتے رہے جبکہ ان کی دوسری کتاب ً سیف و قلم ً میں ذیادہ تر اس دور کی معروف شخصیات کا ذکر ہے اور ان کی شخصیت کے کسی ایک یا ایک سے ذائد اچھے یا کمزور پہلؤوں کی نشاندہی ہے۔
سیف و قلم کا ابتدائیہ ایک سے ذائد نامور شخصیات نے لکھا ہے۔ ان میں جوش ملیح آبادی، سعادت حسن منٹو اور چراغ حسن حسرت شامل ہیں۔ جوش صاحب نے ا پنے دیباچہ کے آغاز میں ان کا تعارف اپنے مخصوص انداز میں یوں کرایا ہے۔
” سیر چشم، کوتاہ قامت، بلند حوصلہ، مہمان نواز، شیر دل، دوست پرور، دشمن قاتل، سلطان شکار، گدا نواز ، بدترین دشمن اور بہترین دوست "
آخری دو صفات کے حوالے سے ان کی  خواجہ حسن نظامی سے دوستی اور پھر دشمنی، دونوں اپنے اپنے دور میں انتہا کو چھوتے ہوۓ رویۓ ان کی شخصیت کے متذکرہ پہلؤوں کی نمایاں مثال تھے۔
دیباچوں کے بعد ان کا ایک انٹرویو ہے جس میں جب ان سے ان کے مذہب کے بارے میں پوجھا جاتا ہے تو کہتے ہیں ” 20 فی صد سکھ ہوں کہ سر پہ بال اور داڑھی ہے۔20 فی صد مسلمان ہوں کہ حضورِ اکرم کے  ارشاد، کلمہء حق کو افضل جہاد کہنا، کا پیروکار ہوں۔ 20 فی صد عیسائی ہوں کہ حضرت عیسیٰ کا مصلوب ہونا دنیا کے لیۓ بڑی قربانی سمجھتا ہوں۔20  فی صد ہندو ہوں کہ شری کرشن اور گیتا کا پرستار ہوں۔اور 20  فی صد احمدی ہوں کیونکہ میرے یقین کے مطابق آئندہ بھی نئے اوتار اور پیغمبر پیدا ہوں گے۔”
دونوں کتابوں میں جو واقعات بیان کیۓ گئے ہیں، خاص طور پہ ناقابلِ فراموش میں، یہ ذیادہ تر ریاستوں سے متعلق ہیں لیکن راج کے علاقوں کے واقعات اور شخصیات کا ذکر بھی دونوں کتابوں میں ملتا ہے۔ مصنف کا مجموعی  تاثر یہ ہے کہ راج کے علاقوں میں ریاستوں کی نسبت کہیں بہتر نظام رائج تھا اور عام شہری کے ساتھ ظلم یا نا انصافی کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔
دیوان سنگھ کے احباب میں مسلمانوں کی تعداد اچھی خاصی تھی۔ملا واحدی سے تو ان کا یارانہ تھا۔ وہ تقسیم کے موقع پر ہجرت کر کے کراچی آ گیۓ تھے جس کا دیوان سنگھ کو بڑا قلق تھا۔ ویسے بھی وہ زندگی بھر تقسیم کی مخالفت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ 1947 ء کے بعد ریاست میں اکثر پاکستان مخالف مضامین بھی شائع کرتے رہے۔
جن دو مسلمان شخصیات کے وہ بے حد مداح تھے ان میں ایک تو مولانا ابوالکلام آذاد تھے جن کی تحریر اور کردار کو وہ اپنی مثال آپ مانتے تھے۔  آپ کی تحریر کے بارے میں انکی وہی راۓ تھی جو حسرت موہانی کے ہاں ملتی ہے ۔
جب سے دیکھی ہے ابوالکلام کی نثر
نظمِ حسرت میں بھی مزا نہ رہا
جہاں تک کردار کی بات ہےآپ نے لکھا ہے کہ انہوں نے اپنی وزارت کے زمانے میں بینک سے قرض لے کر ایک نئی کار خریدی تھی۔  جب فوت ہوۓ تو ابھی اس کی 7 اقساط باقی تھیں۔ وہ پنڈت نہرو کے اس قدر قریب تھے کہ اگر کوئی اور شخص ہوتا تو اس حیثیت سے فائدہ اٹھا کر اپنے لیۓ تو کیا، آنے والی نسلوں کے لیۓ بھی بہت کچھ چھوڑ جاتا۔ اسی طرح ایک اور وزیر رفیع احمد قدوائی  کا ذکر کیا ہےجو خاندانی رئیس تھے۔ اس قدر فیاض تھے کہ تا دمِ مرگ سائلین کی ضروریات بینکوں اور ساھوکاروں سے سود پہ قرض لے کر بھی پوری کرتے رہے۔
میدانِ سیاست میں آپ گاندھی جی کے سادہ طرزِ زندگی پہ دل و جان سے فدا تھے اور انکی پیروی میں ان کے بقول انہوں نے بہت سی کار آمد عادات بھی اپنا لی تھیں، جیسے اپنے کپڑے خود دھونا وغیرہ۔ پنڈت نہرو کے متعلق انہیں متواتر یہ شکائت رہی کہ بطو وزیرِ اعظم سیاسی احداف کے حصول کے لئے اکثر اصولوں کو قربان کیا اور کانگریسی نیتاؤں کی بے ایمانیوں سے جان بوجھ کر چشم پوشی کرتے رہے۔
وہ اصول پسندی کے معاملے میں مدھیہ پردیش کے ایک وزیراعلیٰ ڈاکٹر کیلاش نرائن کانجو اور مشہور سکھ راہنما ماسٹر تارا سنگھ کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اگرچہ ماسٹر تارا سنگھ نے ایک معاملے میں ان کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔
میرِ مرثیہ نگاراں، میر انیس کی ایک شاعرانہ تعلی کا ہمیشہ سے بہت چرچا رہا ہے۔ دعویٰ کیا کہ۔
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں۔
 دنیاۓ شعر کے مقابلے میں نثری ادب میں تعلی کی روائت نہیں پائی جاتی۔ اس ناہیۓ میں عجز کی روایت رائج رہی ہے۔ ایسا ہی رویہ دیوان سنگھ مفتون کا بھی تھا۔ انہوں نے اپنی واجبی تعلیم اور مادری زبان پنجابی ہونے کی بناء پر اپنی اردو کی کمزوریوں کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا اظہارِ عجز اپنی جگہ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ نے ایسے ایسے پرتاثیر انداز میں بات کی ہے کہ داد دیۓ بغیر چارہ نہیں۔ مثال کے لیۓ یہ حوالہ حاضر ہے۔
” مرحوم حضرت سالک ایڈیٹر انقلاب نے ایک بار خوب کہا تھا۔
 ً اگر کاتب حضرات قرآن کی کتابت کرتے ہوۓ قرآن کے مقاصد اور مطالب پر غور اور عمل کرتے تو قرآن کی کتابت کرنے والا ہر شخص ولی ہوتا۔ کیونکہ ان کاتبوں میں سے ہر ایک نے دس دس بارہ بارہ بار قرآن کی کتابت کی ہوتی ہے۔ً
مرحوم سالک کا یہ بیان بہت ہی پرمعنی اور قابلِ غور ہے کیونکہ ایک کتاب کو شروع کر کے اس کو ختم کر دینے اور اس پر عمل کرنے میں بڑا فرق ہے۔ اس کتاب کو پڑھنا تب ہی مفید ہو سکتا ہے اگر اس پر عمل کیا جاۓ۔ سوشلسٹ لیڈر میر مشتاق بہت بلند لوگوں میں سے ہیں۔ایک بار ان سے کانگریسی حضرات کی بد دیانتی، بےایمانی ، پرمٹ بازی اور رشوت کے بارے میں بات ہو رہی تھی۔ راقم الحروف نے جب یہ کہا کہ ان لوگوں میں وہ حضرات بھی شامل ہو گیۓ جو سال ہا سال سے مہاتما گاندھی کے ساتھ رہے، تو میر صاحب نے فرمایا، یہ کانگریسی ایسی کاہی کی مانند ہیں جو مستقل صاف اور ستھرے دریا کے کناے پہ رہنے کے باوجود بھی کائی ہی رہتی ہے کنول نہیں ہو سکتی۔ یہ لوگ برسوں مہاتما گاندھی کے ساتھ رہنے کے باوجود اپنی فطرت کو نہ بدل سکے اور بدیانت ہی رہے۔”
بر ِصغیر کی تاریخ کے اس موڑ پر جب  راج کا سورج نصف النہار سے غروب کی سمت رواں ہو چلا تھا۔ کشورِ ہند کی  راجدھانی اس دلی میں جسے میر نے عالم میں انتخاب کہا تھا، ایک ہنگامہ خیز زندگی گزارنے کے بعد دیرہ دون جیسے خاموش قصبے میں دیوان سنگھ مفتون نے زندگی کے آخری سال گزارے اور پھر وہیں سے جہانِ دگر کو رخصت ہوۓ۔
اُس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں   ۔                جون ایلیا
Facebook Comments HS