زندگی رات کے پچھلے پہر منیر نیازی کی خوابناک شاعری سے لطف اٹھانے کا نام ہے


آج لاہور سے عزیزم اظہر اقبال نے ڈاک خانہ کے ذریعے منیر نیازی کے شعری مجموعوں کی ”عیدی“ بھیجی، جسے دیکھ کر طبیعت نہال ہو گئی۔ اس کلجگ میں، جہاں اب خط لکھنے اور کتابیں پڑھنے کی روایت کو کہولت نے آ لیا، ڈاک بابو جب بھی کوئی چٹھی یا کتاب کا تحفہ لے کر آتا ہے تو اس کی دست بوسی کو جی چاہتا ہے۔

غم روزگار کے بار اور سماجی ذرائع ابلاغ کے دوش پر عجیب الخلقت شاعروں کی بھرمار نے ہمیں خوبصورت شاعری سے کسی حد تک دور کر دیا ہے۔ لیکن جب غم دوراں سے کچھ فراغت میسر ہو اور غم جاناں کی کیفیت بھی شامل حال ہو جائے تو کوئی کافر ہی اقبال، فیض احمد فیض، ناصر کاظمی، احمد فراز اور محسن نقوی کی شاعری سے انکار کر سکتا ہے۔

اگر اپنی پسند کی بات کی جائے تو علامہ اقبال وہ شاعر ہیں جن کی کتابیں ہمیں ابا جان سے ترکے میں ملیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہر سال جب ہم گاؤں میں اپنے آبائی گھر جاتے تو بجلی کی عیاشی سے سربلند، نیم تاریک، کشادہ، سیلن زدہ اور کچے کمرے میں ہمارا واسطہ کئی قسم کی کتابوں سے پڑتا۔ جن میں سے کچھ کتابیں دادا ابا کی جب کہ کچھ ابو جان کی خریدی ہوئی تھیں۔ ہر کتاب کے پہلے صفحے پر لگا ”برڑہ کتب خانہ“ کے نام کا ٹھپا خاندانی ملکیت کے احساس اور کتاب کھولتے سمے اس کے بوسیدہ صفحات سے آنے والی گہری مہک روح کو شانت کر دیتے۔

وقت نے کروٹ بدلی تو گاؤں کا گھر بہت دور رہ گیا اور اس کے مکین اسی گاؤں میں گھر سے چند قدم فاصلے پر موجود قبرستان کے مکین بن کر عروضی زمانوں سے پرے جا آباد ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں زمانہ طالب علمی کے دوران ایک دن ہم نے کسی رسالے میں احمد فراز کی ایک غزل کے چند اشعار پڑھے جو جانے کیوں ہمیں اچھے لگے اور فوراً ہی اسے گلابی صفحوں والی رف کاپی میں لکھ لیا تھا کہ سکول میں اردو کے انچارج سید حسن جہانیاں ساغر بخاری صاحب سے ان اشعار کی تشریح پوچھیں گے۔

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے
اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

وہ 1997 ء کا سال تھا اور اپنے استاد صاحب سے احمد فراز کے اشعار کی تشریح پوچھنے والا یہ خاکسار جماعت ہفتم کا طالب علم۔ اس دور میں ہمیں ابا جان کی طرف سے روزانہ پانچ روپے جیب خرچ ملتا تھا۔ کئی دن ”پیٹ کاٹ“ کر اپنی جیب خرچی گولک میں جمع کی اور اپنی زندگی میں پہلی بار احمد فراز کا شعری مجموعہ ”پس انداز موسم“ خرید کیا۔ جسے آج بھی چھوتے ہوئے، پڑھتے ہوئے رومانس اور نوسٹیلجیا کے خوش رنگ موسم قلب و نظر میں ہمکنے لگتے ہیں۔ اپنے پیسوں سے خریدی ہوئی پہلی کتاب دراصل پہلی محبت کی سی ہوتی ہے جس سے جذباتی وابستگی مرتے دم تک باقی رہتی ہے۔

بعد کے دنوں میں ایک ایک کر کے احمد فراز کے تمام شعری مجموعے ”کاشانہ نسیم“ کی لائبریری کی زینت بنائے۔ سرما کی طویل یخ بستہ راتوں اور گرمیوں کی حبس زدہ اداس شاموں میں عباسیہ لنک کینال کے کنارے، ریسٹ ہاؤس کے کسی گوشے میں یا خیر پور ڈاہا روڈ پر عامر لعل بخاری کے ساتھ بادیہ پیمائی کرتے ہوئے احمد فراز کی غزلیں اور نظمیں ہمارے ہم رکاب رہیں۔

ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ سوہنے من موہنے، سچے کھرے، رس بھرے، مدھ بھرے صورت گر، خواب گر احمد فراز کے کلام نے ہماری سوچوں کو یقین اور سرشاری بخشی، ہمارے دکھوں کو زبان دی اور ان کو نئے پیرہن اور معنی عطا کیے، فراز صاحب نے ہماری سماعتوں کو اپنے گیتوں، اپنی گفتگوؤں سے جدت و جمالیات کی ایسی ایسی جہات سے منور کیا کہ جو صرف وہ ہی کر سکتے تھے۔

گاہے گاہے خیال آتا ہے کہ ہمارا عہد اپنی تمام تر بدنصیبیوں کے باوجود خوش نصیب ہے کہ اس نے مذہبی جنونیت، سیاسی منافقت، ثقافتی منافرت، آمرانہ وحشت و بربریت کے مذموم دھندوں کے خلاف ”پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے“ آوازہ لگاتے اور اپنے شعور کا حق ادا کرتے احمد فراز کو پایا۔

اقبال کی الوہی شاعری، فیض کی انقلابی شاعری، فراز کی رومانوی شاعری، ناصر کاظمی کی اداس شاعری اور محسن نقوی کی تنہا خموش شاعری جہاں انسان کو زیست اور جذبوں کی مختلف جہات سے روشناس کراتی ہے۔ وہاں منیر نیازی کی پراسرار، حسین اور خواب ناک شاعری پڑھ کر ایسے لگتا ہے، جیسے ہم کوئی خواب دیکھ رہے ہوں یا خود سے کلام کر رہا ہوں۔ ان کے کلام میں لفظوں کی روانی کے ساتھ گزرتے ہوئے منظروں کی روانی ہے۔

اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو
پھرتے ہیں مثل موج ہوا شہر شہر میں
آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو
شام الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا
راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو
آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

سوچ رہا ہوں کہ گاہے جو غم روزگار سے فراغت میسر ہو اور گاہے عامر لعل بھی آ جائے تو اس بار ہم منیر نیازی کی کتاب اٹھا کر شہر کے ہنگاموں سے دور، نہر کے پرلے کنارے کی طرف چلے جائیں اور پیدل روی کے ساتھ منیر نیازی کے کلام پر سر دھنتے ہوئے شکستہ خوابوں کا ماتم کرتے جائیں اور لفظوں کی روانی کے ساتھ ساتھ گزر جانے والے منظروں کی روانی پر آہیں بھرتے جائیں۔ لیکن رخش عمر کی تیز رفتاری کا کیا کیجیے کہ مصروف زندگی کی چند ساعتوں کو پراسرار، حسین اور خواب ناک بنانے میں اکثر دیر ہو جاتی ہے۔

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

Facebook Comments HS