پسند کی شادی بچوں کا حق ہے


لڑکا محبت کرتا تھا سید ہی تھا لیکن لڑکی والوں جتنا امیر نہیں تھا رشتہ بھیجا جسے دھتکار دیا گیا لہذا اس نے کچھ پلاننگ کی اور لڑکی کو بھگا کر لے گیا۔ لڑکی والے بھی اچھے خاصے عزت دار تھے اور ایسی خبریں کہاں چھپتی ہیں خیر اس کیس میں طرفین میں میرے تعلقات تھے بہت قریب سے سارے معاملے کو دیکھنے کا موقع ملا لڑکے کے اس عمل سے والدین کو بہت تکلیف پہنچی اور وہ کم بخت تھا بھی اکلوتا بیٹا لیکن یہ محبت نام کی بلا جس پر منڈلانے لگے اس کی عقل کی جان لے کر ہی چھوڑتی ہے اور ایسے معاملات میں جنونی کیفیت ہوتی ہے انسان کچھ بھی کر گزرتا ہے۔

جب وہ لڑکی کو لے کر گیا انہوں نے نکاح کر لیا اور چوری چھپے زندگی گزارنے لگے پولیس نے دوستوں کو بھی دھر لیا اور انویسٹی گیشن کی گئی آج اس جوڑے کے پاس دو اولادیں ہیں اور والدین نے معاف کر دیا ہے اور وہ ملتے جلتے ہیں اگر چند سالوں بعد صلح ہو ہی جانی ہے معاف بھی کر دینا ہے تو یہ جو کرب دو خاندانوں نے اٹھا یا کیا یہ اٹھایا جانا لازمی تھا۔ کمپلیکس کے مارے ہم لوگ تو بیٹی کو پسند کے اظہار کی اجازت نہیں دیتے بیٹوں کو فخریہ طور پر کہتے ہیں جو پسند کرو گے لے آؤں گی لیکن بیٹی کو یہ حق دینا تو دور کی بات سوچنے کا حق بھی نہیں دیتے۔ بس چند ایک خاندانوں میں بھی بس اپنی پسند پر اس کی مرضی جان لی جاتی ہے۔ میں وکلاء اور ججز سے ملا ہوں ایسے بے شمار طلاق کے کیسز ہیں جہاں شادی کے بعد بھی محبت قائم نہیں ہو پاتی اور طلاق ہو جاتی ہے اور اپنی پسند تھوپ کر بہت سی لڑکیوں کی قربانی دے دی جاتی ہے جبکہ وہ دلی طور پر رضامند نہیں ہوتیں۔

گزشتہ روز سوشل میڈیا پر زاہرہ کاظمی کے معاملے کو لے کر بہت بحث کی جا رہی تھی میں ایک دوست کے ہمراہ سفر کر رہا تھا وہ کہنے لگا مرشد میں نے ایک ریسرچ کی ہے کچھ کیس سٹڈیز بنائی ہیں جس میں نے لڑکیوں سے تعلقات قائم کیے ہیں جس میں ہر طرح کی خواتین شامل ہیں ہر عمر کی اور ہر کلاس کی بعض لڑکیاں تعریف پر ہی مائل ہو گئیں، بعض اچھی نوکری کی وجہ سے بعض انداز گفتگو سے اور ان میں سے اکثر و بیشتر خواتین ملنے کو بھی آمادہ تھیں لیکن کیونکہ میں یہ کام صرف سمجھنے کی غرض سے کر رہا تھا لہذا ملا کسی سے بھی نہیں لیکن ایک لڑکی میرے چنگل میں نہیں آئی اس کی عمر کم تھی لیکن بلا کی میچور تھی اس نے میرے سارے طریقوں پر پانی پھیر دیا اور ساتھ مجھے احساس بھی دلوایا کہ میں یہ کیوں کر رہا ہوں، اس کی میچورٹی کی وجہ اس کے والد سے دوستی اور جڑت تھی میں جہاں ایک لحاظ سے تجربہ کار ہوا بیٹھا تھا میرا سارا تجربہ باپ کی دوستی نے خاک میں ملا دیا، شاید میں یہ بات نا کرتا جو آپ کے سامنے رکھی ہے لیکن یہ بڑھتے ہوئے واقعات سے یہ لازمی تھا کہ اس موضوع پر لکھا جائے میرے ابا کی بھی بیٹیوں کے ساتھ بہت جڑت ہے ان کی چھوٹی سی شکایت پر بھی خاکسار کی تباہی مچا دی جاتی ہے اور بیٹی سے ویسے بھی والد کی محبت لافانی ہے بعض اوقات میں مجھے جیلسی بھی ہوتی ہے لیکن ابا جان کی اس بات سے تسلی ہو جاتی ہے کہ ان کی رخصتی تک تو بالکل بھی تم ان کی محبت کی جگہ نہیں لے سکتے البتہ اس کے بعد تمہاری ہی ہے محبت دیکھیں والد کے ساتھ جڑت نے اس لڑکے کے تجربے کی ایسی تیسی پھیر دی راستے میں لاہور کی نوجوان صحافی دعا مرزا کا تذکرہ بھی کیا کہ مرشد وہ بہت دبنگ خاتون ہے اور میری چونکہ بہنوں جیسی ہے میں جانتا بھی ہوں کہ وہ دبنگ ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں علم نہیں ہوتا کہ ہمارے بچے کر کیا رہے ہیں جس کا نتیجہ سنگین نکل آتا ہے اور ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں بے شمار ٹولز موجود ہیں جہاں انسان کہیں نا کہیں پھنس جاتا ہے جہاں تک میں نے دیکھا ہے کسی لڑکی کو کیئر نا مل رہی ہو تو کہیں سے کیئر ملتے ہی کام خراب ہوجاتا ہے بعض جگہوں پر لڑکیوں کو بلا وجہ کی سختیوں کا سامنا ہوتا ہے والد یا بھائی کی جانب سے تو وہ باغی رویہ اپناتے ہوئے بھی کہیں تعلق قائم کر لیتی ہیں ایک اہم ترین وجہ کمپنی بھی ہے ڈراموں میں بھی دکھایا جا رہا ہے کہ اگر ہوسٹل کی ایک لڑکی کا کوئی تعلق ہے تو وہ جب ملنے جاتی ہے چار سہیلیاں بھی ساتھ لے جاتی ہے جس سے وہ بھی کہیں نا کہیں اس ماحول کی جانب راغب ہو سکتی ہیں یا ہو جاتی ہیں جہاں ڈراموں سے مجھے بہت سارے اختلافات ہیں وہیں پر صائمہ اکرم چوہدری صاحبہ کے ڈرامے میں بھی کمپلیکس کو توڑنے کی کوشش کی گئی ہے اور جس طرح سے ہم تم میں تینوں بہنوں کی ددو کے ساتھ جڑت کو دکھایا گیا ہے وہ بھی میرے کالم میں ذکر ہونے کے دوستی کے مترادف ہے بیٹیاں کبھی بھی بوجھ نہیں ہوتیں وہ فخر ہوتی ہیں ان کو اعتماد دیجئے عید کی چھٹیوں میں گنگو بائی فلم دیکھ رہا تھا تو وہ لڑکی جو گھر سے بھٹک کر غلط جگہ پہنچ جاتی ہے خط لکھتے ہوئے روتے ہوئے اظہار کرتی ہے کہ کاش گھر چھوڑتے ہوئے ابا سے بات کر لیتی اور وہ مجھے روک لیتے بھئی سیدھی سی بات ہے لڑکی کو اعتماد دیجئے تاکہ وہ آپ سے پوچھتی اور آپ کو بتاتی رہے کہیں یہ نا ہو کہ اس کا استاد ہی اس کے ساتھ تعلق بنائے بیٹھا ہو یا کم از کم کوشش میں ہو اور وہ پڑھائی چھوٹ جانے کے ڈر سے آپ کو بتا نا پائے اپنی بیٹی سے دوستی کر لیں اور اسے کم از کم پسندیدگی کے اظہار کا حق دیں کیونکہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی کو بھی ایک خاتون نے پسند کیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ مناسب نظر ضرور رکھیں یہ پوچھتے رہیں کہ زندگی میں کیا چل رہا ہے بیٹی یا بیٹے کو ایک مناسب حد تک کسی کو پسند کرنے کے حوالے سے کوئی پیمانہ ضرور دیا جا سکتا ہے لیکن یوں پسند ہی نا کرنے کے حوالے سے سختی کوئی اچھا عمل نہیں ہے ہمارے ہاں بیچارے وہ لوگ بھی ساری زندگی جھوٹ گزار کر گزارتے ہیں جن کی پسند کی شادی ہو جائے حالانکہ دیکھا جائے تو بھئی کون سا گناہ کر لیا ہے شریعت کے تحت نکاح کیا ہے۔ بچہ کیا دیکھ رہا ہے یہ بہت اہم ہے والدین کو چاہیے سافٹ ویئر کمپنیوں سے رجوع کر کے بچوں کو صرف وہی دیکھنے دیں جو انہیں دیکھنا چاہیے

Facebook Comments HS