سیکس میں عزت دو


اخلاقی اقدار جو کہ عالمی ہوتی ہیں جن کا تعلق کسی خاص نسل، گروہ یا قبیلے سے نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی خاص نسل یا گروہ کی ان پر اجارہ داری ہوتی ہیں بلکہ ان کا تعلق انسانوں سے ہے، انسانیت سے ہے۔ اسی طرح یہ اخلاقی اقدار ہر انسانی تعلق اور خاص کر میاں بیوی کے رشتہ پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔

سیکس ایک بنیادی ذہنی و جسمانی ضرورت ہے۔ اور شادی ایک سماجی معاہدہ ہے جس کے تحت عورت اور مرد ایک دوسرے کو بطور شوہر اور بیوی آزادانہ رضا مندی سے قبول کرتے ہیں۔ شادی بالکل بھی آزادانہ بنا روک ٹوک کے اجازت نہیں دیتی کہ بیوی کے ساتھ جبر اور زور زبردستی سے پیش آیا جائے، خاص کر بنا اس کی رضامندی کے سیکس کرنے کا مرد کو ہرگز بھی لائسنس نہیں دیتی۔

زوجہ محترمہ اگر گھریلو مصروفیت اور کام کاج جو کہ آٹھ گھنٹے کا نہیں بلکہ صبح جاگنے سے رات سونے تک جاری رہتا ہے، اور اس مصروفیت کی وجہ سے اگر وہ تھک کر تھوڑے آرام کے لئے جلدی سو جائیں، شوہر کا بستر گرم نہ کر سکے تو شوہر صاحب اسے انا کا مسئلہ بناتے ہوئے اس کی بیوی کو سزا نہ دو۔ سیکس میں عزت دو۔

سیکس میں ہمیشہ اپنی تسکین کاہی صرف خیال نہ کرو بلکہ پارٹنر کو بھی سمجھو، اس کی مرضی کا خیال کرو۔ کلائمکس صرف مرد کا نہیں بلکہ عورت کا بھی ہوتا ہے، جسمانی لذت صرف تمہارا نہیں بلکہ دونوں کا حق ہے۔ اس حق کے استعمال میں اپنے ساتھی اور جیون ساتھی کی اجازت ضروری ہے ورنہ ایسا جسمانی تعلق جو کہ بنا پارٹنر کی اجازت کے عمل میں آئے وہ ریپ کہلائے گا۔ یعنی یہ کہنا درست ہو گا کہ بغیر مرضی کے سیکس ریپ کہلاتا ہے۔ ’میریٹل ریپ‘ یعنی اہلیہ کے ساتھ زبردستی کا سیکس۔

ایسے سیکس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ آج بہت سے کامن لاء ممالک نے قانون بنایا ہے جو کہ بیوی کی رضامندی کے بغیر سیکس کو جرم گردانتا ہے، یعنی یہ ’میریٹل ریپ‘ یعنی بیوی کے ساتھ زبردستی ہم بستری پر اگر کہیں قانون خاموش ہے تو بھی یہ ایک اخلاقی جرم تو ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بیوی شوہر کی ملکیت پراپرٹی یا چوبیس گھنٹے کی ملازمہ نہیں بلکہ اس کی جیون ساتھی ہے۔ اور بیوی کے ساتھ زبردستی اس کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ جس کا کا اثر بالآخر پورے گھرانے پر پڑتا ہے۔

جیون ساتھی کے ساتھ پیار و عزت کے ساتھ رہنے میں ہی خاندانی نظام کی بقا ہے۔ مرد اور عورت کے درمیان جنسی تعلق میں اجازت کے عنصر کو بھولا نہیں جا سکتا ہے۔ مردانگی یہ ہو گی کہ بیوی کے ساتھ رضا مندی سے سیکس کیا جائے۔ بیوی کو پیار اور عزت دی جائے۔ زوجہ محترمہ کی مرضی اور اجازت کے بغیر جسمانی تعلق استوار نہ کیا جائے۔ سیکس میں اخلاقیات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ سیکس رضا مندی سے ہونا چاہیے۔

کہا جا تا ہے کہ جانور نیوٹرل ہوتے ہیں۔ پر نہیں۔ مادہ جانور کی رضامندی کے بغیر نر اس کے قریب بھٹک بھی نہیں سکتا۔ تو ذرا سوچیے۔

سوچنے کے لئے تھوڑا حاشیے سے باہر۔ سوچو تو پیار کے تو کئی رنگ ہوتے ہیں۔ ایک قوس قضاء کی طرح۔ ایک سپیکٹرم کی طرح۔ اور کیا ہی مزہ ہو موقع کی مناسبت سے وہ رنگ اوڑھ لیا جائے۔ پیار پانی جیسا ہو۔ یہ سیکس اور پیار کو ایک ساتھ نتھی کب سے اور کس نے کر دیا؟ اور کیا یہ ضروری ہے کہ دو پیار کرنے والے انسان ہمیشہ سیکس بھی کریں؟ کیا بنا سیکس کے پیار نہیں ہو سکتا؟ اور کیوں نہیں سیکس اور پیار کو جدا کر کے دیکھا جا سکتا۔

یہ تو وہ خطہ ہے جہاں کاما سترا لکھی گئی۔ اس موضوع پر مزید بات ایک اور کالم میں ہو گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments