خط بنام عامر خاکوانی صاحب


آپ پنجاب اسمبلی میں ہونے والے ہلڑ بازی پر تحریک انصاف اور پرویز الہی ٰ پر بہت برہم ہوئے اور جو کچھ ہوا وہ یقیناً بغیر کسی اگر مگر کے نہایت افسوسناک بھی تھا لیکن وہ تصویر کا ایک رخ تھا۔ جو تماشا سندھ ہاؤس میں منحرف ارکان کی خرید و فروخت سے شروع ہوا اور جس طرح عدلیہ نے شرمناک طریقے سے صدارتی ریفرنس کی تشریح کو لٹکایا اس کے بعد حالات اسی نہج پر جانے تھے۔ اگر اس صدارتی ریفرنس کا بروقت فیصلہ آ جاتا تو اتحادی بھی عمران خان کو چھوڑ کر نہ جاتے کیونکہ سندھ ہاؤس میں ایم کیو ایم کی ملاقات ایک تاریک رات کے دھندلکوں میں منحرف ارکان سے کرائی گئی اور انہیں یقین دلایا گیا کہ یہ عمران کے خلاف ووٹ دیں گے اس لیے آپ بھی اس ڈوبتی کشتی سے باہر نکلیں۔ افسوس کہ اس سکرپٹ کو فالو کرتے کرتے کچھ ادارے اپنا اعتبار اور ساکھ بہت بری طرح مجروح کر بیٹھے۔ پوری قوم نے دیکھا کہ مقتدر ادارے و شخصیات ایک واحد شخص کے خلاف کس طرح رات گئے متحرک ہو گئے۔

آپ تحریک انصاف کی بابت اصولوں اور وضع داری کی بات کرتے رہے کہ گورنر عمر چیمہ کو بھی سندھ اور کے پی کے گورنروں کی طرح استعفیٰ دے دینا چاہیے لیکن اس دوران الیکشن کمیشن جو جان بوجھ کر منحرف ارکان کی ڈی نوٹیفیکیشن کو التوا میں ڈالتا رہے اور جس طرح حمزہ شہباز نے تحریک انصاف کی ٹکٹ پر منتخب اراکین کو کھلے عام خریدا اور اس پر آپ کا قلم خاموش رہا۔

یہ چند سوالات آج میرے جیسے ہر نوجوان کے ذہن میں ہیں کہ ہارس ٹریڈنگ روکنے پر کوئی فیصلہ کیوں نہیں ہوا؟ عدالت نے مراسلہ دیکھے بغیر اسپیکر کی رولنگ کو کیسے غیر آئینی قرار دے دیا؟ اور یہی عدالت آج تک غیر ملکی مداخلت پر کوئی آزاد کمیشن بنانے سے کیوں گریزاں ہے؟ جب حکومت نے اس معاملے پر آزاد کمیشن بنانا چاہا تو جنرل طارق خان اور شعیب سڈل نے کس کے کہنے پر اس کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی؟ آئین کی کس شق کے تحت عدلیہ نے ووٹنگ اور حلف کا وقت مقرر کر دیا؟ عدالتی فیصلہ کے عین وقت الیکشن کمیشن کی طرف سے فوری انتخابات سے انکار کا معنی خیز لیکن فیصلہ کن بیان کیوں آیا؟

آپ کا یہ تجزیہ بھی (معذرت اور احترام کے ساتھ) نہایت سادہ اور ناقابل فہم لگا کہ چونکہ آپ کے خیال میں تمام سیاسی قائدین محب وطن ہیں اس لیے آپ یہ مان نہیں سکتے کسی نے امریکی ایجنڈے کا حصہ بن کے سازش کی ہو۔ سر آپ سے مودبانہ سوال ہے کہ اگر یہ تمام سیاسی قائدین حب الوطن ہیں تو یہ ڈان لیکس اور میمو گیٹ کیا افسانے تھے؟ کیا انڈین صحافی برکھادت نے اپنی کتاب میں جھوٹ بولا تھا کہ نواز شریف نے اپنی فوج سے چھپ کر نریندر مودی سے کھٹمنڈو میں ملاقات کی۔ اور کیا نواز شریف نے گزشتہ سال لندن میں پاکستان کو چکلہ ( brothel house ) کہنے والے سابق افغانی سفیر حمداللہ محب سے ملاقات نہیں کی؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ حسین حقانی کون ہے؟ وہ پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف کیا اور کہاں لکھتا ہے اور کیا نواز شریف کی اس عدم اعتماد کی سازش سے چند ماہ پہلے لندن میں اس سے ملاقاتیں نہیں ہوئیں۔ چلیں مان لیا کہ غداری کا نعرہ ایک سیاسی نعرہ ہو گا لیکن آپ کا یہ کہنا کہ پاکستانی سیاست دان اقتدار کے حصول کی خاطر امریکہ سے سازباز نہیں کر سکتے ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ آپ نے تو ایک ہی جھٹکے میں وکی لیکس کو بھی باطل قرار دے دیا۔ آپ سے ایک مودبانہ سوال ہے کہ جو حکمران بیرونی طاقتوں کی خوشنودی کی خاطر ڈرون حملوں کی اجازت دے کر معصوم شہریوں کے قتل عام کی اجازت دے سکتے ہیں کیا وہ حصول اقتدار کی خاطر ایک جمہوری حکومت کا تخت الٹنے سے گریزاں ہوں گے؟

آپ کی رائے کے مطابق عمران خان کا امریکی سازش کا بیانیہ اس لیے غیر معمولی طور پر مقبول ہو گیا کیونکہ وہ عام پاکستانی کے لیے پرکشش ہے لیکن کیا آپ کے خیال میں پاکستان کے اتنے زیادہ نوجوان بزرگ اور خواتین امریکہ مخالف ہیں؟ اور اگر آپ کے بقول عمران خان کی حکومت کی گورننس اتنی ہی بدترین تھی تو یہ سب کیوں آنکھیں بند کر کے ایک ان دیکھے مراسلے کے پیچھے چل پڑے ہیں اور ان اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جو بہتر علمی اور سیاسی شعور رکھنے کے باوجود اس سازش کو سچ تسلیم کرتے ہوئے پوری دنیا میں سراپا احتجاج ہیں؟ دراصل میرے جیسے کئی نوجوانوں نے چھانگا مانگا کی سیاست سنی تو تھی لیکن عمران خان کی وجہ سے پانچ کروڑ سے زائد نوجوان ووٹرز نے اپنی زندگی میں جمہوریت کے نام پر ہونے والی ضمیر فروشی، ہارس ٹریڈنگ اور بلیک میلنگ دیکھ بھی لی اور یہ ذہن میں رکھیے کہ یہ 90 کی دہائی والی نوجوان نسل نہیں جب صرف چند اخبار تھے۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے اور چند سکینڈ میں خبر پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ آپ بھلے انصاف کے اس دہرے معیار پر خاموش رہیں لیکن سارے ملک نے دیکھا کہ کیسے ایک طرف تو عدالتیں ابھی تک منحرف ارکان کی مستقل نا اہلی کا فیصلہ نہیں کرسکیں لیکن دوسری جانب اس ہنگام میں اتوار کے دن نوٹس لیے جا چکے ہیں، مریم کو پاسپورٹ دینے کی غرض سے ایک دن میں تین تین بنچ بنے اور ٹوٹ گئے۔ اور بندوقوں کی نوک پہ حمزہ کے حق میں صوبائی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں ووٹنگ کرائی گئی اور پھر کیسے اسے سپیکر نیشنل اسمبلی سے حلف دلوانے کے لیے ایک نیا آئین تخلیق کیا گیا جس کا موجودہ آئین سے کوئی لینا دینا ہی نہیں۔

آپ نے عمران خان کی حکومت کو فاشسٹ کہا جو نہایت افسوسناک (بلکہ خوفناک) تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی عمران خان کی حکومت سے توقعات غیر حقیقی اور ناقابل فہم تھیں۔ ایک طرف عمران خان سے آپ کی توقع یہ تھی کہ وہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے حکومتی وسائل کا استعمال بھی نہ کرے جیسا بے نظیر بھٹو نے 1989 ء کیا اور جس کو جسٹس رفیق تارڑ نے خواجہ طارق رحیم کیس میں تفصیل سے بیان کیا۔ لیکن دوسری جانب سیاسی مخالفین عمران خان کی پارٹی کے بندے خریدیں، ان کو سندھ ہاؤس میں نیلام گھر بنا کر رکھیں، امریکی سفارتخانے کے چکر لگائیں، راتوں کے اندھیروں میں راول پنڈی میں گیٹ نمبر چار پر ملاقاتیں کریں، میڈیا ہاؤسز کو خریدیں، اس کی حکومت کی غیر مقبولیت کے جھوٹے سروے کروائیں، عدالتوں کو اپنا زر خرید غلام بنا لیں اور پھر عمران خان سے آپ یہ توقع کریں کہ کہ سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کر کے اپنے خلاف لکھے گئے اسکرپٹ کو وہ من و عن فالو کرتا ہوا گھر چلا جائے تو اس سادہ سوچ پر کوئی کیا کہ سکتا ہے۔

عامر صاحب! اصل فاشزم یہ ہے کہ آپ اپنے مخالفین پر توہین مذہب کے مقدمات کریں، جب آپ ایک سیاسی پارٹی کی پریس کانفرنسوں اور جلسوں کا میڈیا سے بلیک آؤٹ کروا دیں، جب آپ سیاسی مخالفین کو نازیبا ویڈیو کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنے کی کوشش کریں،

جب عدالتیں ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے لیے 24 گھنٹے کھلی رہیں اور ایک ضمانت پر رہا ملزم کے لیے ایک دن میں تین تین بنچ بنیں اور ٹوٹیں، جب ٹی وی اینکرز پر دباؤ ہو اور انہیں پیمرا کے نوٹسز بھیجے جائیں۔ اور سیاسی مخالفین پر ایسے جرم کی ایف آئی آر کاٹی جائیں اور گرفتاریاں ہوں جو وطن عزیز کے حدود میں ہوا ہی نہیں جب سوشل میڈیا کے کارکنوں کو اٹھانے کے لیے ایف آئی اے گھروں میں چھاپے مارے۔ جب ایک ادارے کے 17 ملازمین کو اپنا دورہ لاہور صحیح کور نہ کرنے پر وزیراعظم فارغ کر دے اور عام لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندوں کے ضمیر دن دیہاڑے خرید کر باپ وزیراعظم اور بیٹا وزیراعلیٰ بن جائے تو کیا یہ سب آپ کے نزدیک فاشزم کے زمرے میں نہیں آتا کیوں کہ آپ نے ابھی تک اس سب پر کوئی لب کشائی نہیں کی۔

مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ فاشزم تو پھر میرے نزدیک عمران مخالف میڈیا کی اس سب پر پراسرار خاموشی بھی ہے اور اس سب ہارس ٹریڈنگ اور اداروں کے متنازعہ کردار کے بعد آپ کا وہ کمزور، بے ضرر اور ہومیوپیتھک تبصرہ کہ ”حمزہ اور شہباز کے اکٹھے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے سے کچھ اچھا تاثر قائم نہیں ہوا“ نہایت مضحکہ خیز اور تکلیف دہ تھا۔

عمران خان کی حکومت کے چلے جانے کے بعد جس طرح اس کے بیانیے کو عوام میں پذیرائی ملی اس سے آپ سمیت بہت سے سیاسی مبصرین حیران رہ گئے لیکن آپ نے عمران کی تقریروں پر ایک اور نکتہ اعتراض ڈھونڈ لیا کہ عمران خان بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی کی تعریف کیوں کر رہا ہے۔ میں حیران ہوا کہ اتنی سادہ سی بات اگر مجھ جیسے سیاست کے ادنیٰ سے طالبعلم کو سمجھ آ رہی ہے تو آپ کیوں اسے نہیں سمجھ سکے کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف سازش کی بنیاد اس کے روس کے دورے کو بنایا گیا جس کا ذکر اس مراسلے میں بھی تھا۔ عمران خان روس سے تیس فیصد کم قیمت میں گندم اور تیل خریدنا چاہتا تھا۔ ایک طرف پاکستان کو امریکہ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے رہا جبکہ دوسری جانب امریکہ کا سٹریٹیجک حلیف بھارت اپنی آزاد خارجہ پالیسی کی وجہ سے اور عوام کے مفاد میں روس سے ہی گندم اور تیل سستا خرید رہا ہے۔ لیکن امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ عمران خان یہی بات عوام اور مقتدر حلقوں کے آگے رکھنے کی کوشش کر رہا تھا اور آج بھی مختلف تقاریر میں اس کا ذکر کر رہا ہے کہ وہ بھارت جو ہمارے ملک کے ساتھ ہی آزاد ہوا اس کی خارجہ پالیسی ہماری خارجہ پالیسی کی نسبت آزاد ہے۔ ہم کیوں اپنی عوام کے مفاد کو پس پشت ڈال کر کسی ایک بلاک کا حصہ بنیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3