خط بنام عامر خاکوانی صاحب
خیر عمران خان کی حکومت کو تو گھر بھیج دیا گیا اس کے بعد جس طرح بدنام زمانہ اور ضمانت پر رہا شدہ لوگوں کو ملا کر ایک وقفے کے بعد کابینہ تشکیل پائی اس پر آپ کی رائے کا انتظار رہا لیکن آپ پر اسرار طور پر خاموش رہے۔ حمزہ شہباز کے متنازعہ حلف برداری اور اس حلف برداری کو ممکن بنانے کے لیے کئیے گئے عدلیہ کے آئین کے ساتھ مذاق پر بھی آپ خاموش رہے۔ اس حکومت کے بننے کے بعد یہ حکومت تین مرتبہ بجلی مہنگی کر چکی، لوڈشیڈنگ کی رمضان کے دوران بدترین صورتحال رہی، پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے مسلسل زوال کا شکار ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں مندی ہے، ادویات کی قیمتں بیس فیصد بڑھا چکے۔ آٹا گیارہ سو سے 1300 ہو گیا۔ چینی دو دفعہ مہنگی ہو گئی۔ دو روز قبل ایک ہی دن میں چکن کی قیمت میں 55 روپے فی کلو اضافہ ہو جو لاہور کی تاریخ میں ایک ہی دن میں ریکارڈ اضافہ ہے۔ گندم کی کٹائی کے وقت ڈیزل کی مصنوعی شارٹیج، گھی اور خوردنی آئل کی قیمتوں میں ایک سو روپے اضافہ، کھاد کی قیمت میں ایک ہزار روپے فی بوری کمی اور کھاد بنانے والی فیکٹریوں کے لیے بجلی بند کر دی گئی۔ حج اخراجات میں پانچ لاکھ روپے اضافہ ہو گیا۔ سرکاری محکمہ اعداد و شمار کے مطابق اس حکومت کے آنے کے بعد ایک مہینے کے اندر قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی کے اس حالیہ طوفان میں دو سوشل میڈیا اکاؤنٹ مکمل خاموش ہیں ایک ڈی جی آئی ایس پی آر کا اکاؤنٹ جس نے ہمیں کچھ عرصہ پہلے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ نوید سنائی تھی کہ اس حکومت کے آنے سے پاکستانی روپیہ مضبوط ہو گیا اور دوسرا اکاؤنٹ ہمارے پسندیدہ کالم نگار عالم خاکوانی کا۔ عمران حکومت میں اس اکاؤنٹ سے ابھی اوگرا پیٹرول کی قیمت بڑھانے کی سفارش ہی کرتا تو چند منٹوں بعد ایک لمبی تنقیدی پوسٹ یا کالم جناب کی طرف سے لکھ دیا جاتا جس میں عمران خان کو گھر چلے جانے کا مشورہ دیا جاتا اور جو احمق لوگ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کے بارے میں اعداد و شمار ڈھونڈ کر لاتے اور پاکستان میں تیل کی قیمت پر دی گئی سبسڈی اور صفر سیل ٹیکس کا تذکرہ کرتے تو ان ناہنجاروں کو آپ کی طرف سے ایک نہایت مدلل جواب ملتا کہ میں کچھ نہیں جانتا عالمی قیمتوں کے بارے میں اگر پیٹرول سستا نہیں کر سکتا تو اس بے حس حکمران کو گھر چلے جانا چاہیے اور بس!
ہماری راہنمائی فرمائیں کہ ابھی آپ نے موجودہ حکومت کو کوئی گریس پیریڈ دے رکھا ہے جس کی وجہ سے خاموش ہیں یا آپ ابھی آپ کے دل خوش فہم کو ان تجربہ کار اور اہل لوگوں سے کچھ امیدیں ہیں جن کے بر آنے کا انتظار کرتے ہوئے خاموش ہیں۔ یا پھر آپ ان پر کوئی بہت لمبی چوڑی تنقیدی پوسٹ لکھ رہے ہیں جس کے مکمل ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے۔ اور یا یہ بھی ممکن ہے کہ ان تمام موجودہ مہنگائی کے مسائل اور سیاسی بحران کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ عمران حکومت کی خامیوں اور عثمان بزدار کی نا اہلی پر مزید رائے زنی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کیا تحریک انصاف کو ایک عرصہ تک سپورٹ کرنے کے بعد جب وہ آپ کی امیدوں پر پورا نہ اتری تو آپ سخت ترین تنقید کر کے اپنی سابقہ پوزیشن کو نیوٹرلائز تو نہیں کر رہے۔
بات ذرا طویل ہو گئی میں آخر میں آپ کی توجہ بصد احترام اس جانب مبذول کرانا چاہوں گا کہ اس وقت جب زیادہ تر ٹی وی اینکرز اور پرنٹ میڈیا کا اکثر حصہ عمران مخالف ہے اور تحریک انصاف کے ریکارڈ ساز جلسوں کا بلیک آؤٹ کر رہا ہے تو ہمیں اس میڈیا کے اس رویے پر کوئی حیرت نہیں۔ ان میڈیا مالکان کی مجبوریوں کو ان حالات کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن عامر خاکوانی صاحب آپ کا معاملہ قدرے مختلف ہے اور رہے گا۔ دو دہائیوں سے آپ نے میری اور مجھ جسے ان گنت لوگوں کی ایک استاد کی حیثیت سے راہنمائی کی مجھ جیسے کئی لوگوں کو سکھایا کہ آپ جو کچھ سوچو اور سمجھو اسے کسی دباؤ میں آئے بغیر سب کے سامنے رکھا جاتا ہے اور کیسے اختلاف رائے کو نہایت موزوں اور خوبصورت پیرائے میں پیش کیا جاتا ہے۔ دشنام طراز اور گالی دینے والوں کی بات اور ہے لیکن ہم آپ کی رائے سے اور آپ سے اختلاف رائے سے آج بھی سیکھتے ہیں۔ میں نے اپنی دانست میں وہ تمام سوال آپ کے سامنے رکھے ہیں جن کا آپ اس طرح تجزیہ نہیں کرسکے جو توازن آپ کا خاصہ ہے۔ میں اور آپ کے ہزاروں قارئین آپ کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ آپ کبھی (خدانخواستہ) کسی بیرونی دباؤ، ذاتی مقصد یا لالچ میں اپنے اس قلم کا سودا کریں گے جس قلم کی سیاہی نے مجھ جیسے بہت سے لکھنے والوں کو لکھنے کا حوصلہ دیا۔ میں آپ کا قریبا 17 سال پرانا قاری ہونے کے ناتے نہایت ایمانداری سے یہ سمجھتا ہوں کہ آپ عمران خان کی حکومت کے آخری دنوں میں عثمان بزدار اور کچھ اور وجوہات کی بنا پر اپنے تجزیے میں جانبدار ہو گئے۔ آپ کی تجزئیاتی زبان میں غیر معمولی طور پر جھنجھلاہٹ اور غصے کا عنصر نمایاں ہو گیا مثلاً ( ”پرویز الٰہی کو گند ڈالنے کی چھوٹ دے دی گئی ہے“ وغیرہ وغیرہ) ۔
میں آپ سے یہ ہرگز ہرگز توقع نہیں رکھتا کہ آپ میرے یا دوسرے پیشتر قارئین کے موجودہ سیاسی نظریے اور وابستگیوں کے حق میں ہی لکھیں۔ لیکن میں امید ضرور کرتا ہوں کہ آپ اس خط میں اٹھائے گئے سوالات خصوصاً جو عمران خان کی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ، ڈونلڈ لو کا 7 مارچ کو لکھا دھمکی آمیز مراسلہ اور اس میں عدم اعتماد اور عمران خان کا ذکر، اور اب امریکی دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر ربیکا گرانٹ کا فاکس نیوز پر حالیہ انٹرویو جس میں اس نے دو ٹوک الفاظ میں عمران حکومت کے چلتا کرنے کی وجوہات بتائیں پر آپ ضرور تبصرہ کریں گے کیونکہ یہ تمام سوالات آپ کے سابقہ یک رخے اور مختصر ترین تبصرے ”کہ عمران نے اس مراسلے کو اپنے حق میں استعمال کیا اور عام پاکستانی کو امریکی مخالف مقبول بیانیے پر اکٹھا کر دیا“ سے بہت زیادہ سیر حاصل اور تفصیلی تجزیے کا متقاضی ہے۔ جو بدقسمتی سے ابھی تک آپ کی طرف سے نہیں آ سکا۔
آپ کے تفصیلی تجزیے سے شاید موجودہ سیاسی بحران اور سوشل میڈیا پر پھیلی سیاسی بیانیوں کی تلخیاں تو کم نہ ہوں گی لیکن ہم جیسے آپ کے کئی دیرینہ قارئین کی وہ تشنگی ضرور کم ہوگی جو آپ کے حالیہ مایوس کن، یک رخ اور ادھورے تجزیوں سے پیدا ہوئی، آپ کی رائے اگر میرے لیے قیمتی نہ ہوتی تو رات کے اس پہر یہ صفحے سیاہ نہ کر رہا ہوتا۔
آخر میں میں آپ سے التماس کرتا ہوں کہ اگر اس خط میں کوئی بات آپ کو ناگوار گزرے یا نامناسب لگے تو اسے میری کج فہمی اور کم علمی گردان کر اس پر اپنی روایتی وسیع القلبی اور شفقت فرما کر درگزر کیجیے گا جو آپ کی شخصیت کا خاصہ ہیں۔
آپ کا ادنیٰ قاری، شاگرد اور مداح
ذیشان سرور

