خالد سعید: دو صدیوں کا معمار!


بے نظیر بھٹو شہید، لیڈی ڈیانا دونوں کی نا وقت جدائی میں ایک قدر مشترک تھی۔ دونوں کے لیے عام انسانوں کی آنکھیں بے ساختہ چھلک پڑیں۔ یہ رتبہ بلند کسی تخت نشیں کو نہیں مل سکتا۔ اس کے لیے ایڈز اور کینسر سے لڑتے بچوں کو گلے لگانا پڑتا ہے، یا پھر افتادگاں خاک کے درجے پر اترنا پڑتا ہے۔ اور پھر ایدھی بابا بھی اسی دائرہ عشق میں آتے ہیں۔ اگر ان کو عوامی انداز میں رخصت کیا جاتا تو ان کی روانگی بے شمار شہ نشینوں کو پیچھے چھوڑ دیتی۔

30 اپریل کی رات ملتان کے ایک پارک میں ایک جنازہ پڑھا گیا۔ وہ نہ تو کوئی حکومتی عہدیدار تھا۔ نہ ہی کوئی مالدار شخص، مگر بے شمار لوگوں کو وہاں میں نے آنسوؤں سے روتے دیکھا۔ ہاں وہ اس عہد ناپرساں کا ایک فقیر تھا۔ وہ ہمارے عہد کا مادھو لال تھا، وہ خالد سعید تھا۔

ہمارا معاشرہ درجہ سخاوت میں بلند سہی مگر درویش مزاج رکھنے والے بے غرض لوگوں کی دکھائی دیتی کمی کا شکار ہے ہر جانب کیریئر اورینٹڈ لوگوں کا ہجوم ہے جو کسی سے بھلا کرتے ہوئے بھی میڈیا کو بلانا نہیں بھولتے۔ ایسے میں ملتان جیسے دور از میڈیا علاقے میں ویل ڈریسڈ، فر فر انگریزی بولنے والا خالد سعید ہمارے تعلیمی افق پر ظاہر ہوتا ہے۔ وہ بہت سے حوالوں سے خوش قسمت تھا۔ ایک ایسے دور میں جوان ہوا جب سیاہ واقعی سیاہ تھا اور سفید بھی سفید کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ابھی کچھ بھی سرمئی نہیں ہوا تھا پھر اس کے ہم مزاج ماما جی بھی تھے، ڈاکٹر صلاح الدین حیدر جو میری خوش قسمتی کہ میرے بھی استاد رہے۔ ان کا ذکر اپنی جگہ کافی تفصیل کا متقاضی ہے۔

خالد ایک۔ سرائیکی باپ اور خالص پنجابی ماں کا بیٹا تھا۔ یعنی وہ دو مختلف تہذیبی رویوں کا سنگم تھا۔ خالدی (میری اماں کا خالد کے لیے پیار کا نام) سے میرا خون کا رشتہ تو تھا ہی مگر میرے لیے وہ کزن سے بڑھ کر تھے، ایک استاد، ایک دوست ایک ہم دم دیرینہ۔ اپنے سے مختلف لوگوں کے ساتھ آسانی سے مکالمہ کرنا اور پھر ان کے دلوں میں اتر جانا ہی ان کی کلا تھی۔ میرے ابا دائیں بازو کے مذہبی انسان اور خالدی پکے ترقی پسند۔

مگر دونوں میں دوستی کا لیول چچا بھتیجے کے روایتی تعلق سے بہت بلند تھا۔ شاید اختلاف رائے میں اتفاق پیدا کرنے والی ایک شے کرکٹ بھی تھی جس پر دونوں گھنٹوں بول سکتے تھے۔ اسی طرح ہماری اماں جو ابا سے کئی گنا زیادہ مذہبی مگر خالدی پر نثار۔ مجھے وہ محفلیں نہیں بھولتی جب اماں خالدی اور میرے بہت پیارے استاد بدر الدین حیدر کے لیے بہت پیار سے پائے پکاتیں جو میری بد قسمتی کہ کبھی میری پسندیدہ ڈش نہیں رہے۔ میری اماں ابا کی دوسری بیوی تھیں سو بہت سی خاندانی الجھنوں کا شکار بھی تھیں مگر خالد کے ساتھ ان کی گپ شپ چچی بھتیجے کے بجائے دو بوڑھی عورتوں کی چھوٹے چھوٹے ٹانکوں والی کشیدہ کاری سے مشابہ ہوتی تھی۔

جو باتیں ہمارے لیے غیر اہم ہوتیں ان پر دونوں کافی سیر حاصل گفتگو فرماتے، لہذا اماں خالدی سے ملنے کے بعد ہلکی پھلکی ہو جاتی تھیں۔ اور پھر جب اماں کا وہی بھتیجا پروفیسر خالد سعید بن کر فلسفے اور نفسیات کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتا۔ یونگ، فرائیڈ ایڈلر، لارڈ بدھا اور دنیا بھر کی دیو مالا پر بات کرتا تو سامنے بیٹھے تشنگان علم کے لیے وہ کچھ اور ہوتا۔ ایک ہمدرد بھائی یا بیٹے سے ماورا۔ کسی یونانی دیو مالائی کردار کی طرح۔

اور میں اپنا کیا کہوں۔ کتنا کہوں۔ جتنا کہوں کم کہوں۔ زندگی کا کون سا دکھ تھا جو ان سے شیئر نہ کیا ہو اور پھر اس کا درماں بھی نہ پایا ہو۔ اور یہ صرف میرا حق نہ تھا۔ وہ اپنے سبھی چاہنے والوں کے لیے ایسے ہی تھا۔ اسے ہجوم عاشقاں میں گھرا دیکھ کر مجھے اکثر براوننگ کی کچھ لائنز یاد آ جاتیں۔ یقیناً ان کا پس منظر مختلف تھا۔ میرے چاند بلکہ سب کے چاند۔ جسے ہر ایک دیکھے اور اپنا کہے۔ ۔ ہر جہان میں خوش رہو خالدی۔ آمین

Facebook Comments HS