چے کے دل میں موجزن انسان دوستی کے نام

وہ 14 جنوری 1928ء کو ارجنٹائن کے شہر رسایوں میں پیدا ہوا ۔ ایک ہشتو ہونے کے باعث وہ جسمانی طور پر کمزور تھا ( بلوچی میں ہشتو اس بچے کو کہتے ہیں جو نو ماں کی بجائے آٹھویں ماہ کو قبل از وقت پیدا ہوتا ہے ) ۔ جسمانی کمزوری کے ساتھ ہی وہ دمہ کے مرض میں مبتلا تھا۔ اس کمزور بچے کو دو سال کی عمر میں ہی مشکلات و تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ جب کبھی دمہ کا مرض شدت اختیار کرتا کمزور جسم کا یہ لڑکا پوری پوری رات تڑپ میں گزارتا اور اس کی تکلیف کی باعث اس کے والدین بھی اس کے ساتھ جاگتے تھے۔ اس کے والد ارنسٹو گویرا لینچ اور والدہ سیلیا کا دلچسپ جوڑا تھا۔ ارنسٹو گویرا لینچ ایک پکے سوشلسٹ تھے اور شادی کے بعد اس کی زوجہ نے بھی سوشلسٹ نظریے کو اپنایا ۔
ان کا بیٹا دمہ کے مرض کی وجہ سے اکثر ایک بنیان پہنتا تھا ۔ جب بستر پر اس کو دمہ کے دورے پڑتے تو وہ بستر پر مختلف قسم کی کتابوں کا مطالعہ کرتا ۔ دمہ کے مرض میں مبتلا اس لاغر و کمزور بچے نے قریباً نو سال کی عمر میں اسکول میں داخلہ لیا ۔
دسمبر 1951ء کو اپنی طالب علمی کے زمانے میں اس نے تین ماہ سیاحت میں گزار دی ۔ اس سفر پر وہ اپنے سائیکل پر روانہ ہوئے تھے ۔ سفر کے دوران وہ مزدوری کر کے اپنے سفر کی اخراجات پوری کرتا تھا ۔ راستے میں اس نے مظلوموں کی غربت ، افلاس ، لاچاری و بےبسی کو کافی غور سے دیکھا اس نے کوڑھ کے مریضوں میں وقت گزارا اور ان کی علاج کی ۔ اس کی زندگی میں اس سفر کا گہرا اثر پڑا ۔ اس سفر کی یاداشتیں اس نے ” دی موٹرسائیکل ڈائری ” کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی ۔ اس سفر کے علاوہ اس کی زندگی میں اس دور کے بڑے بڑے واقعات کا بھی بڑا حصہ ہے ۔ چونکہ اس کے والدین سوشلسٹ تھے ۔ وہ جلسوں میں تقاریر کرتے اور اخبارات میں آمریت کے خلاف مضامین لکھتے تھے ۔ جنگ اور ظلم و ناصافی کے بارے میں ان کی گھر میں آزادنہ بحث و مباحث کے محفل سجتے تھے ۔ دمہ کا مریض یہ لڑکا امریکہ کی بداعمالی کے قصے سنا کرتا تھا ۔ ان واقعات کا اس کی زندگی پر گہرا اثر پڑا ۔
وہ 1947ء میں یونیورسٹی میں داخل ہوا تھا ۔ انسان دوستی کی باعث اس نے طب کا شعبہ اختیار کیا ۔ اور اس نے ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا ۔ سات سالہ میڈیکل کورس کو تین سالوں میں مکمل کیا ۔ اس دوران اس پر دمہ کے پینتالیس خطرناک حملے ہوئے تھے ۔ مگر منزل کی جستجو ہونے کی وجہ سے اس لڑکے نے پاؤں میں آبلوں کے باوجود منزل مقصود کی طرف دوڑتا رہا ۔ وہ طالب علمی کے زمانے میں صوبے صوبے گھومتا ، پڑھتا اور امتحان وغیرہ پاس کرتا ۔ اس کی یہ عادت دوسرے طالبعلموں سے بالکل مختلف تھی ۔ 1953ء میں ارجنٹائن میں اس لڑکے نے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے چند ہی ماہ میں 12 امتحان پاس کر لئے ۔ ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ اور جلدی امراض کا ماہر ڈاکٹر بنا ۔ اس پرعزم لڑکے نے تعلیم کے دوران اپنی اخراجات پوری کرنے کے لئے چوکیداری سے لیکر نامہ نگاری اور ہر طرح کی مزدوری کی تھی ۔
مگر پھر اس کا نظریہ بدل گیا ۔ اسے صرف خود کے لئے کچھ کرنا اور شخصی تعمیر حقیر لگنے لگا ۔ وہ اپنے اردگرد میں غربت ، افلاس ، بےگھری اور محکومیت کو نظر انداز نہ کرسکا ۔ محکومی و مظلومی کا مرض اسے دیگر امراض سے کہی زیادہ مہلک محسوس ہونے لگا ۔ اس نوجوان کے زہن میں انقلابی خیالات پروان چڑھنے لگے ۔ وہ محکوم و مظلوم افراد کو آزادی کی نعمت سے آشنا کرنے کی فکر و سوچ میں گم ہوگیا ۔ انقلابی سوچ کے باعث وہ کتب کی اقتباسات اپنے ڈاٹری میں لکھ لیتا تھا ۔ اس کی ڈائری میں فرائڈ سے لیکر جیک لنڈن ، پبلو نرودا سے لیکر والٹ وٹیمن سب کے اقوال درج تھے۔ اس نے فلسفہ و شاعری اور کارل مارکس کو پڑھا ۔ وہ یونہی انقلابی نہیں بنا ۔ اس نے خود کو مطالعہ میں موجزن رکھا ۔ وہ بھوکوں کی طرح کتب کا مطالعہ کرتا رہا ۔ اور حق و سچ کی تلاش میں اپنے زر خیر زہن کو لگائے رکھا ۔ اس نے غور و فکر اور تکالیف کے بعد انقلاب کے راستے کا انتخاب کیا ۔ وہ پوری دنیا سے محکومی و مظلومی ، غربت ، افلاس اور آمرانہ نظام کا خاتمہ چاہتا تھا ۔
جولائی 1953ء میں وہ ایک بار پھر دنیا گھومنے اور مشاہدات کے لئے عازمِ سفر ہوا ۔ اور سفر پر نکل گیا ۔ ایک بار پھر اس نے سفر کے دوران غریب کی استحصال کو دیکھا ۔ دبے کچلے افراد پر ظلم ہوتے دیکھا ۔ افلاس دیکھا ۔ مزید ایسے بہت سے مشاہدات سے گزرا ۔ وہ اس درد کو نظر انداز نہیں کرسکا ۔ اس دوران اس کے دل میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف انتہائی نفرت و حقارت پیدا ہوئی۔
وہ اس کو جابرانہ نظام کہتا تھا ۔ اور اس نے تہہ کر لیا کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کو شکست دے کر ہی دم لے گا ۔
اس نے سارتر ، اینگلز اور مارکس کی سیاسی تصانیف کا مطالعہ کیا ۔ اور ایک مکمل انقلابی بن گیا ۔ پاؤلو کوہلو الکیمیسٹ میں کہتے ہیں ۔ ” انسان جب کچھ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کائنات کی ہر شئے اس کے حصول کے لئے انسان کی مدد کرتی ہے۔ ” اس نو انقلابی لڑکے نے بھی کچھ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ لہٰذا اس کے لیے ایک بہت بڑا کام کرنے کے اسباب پیدا ہو گئے ۔ ہوا یوں کہ اس کے وطن ارجنٹائن سے باہر کیوبا میں جو انقلاب ناکام ہوا تھا ۔ شکست خوردہ سپائی جو گرفتار ہو گئے تھے ، ان کی رہائی ہوگئی ۔ ان ہی میں سے ایک شخص راؤل کاسترو پناہ کے لئے میکسیکو آچکا تھا ۔ اور اتفاق سے سیاحت پہ نکلا نوجوان لڑکا بھی میکسیکو میں ہی تھا ۔ وہیں ان دونوں کی ملاقات ہوئی ۔ ملاقات کے دوران معلوم ہوا کہ ان دونوں میں بہت سی دلچسپیاں مشترک ہیں ۔ بالخصوص مارکسزم ان کا پسندیدہ موضوع تھا ۔ وہ دونوں جلد ہی مضبوط دوست بن گئے ۔ وہ ساتھ میں مقامی لائبریری جاکر بہت سی کتابیں پڑھتے تھے ۔ اور ساتھ میں فلمیں دیکھا کرتے تھے ۔
چند ہی دنوں میں دوسرے انقلابی بھی میکسیکو پہنچ چکے تھے ۔ لہٰذا دمہ کے مریض اس لڑکے کا ان کے ساتھ دوستی ہوگئی ۔
فیڈل کے ساتھ جولائی 1955ء میں اس کی ملاقات ہوئی ( جو کیوبائی انقلابیوں میں سے ایک تھا ) ۔ اس رات وہ دونوں ساری رات آپس میں بحث و مباحثہ کرتے رہے۔ اور اس دور کے اہم واقعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے تھے ۔ صبح تک وہ ایک دوسرے کے دوست بن گئے ۔ فیڈل کاسترو کیوبا میں انقلاب برپا کرنے کی تیاری کررہا تھا ۔ چونکہ نو انقلابی لڑکے کو طب میں مہارت حاصل تھا ۔ لہٰذا اسے بھی انقلابیوں کی فوج میں ڈاکٹر کے بطور رکھا گیا ۔ وہ ڈاکٹر ہونے کے باوجود جنگ کی تربیت لیتا رہا اور اپنے حوصلے اور ہمت کے بدولت ایک بہترین لڑاکا بن گیا ۔
25 نومبر 1956ء میں ” گرانما ” نامی آبی جہاز انقلابیوں سے بھرکر کیوبا کی طرف روانہ ہوا ۔ یہ ایک پرانا جہاز تھا ۔ جہاز اپنے مخصوص کردہ مقام سے دور کسی غلط جگہ پر لنگرانداز ہوا اور دلدل میں پھنس گیا ۔ لنگر انداز ہونے کے فوراً بعد سرکاری فوج نے انقلابیوں پر دھاوا بول دیا ۔ اور اکثر کو قتل کردیا ۔ اور باقی بچے کچے بھوکے اور نڈھال انقلابی سائرا مائستر نامی پہاڑی پر پہنچ گئے اور آمریت کے خاتمے کے لئے جنگ شروع کردی ۔ ڈاکٹر کے طور پر بھرتی ہونے والے انقلابی کو سرنج کے ساتھ ساتھ بندوق بھی اٹھانی پڑتی تھی ۔ وہ زخمیوں کی علاج کرتا تھا ۔ زخمیوں کی علاج کرتے وقت وہ یہ نہیں پوچھتا کہ آپ دوست ہو یا دشمن ۔
پھر اس نے اپنی ہمت و قابلیت کی بناء پر دسمبر 1958ء کے آخری ایام میں آمرانہ نظام کے خلاف لڑنے والے فوج کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے دستے کے ساتھ ” ہوانا ” کی طرف روانا ہوا ۔ اور سانتہ کلارا پر حملہ کرنے کا خطرناک ترین فریضہ سنبھالا ۔ یہ مشکلوں بھرا مہم تھا ۔ دمہ کے مریض کو 600 چھ سو کلو میٹر پیدل چلنا پڑا تھا ۔ ایک اچھی خاندان کا چشم و چراغ ، دمہ کا مریض اور چھ سو کلومیٹر پیدل سفر !!! اور سفر بھی بہت دشوار ۔ انہیں جنگلات میں چھپنا پڑا ، گردن تک گہرے پانی اور دلدل میں چلنا پڑا ۔ اور اپنے زخمی ساتھیوں کی مرہم پٹھی کرنی پڑی ۔اس چھ سو ( 600 ) کلومیٹر کے مارچ نے 26 دن لئے ۔
یکم جنوری 1959ء میں کیوبا میں انقلاب کا نقارا بجا ۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ ڈکٹیٹر ( آمر ) بتستا ملک سے بھاگ کیا اور آمریت نے گھٹنے ٹیک دیئے ۔
دمہ کا مریض اور بطور ڈاکٹر انقلابیوں میں شامل ہونے والا یہ باہمت و پرعزم شخص چے گویرا تھا ۔ اس کا اصل نام اسٹریو گویرا تھا مگر بات کرنے کے دوران اکثر ” چے ” کا لفظ استعمال کرنے کی باعث اس کے کیوبائی دوست اسے ” چے ” کے نام سے پکارتے تھے ۔ چے کا مطلب دوست یا سنگت ہے ۔ چے کو اس سفر میں بہت سی مشکلات و تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ۔کیوبا سے آمریت کے خاتمے اور غریب و مفلس اور دبے کچلے افراد کے لئے چے گویرا کو بڑی بڑی درد و تکالیف سے گزرنا پڑا ۔ اس کا یہ سفر سخت دشواریوں اور مشکلات سے بھرا پڑا تھا ۔ اور یوں چے گویرا کے دل میں موجزن انسان دوستی جیت گئی ۔
چے گویرا نے اپنے ملک ارجنٹائن سے باہر کیوبا کے ستائے ہوئے لوگوں کے لئے آمریت کا خاتمہ کر کے ثابت کیا کہ ” دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی پر بھی ہونے والی ناانصافی کو گہرائی میں محسوس کرنے کے قابل رہو ۔ "
Facebook Comments HS

