بصارت سے بصیرت تک


شاید ہی اس جہاں میں اب کوئی کوچا ایسا رہا ہو گا جہاں آنکھیں رکھنے والے دیکھتے بھی ہوں گے ۔ دیکھنے والے محسوس بھی کرتے ہوں گے اور محسوس کر کے غلط اور صحیح کے درمیان میزان بھی بنتے ہوں گے۔ ہمارا معاشرہ پتا نہیں کس رخ چل پڑا ہے۔ دل دہلا دینے والے اور روح کو جھنجھوڑ دینے والے واقعات اس معاشرے میں معمول بن گئے ہیں۔ نہ زمین پھٹی اور نہ ہی آسمان خون کے آنسو رویا۔ کل زینب تھی تو آج جنت اس قوم کی بیٹی اور پتہ نہیں کتنی ہی ایسی معصوم بچیاں جن کی آواز نکلنے سے پہلے ہی دبا دی جاتی ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہم مسلمان قوم ہیں۔ اسی لئے ایسے گناہ کر کے ہم چھپا دیتے ہیں قتل کر دیتے ہیں کیونکہ قتل کرنے کے بعد سب چھپ جائے گا۔ جبکہ انسان بھول جاتا ہے کہ اس نے اس گناہ کا گواہ اللہ کو کر لیا ہے۔ انسان انسان سے تو ڈرتا ہے مگر اللہ تعالی کی ذات کو بھول جاتا ہے۔ آئے دن اس طرح کے کیس عام ہوتے جا رہا ہے۔ یہ امت مسلمہ اور اس کے حکمرانوں کے منہ پر ایک ایسا تھپڑ ہے کہ اس معاشرے میں ہمیں چھوٹے چھوٹے بچوں کو جنسی تعلیمات دینی پڑ رہی ہے۔

ہونا تو امت مسلمہ میں یہ چاہیے تھا کہ اس گناہ کی ایسی سزا ہو کہ ہر کوئی اس بے رحمی سے پہلے دس دفعہ سوچے۔ لگتا تو کچھ یوں ہے کہ اس معاشرے میں اللہ تعالی کا ڈر ختم ہو گیا ہے۔ جس معاشرے میں دوسری شادی اور بیوہ سے نکاح کرنا لوگوں کی باتوں کی خاطر گناہ بن گیا ہوں۔ اس معاشرے میں ریپ اور اس طرح کے گناہ عام ہو جاتے ہیں۔ انسان انسانوں کی باتوں سے ڈر کر دینی احکامات کو درگزر کر دیتا ہے۔ لوگ کیا کہیں گے؟ آسان کام ہے کسی معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا۔

اس سفاک معاشرے میں مرد اپنی ہوس کا نشانہ بنانے سے پہلے نہ معصوم کی معصومیت دیکھتا ہے اور نہ ہی رنگ و نسل۔ کچھ واقعات نظر سے ایسے گزرے کہ روح کانپ اٹھی۔ اگر دیکھا جائے تو ہر گھر میں زینب اور ہر گھر میں جنت موجود ہے کیا اس ملک کے قانون ساز اداروں کے نام نہاد تاجداروں کے گھروں میں جنت اور زینب موجود نہیں یا وہ انتظار کر رہے ہیں اس وقت کا کہ جب ظلم کی ایک ایسی ہی چنگاری ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔ پھر شاید کوئی ایسا قانون لائے عمل میں لایا جائے گا۔

کیا ہمارے حکمرانوں نے اپنی حکومت کا جواب نہیں دینا۔ اس زندگی میں نا سہی آخرت میں جواب تو دینا ہو گا نا۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کی تربیت کریں۔ انہیں گناہ اور ثواب کے بارے میں بتائیں حلال اور حرام کی تمیز دیں۔ ہم ہمیشہ بچیوں کو سمجھاتے رہتے ہیں۔ بس لڑکیوں کی ہی تربیت پر زور دیتے رہتے ہیں اور لڑکوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں۔ مردوں کا معاشرہ کہ کر عورتوں کو دبا دیتے ہیں۔

پچھلے دنوں سندھ میں ایک لڑکی کو اس دور میں سنگسار کیا گیا۔ انسانیت کا ایک بہت بڑا تماشا لگا۔ پتھر مارنے والے سب فرشتے تھے۔ اذیت کی تاب نہ لاکر وہ لڑکی تو مر گئی۔ مگر ساتھ ہی انسانیت کا جنازہ بھی اٹھا۔ عورتوں اور بچیوں کو نشانہ بنا کر یہ مرد انسانیت کے زمرے سے بھی گر جاتے ہیں۔ کیا یہ ہیں وہ مرد جنہیں عورت پر فوقیت حاصل ہے جبکہ اسی عورت نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہاں اختلاف مرد کا عورت پر فوقیت کا نہیں ہے۔ یہاں صرف اور صرف تربیت میں کمی پر اختلاف ہے جو انسان کو حیوان بنا دیتی ہے۔

دین اسلام کے منبر پر چڑھ کر اسلامی اصولوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ معصوم کی بے بسی اور مجبور مجبوری کا سودا کیا جاتا ہے۔ افسوس تو صرف اس بات کا ہے کہ انسان انسانیت سے اس حد تک گر گیا کے معصوم جانوں کا ان کی عزتوں کا بیوپاری بن گیا۔ دل پھٹتا ہے یہ بات سن کر کہ اپنے ہی خون کے رشتے ایسے شیطانی عمل کی کڑی بنتے ہیں۔ شاید ہم زمانے کے اس آخری دور میں ہیں۔ جس کا ذکر قرآن میں ہوا ہے۔ ہم ہیں معاشرے کو غلط اور سہی راہ پر چلانے والے ہیں۔

کچھ کہیں بھی غلط دیکھو تو ضرور بولو آواز اٹھاؤ صرف اس لئے نہیں کہ مظلوم کو اس کا حق ملے۔ بلکہ اس لیے کہ کل اس مسئلہ کا سامنا آپ کو نہ کرنا پڑے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر یہ فرض ہے اور قرض بھی کہ باطل کے سامنے جہاد کے لیے کھڑا ہوا جائے غلط کے سامنے ہاتھ اٹھایا جائے اور اگر ہاتھ اٹھانے کی حیثیت نہیں ہے تو آواز اٹھائی جائے اور اگر آواز اٹھانے کی بھی حیثیت نہیں ہے تو دل سے غلط کو غلط جانے۔

سعودی عرب جیسے ملک میں جنسی تعلیم بچوں کو نہیں دی جاتی۔ مگر وہاں کے قوانین ایسے ہیں۔ کہ کوئی بھی ایسے ظلم کے بارے میں سوچتا نہیں۔ کم از کم ہمارے ملک میں ایسا شیطان عمل نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری تعلیمات میں ان سب گناہوں کو گناہ کبیرہ بولا گیا ہے۔ جس کی کوئی معافی نہیں۔ جب ان معصوم بچے جنت کی روح جنت میں جائے گی۔ ہم شرمندہ ہوں گے۔ اپنے رب کو کیا بتائیے گی یہ بات سوچ کر روح کانپ جاتی ہے جس کلی کو یہ پتا ہی نہیں تھا کہ اس نے کب کھلنا ہے فرشتوں کے سوال پر کیا بتائے گی۔ اور ایسی پتہ نہیں کتنے آنگن کے پھول انسانی ہوس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ میں ’میرا معاشرہ‘ میرے حکمران میری عدلیہ! ہم سب کو جواب دینا ہے ہم سب کو انصاف کا ایک ایسا در بنانا ہے۔ جہاں ہر انسان بے خوف و خطر اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کر سکے۔ کسی زینب کے باپ کی آواز نہ بند کی جائے۔ کسی سنگسار ہو جانے کے بعد بھی لڑکی کی عزت نہ اچھالی جائے۔ کسی بچی کی عزت اور جان لینے کے بعد ماں باپ کو جیتے جی نہ مارا جائے۔ ایک ایسی جگہ جہاں لوگ اپنی عزت اور وقار کو محفوظ سمجھیں۔ نہ کہ لوگ انصاف مانگنے کے لیے وہاں جانے سے گھبرائے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے ظلم ہے جو دبا دیے جاتے ہیں لوگ گھبراتے ہیں انصاف دینے والوں کو بتانے سے۔ ان کے غیر اخلاقی سوالوں سے انسان خود مجرم بن کر رہ جاتا ہے۔

Facebook Comments HS