بے بس لوگ


”ابو ابو مجھے بھی ویسی سائیکل لا دیں نا“ حامد ہر روز کی طرح آج بھی اسلم کی نظر سے بچنے کی کوشش میں تھا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح گھر سے نکلتے وقت اسلم نے آج بھی اس کا دامن پکڑ لیا تھا۔

حامد اسلم کے اس اصرار سے گھبرانے لگا تھا۔ چارپائی پہ بیٹھے ہوئے اس نے اسلم کو گود میں لیا۔ پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے بہلانے کی کوشش کرنے لگا۔ ”بیٹا صاحب کے پاس آج پھر جاؤں گا، کام کے ملتے ہی پہلے تیری سائیکل لاں گا۔ حامد ابھی اسلم کو سمجھا ہی رہا تھا کہ چندا ان کی باتیں سن کہ جلدی سے ان کی طرف بھاگی۔

”ابو ابو میری گڑیا کا کیا بنا“ گو کہ چندا عمر میں اسلم سے بڑی تھی اور وہ رواں سال آٹھ سال کی ہونے کو تھی۔ حامد نے ثریا کی طرف خاموش نظروں سے دیکھا اور اسلم کو چارپائی پہ چھوڑ کہ کدال اور بیلچہ لے کر گھر سے نکل گیا۔

ثریا جو کہ چوہدری طفیل کے بنگلے پہ پچھلے پانچ سالوں سے کام کرتی تھی، ایک چوری کے الزام میں وہاں سے نکال دی گئی تھی۔ چوری بھی کیا تھی چوہدرائن کے دیمک زدہ کپڑے الماری سے کہیں غائب ہوئے اور الزام بغیر تحقیق کے ثریا کے سر ڈال دیا گیا۔

آج پھر ثریا چوہدرائن کے سامنے صفائی دینے گئی۔ ”بی بی جی میں لمبے عرصے سے یہاں کام کر رہی، کبھی اک پیسہ بھی ادھر ادھر ہوا، اپنے بچوں کے صدقے میری بات کا یقین کریں۔ ایک ہفتے سے میرے آدمی کو کام نہیں ملا، راشن بھی آخری چل رہا۔ میں بے سہارا کس کے در پہ جاؤں گی“ ثریا کے آنسو لگاتار ایسے بہہ رہے تھے جیسے پانی کی نلکی کھول دی گئی ہو۔ چوہدرائن بت بنی بیٹھی رہی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے سامنے اسکرین پہ کوئی ڈرامہ چل رہا ہو۔

مردانہ آواز سے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ چوہدری صاحب حقہ ایک طرف کرتے ہوئے بولے۔ ”ارے بیگم، یہ بیچاری کب سے منت ترلے تو کر رہی ہے۔ مان جاؤ اس کی بات کیا پتا یہ سچ کہہ رہی ہو۔ چمپا بھی تو ان دنوں یہاں کام کرتی تھی اور کپڑوں کا کام تم نے دیا بھی اسے ہی تھا“ یہ کہتے ہی چوہدری اٹھ کے دروازے سے نکل گیا۔ چوہدری کی یہ باتیں بیگم کو ناگوار گزری۔ حقارت سے ثریا کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ ”سن صاحب کے کہنے پہ تجھے رکھ رہی ہوں۔ کپڑوں کی ذمہ داری تیری نہیں ہوگی اور تنخواہ بھی تجھے پوری نہیں دی جائے گی۔ جب تک تو بے گناہ ثابت نہیں ہوتی۔

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ”ثریا کی آنکھوں میں اس خوشی کے آنسو تھے جو غیر متوقع تھی۔ گھر سے نکالے جانے کے بعد تقریباً ہر دوسرے دن ثریا منت سماجت کرنے چوہدرائن کے پاس آتی تھی لیکن ہر بار بیگم کی طرف سے دھتکاری جاتی تھی، لیکن اس کی دعائیں رنگ لے آئی تھیں۔ اس نے کم تنخواہ پہ ہی رضامندی کا اظہار کیا اور چوہدرائن کے دیے گئے حکم کے مطابق جاڑو ہاتھ میں تھام لیا۔

حامد اپنی گلی سے بڑی روڈ تک پیدل ہی سفر کرتا تھا، اور ویسے بھی پچھلے ایک ہفتے سے کام نہ ملنے کی وجہ سے اس کے پاس اتنا خرچ نہ تھا کہ وہ کرایہ دے سکتا۔ اس نے کدال اور بیلچے کے ساتھ ایک چادر بھی رکھ لی تھی کیونکہ باہر کا موسم کافی حد تک ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد حامد بڑی سڑک کے کنارے اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ حسب معمول آج بھی سڑک مزدوروں سے بھری پڑی تھی۔ ان مزدوروں میں سے چند ہی ایسے تھے جو کام کے لیے چنے جاتے۔ پچھلے دو چار دنوں سے مسلسل ایک بڑی گاڑی آتی جس سے دو افراد نکل کہ کچھ مزدوروں کو ساتھ لے جاتے۔ حامد نے آج فیصلہ کیا کہ وہ خود ان لوگوں کے پاس جائے گا تاکہ اسے بھی کوئی کام دیا جائے۔

”صاحب! ان مزدوروں کے ساتھ مجھے بھی کام پہ لے چلیں، ایک ہفتے سے بے کار دن جا رہے ہیں، اللہ آپ کا بھلا کرے“ حامد اس آدمی کے پاؤں میں بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔

گاڑی سے نکلا ہوا شخص حامد کی اس حرکت سے یک دم آگ بگولہ ہو گیا اور حامد کو اک زور دار لات رسید کی۔ ”دفع ہو جاؤ پیچھے، تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔“

اس نے حامد کو زمین پہ پھینکا، کچھ مزدوروں کو ساتھ لیا اور چل دیا۔

حامد دیر تک اسی حالت میں پڑا رہا، خوف اور کپکپی کی حالت نے اسے چادر بھی اوڑھنے کا موقع نہ دیا۔ اسے اس حالت کا احساس بھی نہ ہوا کہ کب موسم بدل کے بارش کے قطرے برسانے لگا۔ بارش کی بوندیں اسے کافی بھیگا چکی تھیں۔ اس کے ذہن میں بار بار اسلم اور چندا کی معصوم خواہشات گھوم رہی تھیں۔

”اندھے انسان، خود کشی کرنے کا شوق ہے کیا، نظر نہیں آ رہا سڑک پہ پڑے ہو“ ہارن اور گالیوں کی آواز نے اسے چونکایا، اس نے مزید ہنگامے سے بچنے کے لیے بندے کی طرف ہاتھ جوڑتے ہوئے خود کو کنارے کی طرف دھکیلا۔ اسی لمحے اس نے اردگرد نظر دوڑائی تو اسے پتا چلا کہ کافی مزدور وہاں سے جا چکے ہیں۔ کچھ کی شاید قسمت جاگ گئی تھی اور کچھ لوگ بدلتے موسم کو دیکھ کے نا امیدی میں گھروں کو لوٹ گئے تھے۔ حامد نے بھی واپس گھر لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ جیسے ہی اس کا رخ گھر کی طرف ہوا اسے اپنے بچوں کی آنکھوں میں چمکتی امید نظر آنے لگی، جو ہر روز باپ کے گھر آنے کے وقت ان کی آنکھوں میں نمایاں ہو جاتی تھی۔ حامد کے پاؤں وہیں رک گئے اس نے کچھ دیر اور انتظار کرنے کا سوچا اور ایک دکان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔

ثریا نے آدھے دن میں جھاڑو پوچے کا کام ختم کیا، ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے جانچنے کے بعد کسی نے صفائی نہ کی ہو۔ چوہدرائن جو کہ کسی کام سے باہر گئی تھی آتے ہی ثریا پر چلانا شروع ہو گئی، ”کم بخت، کام چور صبح سے یہی کام کر رہی ہو۔ ابھی چوہدری صاحب مہمانوں کے ساتھ آتے ہوں گے، ان کا کمرہ صاف کیا ہا نہیں“ ثریا نے ڈرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔ چوہدرائن گالی گلوچ کرتی اندر چلی گئی اور ثریا فوراً سے کمرے کی طرف بھاگی۔

ابھی وہ صفائی میں مشغول تھی کہ چوہدری صاحب کمرے میں داخل ہو گئے۔ ثریا ان کی ٹیبل کی طرف جھکی ہوئی تھی، چوہدری نے دروازہ اس طرح کھولا کہ ثریا کو پتا ہی نہ چلا، وہ اس کے بدلتے خد و خال کو مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔

”ارے او نصیبوں کی ماری کہاں مر گئی ہو، جلدی سے میرے لیے چائے کا بندوبست کرو“ ۔ اپنے کاموں میں کھوئی ہوئی ثریا چوہدرائن کے کڑاکے دار آواز سن کر چونکی اور جھٹ سے پیچھے کی طرف مڑی۔ اس کی نظر سامنے کھڑے چوہدری پہ پڑی جو نشئی آنکھوں سے اس کی طرف گھور رہا تھا۔ ثریا شرم سار ہوتی ہوئی نظریں نیچی کیے اس کے پاس سے گزر گئی۔

کچن میں چوہدرائن ثریا کا انتظار کر رہی تھی، غصے میں آگ بگولہ مالکن نے ثریا کو آخری وارننگ کے طور پہ تنبیہ کی، لیکن اس کے ذہن میں مسلسل گھورتی ہوئی آنکھیں تھیں۔

شام کا اندھیرا کافی پھیل چکا تھا حامد کام کے انتظار میں بیٹھا رہا لیکن کہیں سے بھی کوئی ایسا بندہ نہ آیا جسے مزدور سے کوئی کام ہو۔ مایوسی کے عالم میں آخرکار اس نے گھر کی راہ کی۔ سن ہوتے ہوئے دماغ میں اسے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا کہ وہ بچوں سے کیا بہانہ کرے گا۔

اسلم بار بار اپنی ماں سے حامد کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ وہ دل میں اس لیے بھی خوش ہو رہا تھا کہ حامد معمول سے لیٹ تھا، اسلم اسی امید میں دروازے کے پاس ٹہل رہا تھا کہ آج سائیکل ضرور آئے گی۔ اتنے میں دروازہ بجا۔ اسلم نے ڈور کے دروازہ کھولا، حامد کی نیچی نظریں اور خالی ہاتھ دیکھ کے اسلم چپ چاپ پیچھے ہٹ گیا گویا اس کا ننھا ذہن یہ سمجھ چکا تھا کہ ابو کی آنکھیں آج بھی مجھ سے شرمسار ہیں۔ حامد اسی حالت میں آہستہ سے قدم اٹھاتے ہوئے گھر میں داخل ہوا اور چپ چاپ چارپائی پہ بیٹھ گیا۔ کافی دیر بیٹھنے کے بعد اس نے دن کا ماجرا اپنی بیوی کو سنایا۔ ادھر ثریا جو ابھی تک ان وحشی آنکھوں سے ہی باہر نہیں آئی تھی، حامد کی بے بسی اور مایوسی سے مزید پریشان ہو گئی۔ گویا اس وقت اس نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔

”اماں، تو نے صاحب کے گھر سے کچھ نہیں لایا“ ، دونوں بچے ثریا کے سامنے کھڑے ہو کر سوال کرتے جا رہے تھے۔ ”تو نے تو کہا تھا کہ آج روٹی کے لیے آٹا مانگ لائے گی“ حامد نے شکن زدہ پیشانی سے ثریا کی طرف دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل کیا کہ حامد کو آج کا واقعہ بتائے لیکن بھوکے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے یک دم فیصلہ ترک کیا۔ حامد، ثریا کی خاموشی سے یہ جان چکا تھا کہ آج بھی فاقہ ہی کرنا پڑے گا۔

بچوں کو بہانے سے سلانے کے بعد وہ ثریا سے کوئی بات کیے بغیر اس کی طرف متوجہ ہو گیا۔

ثریا، حامد کو گھر سے رخصت کرنے کے بعد بنگلے کی طرف چل دی۔ آج وہ اپنے بیٹے اسلم کو بھی اپنے ساتھ کام پہ لے آئی تھی۔ اس کے ذہن میں طرح طرح کی باتیں آ رہی تھیں۔ وہ پہلے بھی ان نظروں کا سامنا کر چکی تھی، لیکن ہر بار کی طرح اب بھی حامد کی بے روزگاری اور بچوں کی بھوک اسے مالکن کے سامنے منہ کھولنے سے روکتی تھی۔ چوہدری اور اس کی بیوی گھر میں موجود نہ تھے، ثریا جلدی جلدی کام ختم کر کے وہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔

”اماں، آج میں چوہدری صاحب سے خود کھانا مانگ کے لے جاؤں گا“ اسلم نے ماں کی جلد بازی کو دیکھتے ہوئے کہا

نہ، تیرا باپ آج کچھ نہ کچھ بندوبست کر دے گا ”کام ختم کر کے یہاں سے نکلنا ہے۔ ثریا کچھ گھبراہٹ اور تیزی میں بولے جا رہی تھی۔

لیکن اماں سائیکل تو مانگ لینے دو، ابو روٹی کا انتظام کریں گے سائیکل کا تو نہیں نا۔ چپ کر۔ یہ سامان اٹھا کہ رکھ وہاں سے۔ صاحب لوگوں کے آنے سے پہلے ہم نکل لیں گے۔ اسلم مایوس سا ہو کہ ثریا کا ہاتھ بٹانے لگا۔ ”

کام میں جٹی ہوئی ثریا کو ایک بار پھر چوہدری کے آنے کی خبر نہ ہوئی۔ اچانک اسے اپنے سامنے دیکھ کہ وہ خوفزدہ سی ہو گئی۔ چوہدری صاحب بھی اس کی حالت سے واقف ہو گئے۔

”سنو، تم مجھ سے خوف زدہ کیوں ہو۔“ چوہدری صاحب قریب آتے ہوئے بولے۔

نہیں صاب خوفزدہ تو نہیں ہوں۔ کا کام سب ختم کر دیا۔ میں جاؤں اب۔ چوہدری مسلسل آ گے بڑھتا جا رہا تھا۔ اب وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ اس کی سانسیں اسے سنائی دے رہی تھی۔

مجھ سے گھبرایا نہ کرو۔ بچے کی سائیکل اور روٹی نہیں چاہیے کیا۔ ”

گاڑی کی آواز سے چوہدری صاحب ایک دم پیچھے ہٹا۔ بیوی کو دیکھتے ہی اسے ثریا کے لیے آٹا نکالنے کو کہا۔ اور کمرے کی طرف چل دیا۔ ثریا آٹا لے کہ شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے باہر نکلی۔ ابھی گلی میں پہنچی نہیں تھی کہ اوپر کی کھڑکی سے کچھ پیسے اس کی سامنے آ کے گرے۔ اسلم نے جھٹ سے پیسے اٹھائے۔ ثریا کھڑکی کی طرف دیکھے بغیر گیٹ سے نکل گئی۔ آج وہ یہ فیصلہ کر کے نکلی تھی کہ اب بنگلے کی طرف دیکھے گی بھی نہیں۔

”ایک بار ضرور سوچنا“ چوہدری کی آواز باہر تک اسے سنائی دی۔

حامد نے آج ایک دوسری جگہ کا انتخاب کیا اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی کام مل جائے۔ اور ہوا بھی ایسا ہی۔ جیسے ہی وہ اپنی مقرر کردہ جگہ پہ پہنچا اسے فوراً ایک کام سونپ دیا گیا۔ کام دو چار دن کا تھا وہ پوری دلجوئی کام پہ لگ کیا۔ دیر شام تک اس نے اپنا کام ختم کی اور معاوضہ لے کہ گھر کی طرف چل دیا۔ وہ خوشی سے اس قدر جھوم رہا تھا جیسے اسے دولت کا ڈھیر عطا کر دیا گیا ہو۔ اس نے اپنا رخ گھر کی طرف سے ہٹا کہ بازار کی طرف موڑ دیا۔

دونوں بچوں کے لیے کچھ کھلونے اور رات کا کھانا لیا۔ سڑک کراس کرتے وہ خیالوں میں اس قدر گم تھا کہ ایک ٹرک جو تیز رفتاری سے اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اسے کچلتے ہوئے گزر گیا۔ لوگوں کا ہجوم اس کے گرد جمع ہو گیا سڑک پہ بکھرے کھلونوں کو حسرت سے دیکھتے ہوئے اس نے اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر دی تھیں۔

ثریا اپنے بچوں کے ساتھ حامد کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کی آنکھیں رشک سے چمک رہی تھی۔ رشک شاید بنگلہ چھوڑنے کا۔

اچانک دروازہ زور زور سے پیٹا جانے لگا۔ تینوں گھبرا گئے۔ ثریا نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا، سامنے کچھ لوگ حامد کی میت اٹھائے کھڑے تھے۔ حامد کے ساتھ پیش آیا واقعہ ثریا کو سنایا اور افسوس کرتے ہوئے کھلونے جو کہ حامد نے خریدے تھے ثریا کو تھما کے چل دیے۔ ثریا پہ جیسے قیامت ٹوٹ گئی ہو۔ کچھ عزیز و اقارب اکٹھے ہوئے۔ چوہدری کے دیے ہوئے پیسے تدفین کے کام آئے۔ کچھ دن تک ثریا سوگ میں جیسے تیسے وقت گزارتی رہی، غریب کے رشتے دار بھی غریب آخر کب تک ان کا پیٹ پالتے رہتے۔

آخرکار ثریا نے دوبارہ اسی بنگلے کا رخ کیا۔ بھوک، اور بچوں کی خواہشات نے اس کے ذہن کو ان وحشیانہ آنکھوں کو قبول کرنے پر آمادہ کر لیا تھا۔

Facebook Comments HS