مقدس دو ہزار
نئے وزیراعظم جنہیں عرف عام میں امپورٹڈ وزیراعظم بھی کہا جاتا ہے ان کے اس اعلان سے ایک لطیفہ یاد آ گیا، کہ ایسے افراد جن کی تنخواہ چالیس ہزار سے کم ہے انہیں وزیراعظم کی طرف سے دو ہزار روپے فی کس ادا کیے جائیں گے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک کنجوس شخص اپنے ایک دوست کے ساتھ بازار جا رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک چنا پڑا ہوا ملا۔ کنجوس نے اس چنے کو اٹھایا، صاف کیا، اس کا چھلکا اتارا اور آدھا حصہ اپنے دوست کو سخاوت کرتے ہوئے کہا کہ
”ساڈے نال رہو گے تو عیش ای کرو گے“ ہمارے ساتھ رہو گے تو عیش ہی کرو گے
میاں صاحب نے دو ہزار عطا فرما کر جو حاتم طائی کی قبر پر لات ماری یقین جانیے اگر حاتم طائی کو اللہ دوبارہ زندگی عطا فرمائے تو قہ یہ خبر سب کر پھر سے دربار باری تعالی کی طرف رخ کر لے۔ یعنی دوبارہ مر جائے۔ اس پر بھی مستزاد کہ میاں صاحب فرما رہے ہیں کہ حکومت پاکستان کی طرف سے عطا کردہ سکہ رائج الوقت دو ہزار خرچ کرنے میں آپ مکمل طور پر آزاد ہیں، یعنی آپ ان دو ہزار میں اپنے موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوا سکتے ہیں، اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکتے ہیں، ان دو ہزار سے آپ کہیں سفر کر سکتے ہیں۔
شکر ہے انہوں نے کہیں یہ نہیں کہہ دیا کہ ان دو ہزار میں سے آپ ایک ماہ کا مکمل راشن خرید کر کے کچھ پیسے بچا بھی سکتے ہیں۔ واہ رے وزیر اعظم صاحب آپ دو ہزار کی خریداری کا عمل ایسے بتا رہے ہیں جیسے ہزار نہ ہو ملین ہوں۔ غربا کا اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو گا کہ خود کروڑوں کے اخراجات سے مکمل عیاشیاں فرما رہے ہیں اور حکومتی خزانے کا بے دریغ استعمال ایسے کر رہے ہیں جیسے کہ بقول سینیٹر مشتاق کہ آپ کے باپ کا پیسہ ہو۔
لیکن غریب کو دو ہزار دے کر ٹی وی پر بیٹھ کر فرما رہے ہیں کہ انہیں کیسے خرچ کرنا ہے۔ بلکہ ابھی ابھی میں نے ایک خبر سنی ہے کہ رانا اقبال اور عطا تارڑ نے وزیراعظم سے فرمائش کی ہے کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے اس لئے انہیں سرکاری کھاتے سے بلٹ پروف گاڑی مہیا کی جائے۔ ارے تمہاری جان کیا اتنی ہی قیمتی ہے کہ عوام کے پیسوں سے تمہیں بلٹ پروف خرید کر دی جائے، اگر اپنی جان کی اتنی ہی پرواہ ہے تو پھر ان بریف کیس میں سے نکالو پیسے جن کا تذکرہ ماضی کی تلخ کتابوں میں ملتا ہے۔ ایک کیا دو بلٹ پروف خریدو اور کرو اپنی جان کی حفاظت ہمیں کیا اعتراض۔
وزیر اعظم کی یہ بات سنتے ہی کہ یہ آپ کی چوائس ہے کہ آپ دو ہزار اپنی مرضی سے جہاں چاہیں خرچ کریں مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا کہ کراچی کے ایک بھئے کے ساتھ کوئی زمیندار کا بیٹا رہائش پذیر تھا۔ اتفاق سے بھئے کو کسی کام کی غرض سے باہر جانا پڑ گیا۔ اب پریشانی یہ تھی کہ اس نے صبح ہی ایک کلو دودھ خرید فرمایا تھا۔ خیر بھئے نے ہمت اور سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمیندار کے بیٹے سے کہا کہ دیکھو میں کسی کام کی غرض سے شہر سے باہر جا رہا ہوں اور میری واپسی ہوگی تین دن بعد ، تم ایسا کرنا کہ ریفریجریٹر میں ایک کلو دودھ پڑا ہے خود بھی پیتے رہنا اور میری بلیوں کو بھی ڈالتے رہنا۔ ایسا ہی حال کچھ ہمارے حالیہ وزیر اعظم کا بھی ہے۔ لیکن شاید وہ اس بات سے جان بوجھ کر بے خبر ہے کہ جس طرح سے وہ دو ہزار کے اوصاف حمیدہ گنوا رہا ہے، مہنگائی کی شرح دیکھتے ہوئے اسے محلہ کہ مائی حمیداں بھی نہ لے۔ کہ خواہ مخواہ منہ کالا کروانے والی بات ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ
غریب شہر ترستا ہے اک اک نوالے کو
امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں
مصداق بڑے میاں بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ آوے کا آوے ہی بگڑا ہوا ہے، وہ اس لئے کہ عطا تارڑ اور رانا اقبال نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بلٹ پروف گاڑی دی جائے کیونکہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ ارے کیا بات ہے اب تو شطرنج کی پوری بساط ہی آپ کے ہاتھ میں ہے تو پھر ڈر کاہے کا۔ خیر مطالبہ عجب تب نہ ہوتا اگر ملک میں دودھ و شہد کی نہرین بہہ رہی ہوتیں لیکن ملکی معاشی حالات تو اشاریہ نہیں بلکہ اشارے کر رہے ہیں کہ اگر انہیں مزید چھیڑا گیا تو معاشی محل زمین بوس ہونے میں چند سیکنڈ ہی لگائے گا۔ شاید انہیں ملک کی نہیں بس اپنی ہی فکر ہے، ارے نالائق انسان خاکم بدہن اگر ملک ہی نہ رہا تو گاڑی کو سر پر مارو گے۔ شاید وصی شاہ نے حسب حال ہی کہا ہو گا کہ
وہ مرا غمگسار تھا ہی نہیں
یار سمجھے تھے، یار تھا ہی نہیں
ان کو دھرتی کی باگ ڈور ملی
جن کو اس ماں سے پیار تھا ہی نہیں
تارڑ سمیت ایسے تمام افراد جن کی نظر ہمیشہ ملکی نذر نیاز پر ہوتی ہے انہیں بس ایک ہی فکر ہوتی ہے کہ ”لاگیاں نے لاگ لینے، کڑی چاہے جاندے ای رنڈی ہو جائے“ اس میں رائی بھر بھی شک نہیں کہ ملکی معاشی حالات اس نہج پر ہیں کہ سب ارباب سیاست و اہل فکر و دانش کو مل بیٹھ کر معاشی مسائل کے حل کے سوچنا چاہیے ناصرف سوچنا چاہیے بلکہ عملی اقدام کی طرف بھی بڑھنا چاہیے۔ ملک میں بڑھتی مہنگائی اور سیاسی و معاشی حالات اس بات کے متحمل نہیں ہیں کہ آپس کی لڑائی میں جیسے پہلے ملک دو لخت ہوا خدانخواستہ کچھ اور نہ ہو جائے۔
ایسے میں حالیہ حکومت کو چاہیے کہ ایسے افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کرے جو ملکی وسائل سے زائد کچھ طلب کرتے ہیں خواہ وہ تارڑ ہو کہ اقبال یا پھر پارلیمانی ممبران و بیوروکریٹس۔ اس خیال سے بھی چھٹکارا حاصل کریں کی ایک خاص کلاس پاکستان میں مسلط ہو کر عیاشیاں کرتی ہے۔ انہیں بھی تو محب وطن ہونے کا ثبوت فراہم کرنا چاہیے ناکہ غربا ہمیشہ سے ہی مشکل وقت میں ساتھ دیں اور شرفا کے کتے بھی راج کریں۔
محشر کا خوف، حوروں کا لالچ دیا گیا
میں چیختا رہا مجھے روٹی چاہیے


