آپ بیتی، کیسے بیتی؟


آپ بیتی کیسے بیتی؟ کیسے لکھوں؟ یہاں لکھنی بھی چاہیے کہ نہیں؟ لکھوں تو کہاں سے شروع کروں کہاں تک سناؤں؟ کوزے میں دریا بند کرنا آسان کام نہیں۔ مگر دل نے کہا کہ لکھوں! بچپن سے آج تک زندگی کی کانٹوں بھری پگڈنڈی سے گزرا ہوں۔ زندگی کی پگڈنڈی پر بکھرے مضطرب حالات کے کانٹے چنتے، چگتے بھی ذاتی، تعلیمی اور ادبی زندگی کا سفر جاری رکھا۔ میں منٹو نہیں جو گنجے فرشتے جیسی کتابیں لکھ سکوں۔ جو بھی ہے لکھا ہے۔

ہاں میں نے سمندر جیسے پر آشوب حالات سے گزرتے بھی لکھا ہے۔ 1974 ء سے اس سفر میں ہوں۔ رف لکھا ہے فیئر تاریخ کرے گی۔ ایک کسان کے بیٹے کو اور کوئی تمنا نہیں تھی ماسوائے پڑھنے لکھنے اور آگے بڑھنے کی آرزو کے، اچھے پہننے اور کھانے کی کبھی خواہش نہیں کی۔ بس ہل چلا کر محنت مزدوری کر کے پڑھا۔ میں دوسرے احساس کمتری کے شکار لو1گوں کی طرح نہ ماضی چھپاتا ہوں، نہ جھوٹ بولتا ہوں کہ سونے کے برتنوں میں کھاتا تھا۔ بھلے کوئی اپنا بچپن اور ماضی بھولے یا جھوٹ بولے مگر میں نہیں بھول سکتا جلتے انگاروں جیسا اپنا ماضی! میں نہیں بھول سکتا وہ سونے چاندی جیسا غربتوں میں گھرا اپنا ماضی اور بچپن!

سمندر کا پانی کڑوا ہوتا ہے مگر اس کی گہرائیوں میں موتی بھی پلتے ہیں تو میٹھا گھاس بھی ہوتا ہے۔ میں مشکلات کی کڑواہٹ کو اب بھی سینے سے لگائے بیٹھا ہوں۔ باپ چار جماعت پاس تھا۔ اپنی تھوڑی سی زمیں میں خود فصل اگاتا تھا اور میں بڑے بیٹے کے ناتے اس کے ساتھ کھیتی باڑی کا کام بھی کرتا تھا اور پڑھتا بھی تھا۔

پرائمری تک ننگے پاؤں پڑھا۔ میٹرک تک ہائی اسکول میں اگلی کلاس کے رشتے دار عبیداللہ کنگرانی کے بیٹے نصراللہ کنگرانی سے کورس کی پرانی کتابیں لیتا تھا اور میٹرک تک پڑھا۔ کسان کا گھر چولہا مشکل سے جلتا تھا مگر میں پڑھا۔ گاؤں سے اسکول تک ڈھائی کلومیٹر کا فاصلہ سردیوں گرمیوں کے موسم میں ہوائی چپل پہن کر آتا جاتا تھا۔ پی ٹی ٹیچر کے پی ٹی شوز نہ پہننے کی لیے ہاتھوں پر لگتی ڈنڈیوں کا درد آج بھی ہاتھوں میں محسوس کرتا ہوں۔ مگر میں پڑھا۔ انٹر یا ایف سی کیسے کیا؟ بی ایس سی کا امتحان کیسے پاس کیا۔ ایم سندھی ادب میں پرائیویٹ جامعہ سندھ سے فرسٹ کلاس فرسٹ میں پاس کر کے گولڈ میڈل کیسے لیا؟ یہ ایک مشکل حالات کے طوفان سے گزرنے کی لمبی کہانی ہے۔

آج میرٹ کی دھجیاں اڑی ہوئی ہیں۔ مگر میں تب میرٹ پر پرائمری ٹیچر سے پروفیسر اور پرنسیپل کی نوکری تک اپنی محنت کے بل بوتے پر سفر کیا۔ کس لگن سے پڑھایا وہ شاگرد ہی گواہی دے سکتے ہیں۔ میں اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بن سکتا۔ میں صحرائے کا چھو کے کافی اسکولوں یا کالج میں رہ کر پڑھایا۔ ایک فرض اور عبادت سمجھ کر تعلیم کو فروغ دیا۔ غریب طلباء کی فیسیں جیب میں سے بھی دیں۔ طلباء کا کیا رویہ یا روش رہی، والدین نے کیا اور کتنی عزت دی؟ بیان نہیں کر سکتا۔

علم ادب کا سفر نہیں چھوڑا۔ بچپن سے آج تک مسلسل لکھتا رہا ہوں۔ اردو سندھی زبان اور انگریزی میں لکھا ہے۔ سندھی زبان اور اردو میں افسانے لکھے ہیں۔ اردو اور سندھی زبان میں ڈرامے لکھے جو پاکستان ٹیلیویژن کراچی سینٹر اور دوسرے نجی چینلوں سے ٹیلی کاسٹ ہوئے اور ہوتے رہے ہیں۔ تاریخ، تحقیق اور آرکیولوجی پر لکھا ہے۔ سندھی زبان اور اردو میں کلاسیکی اور عروضی شاعری میں طبع آزمائی کی ہے۔ سیکڑوں تحقیقی اور تنقیدی مضامین لکھے ہیں۔ جو لکھا وہ شایع ہوا سندھی زبان اور انگریزی میں 18 کتابیں شایع ہوئی ہیں۔ ایک زیر اشاعت ہے۔

میری ایک خامی ہے کہ میں نے کبھی چاپلوسی نہیں کی! ہاں البتہ دوستی کی جگہ میں نے کوئی کام ضرور کہا ہو گا یا کتابیں شایع کرنے کے لیے کسی دوست کو ضرور کہا ہو گا مگر کسی کے پاؤں نہیں پکڑے ہوں گے ۔ پانچ کتابیں اداروں نے چھپوائی ہیں باقی میں نے خود چھپوائی ہیں۔ میں نے کیرتھر پہاڑوں پر قدیم نقش نگاری میں انڈس اسکرپٹ دریافت کیا اور معروف شاعر دوست علی آکاش کی مدد سے ’انڈس اسکرپٹ ان اسٹون‘ کتاب شایع ہوئی ہے۔ میں نے اختصار سے کام لیتے ہوئے آپ بیتی کیسے بیتی کو گنجائش کی وجہ سے مختصر کر لیا ہے۔

آخر میں زندگی کا ایک کڑوا سچ نہ چاہتے بھی مجھے بیان کرنا پڑ رہا ہے کہ جن کے ساتھ بھی نیکی کی افسوسناک حد تک اس نے تکلیف دی! یہ دکھ شیئر کرتے وقت رگوں میں آگ پھیل جاتی ہے۔ میں نے کہاوت میں تبدیلی کی ہے کہ نیکی کر کے دریا میں ڈالنے اور ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ نیکی ہی نہ کی جائے۔ جعلسازی، منافقی، احسان فراموشی اور محسن کشی معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ گئی ہے۔

Facebook Comments HS