ایم آر ڈی میں آمریت کے سائے تلے صحافت
ایم آر ڈی کے دوران فوج کی تشدد کا نشانہ بننے والے پرانے صحافی کہتے ہیں کہ دیگر آمروں کی طرح ضیا بھی نمائشی، مکار اور منافق ثابت ہوئے۔ ضیا نے بھی 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا کہ پریس آزاد ہے اور پریس ان کی ایڈمنسٹریشن اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لئے با اختیار ہے۔ لیکن بات بگڑتی ہی چلی گئی اور پھر نہتے صحافیوں اور حکومت میں کشیدگی شروع ہو گئی۔ صحافی گرفتار کیے گئے، ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کوڑے مارے گئے۔ قبل اس کے نہ تو پاکستان کی تاریخ میں نہ ہی بر صغیر کی تاریخ میں ایسا کبھی ہوا تھا۔
آزاد میڈیا کی جدوجہد میں سندھ کے ٹریڈ یونینز کے کارکنوں، کسانوں اور طلبا نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ گو کہ یہ جدوجہد جلدی نتائج نہ دے سکی لیکن اس نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر اپنے نقوش ضرور چھوڑے تھے۔
”ضیا کے دور میں صحافیوں کے ناخن کھینچے جا رہے تھے اور تشدد کی وجہ سے ان کے جبڑے خون آلود تھے لیکن صحافیوں کی جانب سے 1977 اور 1979ء میں اٹھائے گئے ایک چھوٹے قدم کی پیروی کرتے ہوئے 1983ء میں سندھ کے غیر مسلح عوام نے ایک بڑی جدوجہد میں بدل ڈالا۔ ایم آر ڈی کے دوران سندھ کے ننگے کسانوں نے فوجی حکومت کو للکارا، اور یہ لہر آگے بڑھ کر ایک تحریک میں تبدیل ہو گئی،“ کراچی پریس کلب کے سابق صدر اور ایم آر ڈی میں صحافت کرنے والے مرحوم صبیح الدین غوثی نے چند برس پہلے اس وقت بتایا تھا جب میں ایم آر ڈی پر کام کر رہا تھا۔
ضیا کے آمریت سے بھرپور اقدامات کو للکارتے ہوئے سب سے پہلے صحافیوں کی یونین فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اس وقت کے صدر منہاج برنا نے مطالبہ کیا کہ نیشنل پریس ٹرسٹ کو توڑ دیا جائے اور نیشنل پریس ٹرسٹ سے وابستہ ہر اخبار کو عوامی ٹرسٹ میں تبدیل کر دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یحییٰ بختیار کی سربراہی میں چلنے والی نیشنل پریس کمیشن توڑ دی جائے، تاہم نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین نے منہاج برنا کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پریس ٹرسٹ توڑ دینے کا مطالبہ کرنے پر منہاج برنا کی ملازمت ختم کیوں نہ کی جائے؟
اس سے قبل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے 1960ء کی دہائی سے نیشنل پریس ٹرسٹ کو توڑنے کا مطالبہ کرتی رہی تھی۔ 1960ء کی دہائی کے آخر میں جب ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ایوب خان کی کابینہ سے واک آؤٹ کر کے آئے تھے اور پیپلز پارٹی کے قیام کا حتمی فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت بھٹو کے بنیادی مطالبات میں پی ایف یو جے (پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس) کی جانب سے نیشنل پریس ٹرسٹ توڑنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں عبدالحفیظ کاردار اور دیگر نے صحافیوں کے اس مطالبے کے حق میں لاہور میں بھوک ہڑتال بھی کی تھی، جبکہ بھٹو خود بھی اس مسئلے کے حق میں لاڑکانہ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔
بعد ازاں مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کی بھاری اکثریت سے کامیابی اور سنہ 1971ء میں پاکستان کے دو ٹکڑے ہو جانے کے بعد بھٹو نے ملک کے پہلے منتخب سربراہ کی حیثیت میں باگ ڈور سنبھالی تو ان کو نیشنل پریس ٹرسٹ توڑنے کا مطالبہ یاد دلایا گیا لیکن ان دنوں مرحوم کوثر نیازی وزیر اطلاعات تھے اور وہ مختلف خیالات رکھنے والے شخص تھے۔ نیشنل پریس ٹرسٹ، ریڈیو اور ٹیلیویژن پر مولانا کوثر نیازی کی حکمرانی چلتی تھی۔ مختصر لفظوں میں یہ کہا جائے کہ جب پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو بھٹو نے بھی میڈیا کی جانب وہی رویہ رکھا جو پاکستان میں دوسرے حکمرانوں کا تھا۔
پیپلز پارٹی حکومت نے صحافیوں کے امیدوں کے برعکس نیشنل پریس کمیشن قائم کی اور یحییٰ بختیار کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ 5 جولائی 1977ء کے آخری لمحات میں جس وقت ضیا نے اقتدار کا کنٹرول سنبھال لیا اور بڑے بڑے وعدے کیے ، وہ وقت مطالبات منوانے کے لئے موزوں تھا۔ تب منہاج برنا نے صحافیوں کے سربراہ کی حیثیت میں نیشنل پریس ٹرسٹ اور نیشنل پریس کمیشن کو توڑنے کا مطالبہ کیا۔ ضیا نے برنا کی بات مان لی اور نیشنل پریس کمیشن توڑ دی لیکن نیشنل پریس ٹرسٹ والے معاملے پر خاموش رہے، تاہم انہوں نے وزارت اطلاعات اور اخباروں میں موجود اپنے بندوں کو کا رم جاری رکھنے کا کہا، جن لوگوں کا سوائے اس کے اور کوئی کام نہیں تھا کہ وہ میڈیا کو پاکستان مخالف عناصر سے پاک کریں گے۔ وہ پاکستان کے نظریاتی برانڈ کے ساتھ میدان میں اترے اور حقیقی صحافیوں پر یہ الزامات عائد کیے کہ وہ نظریہ پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
اگست 1977 میں جب نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین نے منہاج برنا کو شوکاز نوٹس بھیجا تب بھٹو نے، جیل سے باہر رہتے ہوئے، دیگر لیڈروں کی طرح برنا اور صحافیوں کے حق میں بیان جاری کیا۔ بھٹو کو اگست 1977ء میں کچھ دنوں کے لئے حفاظتی تحویل سے آزاد کر دیا گیا تھا۔ وہ بذریعہ ریل لاہور سے کراچی پہنچے لیکن ان کو کراچی کے کینٹ اسٹیشن پر اترنے نہ دیا گیا، کلفٹن پل سے لے کر بھٹو کی رہائشگاہ 70 اور 71 کلفٹن تک عوام کا سمندر امڈ آیا تھا۔
بھٹو نے اپنی آزادی کے مختصر سے عرصے میں ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی اور صحافی کارکنوں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ صحافیوں واضح الفاظ میں ان کو بتایا تھا کہ انہوں نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں حکومت اور صحافیوں کے درمیان روابط کے سلسلے میں کوئی اچھی روایت قائم نہیں کی۔ بھٹو پر واضح کر دیا گیا کہ انہوں نے بھی حکومت پر تنقید کی وجہ سے عدم برداشت والے ایسے رویے کا اظہار کیا جو دوسری حکومتیں کرتی ہیں۔ بھٹو کو یہ بھی یاد دلایا گیا کہ انہوں نے 1970ء کے انتخابات سے قبل کون کون سے وعدے کیے تھے؟ بھٹو نے اپنی تمام غلطیاں تسلیم کیں اور ایک بار پھر وعدہ دہرایا وہ جب بھی دوبارہ اقتدار میں آئے اس مسئلے کو حل کیا جائے گا، لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔
بالآخر برنا کو کراچی میں پاکستان ٹائمز کے بیورو چیف کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ مساوات اخبار کو بھی پیپلز پارٹی کی حامی اخبار ہونے کی وجہ سے یکے بعد دیگرے نوٹس بھیجے گئے۔ اخباری کارکنوں کی تنظیمیں مزید چوٹیں کھانے والی تھیں، ہر گزرتے دن ضیا نے اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی اور مزید سخت اقدامات کیے ۔ ضیا کی عدم برداشت کا یہ عالم تھا کہ اردو ڈائجسٹ کے مدیر الطاف قریشی کو مارشل لا آرڈر کے تحت حراست میں لے لیا گیا۔
سراج الحق میمن جیسے صحافی کو ہلال پاکستان کے مدیر کے عہدے سے برخواست کیا گیا، مساوات پر پابندی عائد کر دی گئی۔ حکومت کے اس طرح کے اقدامات کے خلاف صحافیوں کے پاس ماسوائے مزاحمت اور کوئی چارہ نہیں تھا، ایک وسیع البنیاد ورکرز کو آرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی گئی اور ایک 9 نقاطی چارٹر آف ڈیمانڈ جاری کیا گیا، جس میں مساوات، نصرت، ہلال پاکستان، اردو ڈائجسٹ، حیات اور دیگر اخبارات کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ ان تمام اخبارات پر مارشل لا آرڈر کے تحت پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس سلسلے میں 29 نومبر 1977ء کو پاکستان بھر میں احتجاج کا دن منایا گیا۔
کراچی پریس کلب میں صحافیوں نے بھوک ہڑتالی مہم شروع کی۔ بالآخر دسمبر 1977ء میں حکومت نے ان مطالبات پر غور کرتے ہوئے مساوات کی اشاعت بحال کر دی، لیکن یہ عارضی مرحلہ تھا۔ 16 اکتوبر 1977ء کو ضیا نے انتخابات کروانے والے اعلان کی تردید کرتے ہوئے انتخابات نہ کروانے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد کسی کو بھی نہیں بخشا گیا۔
طلبا پر پابندی عائد کر دی گئی۔ لیبر یونین اور سرکاری آفسوں میں یونین سازی بھی زیر عتاب آئی۔ صحافیوں کو قانونی فوائد دینے سے انکار کر دیا گیا۔ دسمبر 1977ء میں پابندی زدہ اخبارات کی بحالی کے ساتھ ساتھ دیگر اخبارات کے لئے بھی ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کی وجہ سے پریس اور حکومت میں تعلقات بد سے بدتر ہو گئے۔ مساوات، نصرت اور ہلال پاکستان، جو کہ اس وقت پیپلز پارٹی کے اخبارات تھے، کے ساتھ ساتھ امن، صداقت، ہفت روزہ الفتح، ہفت روزہ معیار، زندگی، لیل و نہار اور دیگر اخبارات بھی آمریت کا نشانہ بنے۔
بالآخر صحافیوں کی جانب سے 29 اپریل 1978ع میں لاہور میں بھوک ہڑتال شروع کی گئی، برنا کو بھوک ہڑتال کے آغاز میں ہی لاہور سے دو ماہ کے لئے حراست میں لیا گیا۔ مئی 1978ء میں پورا مہینہ بھوک ہڑتال جاری رہی، 300 سے زائد صحافیوں اور ٹریڈ یونین کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ 13 مئی 1978ء کو تین صحافیوں خاور نعیم ہاشمی، اقبال جعفری اور ناصر زیدی کو کوڑے مارے گئے۔ 50 سالہ بزرگ صحافی مسعود اللہ خان کو بھی کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی لیکن بعد ازاں ان کی ضعیف العمری اور ایک ٹانگ میں نقص کو دیکھتے ہوئے ان کو کوڑے نہیں مارے گئے۔
صحافیوں کو کوڑے مارنے کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کیا گیا۔ اقوام متحدہ میں اقوام متحدہ کے نمائندوں کی ایسوسی ایشن نے ضیا الحق کے اس وقت کے وزیر خارجہ آغا شاہی کی پریس بریفنگ کا بائیکاٹ کیا، واشنگٹن، لندن اور دنیا کے دیگر ملک کی دارالحکومتوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
لاہور میں حامیوں کے ساتھ گرفتار ہونے والے صحافیوں کو اگلے دن فوجی کورٹ میں پیش کیا گیا، فوجی کورٹ نے ان کو سزائیں سنائیں اور بعد ازاں انہیں دور دراز کے علاقوں ملتان، ساہیوال، میانوالی اور دیگر شہروں میں قائم جیلوں میں بھیجا گیا۔ صحافیوں کو جیل کے اندر سی کلاس میں رکھا گیا اور قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئیں۔ اسی ماہ ہی آمریت کے خلاف عوام کی جدوجہد نے زور پکڑی اور کٹھ پتلی لوگ بھی میدان میں آ گئے اور انہوں نے گرفتار افراد کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے ۔ واضح رہے کہ جب 13 مئی کو صحافیوں کو کوڑے مارے گئے اور پوری دنیا میں اس بات کے خلاف مظاہرے ہوئے تو حکومت نے دباؤ میں آتے ہوئے صحافیوں کو بی کلاس دیا۔ کٹھ پتلی صحافی تنظیموں اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔
صحافیوں نے سخت گرمیوں کے دن پنجاب کے جیلوں میں گزارے اور ان کو انتہائی غیر انسانی طریقے سے رکھا گیا۔ لاہور میں، کوٹ لکھپت جیل کی کھولی نمبر 7 چڑیا گھر کے پنجرے کے مانند تھی۔ اس کی کوئی چھت نہیں تھی اور چاروں طرف سے کھلی ہوئی تھی اور دن کے وقت اس میں بمشکل ہی چھاؤں آتی تھی۔ میانوالی جیل کا تو قصہ ہی الگ ہے۔ یہ تو صحافی تھے جنہوں نے وہاں وقت گزارہ۔ یہاں بھی درجن کے قریب بھارتی اسمگلر قید تھے یا پھر وہ بھارتی خفیہ ادارے کے مخبر تھے۔ میانوالی جیل میں یہ پاکستانیوں کے ساتھ گھل مل گئے۔ تین بجے کے بعد سارے لوگ ریلیکس ہوتے تھے۔ راگ کی محفلیں، تقریریں اور بہت کچھ ہوتا تھا۔
پنجاب کے جیلوں سے صحافیوں کی آزادی کے بعد بھی میڈیا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آمریتی حکومت ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کے خلاف اقدامات کر رہی تھی۔ پنجاب کے جیلوں سے آزادی پانے والے صحافی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے، جو کراچی میں تھے، ان کی نوکریاں بچ گئیں اور وہ اپنی ڈیوٹیوں پر بحال ہوئے، جن کی نوکریاں ختم ہوئیں ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
اب میڈیا کے لئے حالات اور بھی بدتر ہو گئے، اس لئے صحافیوں نے بھی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور وہ بھی سندھ کے ہاریوں، طلبا اور مزدوروں کے ساتھ جدوجہد میں شامل ہو گئے۔ روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریاں پیش کی جاتی تھیں، لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اکٹھی ہوتی اور رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں پیش کی جاتیں۔ لوگوں کے بہت بڑے بڑے اجتماع ہوتے اور حکومت پریشان ہو جاتی تھی کیونکہ تحریک کے بڑھنے کا خطرہ تھا جو آگے چل کر بالآخر بڑھ گئی۔ سات اہم لیڈران کے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے۔
جن صحافیوں کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے 12 اور 13 اگست 1978ء کی درمیانی شب ان کے گھروں پر پولیس نے چھاپے مارے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس وقت کراچی میں ساڑھے تین سو صحافی قید تھے متعدد لوگوں کو لانڈھی جیل، حیدرآباد جیل، سکھر جیل اور دیگر جگہوں پر رکھا گیا تھا۔
اعلی سطحی مداخلت کے باوجود صحافیوں کی جانب سے رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ جیل صحافیوں سے بھر گئے اور بالآخر حکومت نے اکتوبر 1978ء میں صحافیوں کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، یوں صحافیوں کی رہائی عمل میں آئی لیکن اس دور کے چھپنے والی اخباروں کو دیکھا جائے تو اور ہی منظر ملتا ہے، پاکستان میں تاریخ کے بدتر ترین حالات پاکستانی میڈیا نے اس دور میں دیکھے، جب فوجی خود اخبار کی ایک ایک خبر پڑھتے تھے اور جو خبر پسند نہیں ہوتی تھی وہ نکال دیا کرتے تھے اور وہ جگہ خالی کر دی جاتی اور اگلے دن اس خبر کی جگہ پر قینچی چھپ کے سامنے آتی تھی۔ جس کا یہ مطلب ہوتا تھا کہ یہاں خبر لگی ہوئی تھی جو فوجیوں کو پسند نہیں آئی، انہوں نے نکال دی ہے اور اس کی جگہ قینچی کا نشان لگا دیا گیا ہے۔



