زبان کیا ہے اور اردو کا تشکیلی سفر کیسا رہا؟


لغت کے اعتبار سے زبان منہ کے اندر کا وہ عضو ہے جس میں قوت ذائقہ ہوتی ہے اور بہ طور آلہ نطق استعمال کی جاتی ہے۔ یہ فارسی زبان کا لفظ ہے اور اردو میں بہ طور اسم مستعمل ہے۔ اس کے ذریعے انسان تکلم یا تحریر کی صورت میں اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ ایبنگ ہاؤس کے مطابق زبان روایتی علامتوں کا ایک نظام ہے جو کسی بھی وقت اختیاری طور پر مسلمات کے تحت وضع کیا جاتا ہے۔ ایف ڈی ساسر کے مطابق زبان خیالات اور افکار کا اظہار کرنے والی علامتوں کا نام ہے۔  اوٹو جیسپرسن کے مطابق زبان انسانی سرگرمی اور عمل ہے جس کا مقصد خیالات و جذبات و اظہار ہے۔ پروفیسر خلیل صدیقی کے مطابق زبان انسان کی تکلمی یا نطقی آوازوں سے تشکیل پاتی ہے، علامتی حیثیت رکھتی ہے، اختیاری اور متفق علیہ ہوتی ہے، یہ ایک نظام ہے اور ابلاغ کا ذریعہ ہے۔

جرمن مفکر ہرڈر کے مطابق زبانوں کی تخلیق ربانی نہیں ہوتی، یہ انسانوں کی اپنی وضع کی ہوئی تخلیق ہے۔ یعنی زبان انسان کا تخلیقی عمل ہے۔ ماہر نفسیات ونٹ کے مطابق زبان کا آغاز محض اتفاق ہے۔ رڈالف ایسلر کے مطابق زبانیں ( 1 ) دینیاتی ( 2 ) اختراعی اور ( 3 ) نفسیاتی نسبی بنیاد پر وجود میں آتی ہیں۔ تاہم زبان کی ابتدائی صورت، خلیل صدیقی کے مطابق، انسانی ذہن کا کرشمہ ہے۔ انسانی زبان کے لیے ضروری ہے کہ اس کی خاص علامتی حیثیت ہو اور ایک خاص انسانی گروہ میں تکلم و ابلاغ کے لیے مستعمل ہو۔ ماہرین لسانیات کے مطابق کسی بھی زبان کے لیے اس کا صرفی، نحوی، صوتی اور معنیاتی نظام کا ہونا ضروری ہے۔

جب کوئی زبان اپنی پہلی حیثیت (مادری زبان) سے بڑھ کر ثانوی حیثیت (فکری زبان ) اختیار کر لیتی ہے تو اس کا حلقہ بھی بڑھ جاتا ہے اور پہلی زبان کی صوتی، صورتی اور سیرتی عادتیں بھی متاثر کرتی ہے۔ زبانوں کی یوں مختلف وجوہات کی بنا پر کثیر تعداد میں املا و تلفظ میں انحرافات سے بولیاں جنم لیتی ہیں۔ بولیاں زبانوں سے اور زبانیں بولیوں سے جنم لیتی ہیں۔ زبانوں کے اسماء و افعال اور حروف و ہجوں میں ہر چالیس میل کے بعد چھوٹی چھوٹی سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو آہستہ آہستہ بڑی تبدیلیوں پر منتج ہوجاتی ہیں۔

قوموں کی ذیلی شاخوں، قبیلوں، خاندانوں اور جتھوں میں تقسیم ہونے سے زبانی انحرافات اور بولیاں جنم لیتی ہیں۔ لسانی گروہوں میں ذیلی مقامی گروہوں کی باہمی چشمک، تہذیبوں کی تقسیم، سیاسی و معاشی عوامل، آبادی میں اضافہ، جغرافیائی تقسیمی وجوہات، ثقافتی و مذہبی اثرات اربنائزیشن، مائگریش  اور گلوبلائزیشن کے اثرات، مقامی آب و ہوا، پیشوں، بودوباش، فطرت کے عناصر اور جغرافیے کا مرکزی زبان پر اثرات، تجارتی، تعلیمی، سیاسی اور معاشی مراکز سے دوری، جدید ذرائع ابلاغ تک رسائی کا فقدان، ناخواندگی، بولنے والوں کی بہ نسبت لکھنے والوں کی کمی، دیہاتی پس ماندگی اور عورتوں کے سماجی دائرے کی محدودیت کے باعث مرکزی زبانوں سے بولیوں کی جنم بھومی ہوتی رہتی ہے۔ کثیر اللسانی معاشرتی نظام، سرحدی اشتراکات، لسانی تطہیر اور ماضی پرستی بھی بولیوں کی داغ بیل ڈالنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

زبان اور بولی میں فرق کرنا اس وقت ممکن ہے جب زبان کی ساخت، قواعد، صوتی، صرفی، نحوی اور معنیاتی نظام سے شد بد ہو۔ زبان جہاں بھی ہو، اس کی ساخت، گرامر اور مجموعہ نظام میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ جہاں بھی کسی زبان کی ساخت اور مجموعہ نظام میں مصوتوں، مصمتوں، اسماء، افعال، صفیری، معکوسی اور ہکاری آوازوں میں تبدیلی پائی گئی تو یہ سمجھنا آسان ہو گا کہ یہ اصل زبان کی ذیلی شکل ”بولی“ ہے۔ اصل زبان ادب، تعلیم، خط و کتابت، تقریر و تحریر، تہذیب و تمدن، شرفا اور دانش وروں کی زبان ہوتی ہے، جب کہ بولی کاریگروں، کاروباری افراد، ڈرائیوروں، کسانوں، عورتوں، خالص دیہاتیوں، کچہریوں اور بازاروں کی مقامی زبان ہے، جو خطہ بہ خطہ تبدیل ہوتی رہتی ہے اور اس کے الفاظ کو تحریر و تقریر اور خط و کتابت میں شامل نہیں کیا جاتا۔

اصل زبان میں تذکیر و تانیث، واحد جمع، اعراب، روزمرہ و محاورہ اور دیگر لغوی و اصطلاحی اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے، جب کہ بولی اس طرح کے لوازمات سے آزاد ہے۔ اصل زبان کی اپنی لغت و قواعد ہوتے ہیں، جب کہ بولی کسی بھی قید سے مبرا ہے۔ اصل زبان میں شعرا، ادبا، مصنفین اور دانش ور ہوتے ہیں، جب کہ بولی صرف گھریلو اور علاقائی ضروریات تک محدود رہتی ہے۔ اصل زبان میں سوقیانہ، گنوار، پست اور فحش الفاظ نہیں ہوتے، جب کہ بولیوں میں اس طرح کے الفاظ کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اصل زبان پرتکلف اور آفاقی ہوتی ہے۔ زبان کا حلقہ بولی سے وسیع تر ہوتا ہے۔

دنیا میں اس وقت ساڑھے چھے ہزار سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ماہرین لسانیات کے مطابق ان تمام زبانوں کو 10 بڑے لسانی خاندانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہاں پر اردو سے مناسبت کی بنیاد پر چار لسانی خاندانوں کا ذکر کیا جاتا ہے : ( 1 ) ہند یورپی خاندان، ( 2 ) چینی تبتی خاندان، ( 3 ) افریقی ایشیائی خاندان اور ( 4 ) دراوڑی خاندان۔ بنیادی طور پر زبانوں کو قواعد، جملوں کی بناوٹ، مرکبات کے اصول، معنوی قرابت اور صوتیاتی مشترک خصوصیات کی بنیاد پر مختلف خاندانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

ہندستانی زبانوں کا تعلق ہندستان میں آریاؤں کی آمد 1500 ق م سے جڑا ہوا ہے، جو مشرقی ایران میں 2000 ق م قیام کرچکے تھے اور آرین سے مقامی زبانوں کے طفیل ہند ایرانی (جدید فارسی نہیں ) زبان وجود میں آ چکی تھی۔ اور یوں اس جغرافیے میں ہند ایرانی زبان کو یہاں بولنے والی زبانوں کی ماں قرار دیا جاتا ہے۔ ہند یورپی خاندان سے ایران کی سرزمین پر ہند ایرانی زبان ( 2000 ق م) میں جنم لیتی ہے پھر ( 1500 ق م) میں آرین کی برصغیر آمد سے ہند ایرانی زبان سے ہند آریائی زبان جنم لیتی ہے۔ اتھروید، بجروید، سام وید اور رگ وید اسی ہند آریائی زبان میں لکھی گئی ہیں۔

”آریاؤں کی آمد سے قبل برصغیر میں زبانوں کے خاندان اور گروہی رشتوں کی تلاش ہند یورپی خاندان کے مطالعے سے شروع ہوتی ہے۔“ ہند یورپی گروہ زبانوں کا سب سے بڑا خاندان ہے۔ انگریزی، سنسکرت، لاطینی، فارسی، پنجابی، بنگالی، ہندی اور اردو کا تعلق اسی خاندان سے ہے۔ یہ خاندان براعظم پاک و ہند، یورپ، براعظم امریکہ، جنوبی افریقہ اور اسٹریلیا پر محیط ہے۔ ہند ایرانی زبان بھی اسی خاندان سے ہے جو یہاں کی زبانوں کی ماں تصور کی جاتی ہے۔

”یہ قابل ذکر ہے کہ آرین کا ہندستان میں دراوڑ اور آسٹرک قوموں سے سامنا ہوا۔ آرین زبان نے پراکرت، اپ بھرنش اور دیگر مقامی زبانوں پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔ آسٹرک زبان کے الفاظ، اسماء و افعال اب بھی تبت، چینی، برما، تھائی لینڈ اور ہندستان کی زبانوں میں موجود ہیں۔ جب کہ دراوڑی خاندان کے جنوبی ہندستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور سری لنکا میں بھی 26 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جن میں تمل، ملیالم، تیلگو اور کنڑ معروف ہیں۔ بشپ کارڈوبل نے اس زبان کے قواعد لکھے ہیں۔ ان کے مطابق دراوڑی نے سنسکرت اور ہند آریائی زبان کو بھی متاثر کیا ہے۔“

اردو چوں کہ براعظم پاک و ہند میں وجود میں آئی ہے اور اس میں کئی زبانوں کے الفاظ موجود ہیں۔ اردو کا تعلق ہند یورپی خاندان کی ذیلی شاخ ہند آریائی سے ہے، لیکن مستقل طور پر اردو کا ہیولا برصغیر میں عربوں، افغانوں، ترکوں اور مقامی باشندوں کے اختلاط سے ہندوی، ہندی، دہلوی، گجری، دکنی، ریختی، ہندستانی اور اردو کے نام سے 600 عیسوی سے 1800 عیسوی تک تیار ہو گیا ہے۔

اردو ترکی زبان کا لفظ ہے۔ بعض محققین کے نزدیک یہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر کے بقول عام سندھی بول چال میں ”اردو“ ڈھیر یا اشیا کے ذخیرے کو کہتے ہیں۔ سکینڈے نوین زبان میں Urd یا Urth ڈھیر، مجمع یا مجموعہ کو کہتے ہیں۔ آریائی زبان میں ”ارد“ سے مراد انسانی معاشرت ہے۔ لاطینی زبان میں Horde سے مراد خانہ بدوش، گروہ، مجمع یا لشکر ہے۔ اردو کو Moors سے بھی پکارا گیا ہے۔ اردو کے لیے ہندستانی کا لفظ انگریزوں اور خاص کر گل کرسٹ نے استعمال کیا۔

18 ویں صدی کے ربع آخر تک اردو زبان کے لیے ”اردو“ لفظ کے استعمال کے آثار نہیں ملتے۔ شاہجہان نے شاہجہان آباد میں اس زبان کو ”اردو“ سے پکارنے کی تجویز دی۔ اس سے پہلے اردو، اردوئے معلی سے موسوم تھی۔ مصحفی نے 1809 میں اپنی شاعری میں اردو لفظ کو بعض مقامات پر شہر یا دہلی کے لیے مذکر باندھا ہے اور بعض جگہوں پر زبان کے لیے مونث باندھا ہے۔ 1807 میں انشاء نے دریائے لطافت میں اردو لفظ کو دہلی شہر کے لیے استعمال کیا ہے۔

1806 میں مغل حکمران شاہ عالم نے اس زبان کے لیے اپنی کتاب عجائب القصص میں ”ہندی“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ امیر خسرو، میر اور غالب نے اردو کو ”ریختہ“ سے پکارا ہے۔ میر امن نے باغ و بہار میں اردو کو ”اردوئے معلی“ اور ”اردو“ دونوں سے پکارا ہے۔ اور مختلف علاقائی ناموں ; مثلا، گوجری، دکنی، دہلوی، ہندوی اور ہندستانی سے بھی اس زبان کو پکارا گیا ہے، مگر برصغیر پاک و ہند کی تقسیم اور 1867 میں اردو ہندی تنازعہ نے ہمیشہ کے لیے ہر لحاظ سے اردو کی قسمت کا فیصلہ کر لیا۔

اس حوالے سے فورٹ ویلیم کالج کلکتہ، انجمن پنجاب، انجمن ترقی اردو، دہلی کالج لاہور اور علی گڑھ تحریک بہت مشہور ہیں۔ اردو شعرا، صوفیہ کرام، عناصر خمسہ اور مسلم سیاسی رہنماوٴں کے ذکر کے بغیر اردو کی کہانی نامکمل ہے۔ اردو کی تخلیق کے متعلق کئی نظریات ہیں جن میں حافظ محمود شیرانی کا نظریہ ”پنجاب میں اردو“ ، نصیر الدین ہاشمی کا نظریہ ”دکن میں اردو“ ، مسعود حسین خان کا نظریہ ”ہریانہ میں اردو“ اور سید سلیمان ندوی کا نظریہ ”سندھ میں اردو“ مشہور ہیں۔

اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان کہا جاتا ہے۔ اردو، مسلمان تاجر، جنگجو، صوفیہ کرام، شعرا، علما اور حکمرانوں کی دین ہے۔ اگر اردو نہ ہوتی تو شاید پاکستان بھی نہ ہوتا۔ آج کل اردو کی کیا حالت ہے، یہ کہانی پھر سہی!

Facebook Comments HS