تحریک استحقاق اور پارلیمانی پیشیاں
میں چونکہ راولپنڈی میں پہلے اسسٹنٹ کمشنر پھر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے طور پر کام کر چکا تھا لہذا اسلام آباد کے سرکاری دفاتر میں مطلوبہ رسائی حاصل تھی۔ میں نے پندرہ رکنی فہرست میں ناموں کے آگے لکھی گئی تعلیمی قابلیت میں اپنے نام کے سامنے ایم پی اے Harvard کو ذرا جلی حروف میں لکھوا دیا۔ میں جانتا تھا کہ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو وہاں کی سٹوڈنٹ رہی تھیں اور دنیا کی اس عظیم درس گاہ کی نہ صرف قدر و قیمت سے خود واقف تھیں بلکہ یہ ایک طرح سے ان کی کمزوری بھی تھی۔
قسمت نے یاوری کی۔ ترکیب کامیاب رہی۔ اس جنت مکانی نے ہارورڈ کے لفظ پر اپنی کچی پنسل سے اثبات کا نشان لگا دیا۔ باقی کے چودہ افسران، جو بہت بارسوخ تھے، سٹپٹا کر رہ گئے ؛ کچھ میری نادیدہ سیاسی قوت سے مرعوب ہوئے، کچھ رنجیدہ اور کچھ نے تو باقاعدہ بغض پال لیا اور بعد میں بدلہ لینے کی بھی کوشش کرتے رہے۔ آج میں نے یہ راز کھول دیا ہے کہ وہ آسودہ خاطر ہوجائیں۔ میرا ان سے واقعی کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ وہ بہت اچھے انتظامی پس منظر کے ساتھ ساتھ تگڑے اثر و رسوخ کے بھی حامل تھے۔ بس ہارورڈ کا لفظ میرے کام آ گیا۔
راولپنڈی میں بطور ڈپٹی کمشنر تعیناتی خوشگواریاں کم اور مصائب زیادہ لے کر آئی۔ یہاں سے میں اکتوبر 1996 کے اواخر میں پہلی بار او ایس ڈی بنا اور پھر ڈیڑھ سال خوفناک انکوائریوں کے ساتھ اور تنخواہ کے بغیر زندگی گزاری۔
اب تقریباًً تین سال کا چکر کاٹ کر ڈی پی آئی، ایلیمنٹری ایجوکیشن، والی پوسٹ، جو میں نے ٹھکرا دی تھی، برضا و رغبت اور شکریے کے ساتھ اس حال میں قبول کی کہ میرے زیادہ تر بیچ میٹ اگلے گریڈ میں سیکرٹری کی نشستوں پر بیٹھ گئے تھے اور میں یہاں اپنے گورنمنٹ کالج لاہور کے کلاس فیلو سیکرٹری کے ماتحت کام کر رہا تھا۔ یہ تعیناتی بھی اس طور ممکن ہوئی کہ محکمہ تعلیم سکولز اور کالجز کو علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ اس وقت کے چیف سیکرٹری جناب اے زیڈ کے شیر دل (مرحوم) 1991 میں اپنے ہوم سیکرٹری کے وقت سے میرے کام اور کردار سے بنفس نفیس آگاہ تھے۔
ڈی سی راولپنڈی والے پینل میں بطور فیڈرل سیکرٹری لیبر انہوں نے میرا نام ڈلوایا تھا اور راولپنڈی میں پیش آنے والے حوادث کو میں وقتاً فوقتاً ان کے علم میں لاتا رہا تھا۔ ڈی پی آئی والی سیٹ پر، جہاں مجھ سے پہلے نہ بعد میں کوئی ڈی ایم جی افسر لگا، پہنچ کر مجھے احساس ہوا کہ قدرت کی طرف سے خود بخود ملنے والی اس سیٹ پر اگر اس وقت آمادگی سے آ جاتا تو تین سالہ گرداب اور وقتاً فوقتاً پھوٹنے والی نکسیروں سے بچا رہتا۔ پھر یہ منکشف ہوا کہ قدرت جس راستے پر خود لے کر جاتی ہے وہاں کی اونچ نیچ کو ہموار رکھنے میں ساتھ بھی دیتی ہے لیکن اپنی مرضی کی راہ کی ٹھوکریں خود ہی کھانا پڑتی ہیں۔
بات طویل ہو گئی۔ میں اس دفتر میں بیٹھا اپنا کام کر رہا تھا کہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ایک تحصیل کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر (DDEO) ملاقات کے لیے آ گئے۔ ان کے پاس اپنے رہائشی ضلع فیصل آباد کے ایک با اثر ایم پی اے کا رقعہ تھا۔ یہ افسر اپنے ضلع میں تعیناتی کے خواہاں تھے۔ رقعے کے مطابق ان کو فیصل آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات کر نے کی سفارش کی گئی تھی جب کہ اپنی زبان سے انہوں نے بتایا کہ وہ کسی انتظامی سیٹ پر رہنا یا لگنا نہیں چاہتے بلکہ انھیں کسی سکول میں بھیج دیا جائے۔
ان دنوں محکمہ سکول ایجوکیشن کی انتظامی سیٹوں پر کام کی بھر مار تھی کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف صاحب نے بوٹی مافیا کی کامیاب سرکوبی کے بعد اپنی ساری انتظامی توجہ گھوسٹ سکولوں اور جعلی بھرتیوں پر مرکوز کر دی تھی بلکہ سکولز ایجوکیشن کو علیحدہ محکمہ بنانے میں بھی یہی حکمت کار فرماء تھی۔ پاک فوج کی ٹیموں کے ہمہ گیر سروے کے بعد اب اس وسیع وبا کی بیخ کنی کے لیے بھرپور مہم جاری تھی۔ موصوف ایک نیک سیرت انسان اور دیانت دار افسر تھے۔
ایسے گوہر کم یاب کو میں اس ہنگام میں کھونا نہیں چاہتا تھا کہ اس سے ایک بڑی تحصیل میں حکومتی مہم کو بہت ضعف پہنچتا۔ میں نے رقعہ رکھ لیا اور انہیں کچھ درشت، کچھ نرم اور کچھ حوصلہ افزائی کے کلمات کے ساتھ رخصت کر دیا۔ اس طرح کی تحریری یا زبانی سفارشات محکمہ سکولز میں تدریسی یا انتظامی نشستوں کے لیے روزمرہ کا معمول تھیں۔ میں نے رقعہ ضائع کر دیا اور اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔
اللہ جانے اس افسر نے واپس جاکر ایم پی اے صاحب، یا جن ذرائع سے انہوں نے رقعہ حاصل کیا گیا تھا، کو کیا کہا کہ ایم پی اے صاحب نے اس حکم عدولی پر ایک الگ کہانی گھڑ کے صوبائی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کروا دی جس کا خلاصہ درج ہے :
”ڈی پی آئی (ای) کے طرز عمل سے رکن اسمبلی کی توہین
میں حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والے ایک اہم اور فوری مسئلے کو زیر بحث لانے کے لیے تحریک استحقاق پیش کرتا ہوں جو اسمبلی کی فوری دخل اندازی کا متقاضی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ڈپٹی ایجوکیشن افسر کمالیہ، جو ٹرانسفر ہو کر مزید تقرری کے لیے ڈی پی آئی (ای) کی ڈسپوزل پر تھے، کے متعلق میں نے سیکرٹری سکولز سے گزارش کی کہ فیصل آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر (ای) کی آسامی بوجہ ریٹائرمنٹ خالی ہو چکی ہے، اس پر انہیں تعینات کر دیا جائے۔
سیکرٹری صاحب نے ٹیلیفون پر ڈی پی آئی (ای) سے کہا کہ متعلقہ افسر اچھی شہرت رکھتے ہیں اور جگہ بھی خالی ہے اس لیے انہیں وہاں تعینات کر دیا جائے۔ یہ کہہ کر آخر میں سیکرٹری صاحب نے یہ کہہ دیا کہ ایک رکن اسمبلی بھی میرے پاس بیٹھے ہیں وہ بھی انہیں ریکمنڈ کرتے ہیں۔ اگلے روز جب متعلقہ افسر سیکرٹری صاحب کے حکم پر اپنے ٹرانسفر آرڈر لینے ڈی پی آئی (ای) کے آفس گیا تو انہوں نے انتہائی توہین آمیز انداز میں کہا کہ تمہاری ریکمنڈیشن کسی رکن اسمبلی نے کی ہے، میں تمہیں کسی صورت فیصل آباد تعینات نہیں کروں گا اور اس نے ایسا ہی کیا۔
جائز مسئلے میں کسی ماتحت کی بات اعلیٰ افسران تک Convey کر نا کسی صورت باعث اعتراض نہیں لیکن بیوروکریسی کی طرف سے ایسا رویہ کہ جائز کام صرف اس وجہ سے نہ کر نا کہ رکن اسمبلی کی طرف سے ریکمنڈ کیا گیا ہے اور پھر اس کا چیلنج کے انداز میں اعلان کرنا باعث مذمت فعل ہے۔ ڈی پی آئی (ای) کے مندرجہ بالا رویہ سے میرا استحقاق بطور رکن اسمبلی مجروح ہوا ہے۔ اس تحریک کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔
جناب اسپیکر ہمارے محکمہ جات کی انٹرنل ورکنگ کی صورتحال یہ ہے کہ اگر ایک ادنیٰ ملازم اپنی کوئی جائز بات اتھارٹی تک پہنچانا چاہے تو میرا خیال ہے اسے سالہا سال لگ جاتے ہیں اور اس کی بات نہ پہنچتی ہے اور نہ اس کا ازالہ ہوتا ہے۔ تو اس صورت میں جب کہ اس ملازم کو آئین کے تحت ووٹ کا حق بھی ہے اور اپنے رہائشی حلقہ میں صوبائی سطح پر اور قومی سطح پر نمائندے منتخب کر تا ہے تو اگر وہ اپنی کسی جائز اور چھوٹی سی ضرورت کے لیے کسی رکن اسمبلی کے پاس آتا ہے اور اس کی جائز بات ان تک پہنچائی جاتی ہے تو یہ کوئی ایسی قابل اعتراض بات نہیں کہ جس پر ری ایکشن کیا جائے۔
یعنی ہوتا یہ ہے کہ یہی لوگ خود تو اتنے بڑے بڑے عہدوں پر سیاسی سفارشوں کے ذریعے پہنچ جاتے ہیں اس وقت تو یہ قابل اعتراض بات نہیں ہوتی۔ اگر کوئی آدمی سیاسی سفارشوں کے بل پر اکیسویں اور بیسویں گریڈ میں Induct ہو جائے تو یہ قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ کوئی ہائی کورٹ کا جج بن جائے تو یہ قابل اعتراض بات نہیں ہے لیکن اگر کوئی کلرک یا کوئی ادنیٰ ملازم سفارش کروائے تو اسے پکڑ لیا جاتا ہے کہ جناب یہ سیاسی سفارش کروائی جا رہی ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ مداخلت ہے۔ تو بیوروکریسی میں چند افراد نے اس تصور کو ابھی تک قبول ہی نہیں کیا کہ وہ عوام کے خادم ہیں۔ وہ ابھی تک خود کو عوام کے حکمران سمجھتے ہیں اور پارلیمانی جمہوری نظام میں اراکین اسمبلی کے رول کو، اس نظام کو انہوں نے دل سے قبول ہی نہیں کیا ”۔
استحقاق کمیٹی کے اجلاس ہونا شروع ہو گئے۔ محرک کا رویہ اور لہجہ پچھلی دفعہ سے زیادہ سخت ہوتا اور ان کے ہمنوا ممبران کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ مجھ سے غلطی تسلیم کر نے کا کہا جاتا۔ میں نے اپنی زندگی کی اکثر سہ پہریں کھیل کے میدان میں گزاری تھیں اور گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنے ہم جماعت اور آگے پیچھے کے برسوں والے قومی کرکٹروں کی کالج کینٹین والی محفلوں میں اکثر بیٹھا تھا، اس لیے سپورٹس مین سپرٹ میری شخصیت کا ایک ضروری حصہ تھی۔
اسی طرح اپنے ادبی و تخلیقی ماحول، کالج کے بلند پایہ اساتذہ، اور لاہور شہر کے مایہ ناز ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں سے نیاز حاصل کر نے کے طفیل میرے اندر اتنی انسانیت ضرور در آئی تھی کہ میں اپنی کسی حرکت کی وجہ سے کسی کی دل آزاری یا دل شکنی پر کھلے دل سے اور کھلے بندوں معذرت کر لیتا۔ لیکن یہاں تو اصرار ایک نئے اصول کو تسلیم کروانے پر کیا جا رہا تھا جس کی ضابطوں میں کوئی گنجائش نہیں تھی کہ اپنے ووٹر سرکاری ملازمین کی اپنے حلقہ انتخاب میں موجود نشستوں پر تعیناتی اور رد و بدل کا حق مقامی ایم پی اے کو حاصل ہو۔
یہ استحقاق و اختیار تو حکومت یا اسمبلی کے تحریری قواعد و ضوابط میں موجود نہیں تھا۔ میں اس پر کیونکر صاد کر لیتا۔ جو ترمیم اسمبلی کے کر نے کی تھی کمیٹی اسے میری زبان پر رکھنا چاہتی تھی۔ سوال اصول کا تھا۔ میں اصول شکنی پر آمادہ نہ ہوا۔ دباؤ میں اضافہ کر دیا گیا۔ اگلے اجلاس میں وزیر تعلیم صاحب بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار ڈھلوں کو بلا لیا گیا۔ مرحوم بریگیڈیئر صاحب ایک متوازن شخصیت کے حامل تھے۔ وہ میرے کام سے مطمئن تھے۔
یوں بھی محکمہ میں جاری مہمات کی وجہ سے کام کے ازحد دباؤ کو قابو میں لانے کے لیے سپیشل سیکرٹری کی نئی آسامی تخلیق کی گئی تھی اور میرے یک سالہ تجربہ، سینیارٹی اور اطمینان بخش کارکردگی کے پیش نظر صوبائی حکومت نے مجھے اس پر تعینات کر دیا تھا۔ انہوں نے بات کو بگڑنے سے بچانے اور مسئلے کو ٹالنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ اس سے اگلی میٹنگ میں میرے سیکرٹری ظفر محمود صاحب کو بلوایا گیا۔ وہ بلند پایہ سوچ، مکمل یکسوئی اور شبانہ روز لگن کے ساتھ نئے قائم کردہ محکمے کی پالیسیاں اور اصلاحات مستقل بنیادوں پر بنانے میں مگن تھے۔
اس طلبی پر چیں بہ جبیں تو ہوئے لیکن اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ بس تفصیلات معلوم کیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں کچھ خاموشی سے، کچھ سنجیدگی سے، کچھ مفاہمت اور کچھ قانونیات پر بات کر کے معاملہ سلجھانے کی کوشش کی۔ وہ میری طرف سے معذرت کر نے پر بھی آمادہ تھے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ محرک کا اصرار تو ایک خلاف ضابطہ بات کو تسلیم کیے جانے پر تھا۔ آخری اجلاس میں، جسے کوئی بھی آخری نہیں سمجھ رہا تھا، میرے چیف سیکرٹری صاحب جناب اے زیڈ کے شیر دل کو بلوا لیا گیا جن کا اکرام میں دل و جان سے ایک مربی و مشفق خاندانی بزرگ کی سطح پر کر تا تھا۔ میرے لیے یہ سزا ہی کافی تھی کہ انہیں میری وجہ سے اس کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑ رہا تھا۔
میری خجالت اور بھی بڑھ جاتی جب میں سوچتا کہ چیف سیکرٹری صاحب کی ٹیم میں ایسے صوبائی سیکرٹری بھی تھے جنہوں نے تعیناتیوں و تبادلوں کا سارا کام اپنے وزیروں کے حوالے کر دیا تھا اور خود حکومتی پارٹی کے سیاسی دباؤ سے بچ کر دیگر محکمانہ سرگرمیوں میں سکھ چین کے ساتھ مصروف تھے۔ جناب چیف سیکرٹری آئے۔ قدرے رکھائی اور تساہل سے انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے سوچا کہ ان کی، سیکرٹری اور وزیر تعلیم کی موجودگی میں قواعد و ضوابط کی روشنی میں تشکیل کردہ اپنے اصولی موقف کو آخری بار دہرا دوں اور اس کے بعد نتیجے کا انتظار کروں اور اپنے سینئرز کے لیے مزید مسائل کا باعث نہ بنوں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

