تحریک استحقاق اور پارلیمانی پیشیاں
اگر اس سب کے بعد یہ بے اصولی استحقاق کمیٹی اور صوبائی اسمبلی کی طرف سے اصول کے طور پر تسلیم کر لی جاتی ہے تو ہو جائے، میں نے تو اپنا فرض پورا کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے کسی مزعومہ دل آزاری پر کھلے الفاظ میں معذرت پھر کر دی۔ چیف سیکرٹری تو نہیں بولے، بس فریقین اور حاضرین کی آراء کو خاموشی سے سن کر چلے گئے۔ میں نے سراسیمگی سے اگلے احکامات کا انتظار شروع کر دیا۔
اگلا حکم ان کی طرف سے نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کے روایتی امپائر کی طرف سے آیا۔ 12 اکتوبر کو ملک فوجی حکومت کے زیر کمان آ گیا۔ اسمبلیاں تحلیل ہو گئیں اور اس کے ساتھ یہ تحریک استحقاق بھی۔ جب اسمبلیوں کے اندر بیٹھے لوگ ملک کا نہیں جنگل کا قانون چلانا چاہتے ہوں تو پھر جنگل میں جو سب سے طاقت ور ہو گا اسی کا حکم چل پڑے گا۔
قضیہ نمٹ نہ سکا بلکہ آج اور بھی شد و مد کے ساتھ موجود ہے۔ مجھے اس وقت تو اتنا پتہ نہیں تھا، بعد میں واضح ہوا کہ سارا مرنا تو اسی پوسٹنگ ٹرانسفر کا ہے۔ جب اگلی دہائی میں ایک چیف سیکرٹری نے کہا کہ یہ اعوان پاور شیئرنگ بالکل نہیں کرتا، تب مجھے سمجھ میں آیا کہ میرے قانونی اختیار کو کوئی اور استعمال کرے تو اسے پاور شیئرنگ کہتے ہیں جبکہ اس طرح سے مختار بننے والا ذمہ داری سے بالکل مبرا رہے۔ ہمارے نظام کو دیمک کی طرح چاٹنے والی یہ بد عملی آج بھی اسی طرح قائم ہے۔
یعنی ذمہ داری اور قانونی اختیار کسی کا، استعمال کوئی اور کرے اور استعمال بھی قانون کی مرضی نہیں بلکہ اپنی مرضی چلانے کے لیے۔ اپنی مرضی والی بندوق چلائے لیکن کندھا کسی اور کا ہو تاکہ وہ رد عمل والے دھکوں سے بھی محفوظ رہے۔ میری مرضی بالاتر والی قبیح رسم اس ملک میں شروع تو بندوق والوں نے ہی کی تھی لیکن اب یہ ہر طاقتور طبقے کا دل پسند مشغلہ ہے۔ اس روگ کی پوری حکایت مشہور ادیب اور افسر مسعود مفتی صاحب نے اپنی آخری کتاب ”دو مینار“ میں بہت درد مندی اور مہارت سے قلم بند کی ہے۔
فوجی بیرکوں سے اٹھنے والی قانون کے مقابلے میں ذات کی برتری کی یہ آندھی اب وطن عزیز کے ہر شعبے میں قانون و قاعدے کو گرد آلود کر چکی ہے۔ میری مرضی کے سامنے قانون و قاعدے کی پسپائی نے میرٹ کو مرض الموت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ قانون پر عمل داری سے طاقت پکڑنے والی سرکاری مشینری کے کندھے میری مرضی بالا تر کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ڈھلک رہے ہیں اور اس کی ناتوانی عامتہ الناس پر قیامت ڈھا رہی ہے۔ لیکن سب اپنے مرغوب کھیل بلکہ دوہرے کھیل ”میری مرضی بالا ترین قانون کی منشاء کم ترین اور اختیار و ذمہ داری تیری رعب اور مرضی میری“ میں مصروف ہیں۔ ہر شعبے اور ہر سطح پر پٹواری سے لے کر حساس اداروں کے سربراہوں تک۔ اور اس کھیل میں رخنہ اندازی پر بڑے سے بڑا سنگھاسن ڈول سکتا ہے۔
ریٹائرمنٹ سے ایک برس پہلے میں اس طرح کی دو پیشیوں سے بال بال بچا۔ مارچ 2012 میں میری تعیناتی بطور سیکرٹری وزارت بین المذاہب ہم آہنگی تھی۔ اس ڈویژن کو اٹھارہویں ترمیم کے بعد وزارت مذہبی امور سے الگ کیا گیا تھا۔ اس سے ایک سال پہلے میں سیکرٹری وزارت پیداوار متعین تھا۔ یہاں کے وزیر صاحب میرے آبائی ضلع سرگودھا سے بلکہ ایک ہی حلقہ انتخاب سے تعلق رکھتے تھے اور میرا خاندان ان کا روایتی ووٹر تھا۔ لیکن وہاں سے مجھے اس لیے ہٹنا پڑا کہ میں وزیر موصوف کی وزارت پیداوار سے منسلک خسارے میں چلنے والے پرانے اداروں یا مشکل سے اپنا خرچ پورا کرنے والی نئی کمپنیوں میں نئی آسامیاں پیدا کر نے اور ان کے ووٹروں کو بھرتی کر نے پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔
وزارت پیداوار کو بھی وزارت صنعت سے الگ کیا گیا تھا۔ دراصل اٹھارہویں ترمیم کے بعد کئی ذیلی موضوعات کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم، زراعت اور معدنی وسائل جیسے اہم ترین شعبوں کو بھی بجٹ میں خطیر حصہ کے ساتھ صوبوں کو تفویض کر دیا گیا اور وفاقی حکومت کا ڈھانچہ پوری طرح تہہ و بالا ہو گیا تھا۔ چنانچہ لطیفہ مشہور ہو گیا کہ وفاق کی جن پرانی وزارتوں کے ناموں میں اینڈ کا لفظ آتا تھا وہاں اس لفظ کو اڑا کر ایک نئی وزارت بنا دی گئی تھی۔ اسی طرح صحت، تعلیم اور زراعت جیسی اہم وزارتوں کو پابندی لگی سیاسی جماعتوں کی طرح نئے لیکن ملتے جلتے ناموں سے رفتہ رفتہ استوار کر لیا گیا تھا۔ میرے جیسی عادات اور طور طریقوں والے افسران کی باری لفظ اینڈ کے بعد میں بننے والی وزارتوں میں آ رہی تھی۔
وزارت بین المذاہب ہم آہنگی کا اہم ترین ذیلی محکمہ متروکہ وقف املاک بورڈ تھا جس کے چیئرمین حکومتی پارٹی کے ایک سرگرم اور فعال رکن تھے جو قومی اسمبلی کا انتخاب ہار گئے تھے۔ اس محکمے کی ملک بھر میں قیمتی املاک تھیں اور ملازمین کی فوج ظفر موج۔ چیئرمین صاحب قواعد و ضوابط کے بارے میں بہت بے لگام تھے۔ ان کے بہت سے انتظامی فیصلے توثیق کے لیے اور عدالتی فیصلے اپیل میں سیکرٹری کے پاس آتے تھے۔ ان اپیلوں کی سماعت کے لیے، جو کہ قانون کی عمل داری کا ایک موثر ذریعہ تھیں، سیکرٹری ہفتے میں دو دن عدالت لگا تا تھا، ایک دن لازماً اسلام آباد میں اور دوسرا دن یا وہیں یا پھر کسی اور شہر میں، مقدمات کی تعداد کے مطابق۔
مارچ 2012 میں میری عدالت کا دن تھا جب صوبہ سندھ کے تھر کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک اقلیتی رکن اسمبلی کا فون آ گیا۔ موصوف اس وقت کے صدر پاکستان کے بہت قریب ہونے کی شہرت رکھتے تھے۔ سول سروس میں ابتدائی تربیت کے دوران میں ہمیں عدالت کے احترام کا سبق اچھی طرح ذہن نشین کرایا گیا تھا، لاہور ہائی کورٹ بھی لے جایا گیا تھا اور پھر ضلعوں میں سیشن جج صاحبان کی عدالتوں کے ساتھ منسلک بھی کیا گیا تھا۔ اس لیے عدالتوں کا خصوصی احترام، جس میں اپنی عدالت بھی شامل تھی، ہماری گھٹی میں تھا۔
میرے دور کے اکثر افسران اپنے مجسٹریٹوں کو ان کے عدالتی اوقات میں کبھی طلب نہیں کرتے تھے اور ہم اپنی عدالت کے دوران نہ وہاں فون سنتے تھے اور نہ فون سننے کے لیے اٹھ کر جاتے تھے۔ اس روش کا احترام صوبائی سطح تک ہمارے سینئرز بھی کرتے تھے۔ ہاں انتظامی ہنگامی حالات کی صورت میں ایک چٹ لکھ کر ہمارے سامنے رکھ دی جاتی تھی۔ اس روایت کے تسلسل میں میرے عملے نے فون مجھے نہ ملوایا۔ فون کے دوسری طرف ایم این اے صاحب کا پی اے تھا۔ پھر بھی انہوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور اپنے پی اے کے ذریعے دھمکی دی کہ اب میری بات قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی ہی سنے گی۔
عدالتی کام ختم ہوا تو یہ دھمکی مجھ تک پہنچ گئی۔ میں نے جوابی فون کیا لیکن انہوں نے سننے سے انکار کر دیا۔ اس وزارت کے وزیر شہباز بھٹی ایم این اے تو کچھ عرصہ قبل قتل ہو گئے تھے۔ اب ان کے چھوٹے بھائی بطور مشیر کام کر رہے تھے، ان کو سارا ماجرا سنایا۔ میں پچھلی دہائی میں لاہور میں بطور صوبائی سیکرٹری مذہبی امور، اوقاف و اقلیتی امور دو اڑھائی برس کام کر چکا تھا اور اقلیتی برادری کے کچھ سرکردہ لوگ میری شخصیت میں مذہبی غیر جانبداری کے غالب عنصر کے قدردان تھے۔ ان میں سے بھی ایک دو کو درمیان میں ڈالا تو بیچ بچاؤ ہو گیا۔
اسی سال 2012 کی آخری سہ ماہی میں بطور چیئرمین این ایچ اے کام کر رہا تھا۔ درمیان میں تقریباً پانچ مہینے میں او ایس ڈی بھی رہا تھا۔ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ نے اپنی من مانیوں کی راہ میں رکاوٹ بننے اور پڑتال کرنے کی پاداش میں ہٹوا دیا کہ وہ اس وقت کے وزیر اعظم تک قریبی رسائی رکھتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی ناجائز کارروائیوں کے کارن موصوف کی زندگی جیل کے احاطوں یا عدالتوں کی راہداریوں میں گزر رہی ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی ملک کا ایک معروف محکمہ ہے اور اس کا کام ہر سطح پر بہت دلچسپی اور باقاعدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ کوئی ہفتہ ایسا نہ جاتا تھا جس میں قومی اسمبلی یا سینٹ میں سوالوں کے جوابات کے لیے یا مختلف پارلیمانی کمیٹیوں کے سامنے اپنی کارکردگی بتانے کے لیے نہ جانا پڑتا ہو۔ نومبر کے مہینے میں قومی اسمبلی میں محکمانہ نگرانی والی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا تھا جس کی صدارت حکومتی پارٹی کے سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر رہنما کر رہے تھے جنہیں وزارت کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں اہم عہدے حاصل تھے۔
این ایچ اے کی کارکردگی کی کڑی جانچ پڑتال کی گئی اور کئی معاملات میں سخت سست کہا گیا۔ الیکشن 2013 اب سر پر کھڑا تھا اور مقررہ اہداف کو بر وقت حاصل کر نے کو یقینی بنانے کے لیے کہا جا رہا تھا۔ اسی طرح کے ایک پچھلے اجلاس میں اس بات پر بہت تاسف کا اظہار کیا گیا تھا کہ سندھ میں این ایچ اے کی شاہرات کی حالت قطعاً تسلی بخش نہیں جب کہ پنجاب میں داخل ہوتے ہی واضح فرق نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ میں نے جواب میں مودبانہ گزارش کی کہ اگلے چند ماہ اگر حکومتی پارٹی اپنی توجہ انتخابی مہم پر مرکوز رکھے اور محکمانہ کام ہمیں کر نے دے تو ہم یہ فرق واضح طور پر کم کر دیں گے۔
اس پر سب نے چپ سادھ لی تھی۔ اس دن ممبران کی تنقید اور نوکیلے سوالات کے بعد صدر مجلس نے حسن کارکردگی اور حسن انتظام پر طوالت سے بات کی اور انہیں حاصل کر نے کی ضروری شرائط گنوائیں اور ان پر عمل درآمد کا ہم سے وعدہ لیا جو ہم نے بخوشی کر لیا۔ اجلاس ختم ہوا تو صدر مجلس نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور کچھ دیر کے بعد مجھے ایک بدنام ترین افسر کو اہم پوسٹ پر تعینات کر نے کا کہا۔ میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا، ”جناب والا یہ کچھ دیر پہلے والی طویل بات کیا ہوئی اور یہ کیا؟”
صدر مجلس خفیف تو ہوئے لیکن متعجب اور ششدر زیادہ تھے۔ میں خود بھی اپنے فوری رد عمل پر حیران و پریشان تھا۔ میں چھتیس سال کی دفتری زندگی کے باوجود اپنے اندر کے آزاد انسان کو سدھا نہ سکا تھا۔ وزیر صاحب موصوف ایک جہاندیدہ اور معتدل مزاج شخصیت تھے۔ انہوں نے اس شام وزیر اعظم ہاؤس میں پرنسپل سیکرٹری صاحب سے میری شکایت کر نے پر اکتفا کیا کہ میرا رویہ بہت گستاخانہ تھا۔ حسن اتفاق سے قاضی محمد ایوب میرے بیج میٹ اور دیرینہ رفیق تھے۔ وہ خاموش طبع اور ٹھنڈے مزاج کے انسان تھے۔ انہوں نے وضاحت کر دی کہ میں اسے بہت دیر سے جانتا ہوں، وہ بے باک ضرور ہے لیکن گستاخ نہیں اور وزیر صاحب کی بہت عزت کرتا ہے۔ اس طرح کی اپنے مزاج کی ٹھنڈی پٹیوں سے انہوں نے اس آنچ کو سرد کر دیا۔
اس سب سے پیشتر ایک بالکل غیر متوقع اور بہت ہی خطرناک پیشی بلوچستان اسمبلی میں جون 2007 میں ہوئی تھی۔ میں کوئٹہ میں پچھلے دو برس سے صوبائی سیکرٹری محکمہ زراعت و کوآپریٹیو کے طور پر کام کر رہا تھا۔ میرا ادھر پہنچنے کا قصہ بھی مزے کا ہے۔
صدر مشرف کے زمانے میں ملک بھر میں اصلاح آب پاشی کا پروگرام لگ بھگ بیس برس کے بعد بہت بڑے پیمانے پر تقریباً 70 ارب روپے کے فنڈ کے ساتھ دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔ کھیتوں میں پانی پہنچانے والے کھالوں اور دوسرے ذرائع کو پختہ اور جدید بنایا جانا تھا جس سے تیس فیصد تک پانی کی بچت متوقع تھی۔ یہ ایک انتہائی مفید پروگرام تھا اور اس کی نگرانی اعلیٰ ترین سطح پر کی جا رہی تھی۔ سال 2005 کے سالانہ جائزہ اجلاس میں، جس کی صدارت پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز مشترکہ طور پر کر رہے تھے، صوبہ بلوچستان میں کام کی رفتار کو کم ترین اور بہت غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔
جواب میں بلوچستان کے چیف منسٹر اور چیف سیکرٹری نے کہا کہ سب اچھے افسر تو صوبہ پنجاب نے جمع کر رکھے ہیں، ہمارے ہاں کام کی رفتار کیسے بہتر ہو۔ نتیجتاً حکم ہو گیا کہ پنجاب سے پانچ اچھے افسر فوری طور پر بلوچستان بھیج دیے جائیں۔ صوبہ پنجاب میں جن افسران کا قیام طویل ہو گیا تھا ان کی فہرست بنی تو میرا نام بھی اس میں آ گیا۔ حکومت پاکستان کی بین الصوبائی تبادلہ پالیسی کے تحت مجھے اس وقت تک کم از کم تین سال کسی اور صوبہ یا مرکز میں گزارنا لازم تھے۔
میں اگرچہ تین مختلف موقعوں پر صوبہ پنجاب سے باہر رہا تھا لیکن مجموعی طور پر یہ دورانیہ تین سال سے کوئی چھ ہفتے کم تھا۔ وفاق کی طرف سے پانچ افسروں کے صوبہ بلوچستان تبادلے کے احکامات جاری ہو گئے۔ مزے کی بات یہ ہوئی کہ ان میں سے دو افسران جنہوں نے صوبہ پنجاب سے باہر ایک دن بھی کام نہیں کیا تھا لیکن اثر و رسوخ میں بہت مضبوط تھے وہیں رک گئے اور باقی ماندہ تین لاغر تعلقات والے افسر بلوچستان پہنچ گئے، اس بھرم اور تسلی کے ساتھ کہ ان کا شمار اچھے افسروں میں تھا۔
یہاں دو تین ہفتے کے انتظار کے بعد ایک شام مجھے سیکرٹری زراعت تعینات کر دیا گیا۔ مجھے اگلے روز دفتر کھلنے پر چارج سنبھالنا تھا لیکن اگلے روز ہی علی الصبح محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کی آخری میٹنگ تھی جس کے فوراً بعد سالانہ ترقیاتی پروگرام منظوری کے لیے اسمبلی بھیج دیا جانا تھا، لہٰذا اسی رات اپنے نئے علاقے اور نئے محکمے کے افسران سے اجلاس ضروری تھا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ایک گھنٹے کی بریفنگ میں، سوالات اور جوابات کے دوران دفعتاً مجھ پر کھل گیا کہ اصلاح آب پاشی کے پروگرام میں اصل رکاوٹ کہاں پر تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

