تحریک استحقاق اور پارلیمانی پیشیاں
اگلے روز میں نے محکمہ منصوبہ بندی والے اجلاس میں اپنی تشخیص پیش کر دی اور اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے مناسب فنڈز کا طلبگار ہوا۔ میری تشخیص و تجویز کو حیرت و خوشی سے قبول کر لیا گیا اور مطلوبہ فنڈز کو سالانہ پروگرام میں رکھ دیا گیا۔ بس پھر کیا تھا۔ اگلے سالانہ اجلاس میں، جو اسلام آباد میں انہی اکابرین کی مشترکہ صدارت میں ہوا اور جس میں میں نے بھی شرکت کی، صوبہ بلوچستان کی کارکردگی کو سر فہرست قرار دیا گیا۔ ہر طرف ہمارے کام کی دھوم مچ گئی۔ ہم سب جو اپنے ملک کے سب سے پسماندہ حصے کی دل و جان سے خدمت میں کوشاں تھے، اور زیادہ لگن سے اس کام میں جت گئے۔
ادھر صوبہ بلوچستان میں ایک عجیب رواج تھا کہ بیروزگاری کو ختم کر نے کے نام پر سب محکموں میں لیکن خاص طور پر سب سے بڑے محکمہ زراعت میں ہر سال افسروں کی درجنوں نئی آسامیاں پیدا کر دی جاتی تھیں۔ یہ نئی آسامیاں مخلوط حکومت کے وزیروں اور اراکین اسمبلی میں بانٹ دی جاتی تھیں جن پر ان کے نامزد افراد کی تعیناتی ہوتی تھی۔ اصلاح آب پاشی کے پروگرام میں بڑی کامیابی کے بعد اس سال یہ قرعہ محکمہ واٹر مینجمنٹ کے شعبہ کے نام پر نکلا اور وہاں افسروں کی ڈھیروں نئی آسامیاں پیدا کر دی گئیں۔
مخلوط حکومت میں جونیئر پارٹنر مذہبی سیاسی جماعت کے اراکین اپنے سربراہ، منصوبہ بندی کے سینئر وزیر، کی سرکردگی میں اس میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے خواہشمند تھے۔ صوبہ بلوچستان کے معروضی حالات میں نئی آسامیوں کی تخلیق پر اعتراض تو لا حاصل ہوتا لیکن ان آسامیوں پر نامزدگیوں کو قبول کر نے سے اس قومی پروگرام کا معیار نہ صرف متاثر ہوتا بلکہ پچھلے ایک سال کی شبانہ روز محنت سے حاصل کی گئی پیش رفت بھی انہی کھالوں اور نالوں میں ڈوب کر رہ جاتی۔
میں ان نئے افسران کی بھرتی یا تو پبلک سروس کمیشن یا پھر کم از کم کسی ایسی محکمانہ ریکروٹمنٹ کمیٹی کے ذریعے چاہتا تھا جو پیشہ ورانہ قابلیت و تجربے کے حامل افراد پر مشتمل ہو۔ مخلوط حکومت، خاص طور پر جونیئر پارٹنر مذہبی سیاسی جماعت، اس تجویز کو قبول نہیں کرتی تھی۔ میں نے چیف منسٹر کی جھڑکیاں سنیں، گھرکیاں سہیں، لیکن اپنے موقف پر قائم رہا۔ جام یوسف علی (مرحوم) نواب ابن نواب ایک مرنجاں مرنج شخص تھے۔ میری اس طرح کی ہٹ پر بس اتنا ہی کہا کرتے تھے کہ تم تو مجھے چیف منسٹر سمجھتے ہی نہیں ہو۔ اب بھی تنگ آ کر یہی کہا کہ سینئر منسٹر صاحب کو راضی کر لو۔
مذہبی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے سینئر منسٹر، جو کہ منصوبہ بندی کے وزیر بھی تھے، کے ساتھ اس سلسلے میں پہلے بھی دو تین بے سود ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ ہر ملاقات میں وہ اپنے پی اے کو ساتھ ضرور بٹھاتے تھے، نہ جانے کیوں؟ اس ملاقات میں بھی پی اے صاحب موجود تھے۔ میں نے نشاندہی کی تو کہنے لگے، ”یہ میرا چھوٹا بھائی ہے، یہیں بیٹھے گا۔“ میں اصل میں ڈر رہا تھا کہ اتنے جونیئر آدمی کی موجودگی میں وہ مجھے کوئی زیادہ رنجش کی بات نہ کہہ دیں۔
پچھلی بحث و تکرار کا اعادہ ہوا۔ بات طے ہونے کی طرف نہیں جا رہی تھی بلکہ پھنستی جا رہی تھی۔ میں نے پورے ہوش و حواس اور انتہائی ادب سے اپنا آخری تیر چلایا کہ آپ کی بات ماننے کی صورت میں درجنوں حقدار لوگ محروم رہ جائیں گے۔ آپ تو دین کا پورا علم و شعور رکھتے ہیں، میں ڈرتا ہوں کہ آپ اللہ کو کیا جواب دیں گے۔ انہوں نے تن کر مذہبی رعونت اور تحکم سے لبریز جواب دیا، ”اپنے اللہ کو میں خود سنبھالوں گا۔ آپ کو جیسا کہا جا رہا ہے ویسا ہی کریں۔“ ناچار میں وہاں سے اٹھ آیا۔ ان کے پاس تو دینی خدمت کے میدان سے بھی اپنے رب کے سامنے پیش کر نے کو بہت کچھ ہو گا، میرے پاس تو لے دے کے عوامی اور ملکی خدمت کے یہی چند اعمال تھے، انہیں کیونکر خراب کر لیتا۔
بھرتیوں کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کروانے پر تو خیر کسی نے کیا ماننا تھا لیکن میرے شفافیت والے مضبوط موقف کو، جسے قانون کی پشت پناہی بھی حاصل تھی، یکسر رد نہیں کیا جاسکتا تھا۔ بالآخر ماہر افراد پر مشتمل ریکروٹمنٹ کمیٹیاں بن گئیں۔ البتہ حکومتی اکابرین نے یہ سمجھو تہ ضرور کروا دیا کہ حکومتی پا رٹی کے نامزد کردہ امیدواروں میں سے اہل افراد کو ترجیح دی جائے گی، اور یہ گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔
اس پیچیدہ معاملے کو سلجھانے میں میرے وزیر زراعت نے بہت مثبت کر دار ادا کیا۔ ان کا تعلق بھی اسی جونیئر پارٹنر مذہبی سیاسی جماعت سے تھا۔ وہ پہلی دفعہ وزیر بنے تھے، اگرچہ ان کے حواری انہیں کھل کھیلنے پر اکساتے رہتے لیکن وہ چھوٹے موٹے تبادلوں، زیادہ سے زیادہ سرکاری گاڑیوں کے تصرف اور مہمانوں کے جتھوں کے مصارف سے آگے نہیں بڑھتے تھے۔ ہم اس پر بھی قدغن لگانے کی کوشش کرتے جس پر وہ نالاں و شاکی ہوتے بلکہ کبھی کبھار بول چال بھی بند کر دیتے لیکن مجموعی طور پر وہ ایک شریف النفس آدمی تھے۔ کچھ ان کی نئی شادی بھی ان کو کافی مصروف رکھتی تھی۔ اس لیے میرا ان کے ساتھ ایک ایسا عملی تعلق بن گیا تھا جو نہ رسمی تھا نہ ہی غیر رسمی بلکہ درمیان میں کسی قابل عمل توازن پر کھڑا تھا۔
دریں اثناء سر کردہ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی والا سانحہ ہو چکا تھا۔ پورے صوبے کی فضا پر کشیدگی اور تناؤ چھائے تھے، خاص طور پر بلوچ پس منظر والے لوگوں کی چال ڈھال اور بات چیت سے دلگیری اور بیزاری چھلکتی۔ مجموعی رنجیدگی کے اس ماحول میں ایک دن بلوچستان اسمبلی کے بلوچ ڈپٹی اسپیکر، جن کا تعلق حکومت میں سینئر پارٹنر والی پارٹی سے تھا، میرے محکمے کی بلڈنگ میں آئے۔ میرے دفتر کے اندر محکمے کے سینئر افسران کے ساتھ سنجیدہ اجلاس جاری تھا۔
باہر کھڑے نائب قاصد نے ڈپٹی اسپیکر صاحب کو، جو اکیلے ہی تشریف لائے تھے، اندر کی صورت حال سے آگاہ کیا جس پر برافروختہ ہو کر انہوں نے پاؤں کے ٹھڈے سے دروازہ کھولا اور اندر آ گئے۔ میں انہیں دیکھ کر میکانکی طور پر اپنی نشست سے اٹھا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ لیکن وہ غضب ناک تھے، لال بھبوکا۔ انہوں نے چھوٹتے ہی مجھے گالی نما لفظ سے مخاطب کیا اور کہا کہ تم پنجاب سے ہمارے اوپر حکومت کرنے اور ہمارے وسائل کو لوٹنے آ جاتے ہو، اور نہ جانے کیا کیا۔
میرے اپنے دفتر میں محکمے کی پوری سینئر قیادت کے سامنے میری بے طرح توہین کر دی گئی تھی۔ شرم اور غصے سے میرا چہرہ بھی لال ہو گیا۔ میں جواب میں کچھ کہنے کو تھا کہ میری نظر میز پر رکھے پاکستان کے چھوٹے قومی جھنڈے پر پڑ گئی جو شاید ایسے ہی موقعوں کے لیے بڑے سرکاری دفاتر میں رکھا ہوتا ہے۔ پرچم پہلے میری نظروں کے آگے اور پھر پورے ماحول پر تن کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی آن بان کے سامنے میری انا سرنگوں ہو گئی۔ میں نے تھوک نگلا اور لرزتی ہوئی برفیلی آواز سے انہیں تشریف رکھنے کو کہا لیکن وہ اپنے آنے کی وجہ بتائے بغیر پاؤں پٹختے واپس چلے گئے۔
اس طرح کے خار دار ماحول میں جون 2007 کا مہینہ آن پہنچا۔ سالانہ بجٹ کی منظوری کے مراحل شروع ہو گئے۔ حکومت وقت اپنے حلیفوں اور حریفوں کی دلداری میں مصروف تھی۔ بجٹ کی حتمی منظوری والا اجلاس تھا۔ پوری حکومت وزیر اعلیٰ کی سر براہی میں موجود تھی۔ اپوزیشن کا ایک ایک رکن حاضر تھا۔ صوبے کی بالائی سرکاری مشینری یعنی سب صوبائی سیکرٹری، آئی جی اور چیف سیکرٹری کے ہمراہ گیلریوں میں بیٹھے تھے۔ بلوچستان اسمبلی میں پنجاب اسمبلی یا قومی اسمبلی کی طرح سرکاری عمال کی گیلریوں کو دیوار کے ذریعے الگ نہیں کیا گیا۔ بلکہ ایوان کے اندر آخری قطار میں نشستوں کے علیحدہ علیحدہ گروپ بنا کر انہیں سرکاری لوگوں کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ اس طرح سرکاری افسران بھی اسمبلی کی چھت کے نیچے اور کھلے عام بیٹھے ہوئے سب کو نظر آرہے ہوتے ہیں۔
اجلاس شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک ہوئی۔ اس سے پہلے کہ بجٹ کے اوپر کوئی بات شروع ہوتی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ضلع زیارت کے رہنے والے ایک پشتون رکن نے ایک نقطۂ اعتراض اٹھا دیا۔ انہیں فوراً سن لیا گیا۔ نقطۂ اعتراض سیکرٹری زراعت یعنی میرے متعلق تھا۔ پورا ایوان اور جملہ حاضرین اسمبلی پوری توجہ سے سن رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری زراعت جاوید اقبال اعوان نے محکمہ زراعت کے واٹر مینجمنٹ ونگ میں گریڈ سترہ کے افسران کی کانٹریکٹ پر بھرتی میں من مانی اور کرپشن کی انتہا کر دی ہے اور اس لوٹ کھسوٹ اور پسند نا پسند سے صوبے کا سخت استحصال کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ مجھے فوراً تبدیل کیا جائے اور میرے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے اپنے اس مطالبے اور تجویز کو ایوان کی مشترکہ قرار داد کی صورت میں منظور کر نے کی بھی سفارش کی۔
حملہ بھرپور، اچانک اور غیر متوقع تھا۔ سب کی نظریں مجھ پر گڑ گئیں۔ پنجاب اسمبلی میں اور اس اسمبلی میں بھی بارہا ہم نے اپنے محکمہ سے متعلق سوالات یا پالیسی بیانات والے دن یا مطالبات زر کے اجلاسوں میں شرکت کی تھی اور چھپے ہوئے جوابات سے ہٹ کر بھی چٹوں کے ذریعے اپنے وزیروں کی اضافی نکات کا جواب دینے میں موثر مدد کی تھی لیکن آج تو ایسا فطین طریقہ استعمال کیا گیا تھا کہ میرے لیے جواب دینے کی کوئی قانونی گنجائش بھی نہیں تھی نہ ہی کوئی عملی صورت۔
میں ایک پر کٹے پرندے کی طرح بے دفاع بیٹھا تھا۔ ماوف ہوتے ہوئے میرے دماغ نے سوچا کہ منصوبہ بندی کے سینئر وزیر نے بڑی کارگر منصوبہ بندی کی تھی۔ انہوں نے اپنے اندر دبے بغض کو اپوزیشن کے ایک ایسے پشتون رکن سے کہلوایا تھا جن کی پارٹی صوبائی عصبیت رکھنے میں مشہور تھی اور جو اس طرح کے کار خیر میں بلا سوچے سمجھے شریک ہونے پر ہمہ وقت آمادہ رہتے تھے۔ صوبائی اسمبلی کے سپیکر بھی انہی سینئر وزیر صاحب والی مذہبی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے اس نقطۂ اعتراض کی خلاف رواج حوصلہ افزائی کی۔
اور رہے اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر جن کا تعلق سینئر پارٹنر بلوچ اکثریت والی پارٹی سے تھا لیکن وہ تو میرے اپنے دفتر میں مجھے دشنام و الزام سے نواز آئے تھے۔ یکایک میرا سب کچھ داؤ پر لگ گیا تھا؛ عزت، شہرت، حتیٰ کہ روزگار بھی۔ میرے والد صاحب کا پچھلے ماہ انتقال ہوا تھا۔ ان کی دعاؤں کی چھتر چھاؤں اب مجھے میسر نہیں تھی۔ میں بے حس و حرکت بیٹھا تھا۔ سب نظریں اب وزیر اعلیٰ کی طرف مڑ گئیں تھیں۔ سب ان کے رد عمل کا انتظار کر رہے تھے جو بجٹ پر ایوان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ ماحول پر مہیب سناٹا تھا۔ میں یکا و تنہا بے یار و مددگار تھا۔ میں نے گھبرا کر اوپر دیکھا۔ وہاں ایک خلا تھا اسمبلی یا قانون کی چھت تو گویا پہلے ہی میرے اوپر گرا دی گئی تھی۔ میں نے سر نیہوڑا لیا۔
اس سے پہلے کہ وزیر اعلیٰ کچھ کہتے اسمبلی کے اندر ایک آواز گونجی جو مجھے ان ساکت لمحوں میں ہاتف غیبی کی صدا لگی۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا میرے محکمہ زراعت کے جواں سال اور خوش شکل وزیر مولوی فیض اللہ اپنی نشست پر کھڑے کہہ رہے تھے کہ یہ ٹھیک ہے کہ میں اپنے سیکرٹری زراعت کے رویے سے کئی دفعہ بہت تنگ آ جاتا ہوں لیکن میں پورے وثوق اور ایمانداری سے کہتا ہوں کہ میرا سیکرٹری ایک پیسے کا بھی روادار نہیں اور اس پر اس طرح کے کسی الزام کی کوئی صداقت یا وقعت نہیں۔
مدد ایسی جگہ سے آئی جس کا مجھے گمان بھی نہ تھا۔ اس مہر تصدیق نے میرے خلاف پلنے والی سکیم کو وہیں دفن کر دیا تھا۔ میں نے گہرے تشکر کا سانس لیا، اوپر دیکھا اور وجد میں آ کر مسکرا دیا۔ میرے اوپر نیلی چھت تن چکی تھی۔

