تحریک استحقاق اور پارلیمانی پیشیاں


سنہ 1986 ء کا موسم بہار تھا۔ میں راولپنڈی میں بطور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) تعینات تھا۔ ایک برس قبل تقریباً اسی موسم میں غیر جماعتی الیکشن کے ذریعے بونسائی جمہوریت کا پودا لگایا جا چکا تھا۔ ان انتخابات میں ریٹرننگ افسر ضلعی انتظامیہ سے لیے گئے تھے۔ میں نے بطور اسسٹنٹ کمشنر سٹی راولپنڈی کی قومی اسمبلی کی سیٹ اور ایک صوبائی اسمبلی کی سیٹ کے لیے ریٹرننگ افسر کے فرائض سر انجام دیے تھے۔ سب امیدواروں نے ذاتی حیثیت میں حصہ لیا۔

سیاست میں روپے پیسے کا چلن ابھی عام نہ ہوا تھا۔ پسند نا پسند قسم کی کوئی ہدایت اوپر سے نہ آئی تھی۔ یوں بھی میرے کمشنر جناب پرویز مسعود بہت باوقار افسر تھے اور ڈپٹی کمشنر صفدر جاوید سید تو بہت سخت گیر منتظم کی شہرت رکھتے تھے۔ ان دونوں صاحبان کو کسی بے اصولی پر آسانی سے آمادہ نہ کیا جا سکتا تھا۔ اس سے چند ماہ پہلے دسمبر 1984 کے صدارتی ریفرنڈم میں راولپنڈی شہر کا شمار رائے دہندگی کی کم ترین شرح والی جگہوں میں ہوا تھا۔ یہاں شرح صرف 34 % تھی جبکہ پنجاب کے کچھ اضلاع میں 100 % تک چلی گئی تھی۔

ہم نے انتظامی آزادی کے ماحول میں غیر جانبدارانہ اور منصفانہ الیکشن کروائے۔ راولپنڈی شہر کی قومی اور دونوں صوبائی نشستوں پر نئے چہرے منتخب ہوئے اور یہی صورت حال ایک آدھ جگہ کو چھوڑ کر پورے ضلع میں سامنے آئی۔ انتظامی دباؤ شاید اس لیے نہیں آیا تھا کہ کوئی سیاسی دباؤ موجود نہیں تھا۔ اور سیاسی دباؤ شاید اس لیے موجود نہیں تھا کہ اس وقت کی مقبول عوامی پارٹی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس بڑی سیاسی غلطی کے پس پردہ عوامل کی ہلکی سی جھلک میں نے بھی دیکھی تھی۔

اسلام آباد کا ائرپورٹ ابھی چکلالہ راولپنڈی میں کام کرتا تھا۔ بطور اسسٹنٹ کمشنر اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ راولپنڈی میرا یہاں پر پروٹوکول، انتظامی، اور ہنگامی ذمہ داریوں کے لیے اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ 1984 کی سردیوں کی ایک سہ پہر میری ڈیوٹی لگی کہ پیپلز پارٹی کے سینئر ترین رہنما جناب غلام مصطفی جتوئی کراچی سے اسلام آباد بذریعہ ہوائی جہاز آ رہے تھے۔ ان کو اسلام آباد نہیں جانے دینا بلکہ وی آئی پی لاؤنج سے ملحقہ شالیمار لاؤنج میں عزت و احترام سے لے جا کر بٹھا دینا ہے اور کراچی جانے والی اگلی پرواز سے واپس بھیج دینا ہے۔ مارشل لاء کا زمانہ تھا۔ پیپلز پارٹی کے مقامی کارکنوں اور لیڈروں کی سیاسی سرگرمیوں کی روک تھام کے سلسلے میں ان سے آنکھ مچولی تو چلتی رہتی تھی۔ یہ اس معمول سے ہٹ کر نسبتاً ایک شریفانہ اور خوشگوار فریضہ تھا جس میں عزت و تکریم کو بہت دخل تھا۔

جتوئی صاحب کے جہاز سے اترتے ہی میں نے اپرن (Apron) پر اپنے تعارف کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور ان سے شالیمار لاونج میں چلنے کی درخواست کی۔ وہ آسودہ خاطر میرے ساتھ اس لاونج میں چلے آئے۔ وہاں ان کو بٹھانے اور چائے کافی کا انتظام کر نے کے بعد میں نے انہیں اوپر سے ملنے والے احکامات سے آگاہ کیا۔ وہ کچھ جزبز تو ہوئے لیکن اظہار نہیں کیا۔ بس اتنا کہا، ”کمال ہے، بلاتے بھی خود ہیں اور بھجواتے بھی خود ہی ہیں“ ۔

یوں بھی غلام مصطفی جتوئی صاحب ایک نرم خو، کم گو اور بردبار شخصیت کے حامل تھے۔ اگلے دو گھنٹے وہ بالکل خاموش رہے۔ میں قریب کے صوفے پر بیٹھا اپنی ڈیوٹی کرتا رہا۔ اس مرتبے کا سینئر سیاسی رہنماء اور امیر و کبیر جاگیردار آخر حکومت کے ایک عام سے کل پرزے سے کیا بات کر تا۔ میں نے بھی ان کی گہری خاموشی اور استغراق کو توڑنا خلاف ادب جانا۔ دو تین روز بعد کراچی سے ان کا اعلان آ گیا کہ وقت کی مقبول ترین سیاسی پارٹی نے بحالی جمہوریت کی اپنی دو سالہ ملک گیر تحریک کے نتیجے میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

غیر جماعتی انتخابات کی کامیاب بونسائی تکنیک کی وجہ سے جمہوریت کے پودے کا قد کاٹھ تو بڑھنا نہیں تھا البتہ پچھلے ایک برس میں اس میں برگ و بار آنا شروع ہو گئے تھے۔ غیر جماعتی ایوان اب باقاعدہ سیاسی پارٹیوں کی شکل اختیار کر گئے تھے اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حکومتی سیاسی پارٹی اور اپوزیشن پارٹی واضح طور پر نظر آ رہی تھیں۔ مارشل لاء اٹھ چکا تھا اور آئین اور قانون میں حسب حال ترامیم کے بعد جملہ قومی امور قومی اور صوبائی سطح پر مناسب رفتار سے چلنا شروع ہو گئے تھے۔

نو منتخب ممبران اسمبلی، خصوصاً صوبائی اسمبلی کے اراکین، اب اپنے علاقوں سے متعلقہ امور کی خبر گیری کے لیے ہمارے دفتروں میں باقاعدگی سے آنا جانا شروع کر چکے تھے۔ میرے جیسے جونیئر افسران ان سے متعلق آداب مجلس سے آگاہ ہو رہے تھے۔ جمہوریت اس تراشیدہ شکل میں بھی بھلی لگ رہی تھی اور ہم خوشدلی سے رفاہ عامہ میں ان کا دست تعاون قبول کر رہے تھے۔ ایک دوسرے سے عزت و احترام سے پیش آیا جاتا تھا۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اس وقت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھی ہوتا تھا جو موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت ضلع بھر میں ٹریفک چیکنگ کے اختیارات رکھتا تھا اور موقع پر ہی سزا سنانے کا مجاز تھا۔ اسسٹنٹ کمشنر/ ایس ڈی ایم صاحبان یہی فریضہ تحصیلوں میں سر انجام دیتے تھے جس کا جائزہ باقاعدگی سے ماہانہ پولیس مجسٹریسی اجلاس میں ڈپٹی کمشنر/ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی زیر صدارت لیا جاتا تھا۔ ضلع کے جن علاقوں میں ٹریفک بدنظمی کی زیادہ شکایات ہوتیں وہاں اچانک معائنہ کے لیے میں کبھی کبھار خود بھی جایا کرتا تھا۔

راولپنڈی سے جہلم جانے والی جرنیلی سڑک سے الگ ہونے والی مندرہ چکوال روڈ پر ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزیوں کی شکایات عام ہو رہی تھیں۔ یہ سڑک اس وقت راولپنڈی/ اسلام آباد کو خوشاب اور سرگودھا سے ملانے کا بڑا راستہ تھی۔ چکوال اور خوشاب کے درمیان پہاڑی سڑک پر پیچ اور دشوار گزار تھی جبکہ چکوال سے ادھر نسبتاً ہموار میدانی علاقہ تھا جس پر تیز رفتاری اور زیادہ سواریاں بٹھانے کی بہت شکایات تھیں۔ اس روٹ پر پہلے اعوان ٹرانسپورٹ کمپنی کی اجارہ داری ہوتی تھی جس کو بعد میں اسی خاندان میں سے بننے والی ایک نئی کمپنی سپر اعوان نے توڑا۔ خوشاب سے ادھر وادی سون چکوال تک اعوانوں کا مسکن تھی اور کاروباری رقابت خاندانی مقابلے کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ اپنے علاقے اور برادری میں دھاک بٹھانے کے لیے دونوں کمپنیوں کی بسیں اندھا دھند مقابلہ کرتی تھیں اور ریس کا میدان زیادہ تر یہی چکوال مندرہ روڈ بنتی تھی۔

ایک روز میں اپنے عملے کے ہمراہ اس روٹ پر معائنہ کے لیے گیا تو کچھ ہی دیر کے بعد یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ایک دو کلومیٹر دور سے دو بسیں شانہ بشانہ یک رویہ سڑک پر بے تحاشا بھاگتی آ رہی تھیں۔ چھتوں پر بھی سواریاں لدی تھیں۔ گرد و پیش سے بے نیاز، سینکڑوں سواریوں کی جانوں سے لاپروا، دونوں ڈرائیور ٹریفک کے ہر قانون کو روندتے ہوئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے جنون میں مبتلا بسوں کو بھگاتے چلے آرہے تھے۔

ہم نے ان کو رکنے کے بہت اشارے کیے لیکن بے سود۔ آخر اپنی گاڑی ایک طرف ہٹا کر جان بچائی۔ یہ ڈرائیونگ نہیں سفاکی تھی۔ وائر لیس کی مدد سے ان کے راستے میں آنے والے تھانے سے نفری نکال کر ان کو بمشکل روکا اور وہاں پہنچ کر سواریوں کو دوسری بسوں میں سوار کر کے دونوں ڈرائیوروں اور بسوں کو اسی تھانے میں بند کر دیا اور اپنی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ ڈرائیوروں کی تو خیر جلد ہی ضمانت ہو جانا تھی، یوں بھی ان کی سزاؤں سے بس مالکان کو خاص سروکار نہیں ہوتا۔

بھاری جرمانہ بھی خاطر خواہ اثر پیدا نہیں کر تا، البتہ بسیں اگر کچھ روز تھانے میں بند رہ جائیں تو مالی نقصان مالکان کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ تھانے کے احاطے میں بند بسوں کی کھلی نمائش سے قانون کی عمل داری کا مطلوبہ پیغام ان اطراف میں چلنے والی تمام ٹرانسپورٹ اور لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ میرے دماغ میں چل رہا تھا کہ ان دونوں بسوں کو آٹھ دس روز بند رکھا جائے تاکہ ان بڑی کمپنیوں کی نخوت کو زک پہنچے اور یہ قانون کی طرف متوجہ ہوں۔

اگلے روز دفتر کھلتے ہی اس علاقے کے ایم پی اے تشریف لے آئے۔ علیک سلیک کے بعد انہوں نے ان میں سے ایک بس واگزار کرنے کی فرمائش کی۔ میں بھونچکا رہ گیا۔ تواتر سے ملنے والی جائز عوامی شکایات سے اس علاقے کا عوامی نمائندہ، جو قانون بنانے والے ادارے کا رکن تھا، اس طرح بے نیاز کیونکر ہو سکتا تھا۔ میں نے ٹال مٹول کی کوشش کی لیکن وہ مصر رہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بس ان کے ماموں کی ہے۔ میں نے کہا کہ خلاف ورزی بہت سنگین ہے، واقعہ میرا چشم دید ہے اور کارروائی نیچے سے ملنے والی کسی پولیس رپورٹ پر نہیں کی گئی جس میں شک کی گنجائش ہوتی۔

ان کا اصرار بڑھتا گیا اور انہوں نے کہا کہ علاقے میں ان کی عزت نہیں رہے گی۔ میرے دماغ میں دو سالہ تربیت اور تین سالہ علاقہ مجسٹریسی کی وجہ سے قانون گھسا ہوا تھا۔ نوجوانی کی وجہ سے کلچر کی قانون پر برتری کا قائل بھی نہیں تھا اور غیر جماعتی انتخابات کی نرسری سے بر آمد ہونے والے پھولوں کی اصل خوشبو سے ابھی آگاہ نہیں ہوا تھا۔ زچ ہو کر کہہ اٹھا کہ یہ بس اگر آپ کی اپنی بھی ہوتی تب بھی قانون کا اسی طرح کا اطلاق ہوتا۔ انہوں نے کچھ کہا نہیں، بے دلی اور مایوسی سے مجھے دیکھا اور اٹھ کر چلے گئے۔

چند ہی روز میں پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ سے میری طلبی کا پروانہ آ گیا۔ میری اس گفتگو سے فاضل رکن پنجاب اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا تھا اور معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپر د کر کے مجھے طلب کر لیا گیا تھا۔ لاہور پہنچا، استحقاق کمیٹی کے سامنے پیشی ہوئی، الزام سنایا گیا۔ جواب دیا گیا کہ میرے رویے اور عمل میں صرف قانون کی بالادستی پیش نظر تھی، فاضل رکن صوبائی اسمبلی کی ذات کی بے توقیری مقصود نہ تھی۔ میرے جواب پر کمیٹی ممبران کی آراء اور بحث کا سلسلہ چل پڑا۔

اسی دوران میں راولپنڈی ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک معزز رکن اسمبلی نے کمیٹی سے وقفہ کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ ہمیں اپنے ضلع کی سطح پر معاملے کو حل کرنے کا موقع دیا جائے۔ وقفہ ہوا تو ضلع راولپنڈی کے اراکین اسمبلی اور میں ایک دوسرے کمرے میں بیٹھ گئے۔ ہم سب کے آپس میں خوشگوار تعلقات تھے۔ ان میں سے زیادہ عمر اور تجربے والے فاضل ممبران نے سمجھایا کہ آپ دونوں، یعنی شکایات کنندہ ایم پی اے اور میں مسؤل علیہ، نوجوان ہیں اور دونوں کے کیرئیر کا آغاز ہے۔ اس طرح کی تلخی دونوں کے اگلے سفر میں مشکلات کا باعث ہوگی۔ میرے دل میں تو پہلے ہی کدورت نہیں تھی۔ فاضل رکن اسمبلی کی طرف ہی سے رنجش تھی، انہوں نے لچک پر آمادگی کا اظہار کیا۔ میں نے اسے کھلے دل سے کہا کہ میری مراد قانون کی بالا دستی تھی، معزز رکن کی دل آزاری یا توہین نہیں تھی۔ اگر ان کو ایسا محسوس ہوا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ انہوں نے میری معذرت خندہ پیشانی سے قبول کرلی اور یوں معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ ہمارا باہمی احترام از سر نو استوار ہو گیا جو بعد میں بھی قائم رہا۔

میں نے خود بھی اس سارے عمل سے سیکھنے کی کوشش کی لیکن اصل رہنمائی مشہور محقق، فلاسفر اور عارفانہ شاعر ڈاکٹر شہزاد قیصر نے کی۔ ڈاکٹر صاحب دو تین سال پہلے شجاع آباد ضلع ملتان میں میری بطور اے سی تقرری کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ملتان تعینات ہوئے تھے۔ انہوں نے صاف الفاظ میں سمجھایا کہ ”جب افسر کا قلم چلتا ہو تو زبان نہیں چلنی چاہیے“ ۔ میں نے یہ سبق پلے باندھ لیا۔

ٹھیک تیرہ برس بعد 1999 کا موسم بہار ہی تھا جس میں اسی نوع کی پیشی کا ایک اور موقع پیدا ہو گیا۔ میں بطور ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن ایلیمنٹری ایجوکیشن پنجاب
(Elementary Education Punjab DPI )
اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ پنجاب بھر کے پچپن ہزار سے زائد پرائمری اور مڈل سکولوں کا انتظام و انصرام اس دفتر کی ذمے داری تھی۔ میرا اس ذمے داری پر آنا بھی ایک سبق آموز عمل تھا۔ گریڈ بیس کی یہ پوسٹ چار سال پہلے 1995 میں اس سیکٹر کی زبوں حالی کو دور کر نے کے لیے تخلیق کی گئی تھی۔ مخلوط صوبائی حکومت وقت اس پر کسی نیک نام اور سرگرم افسر کو تعینات کر نا چاہتی تھی۔ میں ان دنوں بطور ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ صحت کام کر رہا تھا جہاں اربوں روپے کی ادویات و طبی سامان کی خریداری میری اولین ذمے داری تھی۔

یہاں پر اور اس سے پچھلی ڈپٹی کمشنر بہاولپور کی تعیناتی کے دوران میں بننے والی اچھی بلکہ احسن شہرت کی بناء پر میرا نام اس نئی آسامی کے لیے تجویز ہو کر تقریباً حتمی ہو گیا۔ میں پس و پیش کر رہا تھا، ایک تو اس لیے کہ جن وزیر تعلیم کے ساتھ کام کر نا تھا ان کے طرز عمل خصوصاً پی ٹی سی ٹیچرز کی ٹریننگ اور بھرتی کے متعلق ہوش رباء داستانیں (غلط یا صحیح ) گردش میں رہتی تھیں اور دوسرے، سچ بات یہ ہے کہ میں اپنے گریڈ سے سینئر پوسٹ پر لگ کر ایک اور مرتبہ ڈپٹی کمشنر لگنے کا دروازہ بند نہیں کر نا چا ہتا تھا۔

جونیئر گریڈ والا سینئر پوسٹ پر اور سینئر گریڈ والا جونیئر پوسٹ پر لگانے والی بے راہ روی ابھی حکومت اور افسران کی طرف سے عام نہ ہوئی تھی، اس لیے میں نے معذرت کر نے کا سوچ لیا۔ عین اسی وقت میرا پسندیدہ سٹیشن راولپنڈی خالی ہو گیا۔ وہاں کے ڈپٹی کمشنر بیرون ملک، نیویارک میں تعیناتی کے لیے منتخب ہو گئے۔ میں نے ادھر قسمت آزمائی کا پختہ ارادہ کر لیا اور ڈی پی آئی والی تجویز کے اختتامی مراحل میں یعنی وزیر اعلیٰ کے آخری انٹرویو سے عین پہلے ان کے پرنسپل سیکرٹری سے جاکر باقاعدہ معذرت کرلی۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی تعیناتی کا فیصلہ اسلام آباد سے ہوتا ہے۔ میں نے اپنے سینئر افسران کی مدد سے اپنا نام اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جانے والے پندرہ رکنی پینل میں ڈلوا لیا کیونکہ اس معذرت کے بعد پنجاب حکومت نے تو میرا نام بھیجنا نہیں تھا۔ یہ سب افسران گریڈ انیس کے ملک بھر سے چنیدہ اور بہت مضبوط امیدوار تھے۔ سیاسی طور پر میرا ان سے کوئی مقابلہ نہیں تھا بلکہ میرا یہ خانہ تقریباً خالی تھا۔ مجھے ایک تدبیر سوجھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4