مقبول لیڈر عمران خان


پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ شخصیات ہی ایم رہی ہیں۔ نظریہ، سیاسی پروگرام شخصیات کے ساتھ ساتھ سفر کر تا رہا ہے۔ خود قائد اعظم کی شخصیت حالات، واقعات اور زمینی حقائق پر بہت بھاری بھر کم رہی۔ نظریہ پر ہم یقین رکھتے تو محترمہ فاطمہ جناح نہ غدار کے لقب سے نوازی جاتیں اور نہ بنیادی جمہوریتوں کے خالق فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ہاتھوں جھرلو کے نتیجے میں انتخاب ہارتیں۔ ایوب خان کے مقابل شیخ مجیب ایک جبر مسلسل کا شکار رہنے والے معاشرہ کی علامت بن گئے اور ذوالفقار علی بھٹو سیاسی نعروں کے ذریعے خوف کی علامت بنتے رہے۔

کیا شیخ مجیب اور بھٹو کے درمیان شخصی رسہ کشی اور حصول اقتدار کی جنگ کے علاوہ بھی کچھ تھا تو ابھی تک ہر دو طرف کے عوام اس انتظار میں ہیں۔ بے نظیر ضیاءالحق کے خلاف نفرت اور جبر کی چکی میں پسی ہوئی ایک نمائندہ شخصیت تھیں مگر نواز شریف کو تصادم کے لئے تیار کیا جا رہا تھا۔ وہ لڑائی جو خود نہیں لڑنا چاہتے تھے انہوں نے حالات کو ساز گار بنا کر سیاست کے شفاف حوض کو گندا کر دیا۔ ہر دو نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور تمام داؤ پیچ خواہ اندرون ملک ہوں یا غیر ملکی دوستوں کے ہاتھوں میں سجے ہوں خوب کھیلے۔ خاطر خواہ مثبت نتائج دونوں حاصل نہ کر سکے اور تھک ہار کر از خود اور دوستوں کے اصرار پر دوبارہ معاملات طے کیے ۔

ایسے میں جب میدان میں گرما گرمی نہ ہو تو ڈھول پیٹ کر تماشائیوں کو اکٹھا کر نا کبڈی کے کھیل کا خاصہ ہوا کرتا ہے اب ڈھول کے متبادل ہیں۔ ٹی وی، سوشل میڈیا اسی کا کر دار ادا کرتے ہیں اور ڈھولچی کو علم ہی نہیں ہوتا کہ میدان کس کے لئے سج رہا ہے۔

2002 میں پہلی ڈرم بیٹ سنی گئی۔ تقاضا تھا کہ مجھے وزیراعظم بنا دیا جائے کئی بار ملاقاتیں کیں چند نشستوں پر معاملہ طے کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا مگر پھر بھی بقول چوہدری شجاعت حسین کے سحر بزم کے ذریعے ایک ہی شہری نشست مل سکی۔ یہی حال عمران خان کے ساتھ طاہر القادری کا تھا۔ دونوں نے قومی اسمبلی کے ایوان سے کچھ نہ سیکھنے کا ارادہ کر رکھا تھا جو انہوں نے پورا کیا۔ حالات ایک جیسے تو کبھی نہیں رہتے دن رات اور رات سے دن نکلتا ہے۔ وقت کا دھارا چلتا رہا۔ زمانہ معاہدہ کے مطابق تبدیل ہو گیا۔

پی ٹی آئی 2013 ءمیں تیسری چوتھی پوزیشن پر بھی پوری طرح نہ آ سکی۔ جہانگیر ترین کے بقول جائزہ لیا گیا تو آنکھیں کھل گئیں مگر اب تصادم کی تربیت تو عمران خان کی ہو رہی تھی گویا لاہور کے کھلاڑی لاہور میں ہی براجمان ہو کر لڑائی کے لئے ڈھول کی تھاپ پر تیاری کر رہے تھے۔

مرحوم قاضی حسین احمد نے پاکستان اسلامک فرنٹ بنا کر جو کچھ حاصل کر نے کی کوشش کی تھی وہ تو حاصل نہ ہوا تھا مگر ان تمام افراد میں کسک باقی تھی۔ یہاں نظریہ بھی، وقت بھی تھا ضرورت بھی تھی گویا ڈھول کی تھاپ اور میدان کی گرمی نے دھول اڑانے میں اپنا کر دار ادا کیا اور یہ سب سیاسی، غیر سیاسی، تربیت یافتہ، غیر تربیت یافتہ، با اثر، بار موج، مالدار سبھی اس بات کو جان کر کہ عمران خان ہی اب ایک آخری امید باقی ہے صف آرا ہونا شروع ہوئے۔ شرمیلا عمران خان حالات کے ہاتھوں اپنی خواہشوں اور دلچسپی رکھنے والوں کے لئے آخری سہارا، چراغ سحری، بجھتے دیے کی آخری لو کا کام کر گیا۔

سیاسی محبت یا نفرت ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی نئے زمانے کے ڈھولچیوں نے شام صبح گیت گانے شروع کیے اور صورتحال یہ پیدا کر دی تھی کہ ہر طرف ایک ہی تصویر باقی نظر آتی تھی۔ امیدوار، روایتی سیاستدان، سرمایہ دار تو متحرک ہوئے ہی تھے مگر عدلیہ کا سیاسی کر دار بھی نمایاں ہونا شروع ہوا۔ رف پیج آؤٹ پیپر میں تبدیل کر دیا گیا۔ ہر نقش و نگار نہایت حسین اور خوشگوار رنگوں سے مزین تھا۔ وسائل کی کوئی کمی نہ تھی، بولی یک طرفہ بولی جا رہی تھی کوئی وجہ نہ تھی کہ بولی کامیاب نہ ہوتی مگر خدا کا کرنا کچھ اور تھا پھر مذاکرات ہوئے۔ ہر تین طرف ہوئے کہیں ڈوری ٹوٹی تو دوسری طرف بندھ گئی۔

سوت اور ریشم کی ڈوری کی گرہ بہت مضبوط نہ رہ سکی۔ حالات سنبھل نہ رہے تھے، معیشت کی خرابی روز بروز بڑھ رہی تھی، قرضہ پر سود دینا محال ہو گیا تھا۔ بے روز گاری میں ہوشربا اضافہ ہو رہا تھا۔ مہنگائی کا جن پہلے روز سے ہی بے قابو تھا، سفارتکاری ناکام ہو رہی تھی۔ دوستوں نے منہ پھیرنا شروع کر رکھا تھا، دیوالیہ ہونے جار رہا تھا، معاشی خود مختاری کا سودا شروع ہو چکا تھا، دفاعی منصوبے بھی پورا ہوتے نظر نہ آتے تھے اور پھر تھا کیا۔ بد تمیزی، گالی، جیل، انتقام، نفرت، بے توقیری، بے عزتی، شدید بد انتظامی، بد حالی سیاسی اثر و رسوخ غرض کیا تھا جو طوائف الملوکی کی طرف نہیں لے جا رہا تھا، مذاکرات کا بھی کوئی راستہ کھلا نہ رہنے دیا گیا تھا۔

ریاست اپنی زندگی کا سفر ہچکولے کھاتے پورا نہیں کر سکتی۔ سیلاب، طوفان میں بھی راستہ نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر عدم اعتماد کا راستہ ہی باقی بچا تھا۔ اب اپنی پارلیمانی شکست کی بجائے روس کے تیل کا بین بج رہا ہے۔

پارلیمانی طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنے ازلی دشمن سے مذاکرات کر نے کو تیار ہیں اس کی تعریف کر رہے ہیں تو ایوان میں عوامی نمائندوں سے بات کر نا ہی ہوگی۔ ہر ہر قدم پر، ہر ہر کام کے لئے ملک کی سلامتی، خوشحالی، استحکام اور جمہوریت کے لئے اگر استعفیٰ دیا ہے تو سبھی اسمبلیوں اور سینٹ سے بھی دیں۔

تنخواہیں، مراعات، سہولیات کیوں لے رہے ہیں؟ پنجاب میں الیکشن لڑ رہے ہیں، سندھ میں لڑ رہے ہیں کیا الگ اسمبلی بنائیں گے؟ ایران سے تو تیل گیس لے نہیں سکتے روس کے بارے سچ نہ بول کر مذاق کیوں بن رہے ہیں؟ ذرا سوچیں! آپ کے بارے تاریخ کیا کہے گی؟ خلا تو پُر ہو جائے گا آپ کی جماعت بھی آپ کے ساتھ کیا کھڑی رہے گی؟ امیدوار انتخاب جیتنے کے لئے الیکشن لڑتا ہے ہارے کے لئے نہیں۔ عمران خان صاحب اپنے غصہ پر کنٹرول کریں صلح جو کا کر دار ادا کریں۔ پارلیمانی جمہوریت کے آداب کا لحاظ رکھیں، اپنی ذات اور کرکٹ گراؤنڈ سے باہر آئیں۔

کبڈی میدان کے اندر کھیلی جاتی ہے باہر ڈھول بجتا ہے اور کبھی بھی ڈھول اور ڈھولچی تبدیل ہو سکتا ہے۔ آپ پاپولر ہیں مگر خدائی صرف خدا کے لئے ہے۔ ناگزیر لوگوں سے تاریخ بھری پڑی ہے اور بھول بھلیوں میں گم ہونا آسان اور راستہ نکالنا مشکل کام ہے۔ اپنے چار سال کا حساب تو آپ کو دینا ہو گا اور اب احتساب کے لئے اسمبلی میں واپس آ کر کردار ادا کریں بصورت دیگر تاریخ کے اوراق انتظار کریں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عظیم چوہدری

عظیم چوہدری پچھلے بیالیس سالوں سے صحافت اور سیاست میں بیک وقت مصروف عمل ہیں ان سے رابطہ ma.chaudhary@hotmail.com پر کیا جاسکتا ہے

azeem-chaudhary has 12 posts and counting.See all posts by azeem-chaudhary

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments