روحانی خوابوں اور جلیبی دار گفتگو کے ذریعے شہرت پانے والے ماورائی میڈیائی بابے


80 کی دہائی مرد مومن مرد حق ضیاء الحق کی وجہ سے کافی مشہور ہے، اس دور میں ایک ایسے کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی جسے یورپ کی اجتماعی دانش چار دیواری تک محدود کر کے ہر انسان کا انتہائی ذاتی عمل قرار دے کر آگے بڑھ چکی تھی اور ریاستی معاملات کو تمام مذاہب عالم سے الگ تھلگ کر کے ریاست کو ایک سیکولر چہرہ عطا کر چکے تھے تاکہ ریاست ہر طبقہ کو رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر اپنی آغوش میں لے سکے۔ مگر ہم نے دنیا سے بالکل الگ تھلگ دوسری سمت کا انتخاب کیا یعنی ہر معاملے میں مذہب کو گھسیٹنا شروع کر دیا۔

ریاست نے مذہبی معاملات میں خود کو اتنا ملوث کر لیا جس کا نتیجہ شیعہ سنی کی واضح تقسیم کی صورت میں سامنے آیا اور اس تقسیم کی صورت میں جتنا خون بہا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن چکا ہے۔ اس دور کا ادب جس میں نسیم حجازی، یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے ٹائپ کی رومانوی باتیں اور ضرب مومن جیسے ہفت روزہ شماروں کے ذریعے سے ایک ایسی نسل تیار کی گئی جو سائنس مخالف رویہ رکھتے ہیں اور عقل و خرد کی روشنی میں سوچنے کی بجائے فقط مذہبی اینگل پر اکتفا کر کے راضی بالرضا رہنا پسند کرتے ہیں، اور 80 کی دہائی میں برین واشنگ اور ان ڈاکٹری نیشن کی صورت میں جو فصل بوئی گئی تھی وہ آج پک کر ہمارے سامنے موجود ہے۔

اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ آپ اوریا مقبول جان، زید حامد، عمران ریاض خان یا دیگر مولویوں کے پیروکار، فالورز یا سبسکرائبرز مشاہدہ کر سکتے ہیں اور دوسری طرف ایم آئی ٹی سے پی ایچ ڈی کر کے آنے والے پرویز ہودبھائی یا دیگر پروگریسیو اور عقل و فہم کی باتیں کرنے والوں کے فالوورز دیکھ لیں تصویر بالکل واضح ہو جائے گی اور ہم بخوبی جان پائیں گے کہ اکیسویں صدی جو علم و ہنر و ٹیکنالوجی کی بالغ صدی ہے، میں ہم کہاں کھڑے ہیں یا کیا سننا اور دیکھنا پسند کرتے ہیں؟

ہم اکیسویں صدی میں تعلیمی زوال کے دوراہے پر کھڑے ہیں جتنے بچے سکول کے اندر ہیں اس سے کہیں زیادہ سکول سے باہر سڑکوں پر رل رہے ہیں۔ جس قوم کا آدھے سے زیادہ مستقبل پرائمری تعلیم سے بھی محروم ہو تو اس قوم کے ہیرو یا رول ماڈل بھلا پرویز ہودبھائی، ڈاکٹر مبارک حیدر، پروفیسر اشتیاق اور ڈاکٹر مبارک علی جیسے جینون دانشور کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان کے تو اوریا مقبول جان، عمران ریاض خان، احمد رفیق اختر، سرفراز شاہ، بابا یحییٰ اور انہی کے فلسفے و کتب کے پرچارک یا مارکیٹنگ کرنے والے اور خواتین کو ایک اچھی بیوی بنے رہنے کے گر سکھانے والے قاسم علی شاہ جیسے ہی رول ماڈل بنیں گے، جو روحانیت کا چورن بیچ کر اس قوم کو بے وقوف بنانے میں لگے رہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بڑے اچھے سے مغربی مفکرین کانٹ، شیلے، نطشے، کارل مارکس اور برٹرینڈ رسل جیسے مہان کو پڑھا ہوتا ہے، یہ وہ فلسفی ہیں جو سوچنا سکھاتے ہیں اور سوچنے سے ہمارا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے اور سب سے بڑھ کر ان معاشرتی سیانوں اور روحانی بابوں کو ایسی نسل کی ضرورت ہی نہیں ہے جو ان کے آگے دو زانوں ہو کر بیٹھنے سے انکاری ہو۔

انہیں سوچنے یا سوال کرنے والوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ روحانی خوابوں یا رومانوی باتوں سے بہلنے والے روبوٹ چاہئیں جو ساری عمر ان کی دست بوسیاں کرتے رہیں اور بے شک بے شک کا ورد ان کی زبان پر جاری رہے۔ مذہب یا روحانیت وہ باؤ نڈری ہے جس میں صرف اہل ایمان ہی داخل ہو سکتے ہیں اہل سوال کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ معاشرے کے وہ سیانے یا میسنے لوگ ہوتے ہیں جو مارکیٹ کے ٹرینڈ سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور ان کا ہاتھ عوام کی کی نبض پر ہوتا ہے اسی لیے یہ وہی بات کریں گے جس کی عوام میں پذیرائی ہو اور وہی پروڈکٹ بیچتے ہیں جس کی ڈیمانڈ ہوتی ہے۔

ڈیمانڈ اور سپلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیا کے یہ روحانی بابے، موٹیویشنل اسپیکرز یا نئی نسل کو روحانی قسم کی چسکے دار گفتگو کے نشے پر لگا کر ان سے سوال کرنے کی صلاحیت کو چھین لیتے ہیں، جاننے یا کریدنے کی جستجو کو مسخ کر کے ان کے ذہنوں کو چند روحانی بابوں کا اسیر بنا دیتے ہیں اور یہ نسل اپنی سوچ کو تالے لگا کر اپنی فکری چابی جس کے ذریعے سے وہ اس کائنات کی پراسراریت کو ڈی کوڈ کر سکتے تھے، اسے ان ماڈرن لوکنگ روحانی مولویوں کے ہاں گروی رکھ دیتے ہیں۔

یہ نسل اس حقیقت سے بالکل بے خبر ہے کہ یہ روحانی بابے نجانے کب سے ان کا ذہنی استحصال کر رہے ہیں اور ان کی ذہنی صلاحیتوں اور دماغ میں پیدا ہونے والے درجنوں سوالوں کو دفن کرنے کا کام بڑے احسن طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی علمی ابتری اور ذہنی پسماندگی کی اس سے بھیانک تصویر کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارا نوجوان دنیا سے بالکل ہی کٹ چکا ہے، وہ ریشنیلٹی کی ٹرم میں سوچنے کی بجائے جذباتی کھلونے بن چکے ہیں جن سے مفاداتی گروہ اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے مذہبی کارڈ استعمال کر کے کھیلتے رہتے ہیں اور ہمارا نوجوان خوشی خوشی اپنی انفرادیت کا سودا کر کے مختلف شعبدہ بازوں پر ایمان لے آتا ہے۔

یہ شعبدہ باز ایسی فکر کو پرموٹ کر رہے ہیں جو آؤٹ آف ڈیٹ ہو چکی ہے اور ایسے ادب کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں عاشقانہ آوارگی اور بے ہنگم خیالی گھوڑے دوڑانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خوابوں کو ”ٹوسٹ اور ٹرن“ کر کے روحانی منجن بیچنے والا اوریا مقبول جان حقیقی زندگی میں بھی ویسا ہی ہے جیسا دکھتا ہے؟ بڑے بڑے عہدوں پر براجمان اہم شخصیات کو ایک مافوق الفطرت قسم کی کلاس پینٹ کرنے والا جاوید چوہدری یا سیدھی سادھی اور ٹو پلس ٹو فور کی مانند واضح باتوں کے گرد خواہ مخواہ کی پراسراریت گھڑنے والے اور خود کی ہی قائم کردہ روحانی اصطلاحات کے ذریعے جلیبی دار گفتگو کرنے والے یہ روحانی بابے کیا اپنی نجی زندگی میں یا آف کیمرا ایسے ہوتے ہیں جیسے یہ ٹی وی اسکرین پر نظر آتے ہیں؟ یہ سب سے قابل غور سوال ہے۔ کہیں ایسا معاملہ تو نہیں ہے ”نیئرر دی چرچ فاردر فرام گاڈ“ ؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ سب روحانی مال فالورز کے لئے ہوتا ہے اپنے اہل و عیال کے لئے نہیں اور نجی زندگی میں یہ سب رنگینیاں انجوائے کرتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments