متوسط طبقہ غربت کی لکیر عبور کر گیا…

حالات کدھر جا رہے ہیں۔ سیاست پر کوئی بحث کیے بغیر صرف معاشی صورتحال دیکھیں اس وقت غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرنے والے نفوس بڑھتے جا رہے ہیں۔ قوت خرید اتنی کمزور اور کم ہو چکی ہے کہ کئی ضرورت کی چیزیں دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
بقرعید پر پہلے سے کہیں زیادہ قیمت اور تعداد میں مویشی منڈیوں اور سڑکوں بازاروں میں آئے اور ہاتھوں ہاتھ بکے۔ یہ دینی فریضہ چونکہ اس فرض کا ایک رکن ہے جسے صاحب استعداد اور ثروت کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ سال میں چند دنوں کے دوران بڑے حجم میں ہونے والی یہ معاشی سرگرمی جہاں کئی شعبوں سے وابستہ افراد کی اچھی آمدن کا ذریعہ بنتی ہے وہاں اس قربانی کے عمل کی حقیقی روح نچلے اور بالکل محروم طبقے تک اس کھانے یعنی گوشت کو پہنچانا بھی مقصد ہوتا ہے۔
چھوٹے جانور کا گوشت کئی برسوں سے خط غربت کے نیچے والوں کی ایک نسل تک کھانے سے محروم ہو چکی ہے۔ یہ بڑے لوگ ہی سہولت سے اپنی خوراک کا حصہ بناتے ہیں۔ بڑا گوشت بھی بتدریج اس غریب کی پہنچ سے رفتہ رفتہ باہر ہو رہا ہے۔
اس برس بغور مشاہدہ کیا گیا کہ محض خانہ بدوش اور بھیک مانگنے والے ہی نہیں بلکہ اللہ تعالی کی اس نعمت سے بوجوہ محروم طبقے کے سفید پوش بھی کسی نہ کسی انداز میں اپنے کنبے کو سنت ابراہیمی کی روح سے اجاگر کرنے اور گوشت کی لذت سے واقفیت دلانے کے جتن کرتے نظر آئے۔ یہ کوئی اچنببے اور حیرت والی بات نہیں۔
لیکن جو ذکر آگے کرنے جا رہا ہوں وہ مزید چونکا دینے والا ہے۔ متوسط اور لوئر مڈل کلاس کے لوگ کسی حد تک بنیادی نعمتوں سے مستفیض ہوتے رہتے تھے مگر گزشتہ چند برسوں کے نتیجے میں اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمارے جاننے والے ایک معتبر اور بظاہر اچھی تنخواہ یعنی ساٹھ ستر ہزار لینے والے دوست عید کے دن ملاقات میں پہلے حال بیان کرتے آبدیدہ ہوئے پھر رو پڑے۔ اپنے خاندان کی ضرورتوں کی تفصیل بیان کرنے کے بعد بولے یقین جانیئے بکرے کا گوشت چھوڑ اب بڑے گوشت کی گنجائش نکالنی مشکل ہے۔ کئی دیگر اخراجات میں ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔ ابھی تو پٹرول گھی اور روزمرہ ضرورت کی اشیاء میں تیزی سے اضافے نے عقل اور سوجھ بوجھ کو جیسے ایک کونے میں بیڑیاں باندھ دی ہوں۔ بے بسی کے عالم میں کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کریں اور کس سے فریاد کریں۔ اللہ پر بھروسا کرنے والوں کا بھی جیسے ایمان ڈگمگا گیا ہے۔
اس دوست نے بڑے وثوق اور دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خط غربت کے نیچے بہت بڑی تعداد آ چکی ہے۔ اب سفید پوشوں کی اکثریت یہ لکیر عبور کر گئی ہے۔
مجھے سننے میں کچھ مختلف اور کسی حد تک جذباتی تقریر لگی۔ میں نے خوشحالی کے اشاریے جنہیں گزشتہ حکومت بھی گنواتی تھی اس سب کی تفصیل رکھی۔ دوست بولا کورونا کا رونا صرف تنخواہ دار کے لئے تھا۔ سرمایہ دار کا کچھ نہیں گیا۔ جہاں بھی کوئی آفت آئی نرخ بڑھ گئے مگر ملازم کی تنخواہیں نہ بڑھیں۔ پیسے والے نے کسی مہنگی شے پر کبھی شور نہیں مچایا۔ غریب اور متوسط طبقہ ایسا خاموش ہوا کہ اب تک منہ میں زبان نہیں آ رہی۔ امیر کے پاس دولت آتی رہی غریب اپنی ضرورتوں سے بھی دور ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ سب سے زیادہ متوسط طبقے نے مصائب کا سامنا کیا۔ آزمائش انہیں پر آئی۔ افسوس صرف اس بات کا ہے یہی لوگ نعرے لگانے اور غلط درست کی پہچان کے دعویدار تھے مگر انہوں نے اپنے اوپر ہونے والی زیادتی پر آواز بلند کرنے کے بجائے اپنی توانائیاں نہ جانے سوشل میڈیا پر کیسی کیسی لڑائی لڑنے میں ضائع کر دیں۔ اب نتیجے میں کوئی ٹارگٹ نہیں ہے محض الیکشن، نئی حکومت کا انتظار اور کچھ نعرے۔
اصل میں کرنا کیا ہے، ذہن دانستہ طور پر اس جانب نہیں لے جاتے۔ اپنا نقصان کر کے تلخ یادوں کے مزے لینے کی عادت نے ہمیں قوم بھی نہیں بننے دیا۔ ہدف کیا ہے کوئی بتانے والا اس لئے نہیں ملتا کیونکہ ذاتی مفادات کا گھیرا بہت تنگ کر لیا ہے۔ یہ سیاسی قیادت کا بھی المیہ ہے۔
کوئی یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ متوسط طبقہ تیزی سے خط غربت عبور کرتا جا رہا ہے۔

