رشی خان کا آدھا انسان


میں رشی خان کو نہیں جانتی ہوں۔ نہ ہی پہلے میں نے ان کی شاعری یا نثر پڑھی ہے مگر جب ان کے پبلشر نے ان کی کتاب ”آدھا انسان“ مجھے بھجوائی تو ان کا تعارف پڑھ کر ایک حیرت انگیز خوشی ہوئی۔ یہ تو اپنے قبیلے کے ہی نکلے۔ انجینئرنگ چھوڑ کر لکھنے لکھانے کی طرف آئے۔ ان کی صحافت کی وجہ سے ضیا الحق کے دور میں ان پر ایسے ”بھاری“ مقدمات بنائے گئے جن میں انہیں موت کی سزا بھی دی جا سکتی تھی لیکن یہ ان کے قابو میں نہیں آئے اور اپنی کھال بچانے کے لئے افغانستان، ترکی اور کئی ملکوں کے دھکے کھاتے ہوئے بالآخر جرمنی پہنچ گئے۔

کتاب پڑھنے کی نوبت تو بعد میں آئی میں تو ان کی سرگزشت پڑھ کر سوچ میں پڑ گئی کہ اس پر تو ہالی ووڈ یا بالی ووڈ کو فلم بنانی چاہیے۔ پس ورق ان کی دو تصویریں ہیں۔ ایک جب آتش جوان تھا اور دوسری جب وہ معصوم بابا بن چکے ہیں۔ اب آتے ہیں کتاب کی طرف جو انہوں نے ہمارے لئے یعنی عورتوں اور ایکٹوسٹس کے لئے لکھی ہے۔ اس کا انتساب ان تمام مردوں اور عورتوں کے نام ہے جنہوں نے کسی بھی زمانے میں، دنیا کے کسی بھی کونے میں، زندگی کے کسی بھی دور میں، کسی بھی شکل میں خواتین کے لئے مساوی حقوق کے حصول کے لیے کوشش کی ہے۔

اس سے پہلے صفحے پر گزارش کی گئی ہے کہ یہ افسانے اور کہانیاں نا بالغ اور تنگ نظر قارئین کے لئے نہیں ہیں۔ کمزور ایمان خواتین و حضرات کو بھی ان سے دور ہی رہنا چاہیے۔ جو لوگ خواتین کو برابری کے حقوق دینا گناہ سمجھتے ہیں۔ وہ بھی اس کتاب کو پڑھنے سے پرہیز کریں۔ اس سے اگلے صفحے پر لکھتے ہیں۔ ”اگر کسی شادی کی بنیاد صرف ظاہری خوبصورتی، سماجی مرتبہ، دھن دولت یا وقتی جذبہ ہو گا تو اس کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔

اور اگر دونوں فریقین ایک دوسرے کو اس کا جائز مقام دینے، دوسرے کی فطری صلاحیتوں کا اعتراف کرنے اور اسی بنیاد پر واجب تحسین کے لئے تیار ہوں، تو ظاہری خوبصورتی، سماجی مرتبہ اور دھن دولت کی کمی کے باوجود خوش بختی ان کے قدم چومے گی۔ رواداری، بردباری، اور احساس ذمہ داری بھی شامل ہو جائیں تو وہ مثالی زندگی گزاریں گے۔ (رشی خان) ان کی سوچ کا انداز ہے“ میں جب تک یہ سوچتا رہا کہ زندگی نے مجھے کیا دیا، ہمیشہ مایوسی میں گھرا رہا۔ لیکن جب سے میں نے خود سے یہ پوچھنا شروع کیا کہ میں نے زندگی کو کیا دیا؟ تب سے زندگی بہت پیاری لگنے لگی ہے۔ ان اقتباسات سے آپ کو مصنف کی سوچ اور شخصیت کے بارے میں اندازہ ہو گیا ہو گا۔ اور پھر کتاب ہے عورتوں کے حقوق کے بارے میں۔ اس لئے ایسے معاشرے میں جو پدر سری رویوں اور Misogyny سے بھرا ہوا ہے، ہمیں عورتوں کو انسان سمجھنے والے مردوں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ رشی خان گزشتہ چار عشروں سے ایک ترقی یافتہ مغر بی ملک جرمنی میں مقیم ہیں۔

اس لئے ظاہر ہے پاکستان میں پیدا ہونے کے باوجود وہ عورتوں کے مسائل کا ترقی یافتہ حل پیش کرتے ہیں جو کم از کم عملی شکل اختیار کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ ”سہاگ رات کی سفید چادر کی حقیقت“ میں ایک بے گناہ لڑکی جو بولڈ ردعمل ظاہر کرتی ہے وہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ”لوگ کیا کہیں گے“ کے خوف تلے زندگی گزارنے والی لڑکیوں کے لئے کہاں ممکن ہے۔ اس موضوع پر طاہرہ کاظمی نے بہت لکھا ہے اور ایک عورت اور گائنا کولوجسٹ ہونے کے حوالے سے بہت خوب لکھا ہے۔

ہمارے ہاں پہلی رات کی مطلقہ دلہن کہاں پولیس کو بلائے گی۔ کہاں پریس کانفرنس کرے گی۔ اگر بلا بھی لے تو پولیس والے الٹا اسی کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ یہاں تو جج صاحبان بھی عورتوں کے خلاف بولتے ہیں۔ رشی خان کی نیک نیتی قابل تحسین ہے مگر ان کی کہانی کی ہیروئن جیسی لڑکیاں پاکستان میں نہیں ملتیں۔ بہر حال ان کی کاوش قابل تعریف ہے کہ انہوں نے مرد ہوتے ہوئے اس موضوع پر قلم اٹھایا جس نے پاکستان میں کئی نسلوں کی لڑکیوں کو سولی پر لٹکائے رکھا۔

ان کی کہانی ”ابو صالح اور جوزفین“ پڑھ کر آپ کو بہت مزا آئے گا کہ مغربی لڑکیوں کو دیکھ کر ہمارے لڑکوں پر کیا گزرتی ہے۔ اور عورتیں یقیناً یہ خواہش کریں گی کہ کاش پاکستان میں بھی انہیں اتنا اعتماد اور تحفظ مل سکتا۔ جتنا اس مغربی لڑکی کو حاصل تھا۔ کہانی کا انجام دردناک ہے جب ابو صالح کی ماں اسے فون کر کے بتاتی ہے کہ ایک امیر زادے نے اس کی بہن کی عزت لوٹ لی ہے۔ اور وہ لوگ کچھ نہیں کر پاتے۔ ”ایک سچے عیسائی اور خالص جرمن کا دل“ میں عیسائی پادری کا وہی رویہ دکھایا گیا ہے جو پاکستان میں اکثر مذہبی علماء کا ہے۔

اس میں انسانی رویوں کے علاوہ Organ Transplant کا ایشو بھی اٹھایا گیا۔ دیگر کہانیاں بھی عورتوں کے حقوق اور مسائل کے حوالے سے ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ انہیں پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ چار عشروں تک ایک ترقی یافتہ مغربی ملک میں رہنے کے باعث وہ پاکستان کے زمینی حقائق سے کچھ الگ باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں شاید اندازہ نہیں کہ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ لوگ ضیا الحق کے دور کو کم برا سمجھنے لگے ہیں۔

بہر حال ان کی نیت کے خلوص پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ وہ عورتوں کے لئے ایک ایسے معاشرے کے طلبگار ہیں جہاں اسے وہ سارے حقوق حاصل ہوں جو ایک انسان کی حیثیت سے اسے ملنے چاہئیں۔ ایک اور عام ڈگر سے ہٹی ہوئی کہانی ”ایک بے بس بیوی کا بستر“ ہے جو تین حصوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک دیہاتی مظلوم عورت کی کہانی ہے جس کے ہاتھوں میں رشی خان نے مظلومیت کو ہتھیار بنا کر تھما دیا ہے۔ پھر اس ہتھیار کا استعمال ایسے کروایا ہے کہ خواتین قارئین کا سر چکرا جائے۔

عورتوں سے ہمدردی کے جوش میں رشی خان بہت آگے تک چلے جاتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں ”مبارک ہے وہ عورت کہ آٹھ ہزار سال کے جبر کے باوجود جس نے اپنی خواہشات کو مرنے نہیں دیا۔ جسے تم ہر بار رسوم و رواج اور گناہ ثواب کی دیواروں میں چن دیتے ہو، ہر بار غیرت کی قبروں میں دفن کر دیتے ہو لیکن وہ پھر زندہ ہو جاتی ہے۔ “ رشی خان سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی عورت اپنی ذات میں صرف عورت ہے اور کوئی بھی مرد محض مرد۔ جب دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔ یا ایک میں ہو جاتے ہیں تو انسان مکمل ہوتا ہے۔ آدھا انسان سانجھ پبلشرز نے چھاپی ہے اور قیمت سات سو روپے ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments