میری محبوباؤں کی کہانیاں
میں جب اپنی پہلی محبوبہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا تو وہ لڑکپن کا زمانہ تھا۔ ہم کشمیر کے دور دراز پہاڑی علاقے میں واقع ایک گورنمنٹ کے اردو میڈیم اسکول میں پہلی دفعہ ملے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اس اسکول کی عمارت پتھروں سے بنی تھی۔ پہلی جماعت سے لے کر چھٹی جماعت تک بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتے تھے اور سرکنڈے کی قلم سے لکڑی کی تختی پر لکھتے تھے۔ چھٹی جماعت میں جا کر کہیں لکڑی کے بنچوں پر بیٹھنے کی سہولت حاصل ہوتی تھی۔
اسکول کی بغل میں ایک ندی بہتی تھی۔ جو اسکول سے ملحقہ جنوبی پہاڑی سے نکل کر آتی تھی۔ تفریح (Recess) کے وقت ندی میں تختی کو دھو کر اس کی دونوں طرف گاچی کا لیپ کیا جاتا۔ جو پانچ منٹ میں خشک ہو کر ددھیا ہو جاتی تھی۔ سیاہی بنانے کے لیے چینی کے دانے کے برابر کالے رنگ کے دانے ساشوں میں بند ملتے تھے جن پر ’چراغ روشنائی‘ لکھا ہوتا تھا۔ دوات میں پانی ڈال کر جب ہم ان دانوں کو دوات میں انڈیلتے تو سیاہی تیار ہو جاتی تھی۔
اردو لکھنے کا پہلا سلیقہ ہم نے تختی اور قلم سے سیکھا۔ کاپیوں پر ’پروں‘ سے لکھا جاتا تھا۔ یہ بھی ایک طرح کا پین ہی ہوتا تھا۔ مگر اس میں سیاہی نہیں بھری جا سکتی تھی۔ بلکہ کانے کی قلم کی طرح اس کو بھی دوات میں غوطہ زن کر کے لکھا جاتا تھا۔ سیاہی بھرے والا پین پہلی دفعہ جو ہم نے استعمال کیا وہ اسکول میں تقریری مقابلے کے بعد ملا تھا۔ اس کا رنگ دودھیا اور اس پر Eagleلکھا تھا۔
آٹھویں جماعت تک آتے آتے ہمیں اپنی ہم جولی سے پہلے احترام، پھر دوستی اور پھر محبت ہو چکی تھی۔ ہمارا زیادہ وقت ساتھ گزرنے لگا۔ اسکول کا صدر دروازہ مشرق کی جانب کھلتا تھا۔ اس کے بعد ایک عقبی راہ عام تھی۔ جس کے پار آم کا ایک بہت بڑا گھیرے دار درخت تھا۔ گرمیوں میں تفریح کے اوقات میں ہمارا زیادہ وقت اس درخت کے سائے میں گزرتا۔ جبکہ سردیوں میں ندیا کے پار ضخیم چٹانوں پر جو سورج کی حدت منعکس کرنے میں مہارت رکھتی تھیں۔ ندی کنارے بیٹھ کر تختی تیار کی جاتی اور لکھنے کی سیاہی بنائی جاتی۔ اسی قلم، دوات اور تختی کے ذریعے ہم نے اول اول محبت کے اصول سیکھے۔ اور پہلی محبوبہ ’اردو زبان‘ سے ہمارا رومان رواں ہوا۔
ہماری محبوبہ نے پہلی پہلی معصوم محبت کے تحفے ہمیں بہت بچپن میں عطا کرنے شروع کر دیے تھے۔ جن میں صوفی تبسم، حفیظ جالندھری، ظفر علی خان، محمد اقبال اور الطاف حسین حالی کی نظمیں شامل تھیں۔ نویں اور دسویں جماعت میں مرزا اسداللہ خان غالب، میر تقی میر، داغ دہلوی، مومن خان مومن، مرزا محمد رفیع سودا اور بہادر شاہ ظفر کی ایک ایک دو غزلوں کے تحفے ملے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ غالب اور اقبال کا کلام اس عمر میں اور طرح سے سمجھ آتا تھا اب اور طرح سے سمجھ آتا ہے۔ اردو شاعری کے بعد اردو کہانیوں اور افسانوں کے تحفے ہمیں ہماری محبوبہ نے عطا کیے۔
سیکنڈ ائر میں جب ہم یرقان کا شکار ہو کر ایک ہسپتال کی آئسولیشن وارڈ میں داخل ہوئے تو ہماری محبوبہ نے ہمیں ایک دن بھی اداس نہیں ہونے دیا۔ ہمیں فارغ اور لا چار دیکھ کر اردو نے ہمیں موٹے موٹے ناول دینے شروع کر دیے۔ سب سے پہلے بشریٰ رحمٰن کا ناول۔ ’لگن‘ مجھے لا کر دیا۔ اس زمانے کی طرز فکر کے مطابق وہ ناول مجھے اچھا لگا۔ پھر اس نے انہی مصنفہ کے چند دیگر ناول مجھے پیش کیے۔ پھر مجھے ناول پڑھنے کی لت پڑ گئی۔ اور میں نے ممتاز مفتی، نسیم حجازی، انتظار حسین، عبداللہ حسین، بانو قدسیہ اور اشفاق احمد سمیت اس دور کے تمام ناول نگاروں کو پڑھ لیا۔ اس کے علاوہ ہر مہینے ایک ڈائجسٹ ’سب رنگ‘ اور ’حکایت‘ بھی پڑھنے کو مل جاتے تھے۔ بے فکری کا زمانہ تھا زندگی خوبصورت تھی کہ ایک اور محبوبہ میری زندگی میں داخل ہو گئی۔
دوسری دلربا کی محبت میں گرفتار ہونے کے پس منظر میں ایک دلگیر واقعہ ہے۔ اس نازنین سے ہماری جان پہچان تو چھٹی جماعت سے تھی۔ مگر پہلی محبوبہ کی دلکش اداؤں اور انداز دل ربائی نے کبھی دوسری طرف مائل نہ ہونے دیا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ آٹھویں درجے کے بعد ہم اپنے والد کے ساتھ کوئٹہ چلے گئے جو کوئٹہ چھاؤنی میں تعینات تھے۔ کوئٹہ چھاؤنی میں واقع ہماری نئی درس گاہ میں ان دنوں پری بورڈ امتحان چل رہے تھے۔ ہم انگریزی کے پرچے میں اتنے کمزور نکلے کہ صدر معلم نے باقاعدہ داخلہ بھیجنے سے انکار کر دیا اور ہمارا داخلہ پرائیویٹ امیدوار کے طور پر جانا طے پایا۔
چنانچہ انگریزی پر دسترس حاصل کرنے کے لیے ہم نے محنت شروع کر دی اور دن رات ایک کر کے انگریزی کی گرامر اور ذخیرہ الفاظ کو کافی حد تک اپنا ہم راز بنا لیا۔ اگلے سال نہ صرف دسویں جماعت میں داخلہ باقاعدہ گیا بلکہ دو سال بعد انٹر میڈیٹ میں، اسکول بھی میں اول آنے پر انگریزی میں اول آنے پر چارلس ڈکنز کا ناول : ”گریٹ ایکسپیکٹیشن“ انعام کے طور پر بھی ملا۔ وہ دن اور آج کا دن انگریزی بھی ہماری محبوبہ ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔
ہماری دوسری محبوبہ نے ہمیں جو پہلا تحفہ کیا تھا وہ ”سڈنی شیلڈن“ کا ”ونڈ ملز آف دی گارڈز“ نامی ناول تھا۔ اس کے بعد اس نے مجھے نہ صرف اس مصنف کے تمام ناول بلکہ انگریزی کے معروف ناول نگاروں کے تمام ناول عطا کیے۔ میں اپنی دوسری محبوبہ کا تہ دل سے شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے گزشتہ تین چار دہائیوں میں گیبریل گارسیا مارکیز سے لے کر پالو کوئلو، ایلف شفق، خالد حسینی، ارون دتی رائے، خوشونت سنگھ، ہرمن ہیس، ارنسٹ ہیمنگ وے، البرٹ کیموس، جارج اورول اور باپسی سدھوا کی ادبی تخلیقات سے متعارف کروایا۔
اس کے علاوہ 500 سال قبل مسیح سے لے کر 2020 ء تک کے اہم فلسفیوں، مفکرین اور سائنسدانوں کے فلسفے، افکار اور نظریات ہماری محبوبہ انگریزی کے توسط سے ہم پر آشکار ہو چکے تھے۔ مگر ہم اتنے بھی بے وفا نہیں کہ پہلی محبوبہ سے تعلق توڑ ڈالتے۔ ہمارا رابطہ کسی قدر دوری کے باوجود بھی اس سے منقطع نہیں ہوا۔ ہم نے اردو کے ذریعے عہد حاضر کے معروف ادیبوں، شاعروں اور مفکرین سے ملاقاتیں شروع کر دیں۔ ادباء میں غلام عباس، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، مشتاق یوسفی، مستنصر حسین تارڑ، منشا یاد، وحید احمد، محمد الیاس، نیلم احمد بشیر، فارس مغل، رحیم گل، صدیق سالک، خالد سہیل، منیر احمد فردوس، اختر رضا سلیمی، ارشد مرشد، عرفان جاوید، سبین علی اور رابعہ الرباء۔
جبکہ شعراء میں، فیض احمد فیض، جون ایلیا، احمد فراز، انور مسعود، مجید امجد، عبدالحمید عدم، منیر نیازی، گلزار، وحید احمد، نذیر قیصر اور شہزاد نیر پڑھنے کو ملے۔ ان کے علاوہ بھی اتنے نام ہیں کہ وہ اس مضمون کے بطن میں سما نہیں سکتے۔ دانشوران و مفکرین و مؤرخین میں سر سید احمد خان، غلام جیلانی برق، محمد اقبال، غلام احمد پرویز، پرویز ہود بھائی، سبط حسن، مبارک حیدر بھی صرف چند نام ہیں جو اردو کے توسط سے ہمیں پڑھنے اور سمجھنے کو ملے۔
ہم کہیں ہرجائی نہ گردانے جائیں اس لیے سوچا کیوں نہ راز محبت کھول دیے جائیں۔ ایک شام ہم نے دونوں محبوباؤں کو ساحل سمندر پر سیر کی دعوت دے ڈالی۔ دونوں آپس میں مل کر بہت خوش ہوئیں۔ علیک سلیک کے بعد میں نے دونوں کو بتایا کہ میں ایک دور دراز کے تنہا جزیرے پر ایک خوبصورت گھر بنانے جا رہا ہوں، جس کی نواح میں انواع و اقسام کے پودے، پھول، پرندے اور پھلدار درخت اور سر سبز کھلیان ہوں گے ۔ میرے ساتھ کون رہنا پسند کرے گا۔
میری خوش بختی کے دونوں میرے ساتھ اس جزیرے پر مستقل رہائش اختیار کرنے پر آمادہ ہو گئیں۔ اس طرح ہم تینوں گزشتہ 7 سال سے تراجم کے ادبی و تخلیقی جزیرے پر مقیم ہیں۔ ہم نے اردو اور انگریزی سمجھنے والوں کو اپنا دوست بنا لیا ہے۔ جہاں مختلف ثقافتوں کے بحری جہاز افسانوں، ناولوں اور نظموں کو لے کر آتے اور لنگر انداز ہوتے ہیں۔ ہم ان کی مہمان نوازی کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ہم ترجمے کے توسط سے دو ثقافتوں کو آپس میں متعارف کرواتے ہیں۔ ہم تراجم کی 7 کتب لکھ چکے ہیں۔ جو دنیا بھر میں بسنے والے اردو اور انگریزی قارئین کے لیے ہماری طرف سے تحائف خاص ہیں۔ اس کے ساتھ ہماری یہ ادبی و تخلیقی محبت بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔


