رائے محمد خاں ناصر: پنجابی بولی کی پراسرار روایتوں کے امین


رائے محمد خاں ناصر پنجابی زبان و ادب کے دور حاضر کے نمایاں ترین ناموں میں سے ایک ہیں۔ دور حاضر کی شرط صرف اس لیے کہ وہ ہمارے درمیان موجود ہیں، وگرنہ ان کا اصل درجہ زمانی مکانی لاحقہ کی محتاج نہیں۔ یقیناً وہ پنجابی شاعری کی روایت میں تاریخ ساز مقام اور نام کے حامل ہیں۔ ان کی شاعری کا مضموں اور ان کی ذات کی بنت دونوں کی تفہیم ایک تہذیبی منطقے کی حدود و رقبہ اور شناخت کی متقاضی ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ وہ کس دھرتی میں جنم لیتے ہیں؟

ان کی ماں بولی کیا ہے؟ ان کی دھرتی نے کیا راز چھپائے ہوئے ہیں؟ اور ان کی ماں بولی کن احساسات کو لے کر چل رہی ہے؟ رائے محمد خاں ناصر دھرتی اور اپنی ماں بولی دونوں کی پر اسرار روایتوں کے امین ہیں۔ یہ ان گنت کہانیوں، کتھائیں، تاریخ، سماج، فرد، احساس تنہائی، کرب، بیگانگی کے ہمہ گیر جذبات مخصوص جو باس کے انجذاب کے ساتھ اپنی راہ پاتی ہیں اور یوں رائے محمد خاں ناصر سامنے آتے ہیں۔

پنجاب دنیا کی بڑی دھرتیوں میں سے ایک ہے۔ اس کی زبان بولنے والے دنیا میں نویں نمبر پر ہیں۔ اس کا رقبہ دنیا کے اسی فیصد ملکوں سے زیادہ بڑا ہے۔ دریائے سندھ کی وادی کی تہذیب دنیا کی پہلی مستند شہری تمدن کی حامل تھی۔ اس کی زبان اور رہتل قدیم زمانے کی روایت اور تسلسل دونوں کی ملکیت رکھتی ہیں۔ پچھلی تین چار ہزاریوں میں درجنوں بڑے قبائل اس دھرتی پر آتے رہے اور اس کو اپنا مسکن بناتے چلے گے۔ یوں ایک متنوع سرزمین وجود پاتی ہے۔

اب اس پانچ دریاؤں کی سر زمین کا قصہ بھی عجیب ہے۔ اتنی زرخیز مگر پھر بھی تہذیبوں کے سنگم پر حاشیہ برادری سے زیادہ جگہ نہ پا سکی۔ راج پال کے شاہی خاندان کی حکومت کا خاتمہ تقریباً ہزار برس قبل ہوا۔ اس کے بعد سلاطین دہلی، مغلیہ خاندان کے ادوار میں یہ سرزمین ایک بفرزون کے طور پر رکھی اور برتی گئی۔ اور جب اپنا نظام حکومت ملا بھی تو وہ اس خطے کے سواد اعظم سے علاقہ نہ رکھتا تھا۔ رنجیت سنگھ کی حکومت نے پنجاب کو پہلی دفعہ ریاست عطا کی۔ اس کے سواد اعظم کی ثقافت، تہذیب سے علاقہ مگر کم ہی رہا۔ انگریز سرکار نے بھی اس دھرتی کے اصل تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو پنپنے کے لیے

کوئی خاص اقدامات ہرگز نہ کیے ۔ تہذیب، ثقافت اور زبان کی ترویج ریاست کے زیر اثر ہی ہوتی ہے۔ عالمی تہذیبوں کے پیچھے بھی یہ ہی حقیقت نظر آتی ہے۔ اردو، ہندی تہذیب کو آپ مغل دربار کی سرپرستی کے بغیر کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ پنجاب اسی سے محروم رہا۔ شاید تاریخ کے ہر دور میں انگریزوں نے پنجاب کے جغرافیہ کو گریٹ گیم کی ضرورت کے تحت استعمال کیا اور یہاں کی مقامیت کا قطعی طور پر خیال نہ رکھا۔ بفر بنانے کے لیے یہاں کے ان علاقوں کو بھی اپنی مرضی سے ڈھالنے کی کوشش کی، یہاں پر کبھی بغاوت کے سوتے پھوٹا کرتے تھے۔

رائے احمد خاں کھرل جیسے لوگوں کی سرزمین کو ایسے انداز میں برتایا کہ وہ بظاہر انگریز ریاست کے باج گزار بن کر رہ گئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انیسویں صدی کے اواخر تک پنجاب کے بارانی علاقوں میں ایک وسیع و عریض نہری نظام قائم کیا گیا۔ اس نظام نے پنجاب کے قدیم رہن سہن کی حامل بستیوں کے تاریخی تشخص کو ابھرنے کا موقع نہ دیا بل کہ اس مصنوعی بندوبست نے اپنی ہی وضع کی دیہی اور شہری ثقافت کو سینچا۔ اس تمام نوآبادیاتی تجربات و بندوبست نے یہاں کی اصل تہذیب و ثقافت کو تو پس پشت ڈالا مگر اس کی

بڑھوتری کو روک نہ سکی۔ زمین سے جڑی ثقافت اور سوچ کے سوتے بھلا کسی بیرونی عامل کے محتاج ہوتے ہیں۔ ساندل بار پنجاب کے قدیم ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ رائے محمد خاں ناصر کی شاعری اسی خطے میں سے جنم لیتی ہے۔ اس خطے کی دھرتی، زبان، سوچ، خوشبو اور احساسات سبھی ان کی شاعری میں آپ کو ملیں گے۔ ان کی شاعری میں آپ کو ساندل بار کی زندگی دوڑتی ہوئی نظر آئے گی۔ اس زندگی میں کردار بھی ہیں جن کے بھرپور احساسات ہیں۔ یہ وہ خالص اظہاریہ ہے جو اپنے جلو میں تین بنیادی خصوصیات لئے ہوئے ہے۔ سب سے پہلے مٹی کا قرض جس کے بارے میں افتخار عارف صاحب کہتے ہیں کہ

مٹی کی محبت میں ان آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب نہیں تھے

شاید یہ شعر ذرا سی معنوی تحریف کے ساتھ رائے محمد خاں ناصر کے تمام تر تخلیقی سفر کا عمدہ ترین عنوان بن سکتا ہے۔ رائے صاحب نے کسی بیرونی تجربے کا سہارا نہیں لیا اور اپنی مٹی کا قرض اتارتے چلے گے۔ وہی جس نے اپنی ایک اعلی زبان دی، ثقافت اور تہذیب کی گونا گوں خصوصیات سے مالا مال کیا۔ انہیں وہ اعتماد فراہم کیا جو ان کے پیروں پر اپنی زمین پر مضبوطی سے جمائے رکھنے میں مددگار ثابت ہوا۔ اس مٹی کی ایک تاریخ ہے، تسلسل آمیز روایت ہے۔ جذبوں کا اخلاص اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی شناخت جو کسی بھی نابغہ روزگار شخص کو تخلیقی سفر پر روانہ ہونے کے لیے زاد راہ کا کام دیتی ہے۔ ساندل بار پنجاب کی دھرتی کا ایک ایسا انمول خطہ ہے جو ان تمام عناصر سے مالا مال ہے۔ خوش نصیب ہے ساندل بار کہ انہیں رائے محمد خاں ناصر جیسا تخلیق کار ملا اور رائے صاحب بھی خوش نصیب ہیں کہ وہ اس دھرتی کے سپوت ہیں۔

دوسری سطح پر ہم بات کریں گے موضوعات کے انتخاب کی۔ یہاں پر انتخاب کا لفظ انسانی مرضی و منشا کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مرضی و منشا کسی نہ کسی حد تک تخلیق کاروں کے لیے اہم ہوتی ہے مگر شاعر اپنی تخلیق کے لیے موضوعات کا انتخاب نہیں کرتے۔ انہیں اپنے فن کی تصنع آمیز آبیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ محض الہام اور القاء کے جیسا کوئی معاملہ ہوتا ہے جو کسی الہیاتی منشا کے مطابق اپنی مرضی کا فرد ڈھونڈھ نکالتی ہے۔ شاعری انتخاب کا روزگار نہیں بل کہ یہ ایک ایسا سلسلہ آمد ہے جو شاعر کی دانست سے ماورا ہے۔

شاعر زیادہ سے زیادہ مضمون باندھ سکتا ہے مگر اس کی شعریت ماورائی علاقہ ہے۔ اور بات اگر عمدہ ترین شاعروں کی کی جائے تو یہ معاملہ اور بھی زیادہ ماورائیت آمیز ہو جاتا ہے۔ رائے صاحب کے موضوعات ان کے اپنے چنیدہ نہیں ہوتے۔ یہ موضوعات اپنی اصل میں وہ روز مرہ ہے جو تاریخی تسلسل، سماجی گیرائی اور لسانی اظہاریوں کی شکل میں ان کے قرب و جوار میں موجود ہیں۔ رائے صاحب محض اپنے وجدان میں غرق ہوتے ہیں اور یہ سب ان کے سامنے ہاتھ باندھے دست بستہ آن کھڑے ہوتے ہیں۔

رائے صاحب ان کو تھامتے ہیں۔ بس پھر اپنے نطق کا ذرا اظہار ہوتا ہے اور ایک عمدہ ترین شہ پارہ سامنے آ جاتا ہے۔ جو کسی بھی طرح عالمی ادب کا حصہ بننے کے لائق ہے۔ ہاں۔ رائے صاحب کا اسلوب ان کا اپنا ہے، ذخیرہ الفاظ ان کی ماں بولی اور قرب و جوار سے ان کے عشق کا نتیجہ ہے۔ آپ ان کی شاعری کا مطالعہ کیجئے تو آپ یہی محسوس کریں گے کہ مضمون کا عبقری ہونا تو طے شدہ ہے، الفاظ کا استعمال اور مصرعوں کی بنت ہر دو خاصے کے کام ہیں۔ سب سے آخر میں یہ کہ رائے محمد خاں ناصر اصل میں کہنا کیا چاہتے ہیں۔ وہ صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ میری دھرتی کا انسان ایک ہمہ گیر نوحہ کا مالک ہے جو اب تک سنایا نہیں گیا۔ یہ نوحہ اپنی اصل میں عالمگیر ہے۔ یہ تنہائی آمیز نوحہ ہے جو انسان کے کرب اور مجبور و لاچار ہونے کی دلالت کرنا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اس عالم رنگ و بو میں انسان کامل آسودگی کی تلاش میں ہے جو بدقسمتی سے اسے ذرا برابر بھی نہیں ملتی۔ مگر رائے صاحب اس مضمون کے بیان میں قنوطیت اور پژمردگی کا شائبہ بھی نہیں ہونے دیتے۔ ان کی شاعری میں توانائی ہے، انسانی وقار، احترام، اقدار اور سب سے بڑھ کر عشق کے جنوں خیز جذبات سے مالا مال ان کی شاعری آپ کو ایک حوصلہ افزاء اور صحت مند توانائی سے بھر دیتی ہے۔ آپ ان کی کتابیں کھولیں، اندر داخل ہو جائیں اور کھو جائیں۔

Facebook Comments HS