کراچی کی بارشوں کے پیچھے ٹیکنالوجی کی سازش ہے کیا؟


بارشوں کے ساتھ میرا رومانس بھی رہا اور مجھے نفسیاتی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بارشوں کے ساتھ رومانس تو اس وقت تک رہا جب تک میں چندی پور گاؤں میں رہا۔ بارش ہوتی تو گھر سے باہر پگڈنڈیوں پہ آ جاتا۔ لہراتی سبز فصلوں کے درمیان بارش میں بھیگتا ہوا گزرتا۔ گھر میں پکوڑے، گڑ والے میٹھے چاول اور چائے بنائی جاتی۔

آج کے دن مہمان تیرے
گڑ والے چاول کھلا ماہیا
انگ انگ میرا ناچ اٹھے
گیت کوئی ایسا سنا ماہیا
نشہ ایسا چڑ ہے ہوش نہ رہے
شراب عشق والی پلا ماہیا
پتھر کھا کے سو یا ہوں میں
پھول مار کے جگا ماہیا
گاڑی بنگلہ کی خواہش نہیں
میرے لیے کٹیا بنا ماہیا
دریا پاس ٹھکانہ ہے میرا
کشتی میں بیٹھ کے آ ماہیا
کسی اور کی تمنا نہیں
بس مل جائے خدا ماہیا
ہر شخص ہنستا مسکراتا رہے
کرے اکبر میاں دعا ماہیا

بارش میرے لیے نفسیاتی مسئلہ اس وقت بنی جب میں کراچی میں تھا۔ کراچی پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کی کوریج کے بعد میں نے پاکستان پریس انٹرنیشنل (پی پی آئی) کے آفس میں کمپیوٹر پہ نیوز اسٹوری فائل کی اور فوراً وہاں سے روانہ ہوا۔ ابھی میں ہلکی بارش میں پیدل پیدل لاء کالج سٹاپ کی طرف بڑھ رہا تھا تاکہ شاہراہ فیصل جانے والی بس میں بیٹھ سکوں کہ ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر کا فون آ گیا۔ ”اکبر بھائی! اسائنمنٹ ایڈیٹر نے پریس کانفرنس کور کرنے کی میری ڈیوٹی لگائی تھی۔

گھر کی کسی ایمرجنسی کی وجہ سے میں پہنچ نہیں سکا۔ آپ پلیز، مجھے اسٹوری ای میل کردو۔ میں ری رائٹ کر لوں گا ”۔ میں نے کہا، بھائی! بارش ہو رہی ہے، مجھے اپنے کمرے میں پہنچنا ہے۔ وہ منتوں ترلوں پہ اتر آیا کہ اس کی جاب کا مسئلہ ہے۔ میرا دل پسیج گیا اور میں واپس پی پی آئی کے دفتر آ گیا۔ دوبارہ باہر نکلا تو موسلادھار بارش ہو رہی تھی جو میرے بس سٹاپ پہنچنے تک طوفان کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ بس تو مل گئی۔ شاہراہ فیصل ندی نہیں دریا کا منظر پیش کر رہی تھی۔

موٹر سائیکل پانی میں بہہ رہے تھے۔ لوگ اذیت میں مبتلا تھے۔ بس سے اتر کر کس طرح کئی فٹ اونچے پانی سے گزرتے میں اپنے کمرے تک پہنچا؟ کیا حال ہوا؟ بس پھر کئی سالوں تک یہ نفسیاتی مسئلہ لاحق ہو گیا کہ بارش شروع ہوتے ہی میں کمرے میں بیٹھ جاتا کہ مبادا کراچی والا حال نہ ہو جائے۔ کراچی چھوڑنے کی بڑی وجہ وہاں بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی خوفناک صورتحال اور نہ ختم ہونے والی بجلی کی لوڈ شیڈنگ تھی۔

یہ تو جب واپس بہاول پور شفٹ ہوا تو وہ خوف دور ہو گیا اور دوبارہ سے بارش کو انجوائے کرنے لگ گیا۔ کوئی شک نہیں کہ اگر بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں کراچی اور بہاول پور کا تقابل کیا جائے تو بہاول پور جنت ہے۔ جس قدر بھی طوفانی بارشیں ہوں۔ کچھ دیر بعد سڑکیں صاف ہوتی ہیں۔ خیر۔

حال ہی میں ماہ جولائی 2022 میں کراچی میں جو بارشیں ہوئی ہیں اور ٹی وی چینلز پہ کراچی کے عوام کو جس قدر خوفناک اذیت سے گزرتے دکھایا گیا تو یقین کریں قربانی کے گوشت کی چٹ پٹی ڈشیں بھی دل کو اچھی نہیں لگ رہی تھیں۔ میرے بس میں تو بس دعا تھی جو میں نے کراچی، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے دل سے کی۔

گزشتہ سال 2021 کے ماہ اکتوبر میں اپنی فیس بک وال پہ میں نے اپنا ایک بلاگ بعنوان ”کیا سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی لاکھوں ایکڑز پہ کھڑے جنگلات کو آگ لگا سکتی ہے؟“ پوسٹ کیا تھا۔ اس بلاگ میں میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور  نے حال ہی میں ایگری کلچر ٹرانس فارمیشن پلان کے نام سے کانفرنس منعقد کی جس میں دبئی سے بھی ایک سائنس دان کو بلایا گیا۔ اس سائنسدان نے اسٹیج پہ آ کے اپنی پریزینٹیشن میں کہا کہ وہ روس کی ایک فرم کے تعاون سے مصنوعی بارشیں برسانے کی روسی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے دبئی میں مصنوعی بارش برسانے کا کام کرتے ہیں۔

انھوں نے اپنی تقریر میں یہ دعوٰی بھی کیا کہ ایک بار ان کی کمپنی نے دبئی میں مصنوعی بارش برسانے والے سائنسی آلات کے ذریعے زیادہ سگنلز چھوڑ دیے تو دبئی میں اس قدر بارش ہوئی کہ کاریں بارش کے پانی میں بہنے لگیں۔ انھوں نے ایڈیٹوریم میں بیٹھے سینکڑوں لوگوں کو ایک فلم بھی دکھائی جس میں واقعی دبئی میں کاریں پانی میں بہہ رہی تھیں۔

جیسے ہی وہ اپنا لیکچر ختم کر کے واپس اپنی سیٹ پر آ کے بیٹھے، میں ان کے قریب جا کے بیٹھ گیا اور اپنا تعارف کروایا اور انٹرویو کی درخواست کی۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ اپنے انٹرویو میں وہ مجھے سمجھاتے رہے کہ مصنوعی بارشیں برسانے کے لیے کیسے پراجیکٹ لگایا جاتا ہے اور پھر بائیو کیمسٹری کے عمل اور بائیو ٹیکنالوجی کے آلات سے فضا میں کچھ سگنلز چھوڑے جاتے ہیں جس سے مصنوعی بارشوں کا سسٹم قائم ہو جاتا ہے۔ کہنے لگے اب ہم آپ کی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو بھی وہی ٹیکنالوجی سکھانے جا رہے ہیں تاکہ صحرائے چولستان میں بڑے پیمانے پہ مصنوعی بارشیں برسا کر وہاں لاکھوں ایکڑز پہ فصلیں کاشت کی جاسکیں۔

میں ٹھہرا شعر و ادب، افسانے اور ناول کا آدمی۔ زیادہ سے زیادہ ہومیو پیتھی اور صحت کے موضوعات کا مطالعہ کر لیا۔ یقین جانیے، اس سائنسدان کی باتیں میرے سر کے اوپر سے ہی گزر رہی تھیں۔ اپنا وزٹنگ کارڈ عطا کر گئے اور کہا میرے ساتھ رابطے میں رہنا لیکن مجھے ان کے ساتھ رابطے کی دوبارہ ہمت نہ ہوئی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی کی حالیہ بارشیں قدرتی سسٹم کے تحت ہوئیں یا ان کے پیچھے دنیا کے کسی ملک یا کسی سپر پاور نے بائیو ٹیکنالوجی استعمال کی؟

یہ بات تو کھل کے سامنے آ چکی ہے کہ اب سپر پاور یا بائیو ٹیکنالوجی کے علم پہ گرفت رکھنے والے ممالک کے سائنسدان موسم کو بھی کنٹرول کرنے لگ گئے ہیں۔ کراچی کی حالیہ طوفانی بارشوں کے پیچھے امریکہ، روس یا چین نے کوئی ٹیکنالوجی استعمال کی یا نہیں؟ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ فی الحال تو ہمیں مسئلہ یہ درپیش ہے کہ بارش کے بعد کراچی میں پانی سڑکوں پہ دریا اور ندی نالے بن کر کئی کئی دن ٹھہرا رہتا ہے اس سے جان کیسے چھڑائی جائے؟

دشمن ممالک کی طوفانی بارشیں برسانے کی بائیو ٹیکنالوجی کے مقابلے میں فی الحال تو ہمارے پاس ایک ہی ”ٹیکنالوجی“ ہے۔ وہ یہ کہ ”فلاں سپر پاور کے ہم نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ فلاں سپر پاور ملک کو عنقریب ہم توڑنے جا رہے ہیں۔ یورپ اور کینیڈا کے لوگ عنقریب ہمارے ملک میں مزدوری کرنے آئیں گے اور فلاں فلاں اور یہ اور وہ“ ۔ تو یہ والی ”ٹیکنالوجی“ تو کراچی کے باسیوں کو اذیتوں سے نجات نہیں دلا سکتی۔ بہتر ہے اپنے سابقہ ”محسن“ انگریز کے کراچی میں بنائے گئے ان درجنوں بڑے نالوں اور ان میں گرنے والے ایک ہزار کے قریب چھوٹے نالوں کو ہی بحال کر دیا جائے جو کراچی میں جس قدر بھی طوفانی بارش ہوتی تھی اس کا پانی تھوڑی دیر کے اندر اندر سمندر سپرد کر دیتے تھے اور پھر کراچی کی سڑکوں پہ زندگی روٹین کے حساب سے چلتی رہتی تھی۔

”عظیم رہنماؤں اور جماعتوں“ کی سرپرستی اور متعلقہ اداروں کی غفلت سے انگریز کے بنائے گئے ان چھوٹے نالوں میں کوڑا کرکٹ بھر کر اوپر دکانیں اور مکان بنا دیے گئے اور بڑے نالوں پہ کنکریٹ ڈال کر اوپر مارکیٹیں بنا دی گئیں۔ کوئی ہے جو ان نالوں کو دوبارہ سے کھول کر کراچی واسیوں کو دکھوں سے نجات دلا سکے؟

Facebook Comments HS