گذشتہ 30 سالوں تک مہاجر قوم پر حکمرانی کرنے والی جماعت متحدہ قومی موؤمنٹ کا اندرونی اختلافات کے باعث شہر قائد سے سیاسی چراغ مکمل طور پر گل ہو چکا ہے 22 اگست 2016 بانی متحدہ کی ملک دشمن تقاریرکے بعد مہاجر قوم نے متحدہ قومی موؤمنٹ کے مینڈیٹ کو مکمل پر طور مسترد کر دیا ہے جس کی عکاسی 25 جولائی کوہونے والے عام انتخابات میں متحدہ پاکستان کی 30 سالوں میں تاریخی شکست کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ انہی دنوں موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے اور متحدہ قومی موؤمنٹ پاکستان کو مزید کمزور کرنے کے لیے ابھرتی ہوئی نئی سیاسی جماعت پاک سر ز مین پارٹی بھی مکمل ناکام ہو گئی ہے جس کی کارکردگی تمام تر انتخابات میں صفر نتائج کی صورت میں سامنے آ ئی ہے۔
پی ایس پی کا قیام عمل میں لانے کے بعد پارٹی کو کامیابیاں چند مقاصد پر ضرور حاصل ہوئیں جس کے تحت بنائے گئے منصوبے پر عملدر آ مد کرتے ہوئے ”متحدہ پاکستان کے رہنما ؤں کو بھاری اکثریت میں توڑا گیا ’اور پی ایس پی کی طرف راغب کیا گیا ہے جو حالیہ دنوں آ ہستہ آہستہ پارٹی اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ نیزمتعدد رہنما جن میں رضا ہارون، ارتضیٰ فاروقی و دیگر شامل ہیں بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں جبکہ پارٹی میں موجود متحدہ پاکستان سے قریبی قرابت داری رکھنے والے آ ج بھی متحدہ پاکستان کا دروازہ دوبارہ کھٹکھٹانے کا سوچ رہے ہیں تاہم مذکورہ رہنماؤں کو متحدہ پاکستان میں دوبارہ شمولیت لینے کے لیے چند وجوہات نے آ ج بھی روک رکھا ہے جس کی بنیادی وجہ پارٹی میں اندرونی اختلافات اور پارٹی کی سربراہی کی جنگ بتائی جاتی ہے۔
Read more