نئیر مسعود کی کتاب: گنجفہ


فکشن انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنیٰ گڑی ہوئی کہانی کے ہیں۔ انگریزی میں فکشن کی تعریف یوں ہو گی

” The artistic picture of life .“

بعض ناقدین ادب اسے افسانہ اور ناولوں دونوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بعض کے نزدیک بالخصوص ڈی۔ ایچ لارنس نے ناولوں کے لیے فکشن کا لفظ استعمال کیا ہے۔

افسانہ وہ مختصر کہانی ہے جو زندگی کے ایک پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ اس میں کردار کم بھی ہوتے ہیں اور زیادہ بھی۔ علامتی اور تجریدی افسانہ وغیرہ افسانوں کی مختلف اقسام ہیں۔ علامتی افسانہ کا سرخیل فرانز کافکا کو مانا جاتا ہے۔ جس نے اپنی شہرہ آفاق کہانی ( The Metamorphosis) منجھ روپیت کے نام سے شائع کی۔ عالمی ادب میں یہ ایک عظیم تخلیق تصور کی جاتی ہے۔ اس کا دنیا کی بیش تر زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

اردو ادب میں انتظار حسین، رشید امجد اور انور سجاد نے علامتی افسانوں کی داغ بیل ڈالی۔ اس کو پروان چڑھانے میں سریندر پرکاش، منشاء یاد، اسد محمد خاں، بلراج مینرا، نئیر مسعود اور بہت سارے افسانہ نگار شامل ہیں۔

نئیر مسعود کا شمار اردو ادب کے عظیم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر نئیر مسعود علامتی افسانہ نگار ہیں۔ یہاں نئیر مسعود کی افسانوی کتاب ”گنجفہ“ کے فکر و فن پر لکھنے کی جسارت کی جائے گی۔ نئیر مسعود اردو ادب کے مشہور محقق اور نقاد سید مسعود حسین رضوی کے بیٹے ہیں۔ آپ کا پورا نام سید نئیر مسعود رضوی ہے اور نئیر مسعود کے قلمی نام سے شہرت حاصل کی۔ نئیر مسعود نے 1936 کو لکھنؤ کی تہذیبی فضا میں آنکھ کھولی۔ آپ نے اردو ادب کی مختلف جہات میں طبع آزمائی کی۔ ان میں افسانہ، تنقید، تحقیق، میں نام کمایا۔ مگر جو شہرت انھیں افسانہ نگاری میں ملی وہ کسی اور صنف میں نہیں ملی۔

نئیر مسعود نے لکھنؤ کی جس فضا میں آنکھ کھولی وہ سر تا پا ادبی فضا تھی۔ اس فضا نے نئیر مسعود پر گہرے نقوش چھوڑے۔ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ نئیر مسعود مرتے دم تک لکھنؤ کی جادوئی فضا کے سحر سے نہیں نکل سکے۔

”گنجفہ“ گیارہ افسانوں پر مشتمل ایک شہکار ہے۔ نئیر مسعود اگرچہ علامتی افسانہ نگار ہیں، اس کے باوجود وہ اعلیٰ پائے کے ہیں۔ انتظار حسین کے اسلوب سے تھوڑی بہت مشابہت رکھنے کے باوجود آپ کی نثر خالص لکھنوی نثر ہے۔

نئیر مسعود کی کہانیوں کا بنیادی موضوع لکھنؤ اور اس سے جڑی تہذیب و ثقافت اور اس کے ساتھ ساتھ المیہ۔

جس طرح چارلس ڈکنز کے ہاں لندن اور فیودر دستوئفسکی کے ہاں روس چلتا پھرتا نظر آتا ہے اسی طرح نئیر مسعود کے ہاں ہمیں لکھنؤ نظر آتا ہے۔ وہی عظیم تہذیب، تمدن، ثقافت، امام باڑے، صاف ستھری گلیاں، کشادہ سڑکیں، بازار، تعویذوں کا زمانہ، اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے محلوں کو اپنی جادوئی نثر سے صفحہ قرطاس پہ ڈال کر انھیں امر کر دیا۔ نئیر مسعود کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے افسانوں میں بیش تر ”ہم“ کا صیغہ بول کر پوری لکھنوی تہذیب کو اپنے ساتھ شمار کر لیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا لکھنؤ ہمارے سامنے زندہ ہو گیا ہے۔

گنجفہ کا ایک بڑا موضوع ”المیہ“ Tragedy ”ہے۔ غالباً ان کے سبھی افسانوں کو اس سے مفر نہیں۔ ہر کردار اچانک ہنستے کھیلتے ابدی نیند سو جاتا ہے۔ یا پھر وہ کسی گہرے کرب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ “ باد نما ”افسانہ میں اچانک ایک کردار کو موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

” ہمارے گھر میں اور لوگ بھی تھے، لیکن میرے باپ کے سارے کام ماں ہی کرتی تھیں۔ انھوں نے کبھی اپنی کسی تکلیف کا ذکر نہیں کیا تھا اس لیے ہم لوگوں کو گمان نہیں تھا کہ وہ خود کو ختم کیے لے رہی ہیں۔ لیکن ایک صبح وہ بہت دیر تک بستر سے نہیں اٹھیں اور سہ پہر کو دور و قریب کے رشتہ داروں کے بیچ میں ان کی میت رکھی ہوئی تھی۔“

ان کی کہانیوں میں اچانک کہیں سے یک لخت اداسی کی ایک لہر امڈ آتی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے یہ اداسی کہیں اپنے اندر ہی سے پھوٹ رہی ہے۔ افسانہ ”گنجفہ“ میں یہ اداسی محسوس کی جا سکتی ہے۔

” مجھے کھانا کھلانے سے لے کر بستر پر لٹا کر تھپکنا شروع کرنے تک وہ بار بار مجھ کو اس طرح چھو کر دیکھتی رہی تھیں جیسے انھیں یقین نہ آ رہا ہو کہ میں پورے ہاتھ پیر لے کر گھر واپس آیا ہوں۔ اب میں چپ چاپ لیٹا ہوا تھا، نیند آ چلی تھی اور اماں قریب بیٹھی مجھے دیکھے جا رہی تھیں۔ دیر کے بعد انھوں نے پوچھا :

” کیا ہوا ہے؟“
” کچھ نہیں،“ میں نے جواب دیا، ”کیوں؟“
” راستے میں کچھ ہوا تو نہیں؟“
” کچھ بھی نہیں،“ میں نے کہا، کیوں پوچھ رہی ہو؟ ”
” کسی نے کچھ کہا؟“
” نہیں تو۔“
وہ اسی طرح مجھے دیکھتی رہیں۔ پھر بولیں :
” اب سے ہم تمھیں باہر نہیں نکلنے دیں گے۔“
تب میں نے کہا:
” اماں، اب سے میں تمھاری کمائی نہیں کھاؤں گا۔“
اسی رات اماں پر کھانسی کا پہلا بڑا دورہ پڑا۔

ان کی کہانیاں اداسی کی دبیز تہہ میں لپٹی ہوتی ہیں۔ جو قاری کو اندر ہی اندر کسی اور ہی خرابے میں لے جاتی ہے۔ اس اداسی کو بھلا گم نام سی اداسی کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ ماضی پرستی ( Nostalgia) کا پہلو بھی نئیر مسعود کے ہاں پایا جاتا ہے۔ ”علام اور بیٹا“ اس افسانہ میں اپنی بچپن کی یادوں کو کریدتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

” اس زمانے میں بھی اپنے بچپن اور لڑکپن کی بے شمار یادیں میرے حافظے میں تازہ تھیں۔ میرے گھر کے بچے مجھ سے اس زمانے کے قصے بڑے شوق سے سنتے تھے اور حیرت بھی کرتے تھے کہ مجھ کو اتنی پرانی باتیں اتنی اچھی طرح یاد ہیں۔ مجھے حیرت نہیں ہوتی تھی۔ میں جانتا تھا کہ بچپن کی یادیں آدمی کے دماغ میں اس وقت بھی محفوظ رہتی ہیں جب وہ ڈھلتی عمر میں دو دن پہلے تک کی باتیں بھولنے لگتا ہے۔“

نئیر مسعود کے ہاں بھی انتظار حسین اور قرۃ العین حیدر کی طرح رومانس نہ ہونے کے برابر نظر آتا ہے۔ نئیر مسعود کو جزئیات نگاری پر جو قدرت حاصل ہے۔ اس کی مثال دوسرے ہم عصر افسانہ نگاروں میں خال خال ہی پائی جاتی ہے۔ نئیر مسعود نے اپنے افسانہ ”بڑا کوڑا گھر“ جو کسی قدیم زمانے کی ایک عمارت تھی۔ اس پراسرار عمارت کے احوال کی جزئیات کو جس طرح اپنی جادوئی نثر کے ساتھ لکھا ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک ایک گلی، ایک ایک محلے، شاہراہ سب کچھ آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اقتباس دیکھیے :

” اسے عمارت کہنا بھی مشکل تھا، اس لیے کہ اب اس کا آج کچھ نگاہوں کے سامنے آتا تھا وہ پانچ چھوٹے چھوٹے دروں والا ایک دالان سا تھا۔ جس کے پیچھے تین کٹاؤ دار محرابیں دکھائی دیتی تھیں۔ وہ بھی کوڑے سے اس طرح پٹی ہوئی تھیں کہ ان کے فقط سب سے اوپر والے کنگرے کھلے رہ گئے تھے اور ان کے پیچھے ہر وقت اندھیرا رہتا تھا۔ نیا کوڑا اسی دالان میں پھینکا جاتا تھا۔ دالان کی چھت کے اوپر اور محرابوں کے پیچھے جو کچھ تھا، سب عمارت کے اوپر سے گزرنے والی شاہراہ کے بھراؤ میں آ گیا تھا۔ یہ شاہراہ شہر کی سب سے لمبی اور سیدھی سڑک تھی جو شمال سے نکل کر طویل فاصلہ طے کرتی ہوئی جنوب کے نواحی ویرانوں میں گم ہو جاتی تھی۔“

اسی طرح اس قدیم عمارت کے ساتھ ملحقہ جو سڑکیں اور گلی محلے ہیں ان کی جس طرح ایک ایک شے دکھائی ہے۔ کیا کہنے! مثلاً اسی افسانہ میں آگے چل کر وہ رقم طراز ہیں :

” مسمار محلوں کے صرف نام قدیم تحریروں اور سرکاری دستاویزات میں محفوظ رہ گئے تھے۔ لیکن شاہراہ کے کنارے کنارے بہت سے پرانے محلے، جو اس کے راستے میں نہیں آئے تھے، اب بھی باقی تھے۔ یہ سب کے سب شہر کے نشیبی علاقوں میں تھے، اور نئی پرانی گلیاں ان کی شاہراہ سے ملاتی تھیں۔ بعض محلے اتنے نشیب میں تھے کہ ان میں اترنے والی گلیاں چوڑے چوڑے زینوں ہی کی شکل میں بنائی گئی تھیں۔

بڑے کوڑا گھر کے سامنے جو پتلی گلی ختم ہوتی تھی وہ بھی زینوں ہی کی شکل میں تھی۔ ”

نئیر مسعود کے افسانوں میں ابہام بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ قاری اچانک کسی کردار کی موت پر یا بیماری پر پریشان ہوجاتا ہے کہ کس طرح یہ حادثہ پیش آیا۔ مبہم انداز میں بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ قاری دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ افسانہ ”دست شفا“ میں اچانک ایک کردار کی موت واقع ہوتی ہے تو قاری انگشت بہ دنداں رہ جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

” چار دن کی مسافت ہم نے تین دن میں طے کی۔ جوں جوں فیض آباد قریب آ رہا تھا، میرا دل بیٹھتا جا رہا تھا۔ گھر کے نزدیک پہنچ کر پہلے ابا جان کا باغ نظر آیا۔ درختوں پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ کئی دن سے پانی نہیں لگایا ہے۔ بس وہیں میرے دل کو یقین ہو گیا کہ میرے ابا جان نہیں رہے۔ کسی طرح دل کو سنبھال کر گھر میں داخل ہوا۔ سارے اعزہ جمع تھے۔ میرے پہنچتے ہی ایک کہرام برپا ہو گیا۔ صحن مسجد میں تازہ بنی ہوئی قبر کے نیچے ابا جان سو رہے تھے۔ میں ان کی صورت بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ بس قبر سے لپٹ کر بے ہوش ہو گیا۔ ہوش آیا۔ ان کی بیماری کا حال سنا۔ پھر بے ہوش ہو گیا۔“

جو معلیٰ زبان خدائے سخن میر تقی میر نے اپنی شاعری میں استعمال کی جس کی بنا پر اسے اردو کا عظیم شاعر قرار دیا جاتا ہے۔ میر کو کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ وہی زبان نثر میں اگر کسی نے استعمال کی تو صرف اور صرف نئیر مسعود ہیں۔ اس کی بنا پر نئیر مسعود کے چند افسانہ کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں۔ آخر میں گستاؤ فلابئیر کا ایک جملہ جو میرے خیال سے نئیر مسعود پہ پورا اترتا ہے :

” مصنف کو اپنی تحریروں میں اسی طرح ہونا چاہیے جس طرح خدا دنیا میں۔ وہ ہر جگہ موجود تو ہوتا ہے مگر کہیں نظر نہیں آتا۔“

حوالہ جات
1۔ نئیر مسعود، گنجفہ، شہرزاد پبلشرز، کراچی، 2008

2۔ ستار طاہر، مادام بواری کا عالمی ادب میں مقام، مشمولہ ماہنامہ خیالات، مدیر ستار طاہر، شمارہ 16، جلد نمبر1، لاہور، ماہ جولائی ( س، ن) ، ص 76

Facebook Comments HS