پاکستان میں عدم استحکام کے اسباب
عدم استحکام سے کیا مراد ہے؟
عدم استحکام کا لفظی مفہوم، استحکام (stability) کا نہ ہونا، کمزوری، ناپائیداری اور غیر یقینی کیفیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ علم سماجیات کے مطابق وہ معاشرے عدم استحکام کا شکار ہوتے ہیں جو سیاسی اور معاشی طور پر کمزور ہوں، جہاں ریاستی پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو اور جہاں کی آبادی کی اکثریت گردوپیش کے حالات اور مستقبل کے حوالے سے مطمئن نہ ہو۔ اللہ تعالی نے سورۃ قریش میں انسانیت پر اپنے دو انعامات کا ذکر کیا ہے جن میں پہلا انعام بھوک کی حالت میں رزق کا میسر آنا (یعنی معاشی خوشحالی) اور دوسرا خوف کی حالت میں امن کا پیدا ہونا (یعنی سیاسی استحکام) شامل ہیں۔
اسی طرح سورۃ نحل میں قرآن حکیم نے ایک ایسے معاشرے کو بطور مثال پیش کیا ہے جس میں رزق کی فراوانی اور اطمینان و سکون کی کیفیات کا غلبہ تھا لیکن اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کی ناشکری اور اس کے احکامات کی نافرمانی کے نتیجے میں اس معاشرے پر بھوک اور خوف کا عذاب مسلط ہو گیا۔ ان واضح ہدایات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر وہ معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے جہاں انسانوں کی اکثریت بھوک، غربت، غیر یقینی اور خوف کا شکار ہو، جبکہ صرف ان معاشروں کو مستحکم قرار دیا جاسکتا ہے جہاں انسانوں کو امن و اطمینان اور معاشی خوشحالی میسر ہو۔
زندہ قومیں اپنے ماضی اور حال کا کھلے دل و دماغ سے جائزہ لیتی ہیں اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ترقی کی راہوں پر آگے بڑھتی ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور کامیابی میں وہاں کا ریاستی نظام (یعنی پارلیمنٹ، بیوروکریسی اور عدلیہ) مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ریاستی نظام کا بنیادی کام ملک میں موجود مختلف شناختوں، پیشوں اور قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا، انہیں ایک مرکز پر اکٹھا کرنا، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لئے پالیسیاں ترتیب دینا اور معاشرے میں خوف اور عدم اطمینان کا خاتمہ کر کے امن اور سکون کی فضاء پیدا کرنا ہوتا ہے۔
پاکستان کی صورت حال
ہمارے معاشرے میں امن اور خوشحالی کا غلبہ ہے یا پھر بھوک اور خوف کا ؟ اس سوال پر غور و فکر اور تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے کی اکثریت خط غربت یعنیPoverty Line (دو ڈالر روزانہ آمدنی) سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ بنیادی انسانی حقوق (خوراک، رہائش، صحت، تعلیم، روزگار) انتہائی منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں اور وہ انہی طبقات کو دستیاب ہیں جو ان کی بھاری قیمت چکا سکتے ہیں۔ حکومتی اداروں کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 80 فی صد سے زائد آبادی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہے۔ صحت اور تعلیم پر ریاستی خرچ کے حوالے سے ہمارا شمار دنیا کے بدترین ممالک میں ہوتا ہے۔ 60 فی صد سے زائد بچے اور مائیں غذائی کمی کا شکار ہیں۔ جو معاشرہ اپنی آنے والی نسل کو مناسب خوراک بھی نہ دے سکے، اس کے تاریک مستقبل کا اندازہ لگانا کچھ مشکل کام نہیں ہے۔
دوسری طرف پورے ملک میں فرقہ واریت، عدم برداشت، لوٹ مار اور تقسیم در تقسیم کا ماحول غالب ہے۔ چاہے امیر ہو یا غریب، یہاں کوئی شخص بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ اسی لئے ہر شخص جلد از جلد، زیادہ سے زیادہ مال اور وسائل حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اپنے خاندان کی حفاظت کرسکے۔ ایک دیہاتی ان پڑھ سے لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری نوجوان تک سب کی خواہش یہی ہے کہ کسی طرح وہ یہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں کیونکہ نہ تو یہاں ان کی محنت کے قدر کی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں سماجی اطمینان اور عزت حاصل ہے۔ یہی وہ عدم استحکام کی کیفیت ہے جس کا شکار ہمارا پورا معاشرہ ہو چکا ہے۔
ہمسایہ ممالک سے تقابل
عدم استحکام کی صورت حال اور اس کی وجوہات کو سمجھنے کے لئے ہمیں اپنے اردگرد کے ممالک کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے جو کہ ایک انقلابی عمل سے گزرے اور آج وہاں کے حالات ہم سے بہت بہتر ہیں۔ مثلاً، چین جو کہ ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا اور چینی لوگ جو کہ پوری دنیا میں ”افیمی قوم“ کے طور پر مشہور تھے، لیکن آج وہی چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بننے جا رہا ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اور ملٹی نیشنل کمپنیاں چینی معاشی پالیسیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔
دنیا کی تقریباً 20 فی صد آبادی چین میں رہائش پذیر ہے۔ ایسی صورت حال میں جہاں ایشیاء اور افریقہ کی اکثریت، جدید نوآبادیاتی نظام کے طفیل غربت، جہالت اور بدامنی کا شکا ر ہیں، وہاں اتنی بڑی آبادی کی خوراک، رہائش، لباس اور روزگار کی ضروریات پوری کرنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح ایران، جہاں 1979 ء میں سماجی تبدیلی کا عمل کامیاب ہوا، آج وہ دنیا میں اپنا مقام بنا رہا ہے۔ ہر طرف سے امریکہ کے حواری ممالک میں گھرے ہونے کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنی قومی خود مختاری کا دفاع کیا ہے بلکہ انسانی معیار زندگی، امن و امان، صحت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور فنون لطیفہ میں بھی ترقی کا سفر طے کر رہا ہے۔
برعظیم پاک و ہند کا تاریخی پس منظر
یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ کیا ہمارا خطہ، یعنی بر عظیم پاک و ہند، ہمیشہ سے اسی طرح کی بھوک، غربت یا بدحالی کا شکار رہا ہے یا پھر اس کے ماضی میں بہت سی درخشاں مثالیں بھی موجود ہیں؟ عام طور پر ہمیں جو تاریخ پڑھائی یا ٹی وی وغیرہ پر دکھائی جاتی ہے، اس میں انگریز کے آنے سے پہلے کے دور کی انتہائی منفی منظر کشی کی جاتی ہے اور انگریز کو اس خطے کے لئے نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ خاص طور مغل حکمرانوں کا تعارف عیاش، ظالم اور نا اہل حکمرانوں کے طور پر کروایا جاتا ہے اور ٹی وی پروگراموں میں مزاح کے نام پر ان کی تذلیل بھی کی جاتی ہے۔
اس منفی تعارف کے برعکس، جب ہم نوآبادیاتی ذہنیت (Colonial Mindset) سے آزاد ہو کر تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ سولہویں اور سترہویں صدی میں مغل حکمرانوں کے ماتحت برعظیم پاک و ہند دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھا۔ اپنی ترقی اور خوشحالی کی وجہ سے یورپ میں اسے سونے کی چڑیا کے نام سے پکارا جاتا تھا اور پوری دنیا سے سیاح اور تاجر اس کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ لیکن انگریز کے دو سو سالہ دور حکومت کے نتیجے میں برصغیر ایک بدحال، قحط زدہ، جاہل اور لڑائی جھگڑوں پر مبنی خطے میں تبدیل ہو گیا۔
عدم استحکام کے اسباب
اب چلتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔ پاکستان میں عدم استحکام کے اہم اسباب درج ذیل ہیں۔
الف۔ جدید نوآبادیاتی نظام (Neo۔ Colonialism)
پاکستان میں عدم استحکام کا پہلا سبب، جدید نوآبادیاتی نظام کا غلبہ ہے۔ سولہویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک یورپ کے سامراجی ممالک نے براعظم ایشیاء، افریقہ اور امریکہ کے ممالک پر قبضہ کر کے انہیں اپنی نوآبادیات (colonies) بنایا اور وہاں کے وسائل اپنے ممالک میں منتقل کیے جس کے نتیجے میں یورپ میں خوشحالی اور ترقیات کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ یورپی طاقتوں (برطانیہ، فرانس، اٹلی، سپین وغیرہ) کے دنیا پر اس غاصبانہ قبضے کو نوآبادیاتی نظام (Colonialism) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس کے خلاف پوری دنیا میں آزادی اور حریت کی تحریکیں چلیں اور بیسویں صدی کے وسط میں ایشیائی اور افریقی اقوام نے آزادی حاصل کی۔
نوآبادیاتی نظام کی بدترین شکل برعظیم پاک و ہند میں قائم کی گئی جس کے نتیجے میں کھربوں (تقریباً 45,000 ارب) ڈالر کے مساوی دولت برعظیم پاک و ہند سے برطانیہ منتقل کی گئی اور اس خوشحال اور تعلیم یافتہ خطے کو قحط، بدحالی، صنعتی تباہی اور جہالت میں مبتلا کر دیا گیا۔ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے لئے خطے کی تمام اقوام اور مذاہب نے مل کر انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی جس کے نتیجے میں انگریز کو پہلے بر عظیم پاک و ہند اور پھر پوری دنیا سے اپنا سامراجی بستر گول کرنا پڑا۔
جدید نوآبادیاتی نظام (Neocolonialism) سے مراد یہ ہے کہ انگریز بظاہر تو اس خطے سے چلا گیا لیکن جاتے جاتے وہ اقتدار ایسی سیاسی قیادت اور افسرشاہی کے حوالے کر گیا جو کہ ذہنی (mindset) اور عملی (procedural) حوالے سے انگریزوں کی غلام اور ان کی وفادار تھی۔ آزادی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری سول اور ملٹری افسر شاہی کو عوامی خدمت کے اصول کے مطابق نئے خطوط پر استوار کیا جاتا اور ہماری سیاسی قیادت ملک و قوم کے مفاد میں داخلہ اور خارجہ پالیسیاں ترتیب دیتی۔ لیکن اس کے برعکس افسر شاہی کے اداروں میں آج بھی آقا اور غلام کی نفسیات غالب ہے جہاں وہ اپنے آپ کو اعلیٰ و ارفع (Superior) اور عوام کو حقیر، بدتہذیب اور جاہل خیال کرتے ہیں۔
اسی طرح یہاں کی سیاسی اور عسکری قیادت نے قومی ترجیحات کو نظر انداز کر کے ہمیشہ سات سمندر پار اپنے آقاؤں کے مفادات کے لئے ملک کی خارجہ پالیسی مرتب کی اور داخلی سطح پر بھی پالیسیاں ترتیب دیتے وقت محض اپنے شخصی، گروہی اور طبقاتی مفادات کو مدنظر رکھا۔ بالواسطہ (indirect) غلامی کے اس بندوبست سے اگر کوئی حکمران نکلنے کی کوشش کرے بھی تو اسے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ ملک کی قسمت کے فیصلے آج بھی لندن، دبئی، ریاض اور واشنگٹن میں طے پاتے ہیں اور جیسے ہی ملکی نظام، اپنے اندرونی تضادات کی وجہ سے، انتشار کا شکار ہوتا ہے، فوراً سب (سیاسی اشرافیہ اور افسر شاہی ) کو بیرون ملک حاضر کر کے مستقبل کے حوالے سے معاملات طے کرلئے جاتے ہیں۔
ب۔ کمزور اور طفیلی (parasitic) معیشت
ملک میں عدم استحکام کا دوسرا بڑا سبب، معاشی خود انحصاری کا نہ ہونا ہے۔ اپنی تخلیق سے لے کر آج تک، بشمول پہلے بجٹ کے، ملک کے تمام بجٹ خسارے کے بنتے رہے ہیں۔ یعنی اخراجات زیادہ ہیں اور آمدنی کم ہے اور ملکی معیشت ہر وقت ایک بحران کی کیفیت کا شکار رہتی ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لئے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے سامراجی اداروں سے قرض لئے جاتے ہیں جو کہ آگے چل کر اپنی مرضی کی سیاسی اور معاشی پالیسیاں بنواتے ہیں۔
اس سونے پر سہاگہ ہمارے حکمران طبقے کا رہن سہن اور طرز زندگی ہے۔ بجائے اس کے کہ ہمارے حکمران اپنے وسائل میں رہتے ہوئے سادگی اور قربانی کو اپناتے، الٹا انہوں نے اپنی عیش و عشرت، نمود و نمائش اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں قومی وسائل کی لوٹ مار کو اپنا وتیرہ بنا لیا ہے۔ ہمارے حکمران جب دنیا کے امیر ممالک میں عوام کے نام پر بھیک مانگنے جاتے ہیں تو وہاں کی قیادت ان کے اللے تللے دیکھ کر پریشان رہ جاتی ہے کہ کیا یہ واقعی تیسری دنیا کے ایک ملک کے حکمران ہیں جہاں عوام کی اکثریت بنیادی ضروریات سے محروم ہے اور ہر طرف بھوک، غربت، بدامنی اور جہالت کا راج ہے!
آپ ہی سوچئے کہ جس گھر کے اخراجات زیادہ اور آمدنی کم ہو، وہ کیسے ترقی کر سکتا ہے! جس طرح ایک گھر میں والدین بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنی ذات، خواہشات اور آرام کی قربانی دیتے ہیں، اسی طرح کسی قوم کی قیادت (آج کے دور میں ریاستی نظام) اس کے والدین کی طرح ہوتی ہے جن کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خود قربانی دے کر اپنی اولاد کے معیار زندگی کو بلند کریں۔ اب والدین اگر خود موج مستی، بدعنوانی اور فضول خرچی میں لگے رہیں اور بچوں کو بھوکا، پیاسا اور ان پڑھ چھوڑ دیں تو ایسا گھر کیسے آگے بڑھ سکتا ہے!
ج۔ جاگیرداری نظام (Feudalism)
پاکستان میں عدم استحکام کی تیسری وجہ، ملک میں جاگیرداری نظام کی موجودگی ہے۔ انگریز جو کہ پندرہویں اور سولہویں صدی میں اپنے علاقوں میں جاگیرداری کا خاتمہ کر رہا تھا، جب بر عظیم پاک و ہند میں آیا تو اس نے یہاں بدترین قسم کا جاگیرداری نظام قائم کیا۔ انگریز کی آمد سے پہلے برصغیر پاک و ہند کی زرعی زمین ریاست کی ملکیت سمجھی جاتی تھی جسے انتظامی بنیادوں پر سنبھالنے کے لئے اہل افراد (پنج ہزاری، دس ہزاری وغیرہ) کے تصرف میں دیا جاتا تھا اور اس زمین پر رہنے والے تمام انسانوں کا تحفظ اور ضروریات کی فراہمی اس انتظامی فرد کے ذمے ہوتی تھی۔ اس کے برعکس جن افراد اور خاندانوں نے اس خطے کی آزادی کی جدوجہد میں غداریاں کرتے ہوئے انگریزوں کی مدد کی، انگریزوں نے انہیں خوب نوازا اور وسیع و عریض زمینیں ان کی نجی ملکیت میں دے دیں جس کے نتیجے میں تمام کسان اور ہاری ان جاگیرداروں کے ذاتی غلام بن کر رہ گئے۔
جاگیرداری نظام میں محنت تو کسان اور ہاری کرتا ہے لیکن اکثریتی پیداوار پر قبضہ جاگیر دار کا ہوتا ہے۔ کسان کے سیاسی اور معاشی حقوق نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور ان کی ساری زندگی جاگیردار کو خوش کرنے میں گزر جاتی ہے۔ آزادی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے پڑوسی اور دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ملک سے اس لعنت کا صفایا کرتے اور زرعی اصلاحات کے ذریعے یہاں کے محنت کشوں اور کاشت کاروں کو زمین کا مالک بناتے لیکن اس کے برعکس یہاں کی سیاسی جماعتوں او ر بیوروکریسی نے جاگیرداری نظام کا تحفظ کیا کیونکہ ملک کی خالق جماعت کی اکثریت انہیں جاگیرداروں پر مشتمل تھی اور وہ اسی شرط پر مسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے کہ اس کے بدلے میں ان کی جاگیروں کو برقرار رکھا جائے گا۔ ملک میں جاگیرداری نظام کو برقرار رکھنے میں عدالتی نظام اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے بھی حصہ بقدر جثہ ڈالا۔
چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر ہم آج بھی ایک قبائلی اور جاگیرداری سماج میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جاگیرداری نظام کی وجہ سے نہ صرف انسانوں کی ایک وسیع اکثریت غلاموں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہے بلکہ ہم اپنی قابل کاشت زمین سے مناسب پیداوار حاصل کرنے کے قابل بھی نہیں رہے ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہونے کے باوجود ہم اپنی آبادی کی ضرورت کا اناج اور سبزیاں اگانے میں ناکام ہیں۔ سبزیاں اور دالیں عوام کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں اور ہم گندم، چینی، کپاس اور آلو، پیاز، ٹماٹر جیسی سبزیاں بھی باہر سے درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح دور حاضر میں کوئی بھی ملک صنعتی ترقی کے بغیر اپنے معاشی مسائل حل نہیں کر سکتا ہے۔ جاگیرداری نظام اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے رویے (Feudal Mindset) ملک میں صنعتی ترقی کے راستے میں بھی ایک بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔
د۔ سرمایہ داری نظام (Capitalism)
ملکی عدم استحکام کی چوتھی بڑی وجہ، ملک میں سرمایہ دارانہ نظام کا نفاذ ہے۔ سرمایہ داریت، ایک ایسے غیر فطرتی سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا نام ہے جس میں مرکزی اور فیصلہ کن حیثیت سرمائے کو حاصل ہوتی ہے اور انسانیت سرمائے کے تابع (subservient) قرار پاتی ہے۔ کامیابی، ناکامی، عزت، ذلت اور مرتبے کا واحد معیار سرمائے کا حصول بن جاتا ہے۔ انسانی محنت کی قدرو قیمت ختم ہوجاتی ہے اور ہر فیصلے کا اختیار سرمائے کے مالک کے پاس آ جاتا ہے۔
سرمایہ داری نظام کی ایک اور خاصیت وسائل دولت اور اختیارات کا چند ہاتھوں میں اکٹھے ہوجانا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ایسے قوانین اور اصول و ضوابط ترتیب دیے جاتے ہیں کہ محنت تو معاشرے کی اکثریت کرتی ہے لیکن ان کی محنتوں سے پیدا شدہ منافع ایک مخصوص راستے سے ایک اقلیت کے ہاتھ میں اکٹھا ہوتا جاتا ہے (Concentration of Wealth in few hands) ، جس کے نتیجے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ امیر، امیر سے امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر ہوتا جاتا ہے۔
اس صورت حال میں ایک محدود طبقے کے پاس اتنی دولت اکٹھی ہونے لگتی ہے کہ اسے خرچ کرنے کی جگہ نہیں ملتی اور وہ اسے خرچ کرنے کے لئے نمود و نمائش اور عیش پرستی کے نت نئے طریقے ایجاد کرتا ہے یا پھر اس دولت کو چھپانے کے لئے سوئس بینکوں اور دوسرے آف شور اکاؤنٹس کا سہارا لیتا ہے۔ دوسری طرف انسانوں کی وسیع اکثریت خوراک، لباس، رہائش، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہوتی چلی جاتی ہے۔ صحت، تعلیم اور صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حقوق بھی طبقاتی بنیادوں پر منافع بخش کاروبار بن کر قیمتاً ملنے لگتے ہیں۔ سرمایہ داریت انسان میں لالچ، ہوس، دکھاوا اور دوسرے انسانوں کو روند کر آگے بڑھنے کی ایسی ذہنیت پیدا کرتی ہے جس کے نتیجے میں انفرادیت (individualism) اور نفسانفسی (selfishness) کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان اپنی انسانیت سے گر کر درندہ بن جاتا ہے اور معاشرہ جہنم کا نمونہ پیش کرنے لگتا ہے۔
سرمایہ داری نظام میں تمام ریاستی ادارے بشمول پارلیمنٹ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا سرمائے کے تحفظ اور بڑھوتری کے لئے کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ تعلیمی نظام اور مذہبی ادارے بھی اپنی ساری کوششیں سرمایہ داری نظام کو جواز بخشنے اور اسے فطرت کے عین مطابق ثابت کرنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ دانشور اور مذہبی راہنماء خود تو عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں لیکن عوام کو ظلم و استحصال پر صبر، شکر اور دنیا کی نعمتوں سے کنارہ کشی کی تلقین کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ یہ دنیا کی زندگی تو عارضی ہے، تمہیں آخرت میں جنت کی شکل میں اس کا اجر ملے گا۔ اس ذہنی پروگرامنگ کے ذریعے وہ مروجہ استحصال (Exploitation) کو بالواسطہ مذہبی اور علمی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
یوں تو سرمایہ داری نظام کی بنیاد ہی انسانیت کے استحصال پر قائم ہے لیکن ہمارے ملک میں سرمایہ داری نظام کی بھی بدترین شکل رائج ہے جہاں قانون کی بالادستی کی بجائے قانون طاقتور کی لونڈی بن چکا ہے اور میرٹ کی بجائے اقرباء پروری اور دھونس دھاندلی کا دور دورہ ہے۔ دوسری طرف جدید صنعتی ترقی بھی انتہائی محدود درجے پر موجود ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور ایجادات کی بجائے ہم محض ایک صارف معاشرہ (Consumer Society) بن چکے ہیں اور سرمایہ دار اپنے منافع میں اضافے کے لئے مزدور کا زیادہ سے زیادہ خون نچوڑنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس، بجلی اور گیس کی چوری میں بھی مصروف ہے۔
چونکہ سرمایہ داری نظام میں سیاسی عمل بھی سرمائے کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے اس لئے جمہوریت ایک پرکشش اور پرفریب نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ عوام کی اکثریت دولت اور جاگیر نہ ہونے کے سبب سیاسی عمل میں محض ایک تماشائی کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور عملی طور پر معاشرے میں سرمائے کی آمریت نافذ ہوجاتی ہے۔ سرمایہ داری نظام کا لازمی نتیجہ انسانوں میں انفرادیت، خود غرضی اور بے حسی (Alienation) کی صورت میں نکلتا ہے۔ طاقتور ترین کی بقاء کے اصول (survival of the fittest) پر مبنی اس نظام میں ہر فرد، گروہ اور ادارے کی یہ سوچ بن جاتی ہے کہ اس سے پہلے کہ کوئی دوسرا تمہیں کھائے تم آگے بڑھ کر اسے کھا جاؤ۔
ہ۔ طبقاتی نظام تعلیم
قومی عدم استحکام کی پانچویں بڑی وجہ، ملک میں طبقاتی بنیادوں پر رائج نظام تعلیم ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں معاشی تنگدستی کے باعث اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یعنی قوم کی اکثریت کو ان پڑھ رکھ کر نظام نے انہیں ابتداء سے ہی زندگی اور ترقی کی دوڑ سے باہر کر دیا گیا ہے۔ بقیہ بچے، اپنے والدین کی معاشی حالت اور ذہنی پس منظر کے مطابق، بھانت بھانت کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ انگریز نے دین و دنیا کی تعلیم کی علیحدگی کا جو درس ہمیں دور غلامی میں پڑھایا تھا، ہم آج بھی اسی سبق کو دہرا رہے ہیں ورنہ مسلمانوں کے عروج کے دور میں کبھی بھی دو طرح کے تعلیمی نظام رائج نہیں رہے۔ جس تعلیمی ادارے سے ایک مذہبی عالم نکلتا تھا، اسی ادارے سے ایک صوفی، حکومتی اہلکار، فنون لطیفہ اور صنعت و حرفت کا ماہر بھی تعلیم پاتا تھا۔
تعلیمی اداروں میں سب سے بڑی تقسیم مذہبی اور عصری اداروں کی ہے۔ اس تقسیم کے پیچھے کارفرماے سوچ کے مطابق دنیا میں کامیابی کی شرائط مختلف اور دین میں کامیابی کی تعلیم کچھ اور ہیں اور ان دونوں علوم کو ایک دوسرے کی ضد بنا دیا گیا ہے۔ مدرسے سے پڑھنے والا نوجوان، عصری تعلیم (Contemporary Education) حاصل کرنے والے کو گمراہ، مغرب زدہ اور اپنے سے کم تر مسلمان سمجھتا ہے، دوسری طرف عصری اداروں سے پڑھنے والا، مدرسے میں پڑھنے والے کو جاہل، شدت پسند اور دقیانوس سمجھتا ہے۔ پھر مذہبی اداروں میں مسلکی بنیادوں پر تقسیم ہے کہ یہ بریلویوں کے مدرسے ہیں، یہ دیوبندیوں کے، یہ اہل حدیثوں کے اور یہ شیعوں کے۔ یہاں تعلیم کا واحد مقصد، دین کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا اجتماعی شعور حاصل کرنے کی بجائے، محض اپنے فرقے کو درست اور بقیہ فرقوں کو غلط ثابت کرنا رہ گیا ہے۔
اسی طرح عصری تعلیمی ادارے بھی تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ ایک طرف سرکار کے بنائے گئے سرکاری سکول ہیں تو دوسری طرف گلی محلے کے پرائیویٹ سکول ہیں، تیسری طرف متوسط طبقے کے لئے پبلک سکولز ہیں۔ تینوں طرح کے تعلیمی اداروں کا مقصد سستے مزدور اور نظام کو چلانے والے کلرک پیدا کرنا ہے۔ چوتھی طرف اشرافیہ کے لئے ایچی سن، لمز، آکسفورڈ اور کیمبرج جیسے ادارے ہیں جہاں نجی اداروں کو چلانے والی قیادت اور مستقبل کے حکمران پیدا کیے جاتے ہیں۔
اب آپ ہی سوچئے کہ بھانت بھانت کے ان تعلیمی اداروں سے تعلیم پانے کے بعد نوجوان کیسے کسی مشترکہ قومی سوچ پر اکٹھے ہوسکتے ہیں؟ طبقاتی اور دینی و عصری تقسیم پر قائم ہمارا تعلیمی نظام، انگریز کی قائم کردہ ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ (Divide and Rule) کی پالیسی کو برقرار رکھنے کا سب سے پر اثر ذریعہ بن چکا ہے۔
و۔ ریاستی اداروں کا ٹکراؤ
ملکی عدم استحکام کی چھٹی بڑی وجہ، ریاستی اداروں میں دائمی ٹکراؤ کی کیفیت کا موجود رہنا ہے۔ ایک مستحکم اور فلاحی معاشرے میں تمام ریاستی ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک استحصالی معاشرے میں افراد کی طرح ادارے بھی زیادہ سے زیادہ طاقت، اختیارات اور وسائل کے لئے باہم دست و گریباں رہتے ہیں۔ اس کی واضح مثال ہم اپنے معاشرے میں دیکھ سکتے ہیں جہاں ستر سال سے سول و ملٹری بیوروکریسی، عدلیہ اور سیاست دان مستقل ٹکراؤ کی کیفیت میں ہیں۔
ہر ادارہ یہ تاثر دے کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال، عوام کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لئے کر رہا ہے، لیکن حقیقت میں سارا لڑائی جھگڑا محض اس بات پر ہے کہ عوامی وسائل اور حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی فیصلہ کن اتھارٹی کس کے پاس ہوگی تاکہ وہ لوٹ مار کا زیادہ سے زیادہ حصہ اپنے ادارے، خاندان یا طبقے کے لئے اکٹھا کرسکے۔ ملکی تاریخ میں چلنے والی تمام تحریکیں، چاہے وہ جمہوریت کی بحالی کی تحریک ہو یا نظام مصطفٰی کی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کی تحریک ہو یا پھر احتساب کے نام پر سیاسی طاقتوں کو محدود کرنے کا عمل ہو، اپنے نتائج کے اعتبار سے قومی اور بین الاقوامی سرمایہ داری نظام کے ایجنڈے اور اشرافیہ کی بندر بانٹ کے نئے فارمولے کے نفاذ کا باعث بنتا رہا ہے۔
ایسے میں میڈیا بھی دن رات نظام کی ان طاقتوں (Stakeholders) کے مصنوعی اختلافات کو اجاگر کر کے عوام کو لایعنی بحثوں میں الجھائے رکھتا ہے تاکہ وہ کبھی بھی اپنے حقیقی مسائل اور ان کے بنیادی سبب یعنی طفیلی سرمایہ دارانہ نظام کی نظریاتی (ideological) اور عملی (procedural) خرابیوں پر غور و فکر نہ کرسکیں۔ میڈیا بظاہر تو اپنے آپ کو غیر جانبدار اور عوام کا خیر خواہ بنا کر پیش کرتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اسی استحصالی نظام کا ایک اہم ستون بن چکا ہے اور اس کی ڈوریں بھی مقامی یا عالمی اسٹیبلشمنٹ اور سرمایہ دار طبقات کے ہاتھ میں ہوتی ہیں اور یہ کسی نہ کسی طاقت کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہوتا ہے۔
صحافی بھی غیر جانبداری کا لبادہ اتار کر اب کسی نہ کسی سٹیک ہولڈر کے میڈیا مینجر بن چکے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز کی خواہش یہ ہے کہ حکومتیں بنانے اور گرانے کا اختیار ان کے ہاتھ میں آ جائے اور وہ بادشاہ کی بجائے بادشاہ گر (King Maker) بن جائیں۔ ان تمام لڑائی جھگڑوں کے باوجود یہ ادارے عوام کا خون چوسنے والے سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ پر متفق اور متحد ہیں۔
پاکستان ایک مستحکم ملک کیسے بن سکتا ہے؟
مندرجہ بالا صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا کیا جائے؟ راقم کی ناقص رائے کے مطابق، ہمارے قومی مسائل کے حل کے راستے میں جو بڑی رکاوٹیں حائل ہیں ان میں مایوسی، جلد بازی، انفرادیت اور خود غرضی شامل ہیں۔ اس ضمن میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے کیونکہ نوجوانوں میں عقل اور عمل دونوں کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ جس قوم کا نوجوان اپنے حقوق و فرائض کا تعارف حاصل کر لے اور اپنے اندر عقل و شعور، اجتماعیت اور نظم و ضبط پیدا کر لے، اس قوم کو ترقی کی منازل حاصل کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ اس کے مقابلے میں بچے عقل سے محروم، جبکہ بوڑھے لوگ بیشتر اوقات علم و عقل رکھنے کے باوجود عملی میدان میں جدوجہد کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا نوجوان مستقل بنیادوں پر باہمی مکالمے اور مذاکرے کا آغاز کرے۔ ایسی نشستوں میں شرکت کی کوشش کرے جہاں قومی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے بات ہوتی ہو۔ اگر ایسی نشستیں دستیاب نہ ہوں تو اپنے طور پر ان کے آغاز کی کوشش کرے۔ اپنے ملکی حالات پر غور و فکر کرے اور اس بات کا جائزہ لے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ہم نے اپنی آزادی کے ستر سالوں میں کیا کھویا اور کیا پایا اور جس سمت میں ہم جا رہے ہیں کیا اس پر چل کر ہم دنیا کی باعزت اور ترقی یافتہ قوموں میں اپنا مقام بنا سکیں گے؟
ان سوالوں پر غور و فکر کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں رائج مختلف نظاموں کا اپنے دین اور تاریخ کی روشنی میں مطالعہ کرے، اپنے اندر نظم و ضبط، ڈسپلن، قربانی کا جذبہ اور قیادت کی صلاحیت پیدا کرے۔ خود بھی مایوسی اور انفرادیت کی سوچ سے نکلے اور دوسروں کو بھی اپنے قول و فعل سے قائل کرے۔ اپنا تعلق، اپنی دھرتی کے حریت پسند رہنماؤں اور تاریخی تسلسل کے حامل علمائے حق کے ساتھ جوڑے۔ ان کی صحبت میں رہتے ہوئے اپنے اندر صحیح غلط کی پہچان اور اخلاص پیدا کرے۔
پھر ہی ایک ایسی اجتماعیت (پلیٹ فارم) کا قیام عمل میں آ سکے گا جو سرمائے اور جاگیر کی آمریت پر مبنی مروجہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر، قومی جمہوری بنیادوں پر سماجی تبدیلی (Social Change) پیدا کرے گی اور معاشرے میں مساویانہ بنیادوں پر معاشی خوشحالی اور امن و اطمینان کو یقینی بنائے گی۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسی اجتماعیت کا حصہ بننے اور اسے مضبوط بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
آمین یا رب العالمین!


