پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی اور بھٹو خاندان


پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر، وزیراعظم، وزیردفاع اور وزیرداخلہ بھی رہے اور وزیر اعظم بھی اور اس سے قبل وزیر خارجہ اور سینیٹر بھی۔ کئی اور وزارتوں کے قلم دان بھی ان کے پاس رہے۔ وہ سن 1967 میں وجود میں آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی تھے۔ انہوں نے 1970 ء کے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی اور ملکی سیاست کو ایک نیا رخ دیا۔

، جس کی وجہ سے عام آدمی کو سیاست کو سمجھنے میں آسانی ہوئی۔ ان کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے، انہوں نے دو شادی کی تھیں، اولادوں میں ان کے سب سے قریب ان کی بڑی بیٹی بے نظیر بھٹو تھیں، آج کل بھٹو اور عمران خان کی مماثلت بہت کی جا رہی ہے، کیونکہ دونوں کی حکومت کے خاتمے کی وجہ بیرونی سازش سمجھی جاتی ہے،

ذوالفقار بھٹو نے مشرقی اور مغربی جرمنی دونوں ممالک کے دورے کیے اور دونوں ہی سے مضبوط تعلقات بھی قائم کر لیے اور جرمنی سے اقتصادی، تیکنیکی، صنعتی، اور فوجی معاہدے بھی کیے۔ انہوں نے 1962 میں پولینڈ کا دورہ بھی کیا۔

ابتدا میں ذوالفقار علی بھٹو کے امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات تھے، وزارت خارجہ کے منصب پر فائز دنوں میں انہیں واشنگٹن بوائے بھی کہا جاتا تھا بعد ازاں یہ تعلقات کشیدہ ہوئے اور پھر بھٹو کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور نوبت پھانسی تک پہنچ گئی

پاکستان کی سابق وزیراعظم اور ذوالفقار بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی شخصیت سے سب واقف ہیں، بے نظیر بھٹو کو بھی اپنے والد کی طرح عالمگیر پذیرائی حاصل تھی، ان کا بھی امریکہ کے ساتھ خاصا گہرا تعلق تھا، چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ میں الزام لگایا کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے امریکہ کو امداد روکنے کا مشورہ دیا تھا۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والے ادارے کے مطابق وہ محترمہ کے دو بلیک بیری فونز سے ڈیٹا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ فونز کچھ دن پہلے ہی کراچی میں ان کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس سے برآمد ہوئے تھے۔ پاکستانی اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اس ڈیٹا سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان کے سینئر اہلکاروں اور امریکہ نے بے نظیر بھٹو کو وزیراعظم بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی تھی۔

خبر کے مطابق یہ بات ایک ای میل سے پتہ چلی ہے، جو بے نظیر بھٹو کے ایک قریبی ساتھی نے انہیں بھیجی تھی۔ اخبار کے مطابق یہ قریبی شخصیت اب پارلیمنٹ کی رکن ہے۔ ای میل میں لکھا گیا تھا کہ امریکہ کی اس وقت کی وزیر خارجہ اور آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ نے بے نظیر بھٹو کو سال 2007 ء کے انتخابات میں وزیراعظم بنانے کی حامی بھر لی ہے۔

23 اکتوبر 2007 ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو کو بھیجی گئی ای میل میں لکھا گیا، ”قابل احترام وزیراعظم صاحبہ، امریکہ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ آئی ایس آئی کو ایک اہم پیغام بھیجا گیا ہے۔ اس پیغام میں آئی ایس آئی سے کہا گیا ہے کہ پارٹی کے معاملات میں دخل نہ دے اور انتخابی عمل سے دور رہے۔ سیکرٹری آف اسٹیٹ کونڈولیزا رائس اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس کے درمیان آپ کو وزیراعظم بنانے کے لیے ایک خفیہ معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کی کامیابی پر سیکرٹری آف اسٹیٹ کونڈولیزا رائس نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بہت بہت مبارکباد وزیراعظم بے نظیر بھٹو۔

اخبار کے مطابق پاکستانی فورنزک لیبارٹری کی طرف سے بے نظیر بھٹو کے زیر استعمال ان دونوں موبائل فونز سے حاصل شدہ ڈیٹا میں بعض ایسی معلومات بھی ہیں، جن سے پیپلز پارٹی کی اس رہنما کے قتل کی تحقیقات میں بہت مدد ملے گی۔

بے نظیر کے قتل کے بعد آصف زرداری نے ایک کاغذ ہوا میں لہرا کے یہ بتایا کہ یہ بی بی کی وصیت ہے جس کے بعد وہ پی پی کے شریک چیئر مین بن گئے بعد ازاں صدر پاکستان مقرر ہوئے، اس دور میں پاکستان میں 340 امریکی ڈر ان حملے ہوئے، ایبٹ آباد میں اہم واقعہ بھی زرداری کے دور حکومت میں رونما ہوا، جس کا ذکر امریکہ کے سابق صدر اوبامہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے، ان کے مطابق وہ اسامہ کی پاکستان میں ہلاکت پر اس سوچ و بچار کا شکار تھے کہ ہم نے بنا اجازت پاکستان میں کارروائی کی ہے پاکستان کا صدر ہم سے شکایت کرے گا، مجھے کیسے ہینڈل کرنا ہو گا، مگر ان کا کہنا ہے کہ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب صدر زرداری نے مجھے آپریشن کی کامیابی کی مبارکباد دی، یعنی اس وقت کی حکومت کو ریاست کی خودمختاری کے پاش پاش ہو جانے کا کوئی دکھ، ملال یا شرمندگی نہیں تھا، وہ امریکہ کو خوش کرنے کو اپنا قومی فرض سمجھ کر نبھا رہی تھی، جس نے امریکی صدر بہت حیران کیا،

بھٹو خاندان کی امریکی لیگاسی کو لے کر چلنے کے لئے بلاول بھٹو زرداری بھی میدان میں آ گئے ہیں، گزشتہ سال بلاول بھٹو زرداری سات روزہ دورے پر امریکہ گئے تھے، اس دورے کو پی ٹی آئی کی حکومت نے امریکہ سے ڈیل قرار دیا تھا، شہباز گل نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ بلاول نوکری حاصل کرنے کی کوشش میں اپنا سی وی واشنگٹن لے کر گئے ہیں تاکہ پاور میں آنے کا موقع ملے، پی ٹی آئی کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ بلاول بھٹو زرداری نے وزیر خارجہ کا حلف اٹھاتے ہی سب سے پہلے امریکہ کا دورہ کیا اور خوب داد وصول کی، بلاول بھٹو زرداری کو بھی عمران خان کو بھی امریکہ کو

Absolutely not

کہنا بہت معیوب لگا، انہیں عمران خان کی جانب سے پیش کردہ امریکن پاک خارجہ پالیسی پر بھی اعتراض ہے جبکہ ان کے نانا نے امریکہ کو سفید ہاتھی کا نام دیا تھا، یقیناً یہ سارا طرز عمل امریکی امداد کی چاہ میں کیا جا رہا ہے۔

یہ بات سو فیصد درست ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہونی چاہیں مگر یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ خارجہ پالیسی ممکنہ استعداد کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس پر تشکیل پاتی ہے کہ آپ کی قوت اور طاقت کتنی ہے۔ اگر کوئی ملک معاشی لحاظ سے انتہائی طاقتور ہے، اس کی جغرافیائی اہمیت ہے اور اس کے پاس کسی ایسی چیز کا ذخیرہ یا وسائل موجود ہیں، جس کی وجہ سے اس کا انحصار بیرونی ممالک پر نہ ہو۔ تب تو کوئی ملک کسی حد تک آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دے سکتا ہے۔ آزاد خارجہ پالیسی کو مرتب دینے سے قبل معاشی خود مختاری اہم ہے۔

Facebook Comments HS