بےنشاں منزلوں کا سفر

قدیم زمانوں سے آج تک اہل دانش انسان کی زندگی میں بہتر رویوں کی ترویج کے لیے سوچتے رہے ہیں۔ تعلیم کو اس مقصد کے حصول کے لیے اہم ترین ذریعہ سمجھا گیا ہے ۔ قدیم یونان ہو یا ٹیکسلا کے قریب درسگاہوں کے اثار۔ ہر جگہ مقصد ایک ہی تھا انسان کے اندر جبلی حیوانیت کو دائرہ آدمیت میں لانا۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کیا افلاطونی عہد کا یونانی یا اشوکا کے وقت میں سانس لیتا ہندوستانی فطرت کے زیادہ قریب تھا یا آج کے ڈیجیٹل سماج کا انسان؟
شاید اس سوال کے اندر ہی اس کا جواب بھی موجود ہے۔ یقیناً اس دور کا انسان آج کے انسان سے زیادہ کھلا ذہن رکھتا تھا۔ مکالمہ موجود تھا۔ سوال کرنے کی آزادی تھی۔ بعد کی صدیوں نے یہ ثابت کیا کہ یہی آزادی در حقیقت ایک پائیدار ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ رہی بات اچھائی یا برائی کی یا گناہ و ثواب کی تو یہ تصورات ہمیشہ سے موجود تھے۔ بزرگان دین و ملت کی اس بات پر یقین لانا کافی مشکل ہے کہ آج کا دور پر از فتن ہے اور پچھلے دور بھلے وقتوں میں شمار ہوتے ہیں۔
اچھائی اور برائی کے تصورات بھی مسلسل تبدیلی کی زد میں رہتے ہیں۔ اگر ہم سسٹم کی بات کریں تو صدیوں پہلے کے ہمارے حکمران ہوں یا آج کے دور کے بزعم خود نابغے، اس بد نصیب خطے کے حصے میں اکثر کوتاہ اندیش ہی آتے رہے ہیں۔ روشن خیال سماجی ترقی کے لیے اس خطے میں حالات ہمیشہ ناسازگار رہے ہیں۔ اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک سامنے دکھائی دیتی وجہ اس خطے کا تعلیمی نظام بھی ہے۔
اب یہ بات تو خارج از بحث ہے کہ ریاست ہر مقام پر اپنا بیانیہ کیوں نافذ کرتی ہے۔ تھوڑا یا زیادہ کی بحث سے قطع نظر ایسا تقریباً ہر جگہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسا ظلم کہاں ہوتا ہے کہ
تاج محل کی تاریخ کو ہی جبرا تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے یا پھر گندھارا، ہڑپہ اور موہنجو داڑو جیسی عظیم الشان تہذیبوں کے وارث ان عظمتوں سے بے بہرہ کر دیے جائیں۔ لیکن ایسا ہوتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ گزشتہ کل بھی ہماری ہی زندگی کا حصہ ہوتا ہے لیکن اسے کھرچنے کی سعی ناکام کی جاتی ہے۔ اس خطے میں رائج تعلیمی نظام کے کڑوے پھل ہم سب کی زندگیوں کو تلخ تر کر رہے ہیں لیکن ہم نے شاید نہ سدھرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ پاکستان میں سیالکوٹ میں مارا جانے والا سری لنکن انجنیئر ہو یا بھارت میں گائے کے گوشت کے شبے میں قتل ہونے والا عام شہری۔ ہر جگہ تنگ نظری کا راج نظر آتا ہے جس کی بنیاد میں یہاں کے تعلیمی نظام کی کار فرمائی دکھائی دیتی ہے جس نے اس عہد تار کی نمو میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ہمارے ہاں طلباء کی اہلیت جانچنے کا پیمانہ ان کے حاصل کردہ نمبرز ہیں جو اس وقت کے تمام طلباء کا مقصود و مطلوب ہیں۔ ہمارے ہاں بنائے گئے سوالیہ پیپرز کسی بھی طرح سے تخلیقیت کو جلا نہیں بخشتے۔ ہمارے بورڈز اپنے ممتحن حضرات کو پیپر مارکنگ کے وقت جوابات کی ایک ”کی“ پکڑا دیتے ہیں جن سے کسی کو سر مو اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی، انگریزی کا استاد ہونے کے ناتے میرا ذاتی تجربہ بھی انگلش مارکنگ کا ہے۔ اگر کسی خالی جگہ کی آ پشن ”ول+ور ب“ دی گئی ہے تو سٹوڈنٹ کی طرف سے ”گوئنگ ٹو +ور ب“ کی آ پشن تسلیم نہیں کی جائے گی حالانکہ وہ بھی مستقبل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اسی طرح سے ایسے رائٹنگ (مضمون نویسی) میں شاذ ہی تخلیقی انداز کو سراہا جاتا ہے۔ کبھی جہادی تصورات تو کبھی دہشتگردی اور آج کی دنیا کا من پسند ٹاپک ماحولیات۔ یہ ہماری ہاں بی اے لیول کے لئے سب کا فیووریٹ گیس شمار ہوتے ہیں۔ ہمارے بورڈز یا یونیورسٹیاں سب ہی رٹا سسٹم کو پروموٹ کرتی ہیں اس کے مقابلے میں او لیول یا اے لیول کے امتحانات میں طلباء کو اپنے خیالات بیان کرنے کی زیادہ آزادی ہوتی ہے۔ نتیجے میں ان میں اعتماد کا درجہ کافی بلند ہوتا ہے۔
طلباء میں اعتماد کے حوالے سے ٹیچرز کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ہمارے جیسے طاقت پرست معاشرے میں بہت کم لوگوں کی ترجیح شعبہ تعلیم ہوتا ہے۔ لہذا ٹیچرز بن جانے کے بعد بیشتر لوگ اپنے عہدے کو مادی ترقی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لیے سرکاری یا پرائیویٹ نوکری کے بعد ایک اکیڈمی کا قیام بہت اہم ہوتا ہے۔ طلباء کو ان اکیڈمیوں کی جانب دھکیلا جاتا ہے۔ ذاتی تنخواہوں کے علاوہ ان سے حاصل شدہ آمدن آج کے ٹیچر کو نمایاں طور پر مالدار تو بنا دیتی ہے مگر کارکردگی پر بات کرنے کی مناہی ہے۔
سمیسٹر سسٹم نے دنیا میں شاید اپنی افادیت ثابت کی ہو، ہمارے ہاں تو یہ اساتذہ کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ہر جائز ناجائز بات منوانے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے اتنے واقعات ہیں کہ جن پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ اسی ضمن میں ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ خود طلباء اس بات کو سمجھ چکے ہیں اور اکثر وہ بھی ٹیچرز کو خوش کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ سبھی ایسا کرتے ہیں لیکن طلباء و اساتذہ کی ایک واضح تعداد ان سرگرمیوں میں ملوث ہوتی ہے۔ اس تکلیف دہ صورتحال کا آخری نتیجہ تعلیمی معیار کی موجودہ گراوٹ ہے۔
اگر ہم تعلیم کو ایک پھول سے تشبیہ دیں تو نصاب تعلیم اس کی ایک اہم پنکھڑی ہے۔ ہمارے ہاں کا ازکار رفتہ نصاب تعلیم اس حوالے سے ایک مرجھائی ہوئی پنکھڑی ہے۔ یہ طلباء کی حقیقی صلاحیتوں کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ ہمارے ہاں ٹکنیکل ایجوکیشن (پنجاب) کا انگریزی کا نصاب اس حوالے سے بہترین مثال ہے جس میں ستر کی دہائی کا لکھا مضمون ”چائنا وے ٹو پراگریس“ ابھی تک پڑھایا جاتا ہے جس میں بیان کردہ حقائق سے موجودہ چائنا کئی نوری سالوں دور ہے۔
اسی طرح ڈیجیٹل عہد کے طالب علم کو ”یوزنگ دا سائنٹفک میتھڈ“ میں بتایا جاتا ہے کہ کیسے سائنس کی وجہ سے گلیاں پکی ہو گئی ہیں۔ تقریباً یہی حال سائنسی نصاب کا ہے جس سے ہماری روزمرہ زندگی کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔ بیالوجی کے جدید تصورات ہمارے خود ساختہ اخلاقی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ فزکس میں بھی تقریباً یہی صورتحال ہے۔ کمپیوٹر کے طلبا کے لیے مختص کمپیوٹر نسلوں (جنریشن) پرانے ہیں اس پر طلباء کا ہجوم اور محدود کمپیوٹرز۔ ایسے میں کوئی نئی بات کہاں سے سوچے گا؟ اور اگر غریب سوچ بھی لے تو بیان کرنے کی جرات کہاں سے لائے گا اور اس کے نتائج کو بھگتنے کا حوصلہ کتنوں میں ہے؟
اس حوالے سے نئے دور کے چیلنجز ہمیں مزید پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ جینیٹکس، سپیس سائنس، جینڈر ایشوز، سائبر کرائم، جنسی ہراسانی، انسانی حقوق وغیرہ جیسے ابھرتے معاملات کے سامنے ہمارا نصاب، ہمارا استاد اور ہمارا طریقہ امتحانات بری طرح پسپا ہو رہے ہیں۔ اس لمحہ موجود میں ہمارے پاس مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔ بھلے ہم خود کو پہلی دنیا کے درجے پر نہ لا سکیں لیکن کم از کم ہم خود کو دوسری یا تیسری دنیا (اس وقت ہم بہت سے حوالوں سے تیسری دنیا کے بھی تیسرے درجے میں ہیں ) کے درجے پر تو لانے کی سعی کریں۔
سیاست سے ہٹ کر دیکھیں تو انڈیا (بی جے پی کی تنگ نظری کے باوجود) اور بنگلہ دیش تمام تر مسائل کے ہوتے ہوئے تعلیمی محاذ پر بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں جو بالواسطہ ان کے معاشی اعشاریوں میں بہتری کا سبب بن رہی ہے۔ نوے کی دہائی کے شروع میں جب وزیر اعظم بے نظیر مختلف بنکوں سے کمپیوٹر لٹریسی سنٹرز قائم کروا رہی تہیں تب انڈیا حیدرآباد اور بنگلور میں سائبر شہر آباد کر رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپ ہو یا امریکہ ہر جگہ ہندوستانی شہری آئی ٹی کی صنعت کے بڑے نام ہیں۔
آج کا پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ہمیں ہر میدان میں اپنی ناکامیوں کا غیر جذباتی تجزیہ کر کے نئے رویوں کی ضرورت ہے۔ ماضی کے تصوراتی غیر حقیقی کرداروں سے آگے جا کر حقیقی ہیروز کی بات کرنا ہو گی۔ لیکن اگر ہم واقعی آگے کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے تعلیمی میدان میں حقیقی تبدیلی کی طرف جانا ہو گا۔ فرسودہ طرز امتحانات اور فرسودہ ترین نصاب سے جان چھڑوا نا ہو گا۔ حقیقی زندگی اور درسگاہوں میں دی جانے والی تعلیم کے درمیان ایک جاندار رشتہ استوار کرنا ہو گا۔ یہ راستہ لانگ ٹرم سہی مگر آگے جا کر یہی راستہ ہمیں بہتری سے ہمکنار کرے گا۔


سر ، بہت بہتر ین طریقے سے آپ نے بوسیده نظام تعلیم کی وجہ سے درپیش مسائل سے پرده کُشائی کی ہے. آپ کے خیالات اور تجربات سے سو فیصد اتفاق رکھتا ہوں . اور یقیقناً تعلیمی میدان میں ا نقلاب کی ضرورت ہے . اور ایسے نظام میں تبدیلی شارٹ ٹرم میں تو ناممکن سی بات ہے ، البتہ جیسے آپ نے کہا کہ لانگ ٹرم سے ہی حقیقی تبدیلی ممکن ہے ، اور مجھے لگتا ہے شاید بدقسمتی سے شارٹ ٹرم تو دور کی بات مگر لانگ ٹرم میں بھی حقیقی تبدیلی کے لیے نہ کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور نہ کی جائے گی ، تعلیمی نظام ہو یا دوسرے شعبے یہ یونہی چلتے رہیں گے جیسے چلے آ رہے ہیں.