ڈی چوک سے بھیرا تک: سوال ایک ہی ہے (2)۔


یہ تو طے ہے کہ گزشتہ کئی برسوں پر محیط متعدد معاشی اور معاشرتی عوامل کی بنا پر پاکستان کی مڈل کلاس بدل چکی ہے۔ سوال مگر یہی تھا کہ کیا معاشرے میں ظہور پذیر ہونے والی اس تبدیلی کی حدت اب تک نچلے طبقات تک بھی پہنچی ہے یا نہیں۔ بیس سیٹوں پر ہونے والے انتخابات نے بہت صراحت کے ساتھ ہمیں بتایا ہے کہ صرف بڑے شہروں تک محدود متوسط طبقے کے اندر ہی نہیں، نسل در نسل حکمرانی کرنے والے خاندانوں، الیٹ طبقات اور ان سے منسوب مالی بد عنوانیوں کے خلاف نفرت قریہ قریہ گلیوں بازاروں میں اتر چکی ہے۔ بارشوں میں، کیچڑ میں، آگ برساتے موسم میں، ہر طبقے کے پاکستانی عمران خان کے جلسوں میں امنڈتے چلے آئے۔ عمران خان تو محض ایک فرد کا نام ہے جسے حالات کی بے کراں لہروں نے یوں اچھالا کہ محرومیوں کے مارے انسانوں نے اسے اپنا رہبر و رہنما مان لیا۔ اب عمران خان ہوں نہ ہوں، بڑھتے طوفان کا رخ موڑنا کسی کے بس کی بات نہیں۔

یہ سمجھتے ہیں، مڈل کلاسیوں کو دھمکانا ریاست کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ لبرٹی چوک میں اکٹھا ہونے والوں پر ایک چلتی ویگو سے ہوائی فائرنگ کر کے سراسیمگی طاری کی جا سکتی ہے۔ رات کے پچھلے پہر چار وردی پوش دروازے کو کھٹکھٹا دیں تو پورے گھرانے کو خاموش کیا جا سکتا ہے۔ کسی ایک تین ستارہ ریٹائرڈ جرنیل کی پنشن اور مراعات ضبط کر لی جائیں تو باقی ویسے ہی سمٹ کے بیٹھ جائیں گے۔ پوش علاقوں میں بلند تختوں پر واقع پر سکون محلات کے سکوت میں تلاطم یوں بھی کسے پسند ہے؟ ہما شما کس کھیت کی مولی ہیں۔ ریاست اپنی بے محابہ طاقت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ الیٹ گروہوں کو چھوڑ کر مگر پاکستانی اب بے کراں ہیں۔ عمران خان ایک دیوانہ سر پھرا ہے۔ اسلام آباد کے سرکاری گھر میں اصطبل کھلا۔ معزز افراد ہاتھوں میں مشروبات لئے ہنستے کھیلتے ویڈیوز بنا بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے رہے۔ عمران خان مرکز، ایک صوبائی اور دو ریاستوں میں حکومتیں رکھنے کے باوجود گلی گلی دہائی دیتا رہا۔ ہمیں آپ کو اخلاقیات یاد کرواتا رہا۔ زرداری صاحب کھلکھلاتے ہنستے رہے۔ عوام نے اس کے بیانئے کو ہاتھوں ہاتھ تو لیا مگر پورا سسٹم اس کے خلاف تھا۔ پورے سسٹم کو وہ چوٹ لگا رہا تھا۔ پورے کا پورا سسٹم آج بھی اس کے خلاف کھڑا ہے۔

افسوس تو ہمیں ان جمہوریت پسند لبرلز کی خاموشی پر ہے۔ انہی میں سے اکثر ہم جیسوں کو تاریخ، فلسفے اور ادب کی پٹاریوں سے جمہوریت، انسانی حقوق اور اعلیٰ انسانی اقدار کے رنگا رنگ چورن نکال کر دکھاتے تو ہم جیسے انگلیاں منہ میں داب لیتے۔ ان کی علمیت اور اصول پسندی سے ہم مرعوب ہی جئے۔ قانون کی حکمرانی اور شخصی آزادیوں کا درس جو دیتے نہیں تھکتے تھے، بالکل مگر ہم جیسے ہی نکلے۔ سیاست میں، انصاف کے سیکٹر میں، میڈیا میں پائے جانے والے زعم برتری میں گرفتار چڑچڑے خود پسند، باہم ستائش کے عادی، نفرت میں ڈوبے مغرب سے مرعوب اور عام پاکستانیوں کو حقارت سے دیکھنے کا عادی لوگ۔ اب مڈل کلاس پاکستانیوں کو حقارت سے دیکھ رہے ہیں۔

وہی پاکستانی جو خواب دیکھتے ہیں۔ انہی کے خلاف لکھ رہے ہیں، عمر بھر جو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو پالتے ہیں، پاکستانی سکولوں یونیورسٹیوں میں تعلیم دلواتے ہیں۔ پھر انہی کو بے روزگار دیکھتے ہیں۔ جن کے زخموں پر آکسفورڈ میں ڈگریاں پانے والے نودولتیوں کی تصویریں پوسٹ کر کر نمک پاشی کی جاتی ہے۔ ابھی کل ہی ایک صحافی ہتھکڑیاں پہنے ایک عدالت سے دوسری عدالت گھومتا رہا۔ کسی نے انسانی حرمت اور زبان و قلم کی آزادی کی دہائی نہیں دی۔ انگریزی اخبار نے تو کوئی اداریہ بھی نہیں لکھا۔ انصاف کے مندر میں سے کسی نے تڑپ کر اپنے کسی منشی کو کوئی خط بھی ڈکٹیٹ نہیں کیا۔ ایاز امیر کسی اور معاشرے میں ہوتا تو اس عمر کے اس حصے میں میں کچھ اور نہیں تو ایوان بالا کا اعزازی رکن مقرر کر دیا گیا ہوتا۔

پوری مڈل کلاس اب سسٹم سے نبرد آزما ہے۔ وقت مگر بدل چکا ہے۔ کیا کبھی ضمنی انتخابات میں بھی کسی نے اس قدر جوش اور جذبے کے ساتھ ووٹ ڈالے تھے؟ کیا کبھی اس بڑی تعداد میں عورتیں اور نوجوان تڑپ کر یوں گلیوں بازاروں میں نکلے تھے؟ فضل الرحمٰن جو بھی کہیں، بھکر اور مظفر گڑھ جیسے شہروں اور دور دراز قصبوں میں بھی انسانوں کی رگوں میں خون اب جوش مار رہا تھا۔ خون تو ہم گھر بیٹھے ہوؤں کے دماغوں کی شریانوں میں بھی دھک دھک کر رہا ہے۔ یہ طے تھا کہ صوبہ ایک خاندان کے پاس رہے۔ محض ایک شخص نے جیسے سبھی کو بے لباس کر دیا ہو۔ اسی رات دیر گئے، موضوع پر الفاظ ترتیب میں بیٹھنے سے انکاری رہے۔ انگلیوں کے پوروں سے خون ٹپکتا رہا۔ کہا تھا، خان صاحب، پیسہ پھینکیں، کس معاشرے کو اخلاقیات کا درس دے رہے ہیں۔ چوہدری شجاعت کو مگر پیسے کی کیا حاجت ہے؟ چوہدری صاحب کی وفاداریوں کو مگر ہم اب عشروں سے جانتے ہیں۔

مرکز میں ایک سو سے کم نشستوں والی پارٹی حکمران ہے۔ قائد حزب اختلاف نے آج ہی ٹویٹ کیا ہے، ’ایک بندہ اور ٹوٹا، ایک زرداری سب پر بھاری‘ ۔ پنجاب میں ایک بار پھر وہی ہوا جو سینٹ میں ہوا، جو بلوچستان کی اسمبلی میں ہوتا چلا آیا ہے۔ کل جو ووٹ کو عزت دینے کی صدائیں دیتے تھے، آج پنجاب میں وہی کھیل کھیلا گیا تو وہی چوہدری شجاعت کو ظہور الٰہی کا بیٹا ہونے پر داد دے رہے ہیں۔ مریم نواز نے تو علی الصبح ہی کہہ دیا تھا کہ کھیل اب وہی ہو گا جو نون لیگ سے بہتر کوئی نہیں کھیلتا۔ کھیل کا سکرپٹ ایک روز قبل لکھا جا چکا تھا۔ کھیل کے کھلاڑی سر شام ہی میدان میں اتر چکے تھے۔ نون لیگ نے جو اعتراض اٹھانے تھے، سب کو پہلے سے معلوم تھے۔ لفظ بلفظ خاص صحافیوں کی زبان پر تھے۔ کمال فیاضی سے زین قریشی اور دوسرے صاحب کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی گئی۔ تحریک انصاف والوں نے بھی ڈیسک بجائے۔ ایک خط کی باز گزشت تھی، جو صرف ڈپٹی سپیکر کو ملا۔ ووٹنگ کے عین بعد جو ان کی جیب سے برآمد ہوا۔

آئین کی کتاب میں درج متعلقہ شق اور حال ہی میں ایک صدارتی ریفرنس کے جواب میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا، دونوں سادہ انگریزی میں لکھے گئے ہیں۔ لفظ بلفظ پڑھ کر سنائے گئے۔ ڈپٹی سپیکر صاحب نے مگر کہا، ’میں نہیں مانتا۔‘ دکھائی تو یہی دیتا ہے کہ کھیل کے قواعد و نتائج طے شدہ تھے۔ افسوس کہ کسی اور نے نہیں خود سیاست دانوں نے اپنے ہاتھوں خود کو بے توقیر کیا۔ پاکستانی ایک بار پھر سڑکوں پر سراپا احتجاج ہو گئے۔ سپریم کورٹ کے دروازے نصف شب کھل گئے۔ جو بھی فیصلہ آتا ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ فی الحال تو ریاست نے رینجرز کو طلب کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ سینوں میں دہکتی آگ کو آگ سے بجھانے کا ارادہ ہے۔

 

Facebook Comments HS