دھی، دھیر اور دھیدو رانجھا
ہیر وارث شاہ پنجابی زبان و ادب کا ایک ایسا شاہکار ہے جس میں ایک جہان معنی پوشیدہ ہے۔ آپ جب بھی اس بحر بے کنار کی غواصی کرتے ہیں، اگر کوئی بیش قیمت موتی نہیں تو سیپ ضرور آپ کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ ایک ایسا سیپ جس میں معنی و مطالب کے جوہر چھپے ہوتے ہیں اور پڑھنے والا وارث شاہ کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
بات چلی تھی رانجھے کے نام کو لے کر۔ ”دھیدو“ ، رانجھے کا اصل نام تو ہے، لیکن اس لفظ کے معنی کیا ہوئے؟ کسی سینہ گزٹ رکھنے والے نے اس لفظ کے معنی یہ بتائے کہ یہ سب سے چھوٹے بچے بمعنی آخری بچے، کہ جسے پنجابی میں ”پیٹ گھروڑی“ کہتے ہیں، کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مجھے اس بیان پر تحفظات ہیں اور ان تحفظات کی وجوہات بھی ہیں۔
یہ بات تو متفق الیہ ہے کہ رانجھا بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا لیکن کیا وہ واقعی پیٹ گھروڑی (آخری بچہ) بھی تھا؟ کیونکہ موجو چودھری کے بیٹے ہی نہیں دو بیٹیاں بھی تھیں۔ پھر وہ بند جس میں یہ لفظ سب سے پہلے آتا ہے، وہ مقولہ شاعر یعنی وارث شاہ کا بیان ہے، کسی کردار کا مکالمہ نہیں۔
سب سے پہلے یہ لفظ (نام) اس تعارفی بند میں آ جاتا ہے جو ہیر کی ابتدا میں نواں بند ہے اور رانجھے کے باپ کا تعارف ہے۔ بند کچھ یوں ہے۔
موجو چودھری پنڈ دی پانڈ والا، چنگا بھائیاں دا سردار آہا
اٹھ پتر دو بیٹیاں تس دیاں سن، وڈا درب تے مال پروار آہا
بھلی بھائیاں وچ پرتیت اس دی، منیاں چوترے اتے سرکار آہا
وارث شاہ ایہہ قدرتاں رب دیاں نیں، دھیدو نال اوس بہت پیار آہا
ترجمہ:
موجو چوہدری گاؤں کا ذمہ دار فرد اور اپنی برادری میں سردار تھا
اس کے آٹھ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، وہ مالدار، صاحب ملک اور عیالدار تھا
بھائیوں میں اس کی بہت قدر تھی اور وہ چوپال کا سردار سرکار تھا
وارثؔ شاہ یہ خدا کہ قدرت ہے، دھیدو (رانجھے ) کے ساتھ اسے بہت پیار تھا
یہاں تک پہنچنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ رانجھا اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس کی دو بہنیں بھی تھیں۔ موجو چودھری عیالدار تھا، اس کو اولاد کی کوئی کمی نہ تھی۔
لفظ دھیدو کے معنی پر غور کرنے سے پہلے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ وارث شاہ جیسا کلاکار ایک کردار تخلیق کر رہا ہے۔ وہ اس کردار کو کیسا نام دے گا؟ کون وارث شاہ؟ جسے پنجابی زبان کا شیکسپئیر اور کیٹس مانا گیا اور جسے ہیر جیسا غیر فانی اور عالمی سطح کا ادب پارہ تخلیق کرنے پر شعر کا پیغمبر، سخن کا وارث، مہا کوی، ولی اللہ، عارف باللہ اور عظیم فنکار جیسے القابات سے یاد کیا گیا۔
بعض محققین کے نزدیک رانجھے کا اصل نام نہ تو دھیدو تھا اور نہ ہی رانجھا، بلکہ مراد بخش تھا۔ تو دھیدو پھر کیا ہوا؟ کیا یہ کوئی عرفی نام ہے؟ لاڈ پیار سے دیا گیا نام ہے؟ عرفی نام ہے، تب تو ضرور اس کے کچھ معنی ہونے چاہئیں کیونکہ عرفیت میں یا تو بچے کی کوئی نہ کوئی خصوصیت ہوتی ہے یا پھر اس کے تئیں ماں باپ یا عرفیت دینے والے کی طرف سے کوئی نہ کوئی جذبہ کارفرما ہوتا ہے، چاہے وہ جذبہ محبت سے لبریز ہو یا نفرت پر مبنی ہو۔
سب سے پہلے رجوع کیا ہیر کے مختلف مرتبین سے۔ کم از کم چھ نسخے دیکھے، جس جس میں مشکل الفاظ کے مترادفات ملے، اس اس میں دھیدو کا مطلب صرف اس قدر ہی ملا، ”رانجھے کا اصلی نام“ ۔ اب کیا کریں؟ نام ہے اور عرفی نام ہے تو اس کا کوئی مطلب بھی ہو گا، بے معنی تو ہو نہیں سکتا۔ اگرچہ بے معنی نام بھی بہت ملتے ہیں، لیکن یہ کہہ کر آگے نہیں بڑھ سکتے کہ بے معنی نام ہے۔ وہ بھی سخن کے وارث کی کتاب میں اور پھر مرکزی کردار کا نام؟
کچھ غور و خوض کرنے پر محسوس ہونے لگا کہ اس لفظ کا مطلب بھی اسی بند میں موجود ہے جو اوپر دیا گیا ہے۔ اس بند پر غور کرتے کرتے ذہن میں ایک خیال کوندا۔ کہیں یہ نام دو الفاظ، ”دھی“ اور ”دو“ کا مرکب تو نہیں؟ اگر یہ مان لیا جائے تو ہمیں دھی کے معنی دیکھنا ہوں گے۔ دھی پنجابی زبان میں بیٹی کو کہتے ہیں۔
یہاں تک پہنچنے کے بعد ایک آواز آئی۔ ”چونکہ موجو چودھری کے بیٹے ہی بیٹے پیدا ہو رہے تھے، اس لیے اس نے اس آخری چھوٹے بیٹے کا نام“ دھی دو ”رکھ کر اللہ سے گزارش کی کہ اب بیٹی عنایت ہو۔ اگر اس بیان کو درست مان لیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ رانجھے کی بہنیں اس سے چھوٹی تھیں۔ چونکہ رانجھا بھی غیر شادی شدہ ہے، یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ چھوٹی بہنیں بھی غیر شادی شدہ رہی ہوں گی اور وہ اسی گھر میں ہونی چاہئیں اور ان کا قصے میں ذکر ہونا چاہیے۔
جبکہ قصے میں رانجھے کی بہنوں کی بابت کچھ نہیں ملتا۔ اس کا مطلب وہ رانجھے سے بڑی تھیں اور بیاہ کر اپنے گھروں کو سدھار چکی تھیں۔ موقع پر موجود نہیں تھیں، اس لیے باپ کے مرنے کے بعد رانجھے کا اپنے بھائیوں اور بھاوجوں کے ساتھ مکالمہ تو ملتا ہے، لیکن کسی بہن کی کوئی بات نہیں آتی۔ ان وجوہات کی بنا پر“ دھی دو ”کے معنی کی بابت اس خیال کو رد کرنا پڑا۔
ایک اور آواز آئی ”دو بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والے آخری بیٹے کو دھیدو کہتے ہیں۔“ یہ ایک مضحکہ خیز خیال تھا جو اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے یک سطری ترجمے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اس بیان کو اس لیے بھی رد کرنا پڑا کہ ہیر کے تحقیقی ایڈیشنز بشمول مرتب شریف صابر، اکرم شیخ، تنویر بخاری، شیخ عبدالعزیز وغیرہ میں کسی نے بھی اس معنی کی طرف اشارہ نہیں کیا۔ ان مرتبین میں سے جس جس نے دھیدو لفظ کا مترادف لکھا، اسی قدر ہی لکھا کہ یہ رانجھے کا اصلی نام ہے۔
لسانیات کے ماہر اور کھوج کار سردار محمد خان کی مرتب کردہ پنجابی لغت اور جمیل احمد پال صاحب کی مرتب پنجابی کلاسیکی لغت سے رجوع کیا، یہی معنی برآمد ہوئے، ”رانجھے کا اصلی نام“ ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دھیدو لفظ کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ ”دو بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والے آخری بیٹے کو دھیدو کہتے ہیں۔“ تو ان تمام مرتبین میں سے کسی ایک نے بھی وہ درج کیوں نہیں کیے؟ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ یہ یک سطری جملہ سامنے کے الفاظ ہیں جو اولین بیان کی گئی تفصیلات سے فوراً ذہن میں آتے ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
اب ایک ہی راہ بچ رہتی ہے کہ لفظ دھی کے کوئی اور معنی نہ ہوں؟ سردار محمد خان کی مرتب پنجابی لغت میں اس لفظ کا ایک اور معنی ملتے ہیں۔ دھی بیٹی تو ہے ہی، یہی لفظ ”دھیری“ کا مخفف اور مادہ بھی ہے۔ دھیری، آنکھ کی پتلی کو کہتے ہیں جس کا کام آنکھ میں داخل ہونے والی روشنی کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے اور گردوپیش کی روشنی کے حساب سے یہ پتلی یا تو پھیلتی ہے یا سکڑتی ہے۔ اس لیے اسے آنکھ کے نور سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اس لفظ کے سہارے بات کچھ روشن ہونا شروع ہوئی تو مزید تحقیق کی۔ میاں چراغ اعوان کی ہیر میں رانجھے کے لیے لفظ دھیرن (دھیر کی جمع، دونوں آنکھوں کی پتلیاں ) استعمال ہوا ہے۔
برسبیل تذکرہ، ایک تحقیق کے مطابق جب آپ کا کوئی بہت پیارا آپ کے سامنے آئے تو آنکھ کی پتلیاں پھیل جاتی ہے۔ آنکھ کی پتلی پر اردو زبان میں شعر بھی ملتے ہیں اور لغات میں اس کے معنی عزیز ترین شے کے بتائے گئے ہیں۔ اگر ہم یہاں تک سہولت سے پہنچ گئے ہیں تو باقی بات آسان ہو جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ لفظ دو الفاظ دھی اور دو کا مرکب ہے جو وارث شاہ نے اپنے اس لازوال کردار کے لیے باپ کی طرف سے تخلیق کیا کیونکہ بند میں یہ بیان ہے کہ دھیدو کے باپ کو دھیدو کے ساتھ بے حد پیار تھا۔
ان طالب علمانہ معروضات کے بعد اب لفظ دھیدو کے معنی یہ متعین کیے جا سکتے ہیں۔ دونوں آنکھوں کا نور، آنکھ کی پتلی، عزیز ترین شے، آنکھ کا تارا، پیارا، عزیز، لاڈلا۔
ایک آخری بات، غالباً دھی (بیٹی) اسی لیے دھی ہے کہ وہ بھی ماں باپ کی آنکھ کا نور ہوتی ہے۔ بیٹی کے لیے ایسا خوبصورت لفظ کسی اور زبان میں نہیں ملے گا۔ پنجابی زبان کی فصاحت پر سر دھنیے اور اس پر ناز کیجیے۔



سر آپ نے رانجھے کی تاریخ پر کافی عرق ریزی کی ہے –