جنگل بھلا یا پاکستان؟
” سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے“
مجھے امید ہے ہر با ذوق اور حساس دل رکھنے والوں نے زہرا نگاہ کی نظم دستور سن اور پڑھ رکھی ہوگی اور بے شمار لوگوں کو تو یہ نظم زبانی یاد بھی ہوگی۔ کیوں کہ ہر شخص کی تمنا ہے کہ پاکستان میں بھی زہرا نگاہ کی نظم والا جنگل کا دستور نافذ ہو جائے۔ جس میں لکھا ہے کہ ”سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا“ مگر پاکستان ایسا ملک ہے جہاں کے سیاست دان اور مقتدر شخصیات پیٹ میں گنجائش ختم ہو جانے کے بعد بھی شکار کرنا بند نہیں کرتے۔ جب، جہاں اور جیسے موقع ملے عوام، زمین، خوراک اور پیسوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ حملے کے بعد ہاتھ آیا مال ملک سے باہر چھپا آتے ہیں اور پھر لوٹ مار میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ نہ ان کا پیٹ بھر رہا ہے اور نہ ان کی بھوک ہی ختم ہو رہی ہے۔
جنگلوں میں ایسا نہیں ہوتا ”سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا“
آج ایک طرف تو ملک معاشی طور پر قرض، مہنگائی میں سر تک ڈوبا ہوا ہے تو دوسری طرف حالیہ برسات کے نتیجے میں بلوچستان سمیت ملک کے کئی علاقے سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جب کہ جج، جرنیل، جرنلسٹ اور سیاست دان کے آپسی جھگڑے اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی مستیاں ختم نہیں ہو رہی ان دور دراز علاقوں میں قاتل سیلابی ریلا سیکڑوں کی تعداد میں معصوموں کی زندگیاں نگل چکا ہے۔ ”سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بیے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے، تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں“ مگر پاکستان میں سیلابی ریلے میں پھنسے اور مرنے والوں سے حکمرانوں کی جانب سے کوئی ہمدردی کوئی اپنائیت دکھائی نہیں دے رہی۔ سب اسمبلی، عدالت اور اور اقتدار کے سانپ سیڑھی کے کھیل میں مصروف ہیں۔
سوشل میڈیا پر روز ہی سیلاب میں ڈوب کر مرنے والے بوڑھے، جوان، خواتین اور چھوٹے جھوٹے معصوم بچوں کی لاشیں نظر آ رہی ہیں۔
مگر جنگل میں ایسا نہیں ہوتا ”ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں ، تو مینا اپنے گھر کو بھول کر، کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے“ مگر ہمارے یہاں عوام کے برباد ہونے، عوام کے گھر تباہ ہونے اور عوام کے مرنے کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ آخر میں سیاسی فائدے کے لیے دو بول کہہ دیے جائیں۔
سیلابی علاقوں کی ایسی ایسی تصاویر اور ویڈیوز نظر آ رہی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر کوئی بھی حساس دل رکھنے والا انسان لرز اٹھے، لوگ رات، دن پانی میں رہنے پر مجبور ہیں ایک شخص اپنی گھر کی خواتین بچوں سمیت پانی میں پھنسا ہے اور قرآن ہاتھ میں اٹھا کر مدد مانگ رہا ہے۔ دوسری ویڈیو میں ایک ماں رو رہی ہے کہ ”ہمارا کچھ نہیں بچا، ہمارے گھر بہہ گیا، ہمارے مال مویشی ختم ہو گئے، میرے بچے مر گئے“ ۔
”سنا ہے گھونسلے سے جب کوئی بچہ گرے تو، سارا جنگل جاگ جاتا ہے“
مگر وہ جنگل ہے ہمارے ملک میں ایسے بے شمار حادثات ہوئے مگر کسی کی آنکھ نہ کھل سکی۔
یہ ایک دو تین کہانیاں ہیں جو نظر آ گئی ایسی لاتعداد کہانیوں کے کردار اور ہیں جو خاموشی سے سیلاب کی نظر ہو گئے۔ پر جنگلوں میں کسی جاندار کی موت اتنی خاموشی سے نہیں ہوتی ”سنا ہے گھونسلے سے جب کوئی بچہ گرے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے“ جب کہ پاکستان میں ایسا لگتا ہے کہ سب ابدی نیند سو چکے ہیں یا بار بار کے حادثات سے اس قدر مانوس ہو گئے ہیں کہ اب انہیں کچھ بھی برا نہیں لگتا، کوئی انہیں مار دے، لوٹ لے، مہنگائی بڑھا دے، ٹیکس لگا دے، ان کے بچوں کا ریپ کر کے انہیں مار دے، ان کی خواتین کی عزت پامال کرے اب انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
”خطرناک یہ نہیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، ان کے مال اسباب، آل اولاد، زمین جائیداد لوٹی جا رہی ہیں خطرناک یہ ہے کہ انہیں اس کا افسوس نہیں ہے“ یعنی کہ عوام یہ طے کر کے بیٹھ گئے ہیں کہ ”اس ملک میں پیدا ہوئے ہیں تو ایسا تو ہونا ہی ہے اس میں حیران ہونے والی کون سی بات ہے۔ موبائل لے کر راستے پر نکلوں گے تو چھن ہی جانا ہے جب کوئی ڈاکو تم سے موبائل مانگے تو مزاحمت مت کرنا خاموشی سے اسے دے دینا کیوں کہ جان ہے تو جہاں ہے۔ کوئی لڑکی اپنی سند کے کپڑے پہن کر باہر نکلے گی تو ریپ لازمی ہو گا بچنا ہے تو گھر میں رہے۔ رات میں گھر سے باہر نکلی ہی کیوں، دن میں بازار، دفتر، اسکول کالج گئی ہی کیوں۔ ریپ تو ہو گا مرد انہیں ہراساں نہ کریں تو اور کیا کریں۔
اپنے بچوں کا خود خیال رکھیں ریاست کچھ نہیں کرے گی جب انہیں کوئی ریپ کر کے مار دے گا۔
اس وقت ملک برباد ہے دیوالیہ ہونے جا رہا ہے قرض اور مہنگائی تلے دب رہا ہے، سیلاب میں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، پانی انہیں پل پل مار رہا رہا ہے۔ اس وقت پورے ملک کو اپنے ذاتی اختلاف بھول کر ایک ہوجانا چاہیے تھا مگر تمام جج، جرنیل، سیاست دان، صحافی، اینکرز، بیوروکریسی اور سیاسی عوام آپس میں گتھم گتھا ہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں کہوں تو مستیاں کر رہے ہیں۔
جب کہ زہرا نگاہ کے مطابق جنگلوں کے دستور میں ”ندی میں باڑھ آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو، کسی لکڑی کے تختے پر، گلہری، سانپ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں“ مگر پاکستان میں جب باڑھ آ جائے، کوئی دھماکا ہو جائے، کہیں زلزلہ آ جائے، کوئی غیر جمہوری طریقے سے ملک پر قابض ہو جائے تو دیکھا گیا ہے کہ لوگ آپس میں مزید بٹ جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں دشمن پیدا کیے جاتے ہیں ایک مذہبی فرقے انتہا پسندوں کی وجہ سے عالمی دنیا کا دباؤ بڑھتا ہے تو اس فرقے کو عارضی طور پر خاموش کر کے دوسرا فرقے کے انتہا پسندوں کو طاقت ور بنا دیا جاتا ہے۔
ایک سیاسی پارٹی حقیقت پسندی اور جمہوریت کی جانب قدم بڑھانے لگتی ہے تو اسے سازشوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کے تحت منظر سے ہٹا کر دوسری لانچ کردی جاتی ہے دوسری کے مدمقابل تیسری پیدا کردی جاتی ہے۔ پاکستان میں عقل مند سیاست دان کو موقع ہی نہیں دیا جاتا کیوں کہ عوام میں سیاست دان مسخرے، بے وقوف اور چور مشہور ہوں گے تب ہی تو وہ سمجھدار اور ڈسپلن والے لوگوں کی ڈیمانڈ بڑھے گی جن کے بیل بجاتے ہی 30 سیکنڈ میں روٹی لے کر ملازم حاضر ہوجاتا ہے۔
جنگل میں آفت آ جائے تو ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کی خوراک جانور ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ مگر پاکستان کے سیاسی تو سیاسی غیر سیاسی عوام بھی بھوک سے، بے روزگاری سے تنگ ہو کر یا سیلابی پانی سے مر رہی ہے۔ یہ پاکستان کی وہ پبلک ہے جنہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ملک میں حکومت کس کی ہے، کون صدر ہے کون وزیر اعظم۔
آخر میں زہرا نگاہ اپنے خداوند سے نہایت درد بھری التجا کرتی ہیں کہ
”خداوند جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف و اکبر
ہمارے شہر میں اب
جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر ”
جہاں کچھ غلط ہوتا ہے یا کوئی طاقت ور اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ جنگل کا قانون بنایا ہوا ہے مگر زہرا نگاہ کے مطابق جنگل کا قانون ہمارے ملک کے قانون سے کئی گنا بہتر ہے اور اسے ہی نافذ ہونا چاہیے۔
کاش پاکستان کے کسی کونے میں کوئی آفت آئے تو تمام فریقین آپس میں اختلاف بھول کر ایک تختے پر، گلہری، سانپ، چیتا اور بکری کی طرح اکٹھے ہوجائیں اور ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کریں اور عوام کے دکھ درد میں ان کی مدد کو آگے بڑھیں۔


