مولوی غلام حسین کی بیٹی
شادی ہوئی تو لگا جیسے میں چوڑی چمارن مسلمانوں کے گھر آ گئی ہوں۔ مانو ان پاک لوگوں کے درمیان میری حقیر ذات کے بھاگ جاگ گئے۔ میری ذات کی خوش بختی جو ان کے خوبصورت برتنوں میں کھانا نصیب ہوا۔ کم بختی تو ان بیچاروں کی آئی جو مجھ کم ذات کو بیاہ لائے، کہ میری کم مائیگی ان کی شان گھٹانے کو کافی تھی۔ کبھی کبھی میں سوچتی میری موجودگی ان کے لیے آزار تھی تو مجھے بیاہ کر کاہے کو لے آئے؟
چاہے وہ مصر کا بازار ہی کیوں نہ ہو حسن ہمیشہ سے بکتا آیا ہے۔ مولوی غلام حسین کی بیٹی سر بازار نہ سہی لیکن بک گئی۔ باپ کی غربت نے بیٹی کے حسین خواب بیچ ڈالے۔ بیٹے کے عیب کو امارت کی چادر نے ڈھانپ لیا۔
یہاں مٹھائیاں تھیں، مبارک سلامت کا شور تھا، میری قسمت پر رشک تھا اور میرے جسم پر چڑھے سونے جواہرات سے حسد۔ آنسو تھے تو میری ماں کی آنکھوں میں اور بے بسی باپ کی آنکھوں میں۔ مجھے وداع کرتے وقت میرا باپ کہیں چلا گیا تھا، شاید مسجد کے حجرے میں ہو، لیکن کوئی اسے ڈھونڈنے نہیں گیا۔ کوئی دیکھنے جاتا تو وہ ضرور وہاں مل جاتا۔ لیکن غریب کا جنازہ بنا بین کے چپ چاپ اٹھا لیا جاتا ہے یہ تو پھر ڈولی تھی، باپ کے بنا ہی اٹھا دی گئی۔ کہ دولہا کے اقارب جس میں اس کا اکھڑ زمیندار باپ، سونے کی نمائش کرتی ماں، نخوت سے ناک سکیڑتی بہنیں مزید گھٹن برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ جبکہ ادھر ”تماشا“ دیکھنے کو پورا گاؤں امڈ آیا تھا۔
ہر کسی کو بتایا گیا اس غربت میں مولوی بیچارہ کہاں بیاہ کر سکتا تھا بیٹی کا۔ اتنی سوہنی شکل اور بھری جوانی ہو تو لٹیرے تاک میں رہتے ہیں۔ دین کی خدمت کے صلے میں گاؤں کے غنڈوں سے مولوی کی عزت کو بچایا ہے۔ ہرطرف واہ واہ تھی، ستائش تھی۔ چوہدری کتنا بھلا آدمی ہے، جس نے غریب مولوی کی بیٹی کو اپنی عزت بنایا ہے۔ مخمل میں لگے ٹاٹ کے پیوند کی قسمت پر لوگ رشک کر رہے تھے۔ کسی کو بھی چوہدری کی خود غرضی نظر آئی، نہ بیاہ کر لے جانے والے کی ٹانگ کی معذوری، نہ وہ گلٹیاں جو اس کے کالے چہرے کو مزید بد نما کر رہی تھیں۔ اور نہ ہی کوئی گلٹیوں بھرے چہرے کے اندر چھپی زبان کی کڑواہٹ محسوس کر پایا۔
پہلی ہی رات چوہدری عظیم نے بتا دیا کہ اسے اطاعت گزار بیوی چاہیے۔ اس کو سوال کرنے والی، جواب دینے والی، فرمائش کرنے والی، خواہش رکھنے والی عورتوں سے نفرت ہے۔ وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی بیوی نظر اٹھا کر دیکھنے کی جرات کرے۔ اور یہ جرات مجھ سے ہو گئی۔ جب وہ مرد ہونے کے ناتے اپنے حقوق بتا رہا تھا۔ چوہدری عظیم نے بتایا بیوی پر فرض ہے کہ وہ شوہر کی وفادار رہے۔ وہ سانس لینے کو رکا تو میں جھٹ سے کہا جی اور یہ بات شوہر پر بھی اسی طرح فرض ہے جیسے بیوی پر۔
اور میرا آگاہی دینا اس پہ اتنا کھلا کہ ایک زناٹے دار تھپڑ میرے منہ پہ دے مارا۔ مجھے چپ کروانے کی یہ اس کی پہلی کوشش تھی۔ سارے جہان کو جنت کا راستہ دکھاتا ہے کمبخت مولوی، بیٹی کو شریعت سکھانا بھول گیا کیا؟ مولوی نے بیٹی کو نہیں بتایا خدا کے بعد کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو وہ شوہر تھا اور جو سجدوں کے لائق ہو اس سے التجائیں کرتے ہیں اس کے آگے زبان نہیں کھولتے۔ میرے بالوں کو زور سے کھینچ کر مجھے شریعت بتائی گئی۔
اگلی صبح مجھ پر میری مزید خامیاں کھلیں اور ان خامیوں کو ہر کسی نے اپنی ذہانت کے سبب دریافت کیا۔ ہر کوئی متجسس تھا، پوچھ رہا تھا منہ دکھائی میں کیا ملا، جی چاہا کہہ دوں زور دار تھپڑ، غلیظ گالیاں اور بد مزاج شوہر کی غلامی کی نصیحتیں۔ لیکن میں خاموش رہی، مولوی کی بیٹی جو تھی۔
میری آنکھوں میں تیرتی نمی کو اور ہی نام دیا گیا۔ کسی نے چہرے پہ پھیلے کرب کو یار سے بچھڑنے کا غم کہا تو کوئی میری چپ کو میری بدمزاجی سمجھا۔ جتنے منہ اس سے کہیں زیادہ باتیں۔ مجھے لگا یہ برائیاں کسی ناگ کی طرح کنڈلی مارے موقع کی تاک میں تھیں، موقع ملتے ہی ظاہر ہو گئیں۔
گھر پر نہ سہی دل پر حکمرانی کا خواب تو آنکھوں میں کہیں بسا تھا۔ مجھ مسکین، کم حیثیت کو گھر لا کر چوہدری اپنا بھرم اور تسلط قائم رکھنا چاہتے تھے۔ کم حیثیت والے کو دبانا اتنا ہی آسان ہے جتنا کسی کمی کمین کا جاہ و حشمت والے کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا مشکل۔ کوئی حیثیت والی ہوتی تو اس شکل کے ساتھ گزارہ کرتی نہ ایسی عادت والے کے ساتھ۔ چوہدری عظیم کا چہرہ ہی نہیں دل بھی کالا تھا۔ کالے داغدار چہرے کے ساتھ تو گزر ہو جائے کالے دل کے ساتھ کیسے گزارا ہو۔
اپنے آپ پہ حیرت ہوتی کہ شعور رکھنے کے باوجود خود کو مرد کی غلامی میں اس طرح دیا کہ غلاموں کے قبیل مجھ کو تاسف سے دیکھتے۔ کبھی کبھی اس تاسف سے مجھے شرمندگی ہونے لگتی۔ میں غلامی کی یہ زنجیریں توڑ دینا چاہتی تھی۔ مجھے محبت چاہیے تھی وہ بھی نہ ملتی گوارا تھا، لیکن عزت تو مل جاتی۔
مجھے لگتا میری اپنی کوئی ہستی نہیں، میری کوئی ذات نہیں۔ جس نے جو چاہا کہہ دیا، میں سہتی رہی۔ زبان پر قفل لگا کر بھی بے توقیر رہی۔ بات بات پر میں اور میرا باپ نشانہ بنتے۔ جس طرح مولوی کی بیٹی ہونے طعنہ ملتا، لگنے لگا شاید مولوی کی بیٹی ہونا جرم ہے۔ باپ کی غریبی طعنہ بنی تو کہیں مجھے اس قابل ہی نہ سمجھا گیا کہ میں اس گھر کو اپنا سمجھ سکوں۔ مجھے حویلی کے نوکروں سے بھی کم تر سمجھا جاتا۔ قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا کہ میں کچھ نہیں، میرے باپ نے آسائشوں کی خاطر میرا سودا کیا ہے۔
انھیں لگتا مجھے اس گھر میں لاکر احسان کیا گیا ہے جس کا بدلہ میں کبھی نہیں چکا سکتی۔ حالانکہ احسان تو میرا تھا جو ایسے شخص کے ساتھ زندگی بسر کر رہی تھی جو جسم سے زیادہ ذہنی معذور تھا۔ چوہدری عاصم چوہدری عظیم کا خالہ زاد اور اس گھر کا داماد تھا۔ چوہدری جمال نے اکلوتے بیٹے کی معذوری کی وجہ سے چوہدری عاصم کو گھر داماد رکھ لیا تھا۔ چوہدری عاصم مجھ سے گھر والوں کا ناروا سلوک دیکھ کر کڑھتا۔ ان پہ بس نہ چلتا تو مجھے تسلی دینے آ جاتا۔
تسلی دیتے دیتے کب وہ میرا اسیر ہوا اور میں اس کی پجارن، پتہ ہی نہ چلا۔ اس نے مجھے یہاں سے نکالنے کا وعدہ کیا۔ لیکن کیسے نکالتا، میرے عوض جو آسائشیں حاصل کیں تھیں مولوی غلام حسین نے، اس کا ان آسائشوں سے دستبردار ہونا آسان نہیں تھا۔ دوسروں کی آسانی کے لیے اپنی زندگی مشکل کون بنائے۔ وہ جو دنیاوی آسائشوں کو قیامت کی نشانی کہتا تھا، کون جانتا تھا کہ وہ اندر سے انھی آسائشوں کا دل و جان سے عاشق ہے۔ مولوی غلام حسین اب ایک بڑے صحن والے پکے گھر میں رہتا تھا، وہ اب مٹی کے کچے گھڑے کا پانی بھی نہیں پیتا تھا اس کے گھر فریج تھی اور کمرہ ٹھنڈا کرنے والی مشین بھی۔
مولوی غلام حسین کے پاس موٹر سائیکل بھی آ چکی تھی، جس پہ بیٹھ کر وہ گاؤں گاؤں درس دینے جاتا تھا۔ اس کا بیٹا گاؤں میں کریانے کی دکان چلا رہا تھا، جس سے گاؤں کے بہت سارے لوگ ادھار سودا لینے لگے تھے۔ ہر طرح کی آسائش تھی، اب مولوی غلام حسین کا گزارہ جمعرات کی روٹی اور سوئم کے ختم پہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ اب اس کے گھر میں کھلی روٹی بھی تھی اور ٹی وی بھی۔ اسے اب گمراہ کردینے والی کیبل بھی بری نہیں لگتی تھی۔
مولوی غلام حسین گاؤں کی مسجد کا عام سا مولوی تھا اس کو تو سودا کرنا بھی نہ آیا۔ چھوٹے علاقوں میں رہنے والوں کی سوچ بھی چھوٹی ہوتی ہے۔ وہ اتنا ہی آسمان دیکھتے ہیں جتنا ان کے گھر کا
صحن دکھاتا ہے۔ ہوتا کوئی شہر کا بڑا بیوپاری تو اتنے کم پر کبھی راضی نہ ہوتا۔ آسائشوں بھری دوزخ ( دنیا ) میں رہنے کے لیے گناہ ( فائدہ ) بھی تو بڑا ہونا چاہیے تھا۔ بہت سستے میں اپنا مال بیچ ڈالا اس نے۔
ماں کو اپنا زخم زخم جسم دکھایا جس پر جگہ جگہ کاٹنے کے نشان تھے، چوہدری عظیم کی تنگ نظری اور اپنی بے وقعتی کے قصے سنائے۔ شوہر کا حق ہے وہ جیسے چاہے بیوی سے برتے، کہہ کر ماں نے بات سمیٹ دی۔ مولوی غلام حسین سے التجا کی، وہ باپ بن کے سوچے، چوہدری عظیم کے ہاتھ اتنی چوٹ نہیں پہنچاتے مجھے، جتنی تکلیف اس کی زبان دیتی ہے۔ ابا میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی، مجھے خلع دلوا دو یہ میرا حق ہے۔ میں نے باپ کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔ مولوی باپ نے کہا یہ فعل خدا کو سخت ناپسند ہے۔ اب اس سے کون پوچھتا جو تم نے کیا وہ خدا کو پسند ہے کیا؟
ابا یہ غلط نہیں ہے، نبھا نہ ہو تو طلاق لی جا سکتی ہے، مذہب اجازت دیتا ہے اس کی۔ زبان کو لگام ڈال، پتہ بھی ہے کیا کہہ رہی؟ بے دینی عورت۔ ابا غصے میں آ گیا۔ تو مجھے دین سکھا رہی ہے، مجھے مولوی غلام حسین کو۔ جس کی ساری حیاتی دین کی خدمت کرتے گزر گئی۔ مولوی غلام حسین قصے کہانیاں من چاہی حکایتیں، حدیثیں سنا کر، سمجھا بجھا کر مجھے واپس چھوڑ آیا۔ مجھے گھر بٹھاتا تو مولوی غلام حسین اور اس کی بیوی کو ایک بار پھر چھ بچوں کے ساتھ مسجد کے بارہ فٹ کے حجرے میں منتقل ہونا پڑتا۔
کاش امام مسجد مولوی غلام حسین کی تنخواہ اتنی ہوتی جس میں اس کی گزر بسر ٹھیک سے ہوجاتی تو وہ کبھی اتنی سنگدلی کا مظاہرہ نہ کرتا۔ لیکن وہ مسجد سے ملنے والی قلیل تنخواہ اور کثیر بچوں کی وجہ سے مجبور تھا۔ وہ بھی ٹھیک تھا۔ اس کی بھی مجبوریاں ہیں۔ ساری دنیا کی تنخواہیں ہر سال بڑھتی ہیں، نہیں بڑھتی تو مولوی کی تنخواہ۔ اتنا بڑا کنبہ چند ہزار میں کیسے پالے۔ اور روز روز تو مرتا بھی کوئی نہیں، کہ مرگ والے گھر سے بہت سا کھانا اللہ کے نام پر مولوی غلام حسین کو آ جائے۔ بیٹی کی طلاق کا مطلب سب کچھ واپس کرنا تھا، اور اس مہنگائی میں ذرا سی تنخواہ سے گزارہ نہیں ہوتا تھا، کجا کہ اب تو سہولتیں بھی میسر تھیں۔
میں ایک بار پھر سسرال اور شوہر کی ٹھوکروں میں تھی۔ میں خریدی گئی تھی اور یہ ان کا حق تھا کہ زرخرید لونڈی کے ساتھ جو چاہے سلوک کرتے۔
جب ہر کسی کو اپنی آسائش چاہیے تو میں کیوں گھٹ گھٹ کے زندگی گزاروں، میں نے بھی فیصلہ کر لیا۔ چوہدری عاصم نے یہاں سے نکل کر عدالت کا در کھٹکھٹانے کا کہا، لیکن میں اکیلی کیسے کرتی۔ طلاق ہو جاتی تو چوہدری عاصم مجھ سے نکاح کر لیتا۔ چوہدری عاصم نے ہر قدم پر میرا ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور میرے حویلی سے نکلنے کا انتظام بھی کیا۔ گاؤں ہی میں موجود اپنے ڈیرے پہ مجھ کو پناہ دی۔ اس نے کہا یہیں سے مجھے شہر لے جاکر عدالت میں پیش کرے گا اور فیصلہ میرے حق میں ہو جائے گا۔ ادھر پورے گاؤں میں خبر آگ کی طرح پھیل گئی، مولوی غلام حسین کی بیٹی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی، باپ کی داڑھی کی لاج بھی نہ رکھی۔ ہر جگہ یہی موضوع تھا۔
پورا گاؤں مجھ پہ تھو تھو کر رہا تھا۔ تین دن کے بعد چوہدری عاصم ڈیرے پہ آیا تھا۔ کدھر رہ گئے تھے تم، میں بے تحاشا ڈری ہوئی تھی۔ اس کے گلے لگ کر بلک پڑی۔ کملی اے اگر اسی وقت ادھر آ جاتا تو سب کو شک ہوجاتا، ہم پکڑے جاتے۔ اچھا کھل کے رولے، دل ہولا کر لے۔ اس کے بعد میں تیری آنکھ میں آنسو نہ دیکھوں۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ لگائے رکھا اور میری کمر سہلاتا مجھے بیڈ تک لے آیا۔ اور مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ میرے زخموں پہ مرہم رکھتا چوہدری عاصم مجھے کوئی نیا زخم دے رہا ہے لیکن اس وقت تو یہ علاج لگ رہا تھا۔
اور جب وہ میرے زخموں پر اپنے ہونٹوں کا مرہم رکھ رہا تھا۔ اسی وقت دروازہ دھڑ دھڑایا گیا۔ نہایت غصے میں قمیض پہن کر اس نے ہلکا سا دروازہ کھولا، کیا آفت آ گئی ہے چھوٹے چوہدری جی وڈے چوہدری صاب آرہے۔ اور وہ مجھے چھوڑ کر نہ جانے کدھر چلا گیا۔ میں سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ ادھ کھلے دروازے سے چوہدری جمال آن دھمکا۔ اندر کا منظر بہت ساری داستانیں بیان کر رہا تھا۔
میرے اوپر چادر ڈال کر مکوں، لاتوں سے مارتے ہوئے گھسیٹ کر باہر لایا گیا۔ پورے گاؤں نے منظر دیکھا۔ میرا حویلی سے بھاگ جانا، برہنہ جسم اور چوہدری کے بندوں کا مارتے ہوئے لے کر آنا کسی سے کچھ بھی نہیں چھپا تھا۔ چوہدری جمال کے بندوں نے مجھے برآمد کر لیا تھا۔ کہاں سے، یہ کوئی نہیں جانتا تھا اور نہ کسی نے پوچھا تھا۔ سب کے لیے میرا برآمد ہونا ہی کافی تھا۔ ساری کہانی بن کہے سمجھ آ رہی تھی۔ سب سمجھ گئے۔ میرا آشنا فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
یہ صرف چوہدری کی عزت اور غیرت کا معاملہ نہیں تھا، مولوی غلام حسین کی دینی دکان بھی داؤ پہ لگی تھی۔ گاؤں کی دوسری بیٹیوں کو بے راہ روی سے بچانے اور صراط مستقیم پہ رکھنے کے لیے میری عبرت ناک سزا ضروری تھی۔ پنچایت بٹھائی گئی۔ گاؤں کے غیرت مند لوگوں نے فیصلہ سنا دیا۔ میرے سر اور بھنووں کے بال مونڈ دیے گئے۔ مجھ پہ گولی چلانے کا حکم ہوا۔ پہلی گولی چلانے والا خود کو شریعت کا امین کہنے والا، میرا باپ مولوی غلام حسین تھا۔
گولی چلاتے ہوئے جس کے ہاتھ نہیں کانپے تھے کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا بیٹی مار کر دین بچا رہا ہے۔ دوسری گولی چلانے والا میرا عزت دار شوہر تھا جس کو میری تذلیل کرتے کبھی غیرت نہ آئی۔ اور تیسری گولی محبت کے دعویدار نے چلائی، جس کا دعوٰی تھا کہ وہ ہر مشکل میں میرے ساتھ کھڑا ہو گا۔ اس سزا میں میرا آشنا بچ گیا۔ اس لیے نہیں کہ وہ موقع سے بھاگ گیا تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ صاحب حیثیت تھا، لہذا کوئی اس کا نام بھی نہ جان سکا۔
لیکن یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ مولوی غلام حسین کی بیٹی بھاگی نہیں بھاگنے پہ مجبور کردی گئی۔ کیا مولوی یا مولوی کی بیٹی کو حق نہیں کہ وہ بھی اچھی زندگی گزارے۔ میں یقین سے کہتی ہوں اگر میرا باپ میرے ساتھ کھڑا ہوتا تو مجھ پہ آشنا کے ساتھ بھاگنے کا الزام کبھی نہ لگتا۔ مجھے بھاگنے پہ مجبور کر دیا گیا۔ لیکن میرا بھاگنا بھی کسی کام نہ آیا۔ اپنی تذلیل سے بھاگنا، عزت اور محبت کی خواہش رکھنا میرا جرم تھا۔ اور انجام آپ کے سامنے۔
عورت خود کو مرد کی غلامی پیش کرتی ہے لیکن کیا کسی مرد کو احساس ہوا کہ اس کی غلامی میں موجود عورت ایک انسان بھی ہے۔ وہ جو محبت کے دو بولوں پر مر مٹتی ہے تو کیا ضروری ہے اس کو نفرت کے زہر سے مارا جائے۔ عورت کو نفرت اور حقارت کی بیڑیوں میں باندھ کر پاس رکھنے کی بجائے اگر اس کے قدموں میں محبت کی زنجیر ڈال دی جائے تو کیا کبھی وہ اپنا گھر چھوڑے؟ عورت تو پیار بھری نظر ہی سے مر جاتی ہے، اگر اس کو مارنا ہی ہے تو محبت کے دو بولوں سے مارو۔ عورت میں خامیاں تلاش کر کر کے اسے زیر کرنے کی بجائے اس پہ اعتماد کیا جائے، اس کو گھر کی ملکہ بنایا جائے تو گھر جنت بن جاتا ہے۔ لیکن جنت تو آسمانوں میں ہے مرد اسے زمین پر کیسے بنا سکتا ہے۔


