انڈیا: ماں کے ریپ کی رپورٹ 27 برس بعد بیٹے نے درج کرائی
فلمی کہانی جیسا یہ واقعہ اتر پردیش کے شاہجہاں پور کا ہے۔ 1994 میں ہردوئی کی رہنے والی ایک نوعمر لڑکی اپنی بہن اور بہنوئی کے یہاں رہنے کے لیے آئی۔ بہنوئی محکمہ جنگلات میں ملازم تھے اور بہن ایک پرائیوٹ سکول میں ٹیچر تھیں۔ جب یہ دونوں گھر پر نہیں ہوتے تھے تو پڑوس کے دو لڑکے محمد رضی اور نقی حسن کا وہاں آنا جانا ہونے لگا۔ پولیس میں درج کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ان دونوں بھائیوں نے اس لڑکی کا کئی بار مبینہ طور پر ریپ کیا۔ لڑکی حاملہ ہو گئی اور اس سے ایک بچہ پیدا ہوا۔
لڑکی کے والدین سماج میں بدنامی کے خوف سے کہیں اور منتقل ہو گئے ۔ بچے کو خاموشی کے ساتھ ایک بے اولاد جوڑے کو دے دیا گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ اس معاملے کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہوا۔
دوسری جانب گود لیے گئے بچے نے بڑے ہو کر اپنی ماں کی تلاش شروع کر دی۔ برسوں کی تلاش کے بعد 24 برس کی عمر میں اس نے اپنی ماں کو ڈھونڈ نکالا۔ وہ اپنی ماں سے ہمیشہ اپنے والد کا نام پوچھتا لیکن اس کی ماں نے کبھی نہیں بتایا۔
سنہ 2000 میں ماں کی شادی غازی پور کے ایک نوجوان سے کر دی گئی۔ لیکن چھ برس بعد شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ لڑکپن میں ریپ اور بچے کی پیدائش کے بارے میں پتہ چل گیا۔ شوہر نے خاتون سے ہمیشہ کے لیے علیحدگی اختیار کر لی۔
چوبیس سال کے بیٹے نے اب یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ یہ جان کر رہے گا کہ اس کا باپ کون ہے۔ وہ باپ کا نام جاننے پر مصر تھا۔ ماں ایک دن با لآخر ٹوٹ گئی اور مبینہ ریپ اور اس کی پیدائش اور اسے گود میں لینے کا سارا واقعہ تفصیل سے بتایا۔ بیٹا سکتے میں آ گیا۔ ماں نے پولیس میں درج کرائی گئی رپورٹ میں لکھا ہے اب اس کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا ہے اور بیٹے کو بھی ساری سچائی معلوم ہو گئی ہے اس لیے اس نے اپنے بیٹے کے لیے انصاف حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شاہ جہاں پور کے پولیس سپرینٹنڈنٹ ایس آنند نے بی بی سی کو بتایا کہ مارچ 2021 مین یہ کیس مقامی عدالت کے حکم پر درج کیا گیا۔ ’ یہ ایک بہت پرانا معاملہ تھا۔ ملزموں کے نام بھی پورے نہیں لکھائے گئے تھے۔ ان کا پتہ بھی واضح نہیں تھا۔ یہ معاملہ ہمیں صحیح لگا۔ ہم نے اس کی گہرائی سے تفتیش کی اور بالآخر دونوں ملزم بھائیوں کو ڈھونڈ نکالا۔‘
پولیس افسر آنند نے بتایا کہ جب ملزموں سے ابتدائی پوچھ گچھ کی گئی تو انھوں نے متاثرہ خاتون کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔ پولیس نے ان کا ڈی این اے ٹسٹ کرانے کا فیصلہ کیا۔ جولائی میں ان کے نمونے لیباریٹری میں ٹسٹ کے لیے بھیجے گئے ۔ اپریل 2022 میں لیباریٹری کی رپور ٹ سے ولدیت کے معاملے کی تصدیق ہو گئی۔ ڈی این سے یہ معلوم ہوا کہ محمد رضی متاثرہ خاتون کے بیٹے کا باپ ہے۔
پولیس نے ان دونوں کی گرفتاری کے لیے عدالت سے وارنٹ حاصل کیا لیکن تب تک دونوں بھائی روپوش ہو گئے تھے۔ ان کا سراغ حاصل کرنے کے لیے پولیس کی کئی ٹیمیں بنائی گئیں۔ بالآخر گذشتہ دنوں محمد رضی کو حیدرآباد میں گرفتار کیا جہاں وہ ملازمت کرتے ہیں۔ پولیس نے نقی حسن کا بھی پتہ لگا لیا ہے اور ان کی گرفتاری بھی جلد متوقع ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون اب لکھنؤ میں رہنے لگی ہیں۔ میڈیا کی خبروں کے مطابق خاتون نےکہا ہے کہ انھوں نے اور ان کے بیٹے نے زندگی بھر تکلیف اور اذیت جھیلی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملزم بھی اپنے جرم کی سزا کاٹیں۔
انھوں نے ایسی تمام خواتین پر زور دیا جن کے ساتھ اس طرح کی زیادتی ہوئی ہے کہ وہ خاموش رہ کر اس اذیت کو نہ سہیں ، سامنے آئیں اور انصاف حاصل کریں۔


