نیوں رب دی پٹنی کھری اوکھی، دھیاں ماریاں وڈا سراپ آوے


نیوں رب دی پٹنی کھری اوکھی، دھیاں ماریاں وڈا سراپ آوے
(خدا کی بنائی ہوئی بنیاد اکھاڑنا بہت مشکل ہے، بیٹیوں کو قتل کرنا عذاب کو دعوت دینا ہے )
وارثؔ

پنجابی کی ایک کہاوت ہے ”ہڈ بیتی دسیے، جگ بیتی نہ دسیے۔ میرے کام کی نوعیت کچھ اس قسم کی ہے کہ مجھ اکیلے کے بس کا نہیں، کوئی نہ کوئی مددگار چاہیے ہوتا ہے۔ اگرچہ مشقت ہے لیکن یہ فقط کار مزدوری نہیں ایک کسب ہنر ہے۔ ایک وقت تھا جب خود ہی نمٹا لیا کرتا تھا لیکن اب وہ پہلے جیسی ہمت اور حوصلہ خود میں نہیں پاتا۔ اگر جرات و ہمت بنا بھی لوں تو نقصان اس کا یوں ہوتا ہے کہ کئی اور میرے کرنے کے ضروری کام رہ جاتے ہیں۔

گزرے برسوں میں کئی ایک نوجوانوں کو موقع دیا، بہت تجربات کیے۔ ان نوجوانوں میں کچھ یا تو اول روز سے ہی“ استاد ”تھے یا تھوڑا عرصہ کام کرنے کے بعد خود کو“ استاد ”سمجھ کر ساتھ چھوڑ گئے۔ اب ظاہر ہے ایک میان میں دو تلواریں کیسے سما سکتی ہیں؟ اس کو ذرا مختلف انداز میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ بہتر مواقع کی تلاش میں آگے بڑھ گئے۔ میں اس بات کا قطعاً برا نہیں مانتا۔ ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلہ کرے۔

بس ہر فیصلہ کرنے کا ایک سلیقہ ہوتا ہے، ایک طریقہ ہوتا ہے اور ایک مناسب وقت ہوتا ہے، یہ بات بہرصورت پیش نظر رکھنی چاہیے۔ جب ایسے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں، مجھے پھر سے بھولا ہوا سبق یاد کرنا پڑ جاتا ہے، اور مشقت کے لیے کمر بستہ ہونا پڑتا ہے۔ میں اس کا بھی برا نہیں مانتا۔ اب تو سرد و گرم کا یہ سلسلہ بھی کام کا حصہ سمجھ کر اس کے ساتھ سمجھوتا کر لیا ہے جو ایسے ہی جاری رہتا ہے۔ کسی غیر ہنر مند لڑکے کو ساتھ لیتا ہوں، میں کام کرتا ہوں، وہ دیکھتا ہے، اس کی ٹریننگ شروع ہو جاتی ہے۔

وہ سیکھ کر آزادانہ کام کو سنبھال لیتا ہے، میں وقتی طور پر آزاد ہو جاتا ہوں۔ لیکن اس کے“ استاد ”ہو جانے کا دھڑکا ہر دم لگا رہتا ہے تا آنکہ وہ کسی ایک یا کئی وجوہات کی بنا پر“ استاد ”ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ ایک مرتبہ پھر صفر سے آغاز ہو جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے میں نے ایک مرتبہ اس سارے گھن چکر سے بچنے کے لیے گاؤں سے اپنے قریبی جاننے والے کچھ لڑکوں کو اپنے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا۔ اپنی استطاعت کے مطابق جو ان کے لیے بہتر سے بہتر کر سکتا تھا، سہولیات دیں۔

یہ تجربہ کرنے کے پیچھے محرک یہ تھا کہ ہمارے ہاں عموماً اور دیہات میں خصوصاً، لڑکے گلی کوچوں میں آوارہ گردی کرتے ہیں، پڑھتے نہیں، کام کاج کرتے نہیں، خاندان پر بوجھ ہوتے ہیں اور اسی آوارہ گردی کے دوران اکثر نشے کی لت پر با آسانی لگ جاتے ہیں۔ زیادہ نہیں تو ان میں سے دو چار اپنے والدین کا بوجھ بٹائیں گے، زندگی کو چلانے کا ایندھن کیسے بنتا ہے، یہ سمجھ جائیں گے، جوانوں کو ایک سمت مل جائے گی، ان خاندانوں کا بھی بھلا ہو جائے گا۔

میرا بھلا اس میں یہ تھا کہ چونکہ یہ بچے مجھے، اور میں انہیں ذاتی طور پر جانتا تھا، اس لیے وہ“ استاد ”بننے میں کچھ زیادہ وقت لیں گے اور میرا صفر سے آغاز والا سفر کچھ طویل المدت ہو جائے گا۔ لیکن یہ خیال اور سوچ اس وقت بالکل غلط ثابت ہو گئی جب انہوں نے میرے ساتھ نجی تعلقات کی بنا پر سرے سے کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔ میں بہت سٹپٹایا، ان کو سمجھایا، اپنی مثال دی لیکن وہ کچھ سہانے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے رہتے تھے جن میں سب سے بڑا خواب بیرون ملک جانا اور وہاں پر اندھا دھند پیسہ بنانا سر فہرست تھا۔

یہ بات خاصی پریشان کن ہے کہ ہماری نوجوان نسل کی ایک کثیر تعداد اپنے ملک میں تنکا تک نہیں توڑتی جبکہ وہی بچے باہر کے ممالک میں جا کر“ ہر طرح ”کا کام کرنے کو راضی ہو جاتے ہیں۔ میرا گلی کوچوں میں آوارہ گردی کرتے نوجوانوں سے ہمیشہ یہی سوال رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اولاً غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک ہجرت کرنا کس قدر دشوار اور جان لیوا مرحلہ ہے، کسی نہ کسی طور وہاں پہنچ کر کیا واقعی پیسہ بنانا اتنا ہی آسان ہے جس قدر سمجھ لیا جاتا ہے؟ کتنے لوگ ہیں جو بیرون ملک جا کر اپنی زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی پیدا کر پاتے ہیں اور کس قیمت پر؟ یہ ایک بالکل الگ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بات ہو گی۔ ابھی جو پیغام دینا مقصود ہے، اس کے لیے اس قدر تذکرہ کافی ہے۔

ہمارے ہاں عام آدمی کے لیے تعلیمی معیار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بچوں کی اکثریت اسکولوں سے میٹرک تک پہنچتے پہنچتے بھاگ جاتی ہے۔ کل تعداد جو اسکول جانا شروع ہوتی ہے، اس کے مقابلے میں جو چند نفوس کسی نہ کسی طریقے سے اپنی روایتی تعلیم مکمل کر لیتے ہیں، ان کے لیے زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع نہ ہونے کے برابر، نوکریاں ناپید، سمت نا معلوم۔ یہ سب سچ ہے۔ لیکن ٹھہریے، صرف اسی قدر سچ نہیں ہے۔ ایک سچ یہ بھی ہے کہ آپ ایک اچھا پلمبر، ویلڈر، مستری، الیکٹریشن یا مکینک ڈھونڈنے نکل جائیں آپ کو بہت مشکلوں سے ملے گا۔ اچھے سے میری مراد وہ بندہ ہے جو اپنے کام کا ماہر ہو اور ٹھیک ٹھیک جانتا ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

ایک اور خبر آئی ہے، ایک اور باپ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی دو بچیوں کو ذبح کر کے خود پنکھے کے ساتھ جھول گیا ہے۔ یہ واقعہ بیک وقت دو طرح سے انتہائی افسوسناک ہے۔ ایک تو وسائل کی کم یابی اور اس قیامت کی مہنگائی میں زندگی کرنا کس قدر مشکل ہو چکا ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ اندوہناک پہلو اس واقعہ کا ایسے حالات کے آگے ایک انسان کا سرنگوں ہو کر اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارنا اور خود سوزی کرنا ہے۔ مجھے معاف کیجیے گا لیکن اپنی بچیوں کو ذبح کر کے اور خود سوزی سے پہلے ایک تحریر چھوڑ جانا انتہائی کم ہمتی کی بات ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں، کیا صرف یہی ایک راستہ بچ رہتا ہے؟ ایک باپ اتنا سنگدل کیسے ہو سکتا ہے؟

مرحوم (بوجوہ نام نہیں لکھ رہا، نام میں کیا رکھا ہے کہ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ) جو سامان ایدھی ٹرسٹ کے لیے وصیت کر گئے ہیں، اس کے سب سے بڑے حق دار کسی اور سے پہلے وہ خود تھے۔ مجھے یہ بات ماننے میں سخت تامل ہے کہ ان کے لیے زندگی کرنے کی سب راہیں مسدود ہو چکی تھیں۔ مجھے باقیوں کا تو پتا نہیں لیکن میرا یقین کیجیے میں نے خود کو اس جگہ پر رکھ کر پہلے سوچا ہے اور پھر یہ سب لکھا ہے۔ ایک انسان اتنا کمزور اور بد دل نہیں ہو سکتا، اسے نہیں ہونا چاہیے۔

کم تر وسائل، بد تر تعلیمی نظام، انتہائی غیر موافق حالات میں رہتے ہوئے بچے کو بنیادی تعلیم اور تربیت جو اسے حالات کا تجزیہ کرنے، ان سے مردانہ وار مقابلہ کرنے اور اسے بند گلی سے نکلنے کی راہ سجھانے کے قابل کرے ضرور دیجیے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو کوئی ہنر ضرور سکھائیے۔ انہیں بتائیے کہ ایک پلمبر، ایک اچھا الیکٹریشن، ایک اچھا مکینک بھی اسی قدر با عزت انسان ہے جس قدر کوئی سرمایہ دار یا جاگیردار ہو سکتا ہے۔

بلکہ کئی وجوہات کی بنا پر وہ اس سے بھی زیادہ با عزت اور محترم ہوتا ہے۔ بچوں کو کام سے لگن اور محنت سے محبت عملی طور پر سکھائیے۔ ”محنت میں عظمت ہے“ عنوان پر بچوں کو مضامین رٹوانا بالکل ضروری نہیں ہیں، انہیں عمل کر کے دکھائیے اور ان کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ اپنے تجربات اوپر لکھ آیا ہوں۔ اس سب کا لب لباب اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ذرا سے بہتر خاندانی پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچے کام کرنے کو عیب اور ہتک عزت سمجھتے ہیں۔ اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لیے ہاتھ پھیلاتے وقت ان کی یہ خاندانی نجابت نہیں معلوم کہاں سو جاتی ہے، چاہے وہ ہاتھ کسی غیر کے آگے یا اپنے ماں باپ کے آگے ہی کیوں نہ پھیلا رہے ہوں۔

ہمارے ہاں حکومتیں ہر وقت اپنی کرسیوں کی جوڑ توڑ میں مصروف عمل رہتی ہیں، عوام سے ان کا تعلق صرف ان کی اپنی اپنی ضروریات کی حد تک ہے، اور عوام ان کی دم پکڑ کر اندھے کنووں میں گرتے جاتے ہیں۔ لوگوں کو ان کی دمیں چھوڑ کر اپنے حقوق اور فرائض کا تعین خود کرنا ہو گا۔ ایک مثالی معاشرہ جس میں انسانوں کو بنیادی ضروریات زندگی بشمول روٹی، کپڑا اور مکان میسر ہوں، انسان خود ہی تعمیر کریں گے۔ کسی دم کٹے سیاستدان کی طرف مت دیکھیے، زندگی کا یہ یدھ خود لڑیے، اپنے بچوں کو اس سے لڑنے کے قابل بنائیے۔ یہ ہر انسان کی انفرادی ذمہ داری ہے جو اجتماعی سطح پر امثال پیدا کرے گی۔ فطرت کی بنیاد اکھاڑنے اور بچوں بچیوں کو ذبح کر کے خود سوزی کی نوبت ہی کیوں آئے گی؟

Facebook Comments HS