ایک بچے کی لوری سے محروم راتیں


یادوں کی پوٹلی میں کوثر کے پاس اپنی ماں کا دیا کل اثاثہ چند لوریاں تھیں جو اس نے محرومی کے دھاگے میں نفاست سے پرو کر اپنی لاڈلی کے سپرد کی تھیں۔ غریب کی سخاوت اس کا خلوص ہوتا ہے اور غریب کا ترکہ اس کی حسرتیں۔ بے لوث محبت جب مفلسی کے سائے میں پروان چڑھتی ہے تو ممتا کے باغیچے میں لوریوں کے ہی پھول کھل پاتے ہیں۔ ماں کے وجود سے کوثر کا پہلا تعارف اس کی لوری کی آواز تھی۔ میٹھی پرسکون اور مدہم سی آواز۔

ماں تو زندگی کی بھیڑ میں کہیں کھو گئی لیکن وہ دھیمی سی گنگناہٹ اس کی یاداشت کا حصہ رہی، جس کو اس نے ورثے کی طرح سنبھال کر اپنی یادوں کے طاق میں رکھ چھوڑا کہ جس ماحول میں وہ پیدا ہوئی تھی وہاں اولاد کو میراث میں فقط قصے کہانیاں اور لوریاں ہی ملتی تھیں جو ان کو پرکھوں سے جوڑے رکھتیں تھیں۔

شادی کے بعد ڈاکٹرنی نے کوثر کو ماں بننے کی خوشخبری سنائی تو وہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ تھا۔ اب یادوں کی تجوری سے وہ لوری نکالی اور دن رات گنگنانے لگی کہ جب چاند اس کے آنگن میں اترے تو وہ اس کو ماں کا عکس بن کر ملے۔ اس نے گود میں بیٹا دے کر کہا مبارک ہو تو لہجے میں وہ خوشی نہ ملی جو دادی کو نسل کے وارث کے آنے پر ہوتی ہے۔

کریدا تو معلوم ہوا کہ گود میں اترنے والا چاند ادھورا تھا۔ وہ تو لوریاں سنانے کو بیتاب تھی پر اس کا عبداللہ سماعت سے محروم تھا۔ اس کی ان کہی لوریاں اس کی سسکیوں کے ساتھ سینے میں دفن ہو گئیں۔ وقت کا پہیہ آگے بڑھا، عبداللہ گلی میں بچوں سے کھیلنے باہر جانا چاہتا تو کوثر دیکھتی کہ بچے اس سے کھیلنے سے کتراتے اور اس کی محرومی کا مذاق بناتے۔ گلی میں آتی جاتی بائیک اور گاڑی کا ہارن اس کو سنائی نہ دیتا، دو بار تووہ اسی وجہ سے زخمی بھی ہوا، یوں ماں کی آنکھ کے تارے کی چمک دمک گھر کی چاردیواری میں مقید ہو گئی۔

سکول جانے کا وقت آیا تو داخلے کے وقت کئی اندیشوں نے سر اٹھایا، کئی سوالوں نے جنم لیا۔ عام بچوں کے سکول میں وہ کیسے پڑھے گا نہ تو تربیت یافتہ اساتذہ تھے نہ دوسری سہولیات، اگر داخلہ ہو گا تو والدین کی ذمہ داری پر، سکول ایسے بچے نہیں قبول کرتا، والدین اس پر بھی راضی ہو گئے لیکن یہ ماں بیٹے کا نیا امتحان تھا۔ بچہ سکول میں ہم جماعتوں کے بے حس مزاح کا ہدف بننے لگا۔ سماعت سے محروم ضرور تھا مگر محبت کی حلاوت کی مثل نفرت کی تلخی بھی اپنے ابلاغ کے لئے سماعتوں کی محتاج نہیں ہوتی۔

گھر آ کر عبداللہ گھٹنوں میں چہرہ چھپا کر روتا اور کوثر آسمانوں کی طرف سوالی نظروں سے تکتی۔

جانے ایسا کون سا لمحہ تھا جب ماں کی نظر رب کے رحمت کے در پر دستک دے آئی، امید کی شمع روشن ہوئی اور ایک پرائیویٹ ادارے کے سربراہ مسیحا کی مانند ان بچوں کے علاج کے لئے آگے بڑھے جو سماعت و گویائی سے محروم تھے۔ انہوں نے ناصرف امید دلائی بلکہ علاج کا مکمل ذمہ لیا۔ عبداللہ کا آپریشن ہوا اور کان میں آلہ لگا، کان میں اردگرد کی آوازیں پڑیں تو عبداللہ کے چہرے پہ وہ مسکان ابھری جو کوثر نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ بچے کی آنکھوں کی تابناکی نے باپ کو اس کے مستقبل کے تاریک اندیشوں سے اچانک آزاد کر دیا۔

اب کوثر لوری گنگناتی ہے، ”آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار“ ۔ کچھ لمحوں کے توقف سے عبداللہ بھی جب یہی مصرعہ دہراتا ہے تو اس ماں کو بہار اپنے آنگن میں اترتی دکھائی دیتی ہے۔

عبداللہ کی طرح ہمارے اردگرد کئی بچے ان جیسی کئی معذوریوں کا شکار ہیں لیکن آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس معذوری کو قسمت کا لکھا مان لیتے ہیں، سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ان دردوں کا درماں اب موجود ہے۔ پیدائشی طور پر حس سماعت سے محروم بچوں کا علاج کوکوکلیئر امپلانٹ کے ذریعے ممکن ہے، البتہ اس علاج پر قریب قریب بیس لاکھ روپے کا خرچہ ہونے کی وجہ سے یہ زیادہ تر والدین کی پہنچ سے باہر ہے۔ ایسے مسیحا اور ادارے موجود ہیں جو کوثر کے آنگن کی مانند ان کے گھروں کو خوشیوں سے بھر سکتے ہیں۔ جہاں ہم اپنے اردگرد پھیلی سیاسی افراتفری اور سماجی انتشار کے باعث ایک دوسرے سے غافل ہیں وہیں یہ ادارے کسی غیبی مدد کی مانند مستحقین کی دستگیری کر رہے ہیں۔ عبداللہ کی طرح اور بچوں کے چہروں پر بھی یہی مسکان اور آنکھوں کی یہ چمک لوٹ سکتی ہے، بس ہمیں اپنے ارد گرد موجود عبداللہ ایسے بچوں کو تلاش کر کے ان مسیحاؤں سے جوڑنا ہے۔

https://www.facebook.com/manha.jaffri411/videos/5320925621357775

 

Facebook Comments HS