شہباز گل کو کس کے حکم پر ”جنسی تشدد“ کا نشانہ بنایا گیا ہے؟
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں سابق ویر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی ”آہ و زاری اور چیخ پکار“ سن کر سنگ دل شخص کی آنکھوں میں آنسو آجانا فطری امر ہے شہباز گل پر تشدد بارے میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا ہے شہباز گل عدالت میں بار بار ”خدا کا واسطہ مجھے ماسک دیں“ کی آہ و بکا سے ان کے سیاسی مخالفین کے دل بھی پسیج گئے ڈاکٹر بابر اعوان نے تو انتہا کر دی ان کا کہنا تھا کہ ”شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو دکھایا جا سکتا اور نہ ہی بتایا جاسکتا ہے۔
رہی سہی کسر عمران خان کے ٹویٹ نے نکال دی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ“ شہباز گل کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے ”اس ٹویٹ نے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے ہم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں واپس آ گئے ہیں جب وہ اپنے سیاسی مخالفین کو راہ راست پر لانے کے لئے تشدد کے عجیب و غریب طریقے استعمال کرتے جماعت اسلامی کے سابق امیر میاں طفیل محمد اور مسلم لیگ (قاسم گروپ) کے قائد ملک قاسم کے ساتھ لاہور کے قلعہ میں جو کچھ ہوا اسے ضبط تحریر لایا نہیں جا سکتا اس طرح پیپلز پارٹی کے ایک انقلابی کو راہ راست پر لانے کے لئے جب ایس ایچ او کے حوالے کیا ہی تھا تو اس نے توبہ کر لی۔
پی ڈی ایم کی وسیع البنیاد حکومت میں شامل بیشتر رہنما عمران خان کی حکومت میں زیر عتاب رہے ہیں کہا جاتا ہے عمران خان کی بھی“ اذیت پسندی ”کا بڑا چرچا ہے وہ اپنے سیاسی دشمنوں سے تفتیش کے دوران ہونے والے سلوک اور بد سلوکی سے لطف اندوز ہوتے تھے تشدد کا نشانہ بننے والوں کی“ آہ و بکا اور چیخ و پکار ”سے ان کو قلبی سکون ملتا تھا۔ 10 اپریل 2022 کو سیاسی منظر تبدیل تو ہو گیا لیکن ملک کی پولیس تو وہی ہے جو انگریز کے سامراجی نظام کو قائم رکھنے بھرتی کی گئی تھی ہر حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو راہ راست پر لانے کے لئے پولیس کو استعمال کرتی ہے اور پھر پولیس ملزمان سے اگلوانے کے لئے ہر وہ حربہ استعمال کرتی ہے جو تفتیش میں کار آمد ثابت ہوتا ہے پولیس میں“ تھرڈ ڈگری ”تشدد مشہور ہے جو بڑے بڑے سورماؤں کو ڈھیر کر دیتا ہے۔
اگرچہ شہباز گل ایک تعلیم یافتہ شخصیت ہیں لیکن سیاست کی وادی میں نو وارد ہیں انہیں عمران خان کے ساتھ کم وبیش دس سال سے کام کرنے کا تجربہ ہے انہوں کبھی جیل دیکھی اور نہ ہی تھانہ کچہری۔ انہوں نے پولیس تشدد کی کہانیاں ضرور سن رکھی ہیں لیکن ان کو کبھی اس کا تجربہ نہیں ہوا وہ بغاوت کے مقدمہ میں دھر لئے گئے بہادر وہ اتنے نکلے کہ ان کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس کو ان کی گاڑی کے شیشے توڑنے پڑے شیشے توڑے جانے تک وہ اپنا لیب ٹاپ اور موبائل ٹیلی فون گاڑی کی سیٹوں میں چھپا چکے تھے جوں ہی اسلام آباد پولیس نے حراست میں لیا ان کا ڈرائیور جو کہ ان کا معاون ہے گاڑی لے کر چلا گیا شہباز گل کو گرفتار کرنے والی اسلام آباد پولیس کو ان کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون بھی اپنی تحویل میں لینے کی ہدایت نہیں تھی ورنہ وہ گرفتاری کے موقع پر ہی اپنی تحویل میں لے لیتی شہباز گل سے انویسٹیگیشن میں ان کے لیپ ٹاپ اور موبائل فون سے بڑی مدد مل سکتی تھی لیکن ڈرائیور اسلام آباد پولیس کے ہتھے نہ چڑھا پولیس نے اس کی بیوی کو حراست میں لیا لیکن تاحال ڈرائیور کا کوئی سراغ نہ ملا۔ شنید ہے کہ ڈرائیور اسلام آباد پولیس کی پہنچ سے“ بہت دور بہت دور ”جا چکا ہے جوڈیشل مجسٹریٹ نے ابتدائی طور پر شہباز گل کا صرف دو دن کا جسمانی ریمانڈ دیا لیکن پولیس پیارو محبت سے ان سے کچھ نہ اگلوا سکی۔ اسلام آباد پولیس کی اس دن بے بسی دیدنی تھی جب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بھی اسلام آباد پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد پولیس کی درخواست تو منظور کر لی لیکن پنجاب پولیس نے شہباز گل کو دوبارہ اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا لیکن آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ نے شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے کے حکم پر عمل درآمد کرا دیا۔ حکومت پنجاب نے شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے ایشو کے ایشو“ قانون و قاعدے ”کے مطابق کام کرنے کی پاداش میں دو ماہ قبل ہی ان کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ جب شہباز گل کو اڈیالہ جیل لے جایا گیا تو عمران خان اور پی ٹی آئی کے بعض لیڈروں نے جیل میں شہباز گل کو تشدد کا نشانہ بنانے کا واویلا شروع کر دیا لیکن پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل محمد ہاشم نے کہا کہ جیل میں شہباز گل کو تشدد کا نشانہ بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پارٹی کی قیادت نے کرنل ہاشم کو اپنی زبان بند رکھنے کا حکم جاری کر دیا اس کے بعد ان کا شہباز گل بارے کوئی بیان نہیں آیا تاہم شہباز گل کی جیل یاترا کے دوران ایک انوکھی واردات ہوئی۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سابق صدر شکیل انجم جن کا شمار وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے بڑے انویسٹی گیٹو رپورٹرز میں ہوتا ہے نے خبر بریک کی شہباز گل کو اڈیالہ جیل سے بنی گالہ لایا گیا باور کیا جاتا ہے شہباز گل نے اپنے لیب ٹاپ اور موبائل فون کا تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا ہے اس بارے میں تاحال کوئی تردید نہیں آئی شکیل انجم اب بھی اپنی خبر کی صداقت پر مصر ہیں۔ یہی دو چیزیں جن کی اسلام آباد پولیس کو تلاش ہے اس نے اسی لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر کے شہباز گل کا ریمانڈ حاصل کیا ہے لیکن اڈیالہ جیل سے پمز لانے کے بعد شہباز گل پر تشدد کا ایسا شور برپا ہوا ہے کہ لوگوں پر تشدد کا مذاق اڑانے والے شخص سے ہمدردی کے جذبات کا اظہار کیا جانے لگا۔
حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا محض ڈرامہ رچایا جا رہا ہے پمز کے 13 ڈاکٹروں کی میڈیکل رپورٹ میں شہباز گل کو فٹ قرار دیا گیا ہے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ شہباز گل سے کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوئی ہے شہباز گل ڈرامے بازی کر رہا ہے ان پر کوئی تشدد نہیں ہوا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری جن کا بھی فیصل آباد سے تعلق ہے نے کہا ہے کہ دوسروں کی بیماری پر تماشا لگانے والا آج خود تماشا لگا رہا ہے گندی گفتگو کا ڈاکٹر تماشا بنا ہوا ہے اسے عمدہ کارکردگی پر آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے فی الحال عدالت نے شہباز گل کے وکلاء کے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کی استدعا مسترد کر دی ہے اور کہا کہ ابھی تو جسمانی ریمانڈ کی مدت ہی شروع نہیں ہوئی اور ہدایت کی ہے کہ شہباز گل کا دوبارہ میڈیکل کروا کر عدالت میں پیش کیا جائے دلچسپ امر یہ ہے پی ٹی آئی شہباز گل کی عزت خاک ملانے پر تلی ہے اور ان پر جنسی تشدد پر مصر ہے دوبارہ میڈیکل ایک بار پھر سچ اور جھوٹ سامنے آ جائے گا۔
سابق وزیراعظم عمران خان اپنے چیف آف اسٹاف شہباز گل سے ملاقات کے لئے پمز ہسپتال پہنچ گئے لیکن اسلام آباد پولیس نے ان کی شہباز گل سے ملاقات کی راہ میں رکاوٹ بن گئی عمران خان کارڈیالوجی وارڈ کے باہر ملاقات کے لئے اپنی گاڑی میں ہی انتظار کرتے رہے تاہم پولیس کی جانب سے انہیں کہا گیا کہ کہ شہباز گل سے ملاقات کے لئے عدالت سے اجازت نامہ لے کر آئیں جب کہ عمران خان نے کہا ہے کہ عدالت کے حکم کے باوجود پولیس نے ہمارا راستہ روکا ہے، مجھے شہباز گل سے ملاقات نہیں کرنے دی پولیس بتائے وہ کس سے آرڈر لے رہی ہے، بتایا جائے ملک میں قانون کی حکمرانی ہے یا ڈنڈے کی شہبازگل پر اگر ٹارچر ہو سکتا ہے تو پھر کسی پر بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "تصاویر اور ویڈیوز میں واضح ہے کہ شہباز گل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان پر تشدد میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے، شہباز گل کو توڑنے کے لئے ذلیل کیا گیا ہے، میرے پاس مکمل تفصیلی معلومات ہیں۔ اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی تشدد نہیں کیا، میرا سوال ہے شہباز گل پر تشدد کس نے کیا ہے؟ عوام میں اور ہمارے ذہنوں میں ایک خیال ہے اتنا بھیانک تشدد کون کر سکتا ہے؟ یاد رکھیں عوام رد عمل دیں گے، شہباز گل پر تشدد کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، ہم ذمہ داروں کا پتہ لگانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔” اسلام آباد پولیس نے کہا کہ شہباز گل سے ملاقات کی کسی کو اجازت نہیں اور ہسپتال پر اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے عوام یا کوئی بھی شخص ملاقات کی کوشش کر کے امن وامان کی صورتحال پیدا نہ کرے، ملزم جسمانی ریمانڈ پر نہیں اور ملزم سے ملاقات کی اجازت نہیں۔
پمز کے میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو فٹ قرار دے دیا ہے تاہم فٹ قرار دیے جانے کے بعد بھی اسلام آباد پولیس شہباز گل کو ہسپتال سے تھانے منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکی۔ میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز نے پولیس حکام کو ہسپتال میں شہبازگل سے سوال و جواب کرنے سے روکا ہے۔ ڈاکٹرز کا موقف ہے کہ شہباز گل مکمل فٹ ہیں لیکن ہسپتال میں ان سے تفتیش نہیں کی جا سکتی شہباز گل کو بچپن سے سانس کا مسئلہ ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہباز گل کو سانس میں مسئلہ ہے اور وہ جسم میں درد محسوس کر رہے ہیں، کندھے، گردن اور چھاتی کے بائیں جانب انہیں درد ہے۔
میڈیکل بورڈ نے مشورہ دیا کہ شہباز گل کا ایکسرے، یورین اور دل کا ٹیسٹ کرنا ضروری ہے، انہیں مزید طبی معائنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ شہباز گل کے علاج کے لئے قائم میڈیکل بورڈ کی توسیع کردی گئی ہے، ارکان کی تعداد چھ کر دی گئی ہے، جس میں کارڈیالوجی، پلمونولوجی، میڈیسن اور نیورو سمیت 6 ڈاکٹرز بورڈ میں شامل ہیں۔ شہباز گل کی میڈیکل رپورٹس اسلام آباد ہائیکورٹ بھجوا دی گئی ہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان جھوٹ بولنے کے عادی ہیں، شہباز گل سے ملاقات کے لیے عمران خان کے پاس کورٹ آرڈر نہیں تھا۔
میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو فٹ قرار دیا ہے، کیا 13 ڈاکٹرز جھوٹ بول رہے ہیں؟ میڈیکل رپورٹ میں تشدد سے متعلق کوئی بات نہیں آئی اگر تشدد ہوتا تو میڈیکل رپورٹس میں کیوں نہیں آیا؟ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شہباز گل کو برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، کسی بھی جماعت کا شخص ہو اس پر تشدد ناقابل قبول ہے۔ آنے والے دنوں میں صورت حال واضح ہو جائے گی کہ واقعی شہباز گل کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ نہیں کیونکہ الزام ثابت نہ ہونے کی صورت پر پی ٹی آئی کو بڑی ہزیمت اٹھانی پڑے گی۔

