چہرے تھے جن کے چاند سے ۔ پہلی قسط


بارشیں ٹوٹ کر برستی ہیں۔ بادل تند ہوا، بارش، سورج ہر وقت موسم ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ ابھی سورج نکلا ہے کہ بارش خیمہ زن ہو جاتی ہے۔ اس موسم میں تو اعتبار ہی نہیں رہتا۔ یہ سب کچھ یہاں کا معمول ہے ’‘ طیارہ نیلگوں دھند کی گہرائیوں میں ڈوب گیا۔ بادلوں کی اس گمبھیرتا کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ہر طرف موسلا دھار بارش ہو رہی ہو گی۔ ٹوکیو کی گلیاں اور سڑکیں بارش سے اٹ گئی ہوں گی۔ عمارتیں پانی میں نہا رہی ہوں گی۔ بچے ٹھٹھکے ہوئے، مرد عورتیں چھا تا لئے گھر کی طرف بھاگ رہے ہوں گے ۔ دکانوں کے آگے پردے لٹکا دیے گئے ہوں گے ۔ میں سفر سے تنگ آ گیا تھا۔ اب زمین اور زمین کے باسی دیکھنا چاہتا تھا۔ سڑکیں، چلتے پھرتے لوگ، دوڑتی بھاگتی گاڑیاں، انسان کچھ تو ایسی چیز دکھائی دے کہ جس سے ہم مانوس ہیں۔

نجانے ہم کتنی دیر فضا میں معلق رہے آخر آسماں کو رحم آ ہی گیا۔ اب نیچے عمارتیں اور کھیت دکھائی دے رہے تھے۔ ہر کوئی اٹھ بیٹھا تھا۔ ہر چہرے پر طمانیت تھی۔ خوشی تھی۔ منزل پر پہنچنے کی، اپنے پیاروں سے ملنے کی۔ ہر کوئی اپنا سامان پیک کر رہا تھا کتا بیں، نوٹ بکس، سگریٹ کا آخری کش، لپ اسٹک کا لاسٹ ٹچ ہلکے ہلکے شیڈ چمکنے لگے تھے۔ کوئی کنگھا کر رہا تھا۔ کوئی سکرٹ ٹھیک کر رہا تھا۔ البتہ باتوں کا جو تسلسل تھا وہ ٹوٹ گیا تھا فقرے ادھورے کانوں میں پڑ رہے تھے۔

ہر کسی کی نگاہ نارتیا ائر پورٹ پر لگی ہوئی تھی کوئی سفر کے اختتام پر پہنچ رہا تھا، کوئی سفر کی ابتداء کر رہا تھا۔ کوئی ملنے والا تھا، کوئی جدا ہونے والا تھا۔ ہم کافی نیچے آ گئے تھے۔ سورج کچھ دیر بعد ڈوبنے والا تھا۔ سورج کی کرنیں کھیتوں پر پڑ رہی تھیں جس میں درختوں کے جھنڈ روشن تھے۔ ندی نالوں کا پانی لشکارے مار رہا تھا۔ سکائی لائن غائب تھی۔ چند عمارتیں اور کھیت۔

اس میسر ساز و سامان سے تو اتنا اندازہ ہوتا تھا کہ یہ ایک خوبصورت گاؤں تو ہو سکتا ہے شہر نہیں۔ اس تصور سے میرا دل اتر نے کو نہیں کر رہا تھا۔ اس سے تو بہتر تھا کہ ہمارا سفر جاری رہتا۔ اس میں زیادہ بوقلمونی اور زندگی تھی۔ مسافر اپنا اپنا سامان سمیٹ رہتے تھے۔ میرا کیا سامان تھا جو میں سمیٹتا۔ ایک نوٹ بک، ایک قلم، سفر کا حاصل، چند مسکراہٹیں اور پھول، اٹھارہ گھنٹے کا سفر اب پلک جھپکنے میں گزر گیا، خوشبو کے جھونکے کی طرح آیا اور غائب ہو گیا۔

پھر وہی صحرا کا سناٹا، وہی مرگ جنوں۔ میں نے نوٹ بک اٹھائی قلم جیب میں ڈالا سیکوسن کی مسکراہٹوں کو اپنے گرد لپیٹا اور قطار میں شامل ہو گیا۔ قطار میں کھڑا میں سوچ رہا تھا کہ تھوڑی دیر میں یہ قطار منتشر ہو جائے گی اور ہر طرح کا ساتھ چھوٹ جائے گا۔ کہ جن لوگوں کے ساتھ اتنا لمبا سفر کاٹا تھا۔ وہ اپنی اپنی راہ لے لیں گے اور منزل پر پہنچ کر کون کس کا آشنا۔ میں نے JICA کا بیج سینے پر لگا لیا۔ بیچ میرے سینے پر ایسے محسوس ہور ہا تھا جیسے یہ اسم اعظم ہو جس سے ہر عقدہ کھلتا جائے گا۔ جہاز سے اترتے ہی کوریڈور میں داخل ہوئے۔ میں لمبی لائن کے پیچھے پیچھے سر جھکائے چلا جا رہا تھا۔ آگے سیڑہیاں نیچے اتر رہی تھی ان کے بائیں طرف ایک نوٹس بورڈ تھا۔ جس کے آگے سیکوسن کھڑی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے کہا!

’‘ آپ کے لیے پیغام ہے میں نوٹس بورڈ کے سامنے رک کر پڑھنے لگا۔ وہ نہ بتاتی تو میں نے کب اس طرف توجہ کرنی تھی۔ پیغام یہ تھا۔ مسٹر لعلوانی متوجہ ہوں! ہم آپ کو نارتیا ائر پورٹ پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ مسٹر ہاگی ہارا C، CAT میں آپ کا منتظر ہے۔ جو نارتیا ائر پورٹ سے 90 منٹ کی مسافت پر ہے C، CAT کا ٹکٹ آپ کو کا ؤنٹر سے فری ملے گا۔ آپ کی سہولت اور آپ کے آرام کے لیے ہم چشم براہ ہیں ”آپ کی بڑی خاطریں ہو رہیں ہیں ’‘ سیکوسن نے کہا مسٹر ہا گی ہارا آپ کا منتظر ہے۔ میں ہنس پڑا اس کو کیا کہتا۔ دل ہی دل میں کہنے لگا کہ نعم البدل کیا ملا مسٹر ہا گی ہارا۔ راستہ جو بھی ملا جانب صحرا نکلا۔ ’‘ نیچے پہنچے تو بیلٹ پر سامان پڑا گھوم رہا تھا۔

بیلٹ پر سامان گھوم رہا تھا اور ادھر میرا دل و دماغ اور پورا وجود گھوم رہا تھا کہ اب آگے کیا ہو گا بالکل انجانا ملک جس میں کوئی ذی روح بھی واقف نہیں میں ایک ایسی سرزمین پر قدم رکھ رہا تھا جہاں پر ہر چیز اجنبی تھی۔ اتنے بڑے شہر ٹوکیو کی پراسراریت اور ایسے ماحول میں اجنبیت کا اژدہا منہ کھولے کھڑا تھا۔ لیموزین C ’CAT کی طرف دوڑی چلی جا رہی تھی۔

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2