سوشل میڈیا آپ کا دل بہلا رہا ہے یا جلا رہا ہے؟


سوشل میڈیا پہ ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ مختلف نظریات، مذاہب، سوسائٹیز اور سوچ کے حامل افراد میں ایک قدر ضرور مشترک ہے کہ اکثریت نے سوشل میڈیا کو فارغ وقت گزاری کے لیے جوائن کیا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس نے ان کی زندگی میں اپنی پختہ جگہ یوں بنائی کہ اب اس کو باقاعدہ لت کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے اچھے برے اثرات یہیں تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ ہماری زندگیوں کو لاشعوری طور پہ بہت زیادہ متاثر کر رہا ہے۔ گو کہ اس نے معلومات کے تبادلے، علمی گفتگو، نظریات کی سوجھ بوجھ سمیت سوچ کے نئے زاویے متعارف کروائے ہیں تاہم اس کے منفی اثرات بھی کم نہیں۔ اس سلسلے میں چند بے ربط خیالات اور گزارشات آپ سب لوگوں کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔

سوشل میڈیا اک مصنوعی پلیٹ فارم ہے۔ مصنوعی اس لیے کیونکہ یہاں آپ اپنی شخصیت، سوچ، نفسیات اور پسند ناپسند کے بارے میں انفارمیشن (معلومات) کی ترسیل یا فلو کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ آپ خود کو جیسا دکھانا چاہتے ہیں وہی لوگ آپ کے بارے میں دیکھتے اور سوچتے ہیں۔ اکثر افراد اپنی مشہور سوشل میڈیا سلیبرٹی سے ملنے کے بعد مایوس ہو جاتے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا کے برعکس اصلی زندگی میں اتنے فلٹرز اور پروفائل کے مطابق بات چیت اور رویہ رکھنا بہت مشکل ہے۔

سوشل میڈیا پہ ہر کوئی اپنے آپ کو بڑھا چڑھا کہ بیان کر رہا ہوتا ہے اور عام صارف جب خود کا دوسروں سے موازنہ کرتا ہے تو مایوسی میں گھر جاتا ہے۔ اسے یہ محسوس ہونے لگتا ہے جیسے دوسروں کی دنیا میں سرے سے کوئی مسئلہ نہیں جبکہ میں تو پریشانیوں میں گھرا ہوا ہوں۔ یہ احساسات اس میں منفی انرجی پیدا کرتے ہیں جو آگے چل کہ ڈپریشن میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا کو حد سے زیادہ سنجیدہ لینا بھی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ پنجابی کہاوت ہے ”کھوایا بھل جاندا تے روایا یاد رہ جاندا اے“ تو انسان کی فطرت ہے کہ وہ منفی چیزوں کی بھرپور گنتی رکھتا ہے جبکہ جو چیزیں اچھی ہو رہیں ہوں ان کو وہ نارمل لیتا ہے۔ یہ کلیہ لکھنے اور پڑھنے والوں پہ بھی لاگو ہوتا ہے۔ لاشعوری طور پہ لکھنے والے منفی لکھ رہے ہوتے ہیں (ایسا نہیں کہ یہاں حالات خراب نہیں تاہم بیشتر جگہوں سے حالات کافی اچھے بھی ہیں اور مثبت باتیں بھی اپنی جگہ موجود ہیں ) اور پڑھنے والے منفی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

مثبت باتوں کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ یہ سچویشن انسان کی نفسیات میں افسردگی و پژمردگی میں اضافہ کرتی ہے اور انسان حالات کی تصویر اس سے کہیں زیادہ منفی بنا لیتا ہے جتنا زمینی حقائق اصل میں ہوتے ہیں۔ اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں جب یہ چیز بڑھ جاتی ہے تو انسان میں خوشی کا احساس کم ہونے لگتا ہے اور انسان خوش ہونے کی کوشش کرے بھی تو اندر تک خوش نہیں ہو پاتا۔

سوشل میڈیا پہ ہم ایک دوسرے کے لیے جانے انجانے ذہنی دباؤ بڑھانے کا بھی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد کیجیے کچھ عرصہ پہلے بلی کے ریپ، ٹک ٹاک سٹار علینہ کی باڈی شیمنگ، ایک دلہن کو والد کے بوسے سمیت جیسے سینکڑوں ایسے واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں جن میں محض ہم لوگوں کی غیر سنجیدگی مذاق اور لاعلمی نے متاثرہ خاندانوں کو بے پناہ اذیت اور ڈپریشن سے گزارا۔ شاید ان کی اکثریت آج بھی نارمل انداز میں زندگی گزارنے سے قاصر ہو۔ سوشل میڈیا پہ کوئی واقعہ کی جانچ پڑتال کے لیے وقت نہیں دینا چاہتا اور اگر کوئی ایسا کرے بھی تو اس کے مواقع کم ہیں اور انسانی غلطی کا احتمال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ ان چیزوں کے اثرات بسا اوقات اتنے گمبھیر ہو جاتے ہیں کہ کچھ نارمل نہیں رہتا۔

اک اور مسئلہ نظریات کا ٹکراؤ ہے۔ عموماً ہم اپنی حقیقی زندگی میں اپنے جیسے دوست بناتے ہیں جن کی نفسیات سوچ، مزاج، مزاح اور عادات ہمارے مطابق ہوتیں ہیں۔ لیکن فیس بک انسٹا گرام وغیرہ پہ یہ معاملہ تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ یہاں بیشمار لوگوں سے ہمارا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ جن میں سے اکثر کے نظریات ہمارے لیے اجنبی، ناپسند یا سرخ لکیر کے پرے بھی ہو سکتے ہیں۔ ہمہ وقت اپنی پسند سے الٹ چیزیں پڑھنا بھی ہمارے لیے پریشانی اور ٹینشن کا باعث ہو سکتا ہے۔

آگہی کو عذاب اسی لیے کہا گیا ہے کہ آپ کو ان چیزوں سے بھی تعارف حاصل ہوتا ہے جن کے بارے میں آپ حساس ہوتے ہیں آپ کو اس حساسیت کے ساتھ معلومات کے بہاؤ کو برداشت کرنا ہوتا ہے، یہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ زیادہ تر آپ دوسروں کے نظریات تبدیل کرنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر پاتے۔ ہمارے ہاں تو ویسے بھی یہ بہت مشکل کام ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اک عجیب سی بے بسی اور گھٹن کا احساس ہوتا ہے اس صورتحال میں آپ کے اندر اکیلے پن کا احساس سر اٹھانے لگ سکتا ہے۔ ذہنی تناؤ تو بنتا ہی ہے ردعمل میں آپ بہت سے لوگوں سے خاموش نفرت بھی کرنے لگ جاتے ہیں۔ جبکہ اس بندے کے فرشتوں کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا اور آپ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہے ہوتے ہیں۔

مسئلہ کی تشخیص کے بعد مرحلہ آتا ہے علاج اب سوال یہ ہے کہ ان سب سے بچا کیسے جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو اپنی شخصیت سے واقفیت حاصل کریں۔ یہ وہ چیز ہے جسے سب اک عام سی چیز سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف سب سے زیادہ نظر انداز بھی اسی کو کیا جاتا ہے کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے ہم خود کو بہت اچھے سے جانتے ہیں۔ لیکن ایسا ہونا لازمی نہیں۔ عموماً ہم اپنے بارے میں سطحی معلومات تو رکھتے ہیں لیکن گہرائی میں سوچنے سے گریز کرتے ہیں۔

خود شناسی کے لیے انٹرنیٹ سے آپ کو کافی مواد مل جائے گا۔ اک چھوٹا سا ہنٹ میں دے دیتا ہوں۔ فرض کریں آپ کے پاس ایک ایسی سپر پاور ہے جس میں لوگ آپ کو نہ دیکھ سکتے ہیں نہ چھو سکتے ہیں جبکہ آپ دونوں کام کر سکتے ہیں۔ آپ سے سے پہلا کام کیا کریں گے؟ اس کا جو جواب پڑھتے ساتھ ہی آپ کے دماغ میں کوندا ہے وہ اصل آپ کی شخصیت ہے جس کو مزید آپ کو ایکسپلور کرنا ہے۔ نفسیات کی رو سے انسان کی شخصیت کے چار حصے ہوتے ہیں جن میں سے کچھ ایک انسان کے اپنے علم میں بھی نہیں ہوتے۔

(سرچ کیجیے Johari Window ) شخصیت سے مکمل تعارف کے بعد آپ فیصلہ کریں آپ کو سوشل میڈیا کو کس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ آپ کتنی معلومات کا اختلاط برداشت کر پائیں گے۔ آپ کی نظریاتی ریڈ لائن کہاں تک ہے۔ ہر کسی کی اعصابی مضبوطی مختلف ہوتی ہے۔ اس حساب سے آپ دوستوں کا انتخاب کریں اور خود پہ ہونے والی انفارمیشن بمبارڈمنٹ کو کنٹرول کریں۔ اس سے آپ کے گرد پسندیدہ معلومات کا اک ببل کریٹ ہو جاتا ہے جو کہ نظریاتی حوالے سے تو جمود کی نشانی ہے تاہم ذہنی صحت کو سب پہ فوقیت حاصل ہے۔

آپ کچھ وقت کے بعد آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اپنی پسند کی چیزیں پڑھیں۔ مزاح کو اپنی ٹائم لائن پہ جگہ دیں۔ خوبصورت مناظر، خوشیوں کے تہوار، انسانی خدمت کے واقعات جیسی چیزیں پڑھیں اور دیکھیں۔ منفی چیزوں کو جد درجہ روکیں۔ ناپسندیدہ نظریات کے حامل لوگوں کو ان فالو کر دیں۔ سوشل میڈیا کا وقت محدود کریں اور حقیقی دنیا کو زیادہ ایکسپلور کرنا شروع کر دیں۔ ہو سکے تو فیملی اور دوستوں کو اور زیادہ وقت دیں۔ موبائل فون سے ہر ممکنہ طور پہ دور رہیں۔

یہ ذہن میں رکھیں کہ یہ اک آرٹیفیشل دنیا ہے تو اپنا تقابل کسی سے نہ کریں۔ حقیقی دنیا میں سب کے مسائل ایک جیسے ہی ہیں۔ ہم ذہنی صحت کو سب سے کم اہمیت دیتے ہیں لیکن یقین کریں اس کے متاثر ہونے کی صورت میں آپ کو دنیا کی کوئی چیز مطمین اور خوش نہیں کر سکے گی۔ لہذا یہ سوال خود سے لازماً کیجیے کہ سوشل میڈیا آپ کا دل بہلا رہا ہے یا جلا رہا ہے؟

Facebook Comments HS