بورس پیسٹرنک
مجھے 12 دسمبر 2011ء کا دن بھلائے نہیں بھولتا۔ بھولے بھی تو کیسے کہ برسوں بعد بھی اس دن کا شمار میری زندگی کے ان دنوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اگر مجھے عمر عزیز میں کوئی دن شامل رکھنے یا نکال باہر کر نے کا اختیار حاصل ہو جائے تو کیا میں اس دن کو اپنی زندگی میں شامل ر کھوں گا یا اسے نکال باہر کروں گا؟
دسمبر کے آغاز سے ہی ماسکو برفانی طوفانی جھکڑوں کی زد میں تھا اور اب دسمبر کے اس دوسرے ہفتے کے وسط میں یہ جناتی برفانی موسم اپنے نقطۂ عروج پر تھا۔ آخر کہاں تک لوگ اپنے گرم گھروں اور دفتروں میں دبک کر بیٹھ سکتے ہیں۔ روسی تو یوں بھی ان برفانی موسموں کا انتظار کرتے ہیں اور ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مگر جب درجۂ حرارت منفی 35 سے 40 ڈگری تک گر جائے تو مزہ کرکرا ہونے لگتا ہے۔ رہے غیر ملکی اور پردیسی و بدیسی!
تو وہ تو اس موسم سے نبرد آزما ہونے کے طریقے ہی سوچتے رہتے ہیں۔ ایسے میں 11 دسمبر کو بیک وقت ملٹری اتاشی بریگیڈیر طاہر صدیق، ہیڈ آف چانسری، آفتاب چوہدری اور ان سب سے عمر میں زیادہ اور تجربے میں کم اس ناچیز کے جی میں اچانک مہم جوئی کی ایک ایسی لہر اٹھی اور وہ دھن سمائی کہ ہم نے اگلے ہی دن ماسکو کے کسی دلچسپ تاریخی مقام یا مقامات کی سیر کا پروگرام طے کر لیا۔ قارئین کرام کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ بیرون ملک جا کر اچھے خاصے بظاہر سمجھ دار اور عمر رسیدہ (راقم 55 اور بریگیڈیر صاحب 50 کے پیٹے میں تھے البتہ آفتاب چوہدری نوخیز جوان تھے کہ ابھی 35 چھتیس کے ارد گرد گھوم رہے تھے ) پاکستانی بھی لڑکوں بالوں کی طرح مہم جویانہ کارروائیوں میں دلچسپی لینا اور ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ گنگنانا بلکہ گانا شروع کر دیتے ہیں۔ شدید برفانی تھپیڑوں کے اس موسم میں مقام یا مقامات سیر کے انتخاب کا مرحلہ ابھی طے کرنا باقی تھا۔ راقم کے دل میں تو بہت سے مقامات دل پذیر انگڑائیاں لے لے کر اپنی چھب دکھلا رہے تھے مگر جغرافیے کی کمزوری اور دوستوں کی دلچسپیوں کے خیال، اور سب سے بڑھ کر اپنے منصوبوں کو ان کے لئے قابل قبول بنانے کے لئے میں نے سیاسی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے پہلے ان سے تجاویز لیں اور پھر بہت سے متبادل مقامات تجویز کرتے ہوئے انہیں اپنے دو پسندیدہ مقامات کا دورہ کرنے پر رضامند کر لیا یعنی الیگزینڈر پیسٹر نک کی رہائش گاہ جو پیریدلکینو میں واقع ہے۔
پیریدلکینو ماسکو کے مضافات میں واقع ایک گاؤں تھا اب تو ماسکو اس سے بہت آگے تک پھیل چکا ہے سوویت یونین کے زمانے میں یہاں ادبا، شعرا، مترجمین اور دوسرے اہل قلم اور لکھاریوں کے لئے ایک بستی بسائی گئی اس بستی کے بسانے میں حکومت کے دو مقاصد تھے۔ ایک تو یہ کہ ان لکھاریوں کو لکھنے پڑھنے کے لئے پر فضا اور پرسکون ماحول فراہم کیا جائے اور دوسرا مقصد انہیں ماسکو بدر کرنا تھا، ایک علیحدہ مقام پر جہاں ان پر بآسانی نظر رکھی جا سکے۔
اسی مقام پر پیسٹر نک کو بھی رہائش مہیا کی گئی جہاں وہ 1939ء سے اپنی وفات 1960ء تک مقیم رہا اور دوسرا مقام لینن گورکی یعنی لینن کی پہاڑی تھا جہاں لینن نے اپنی زندگی اور بیماری کے آخری دن گزارے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بریگیڈیر صاحب اور آفتاب چوہدری صاحب بھی انہیں مقامات، خاص طور پر اول الذکر مقام، پر ہی جانا چاہتے تھے اور وہی سیاسی یا سفارتی کھیل میرے ساتھ کھیل رہے تھے جو میں ان کے ساتھ!
قارئین کرام، اللہ آپ کو ہمیشہ جوان اور خوش و خرم رکھے مگر جو خواتین و حضرات پچاس ساٹھ کے پیٹے میں ہیں اور فلم بینی کا شوق رکھتے ہیں، یہ ممکن ہی نہیں کہ انہوں نے فلم ڈاکٹر ژیواگو نہ دیکھی ہو اور وہ اس فلم میں عمر شریف اور جولی کرسٹی کی بے ساختہ اداکاری سے متاثر نہ ہوئے ہوں۔ اگر ایسے فلم بین خواتین و حضرات موجود ہیں تو انہیں غنیمت جانیے کہ اس دنیا کی رنگا رنگی اور بوقلمونی انہیں کے دم قدم سے قائم و دائم ہے۔ آج ہم اسی عظیم ناول نگار کے گھر جا رہے تھے جس کے اسی نام کے ناول پر یہ خوبصورت فلم بنی تھی، مگر چیونٹیوں کی رفتار سے، کہ برف کے بے رحم تھپیڑے ونڈ سکرین کو یوں دھندلا رہے تھے کہ چند قدم آگے بھی کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا لیکن پہلے کچھ ناول اور مصنف کے بارے میں!
سنجیدہ ادب کے ایسے قاری مشکل سے ملیں گے جنہوں نے بوریس پیسٹرنک کا شاہکار ناول نہ پڑھا ہو کہ یہ ادب عالیہ میں اپنا خصوصی مقام رکھتا ہے۔ آج ہم اسی بوریس پیسٹر نک کے مکان کی تلاش میں سرد برفانی ہواؤں سے سر ٹکراتے، لڑتے بھڑتے شاہراہ پر دو کاروں میں سوار رکتے چلتے سرگرداں تھے۔ بوریس پیسٹر نک کے اکلوتے ناول جسے ادب عالیہ کے شاہکاروں میں شمار کیا جاتا ہے کو 1958ء میں نوبل پرائز سے نوازا گیا اس موقع پر کی گئی تعارفی و توصیفی تقریر (citation) میں سویڈن کی نوبل انعام دینے والی کمیٹی کے سیکریٹری نے زیادہ ذکر پیسٹرنک کی شعری خدمات کا کیا اور بجا طور پر کیا کہ بیشتر نقادوں کی نظر میں اسے بیسویں صدی میں انقلاب روس کے بعد کا عظیم شاعر کہا جاتا ہے وہ روسی بالشویک انقلاب کا پرجوش حامی اور کارکن تھا جس کے پہلے شعری مجموعے ’میری بہن زندگی‘ جو 1923ء میں شائع ہوا، میں ہی انقلاب سانسیں لیتا محسوس ہوتا ہے پھر لیو ٹالسٹائی، جسے اس نے صرف چار سال کی عمر میں اپنے گھر میں پہلی بار دیکھا تھا اور ہمیشہ کے لئے اس کی شخصیت کا اسیر ہو کر رہ گیا تھا اور جو بوریس کی پیانو کی ماہر موسیقارہ والدہ اور مصور والد کا مشترکہ دوست تھا اور ان کے گھر پر منعقدہ تقریبات میں اکثر شرکت کیا کرتا تھا (بورس کے والد نے ٹالسٹائی کے 1898 میں چھپنے والے ناول (Resurrection) کو اپنے پنسل سے بنائے گئے خوبصورت خاکوں سے مزین کیا تھا اس کے علاوہ اس دور کے معروف موسیقار سرگئی رچنا نینووا، الیگزینڈر سریابین اور اینٹین روینسٹین بھی اس کے گھر میں ہونے والی تقریبات میں اکثر شریک ہوتے تھے۔ یہیں سے بوریس پیسٹرنک کو موسیقی کا شوق ہوا جو رفتہ رفتہ دیوانگی کی حد تک پہنچ گیا اس سے پہلے 1912ء میں وہ فلسفے کے مشہور پروفیسر ہرمن کوہن کا شاگرد رہا جو توحید پرست اور کائنات میں موجود فطری ترتیب و تنظیم اور ہم آہنگی کا قائل تھا مگر سال بھر میں ہی اس کا دل میتھیمیٹکس اور دوسرے مضامین سے بھر گیا البتہ فلسفے سے اسے دلچسپی ہو گئی۔ بوریس کے سوانح نگاروں اور نقادوں کی نظر میں ہرمن کوہن کے خیالات کا اس پر عمر بھر اثر رہا۔
14 سالہ پیسٹرنک ماسکو کنزرویٹری میں موسیقار رینولڈ گلیئر سے چھ سال تک موسیقی سیکھتا رہا مگر پھر انتہائی مایوسی کے عالم میں موسیقی سیکھنا ترک کر دیا کہ۔ ”خیال کو طرز میں تبدیل کرنے کے لیے جس تکنیکی مہارت“ کی ضرورت ہے وہ اس کے خیال میں اس میں مفقود تھی۔
موسیقی کے ساتھ ساتھ جو دوسرا عشق بوریس کو لاحق تھا وہ ایڈا دیویدوونا سے اس کا دیوانہ وار عشق تھا۔ ایڈا ایک نوجوان خاتون تھی جسے بوریس بچپن سے ہی بہت پسند کرتا تھا مگر جب بوریس نے اس سے شادی کی درخواست کی تو ایڈا نے اسے بے رخی بلکہ بے دردی سے ٹھکرا دیا۔ یوں ٹھکرائے جانے کا یہ عمل نوجوان بوریس کو شاعر بنا گیا۔ بوریس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اب کسی خاتون سے محبت یا شادی نہیں کرے گا۔ (بوریس زیادہ عرصہ اپنے اس ارادے پر قائم نہ رہ سکا اور 1923 میں یوجینیا ولادی میرونا سے پہلی شادی کی جو 1931میں طلاق پر منتج ہوئی کہ دونوں کے مزاج میں زمیں آسمان کا فرق تھا) مگر بوریس کے سوانح نگاروں اور سب سے بڑھ کر اس کی یادداشتوں”مجھے یاد ہے : ایک سوانح عمری کا خاکہ۔“ (I remember: sketch for an autobiography) سے پتہ چلتا ہے کہ محبت میں یہ ناکامی اس کی تخلیقی تجدید ذات کا سبب بنی مگر ابھی ایک اور شدید مایوسی اس کی راہ تک رہی تھی جس بالشویک انقلاب کے ذریعے انسانی مساوات، عالمی اخوت، انسانی آزادی و عظمت کے وہ خواب دیکھتا اور اپنے خون جگر کو شعروں میں ڈھالتا رہا تھا اس انقلاب کو بہت جلد سٹالن نے ظلم و بربریت کی اندھیری رات میں بدل دیا۔
بوریس کے ساتھ بالکل وہی ہوا جو برطانیہ عظمیٰ کی رومانی تحریک کے انقلاب فرانس کے حامی عظیم شاعروں شیلی، کیٹس، کالرج وغیرہ کے ساتھ اس انقلاب میں روا رکھے جانے والے ظلم و بربریت اور خون ریزی کو دیکھ کر ہوا تھا یہ انقلاب لاکھوں جانوں کی قربانی دینے کے بعد نپولین کی فوجی آمریت پر منتج ہوا تھا بہت سے دوسرے بڑے روسی ادیبوں اور شاعروں کی طرح پیسٹرنک کے لئے بھی اب بالشویک انقلاب سے امیدیں وابستہ رکھنا اور اس کے قصیدے لکھنا محال ہو گیا تھا چنانچہ 1928ء کے بعد اس نے دوسری زبانوں سے روسی میں تراجم کرنے کا کام سنبھالا اور اسے نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیا۔
شیکسپیئر کو روسی میں ترجمہ کرنے کے علاوہ حسن اتفاق یا خوش قسمتی سے جس زبان کے شاہکاروں کو بوریس نے روسی میں ترجمے کے لئے منتخب کیا وہ جارجیا کی یعنی سٹالن کی مادری زبان تھی۔ سٹالن کو بوریس کے تراجم بہت پسند تھے اسی لئے وہ ان چند خوش قسمت ادیبوں اور شاعروں میں شامل تھا جو سٹالن کے عتاب اور غضب سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے جب روسی دارالترجمہ اور لکھاریوں کی انجمن نے بوریس کے خلاف لمبی چوڑی شکایتوں کا پلندا سٹالن کے سامنے رکھا اور اسے سخت سے سخت سزا دینے کی تجویز پیش کی تو کہتے ہیں کہ سٹالن نے اس شکایت پہ لکھا ”اسے ہاتھ نہ لگانا۔ یہ بادلوں میں بسیرا کرتا ہے“ اس کی محبوبہ اولگا ایونسکایا اتنی خوش قسمت نہیں تھی۔ اپنی پہلی بیوی یوجینیا ولادی ویرونیا سے 1931 میں طلاق کے بعد بوریس نے زینائیدہ نکو لیونا سے شادی کر لی تھی مگر اس سگھڑ اور گھر گرہستی میں دلچسپی رکھنے والی خاتون کی کثرت سگریٹ نوشی اور تاش کھیلنے کی لت سے بوریس بہت تنگ تھا اسی دوران اسے دو بچوں کی ماں اور دو بار کی بیوہ اپنے سے 22 سال چھوٹی 34 سالہ اولگا ایونسکایا سے 1946 میں محبت ہو گئی بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ اولگا اس پر مر مٹی۔
اپنی یاد داشتوں پر مبنی 1978 میں چھپنے والی اپنی کتاب میں اولگا ایونسکایا اپنی ماں کو بوریس سے ماسکو میں ہونے والی ایک ادبی تقریب میں بوریس کی تقریر سننے کے بعد اس سے گفتگو کے بارے میں بتاتے ہوئے لکھتی ہے ”میں ابھی ابھی (جیسے) خدا سے بات کر رہی تھی“ ۔ دونوں کی بدقسمتی کہ 14 سالہ محبت کے باوجود 1960 میں بوریس پیسٹرنک کی وفات تک بوریس کی دوسری بیوی زینایئدہ نے ان کی شادی کی تمام کوششوں کو بڑی کامیابی سے ناکام بنایا۔
زینایئدہ سوانح نگاروں اور ادبی نقادوں کی رائے میں محبت سے زیادہ بوریس کی ادبی اور بین الاقوامی شہرت اور دولت، جو سوویت حکومت کی مخالفت کے باوجود اسے حاصل تھی، کی وجہ سے اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اولگا ایونسکایا بوریس کی شاعری اور دیگر تحریروں کی گرویدہ تھی۔ وہ ماسکو سے شائع ہونے والے ادبی جریدے (جو ادبی سے بڑھ کر سیاسی جریدہ بھی تھا) میں ادارتی معاون کی حیثیت سے کام کرتی تھی۔ 1949 میں ایونسکایا کو چار سال کی قید بامشقت کی سزا دے کر سائبیریا کے جبری مشقت کے کیمپ بھیج دیا گیا جہاں دی جانے والی شدید ذہنی اور نفسیاتی مشقتیں بھی اس کی بوریس سے محبت کم نہ کر سکیں اور وہ بوریس کے خلاف برطانیہ کا جاسوس ہونے کی گواہی دینے پر آمادہ نہ ہوئی یہاں تک کہ اسے بوریس سے ملاقات کا وعدہ کر کے کیمپ کے مردہ خانے لے جایا گیا یہ تاثر دینے کے لئے کہ وہاں اس کی لاش رکھی ہوئی ہے۔ اس صدمے سے ایونسکایا کا اسقاط حمل ہو گیا۔
لیجیے باتوں ہی باتوں میں ہم بادلوں میں بسیرا کرنے والے اس شخص کے گھر کے احاطے میں داخل ہو گئے ہیں بڑے بڑے برف پوش درختوں میں گھرا برف کی چادر اوڑھے یہ گھر دیکھا بھالا لگتا ہے یہ ہمارے ہاں شہروں میں پائے جانے والے مڈل کلاس کے دس بارہ مرلے کے گھروں سے بڑا گھر نہیں ہے ڈیزائن بھی عام کھاتے پیتے روسیوں کے گھروں جیسا ہے ہم جنوبی سمت میں بنی سیڑھیوں پر چند قدم چڑھ کر گھر میں داخلے کے دروازے پر پہنچے ہی تھے کہ کھٹ سے دروازہ کھل گیا اور ہمیں درمیانی عمر کی ایک روسی خاتون نے اندر آ جانے کا اشارہ کیا۔
ان کے ساتھ دو اور مختلف عمروں کی روسی خواتین نے بھی ہمارا استقبال کیا۔ لگتا تھا جیسے وہ ہمارا ہی انتظار کر رہی تھیں۔ شاید انہوں نے گھر میں نصب سیکورٹی کیمروں کی مدد سے ہماری گاڑیوں کو احاطے میں داخل ہوتے دیکھ لیا تھا اور خراب موسم کو دیکھتے ہوئے فوراً دروازہ کھول دیا تھا۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی یا ماسکو، روس اور باقی دنیا کی عدم دلچسپی، یا طوفانی موسم کی کارستانی کہ اس دن ہمارے علاوہ کوئی اور یہ گھر دیکھنے یہاں نہیں آیا تھا سو ہمیں پوری تفصیل سے پورا گھر دکھایا گیا جن تفاصیل سے ہمیں آگاہ کیا گیا ان کا زیادہ تر علم آفتاب چوہدری تک محدود ہے کہ وہ روسی زبان میں تھیں جس سے بریگیڈیر صاحب کی آگاہی واجبی اور راقم کی عنقا تھی۔
وہاں موجود بوریس پیسٹرنک کے زیر استعمال اشیا جیسے لکھنے پڑھنے کی میز، کرسی، کاغذ، قلم، بستر تکیے، ظروف وغیرہ، الغرض ہر چیز سے اس کی نفاست، اعلیٰ ذوق اور اشرافیہ سے تعلق کا پس منظر مترشح تھا۔ اس نے اپنا شاہکار اکلوتا ناول اسی گھر میں لکھا تھا گو اس کے نقادوں اور سوانح نگاروں کے خیال میں یہ ناول کئی عشروں تک اس کے دل و دماغ میں پکتا رہا اور وہ اس ناول پر 40 سال تک کام کرتا رہا۔ اپنی یادداشتیں بھی اس نے اپنی موت سے صرف ایک سال قبل 1959 میں یہیں مکمل کیں۔
بوریس پیسٹرنک نے 1956 میں ’ڈاکٹر زواگو‘ کا مسودہ جریدے ’نووی میر‘ کے اداراتی بورڈ کو منظوری کے لئے بھیجا۔ بورڈ نے اپنے دس ہزار الفاظ پر مشتمل خط میں جہاں ناول کے ادبی اسلوب کی تعریف کی وہیں اسے مکمل طور پر سوویٹ دشمنی اور بالشویک نظام کی شدید مخالفت پر مبنی تصنیف قرار دیتے ہوئے مسترد اور ناقابل اشاعت قرار دے دیا مگر اس کے باوجود ناول کا مسودہ اسمگل ہو کر اگلے ہی سال اٹلی پہنچا جہاں فیلٹرینیلی ( Feltrinelli) والوں نے 1957 میں اسے شائع کر دیا اگلے ہی سال 23 اکتوبر 1958 کو اسے نوبل انعام کے لئے منتخب کر لیا گیا۔
بوریس نے سویڈن کی نوبل انعام دینے والی کمیٹی کو نوبل انعام قبول کرنے کے بارے میں اپنے خط میں اپنے تشکر اور ممنونیت کے اظہار میں الفاظ کے دریا بہا دیے۔ میں اس انعام کے لئے منتخب ہونے پر ’لامحدود حد تک ممنون، بے حد متاثر، حیران، جذبات سے مغلوب‘ ہو گیا ہوں۔ لیکن بعد میں حالات نے ایک ایسا ڈرامائی رخ اختیار کیا جس سے بوریس کی زندگی میں ایک ایسے آخری المیے نے جنم لیا جو ارسطو سے لے کر بوریس تک، کم و بیش ہر بڑے آدمی کا مقدر ہے، لیکن اس کا ذکر بعد میں فی الحال اس گھر کو دیکھتے ہیں جہاں بوریس نے زندگی کا بیشتر حصہ، اپنے آخری دن تک گزارا۔
گھر میں داخل ہوتے ہی یوں لگتا ہے جیسے ہم فلم ’ڈاکٹر ژواگو‘ کے کسی منظر میں داخل ہو گئے ہیں گھر بالکل ویسا ہی ہے جیسے فلم میں دکھایا گیا ہے۔ سامنے مغرب کی جانب برف اوڑھے دیو زاد درخت، جنوب میں گھر میں داخلے کے دروازے کے سامنے مختصر سیڑھیاں، درختوں میں چاروں طرف سے گھرے اس گھر کی کھڑکیاں، دروازے، کمرے، اندرونی سیڑھیاں، گھر کے اندر آویزاں تصاویر، یہاں تک کہ دروازوں اور کھڑکیوں میں لگی کنڈیاں (thatches) تک بعینہٖ وہی ہیں جو فلم میں دکھائی گئی ہیں۔
لگتا ہے ابھی ابھی کسی کمرے کے دروازے یا کھڑکی سے عمر شریف یا جولی کرسٹی جھانکتے نظر آئیں گے۔ ابھی اس شاہکار فلم کا کوئی المیہ، رومانی یا ڈرامائی منظر پردہ سیمیں سے باہر آ جائے گا۔ انسان کا تخلیق کیا گیا آرٹ کتنا پائیدار مگر خود انسان کتنا ناپائیدار ہے کہ جب عمر شریف آخری بار ماسکو آئے تو صدر پیوٹن کے ذاتی مہمان کی حیثیت سے کریملن کے صدارتی محلات میں ٹھہرائے گئے۔ کوششوں کے باوجود انہیں ملنا تو کجا ہم ان کی ایک جھلک بھی نہ دیکھ سکے کہ انہوں نے جسمانی کمزوری کے باعث عوامی تقریبات میں شرکت سے اجتناب برتا۔
یہ وہی شخص ہے جس نے 1960 کی دہائی میں لارنس آف عریبیہ اور ڈاکٹر ژواگو میں اعلی اداکاری پر شہرت اور مقبولیت کی انتہائی بلندیوں کو چھوا تھا، جو عربی، فرانسیسی، اطالوی، یونانی، ہسپانوی، انگریزی اور جرمن زبانیں روانی سے بولتا تھا، جس کی آنکھوں کی شرارتی چمک، باوقار چال اور مردانہ وجاہت پر لاکھوں خواتین جان دیتی تھیں، اب چلنے سے مجبور اور بولنے سے گریزاں تھا۔
ہم سب کی خواہش تھی کہ ہمیں ڈاکٹر ژواگو کی یہاں فلم بندی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جائیں جب ہم نے اپنی اس خواہش کا بزبان آفتاب چوہدری اظہار کیا تو ان خواتین نے تیزی سے آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی بات کی اور سب بیک وقت کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔ پھر ان میں سے ایک نے اپنے اوپر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے ہمیں آگاہ کیا کہ ڈیوڈ لین کی ہدایت کاری میں پروڈیوسر کارلو پونٹی کی یہ شہرہ آفاق فلم سرے سے یہاں فلمائی ہی نہیں گئی، اس کی تمام تر فلم بندی اسپین میں ہوئی تھی۔
ہمیں اپنی علمی اور فلمی کم مائیگی کا اتنا شدید احساس ہوا کہ ہم نے فوراً ان خواتین سے اجازت لے کر واپسی کے سفر پر روانہ ہونے کا فیصلہ کر لیا کہ اب رات بھی گہری اور مسلسل برف باری اور طوفانی جھکڑوں سے گمبھیر ہوتی جا رہی تھی سفید برف کا اپنا ہی اندھیرا تھا جو گہرے سے گہرا ہوتا جا رہا تھا واپسی کے سفر میں مجھے اس بڑے ناول نگار کے المیہ انجام کا خیال ستاتا رہا۔ نوبل انعام قبول کرنے کے چھ دن بعد ہی بوریس پیسٹرنک کو اتنا بے بس اور مجبور کر دیا گیا کہ اس نے نوبل انعام لینے سے انکار کر دیا اس کے باوجود لکھاریوں کی انجمن نے اسے غدار قرار دے کر انجمن سے نکال دیا اور نکیتا خروشچیف کو اسے ملک بدر کرنے کی تجویز بھیجی۔
خروشچیف کے نام ایک خط کی صورت میں اپنی اپیل میں وہ لکھتا ہے ”اپنی مادر وطن سے جدائی میری موت ہو گی میں روس کے ساتھ اپنی پیدائش، اپنے کام اور اپنی زندگی کے بندھنوں کے ساتھ بندھا ہوں“ مادر وطن کے ساتھ ازلی بندھنوں میں بندھے اس ادیب کی 19 فروری 1987 کو اس کی موت کے 29 سال بعد لکھاریوں کی انجمن میں حیثیت بحال کر دی گئی :
اور بالآخر 1988 میں ڈاکٹر ژواگو اپنے آبائی ملک روس میں طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ گیا۔ لیجیے ہم اپنے سفر کے اختتام کے قریب ہیں بریگیڈیر طاہر صدیق صاحب شہر کی ایک سمت رہتے ہیں تو میں اور آفتاب اس کے متضاد بالکل دوسری جانب ہم انہیں الوداع کہنے کے بعد آگے بڑھتے ہیں پہلے میرا گھر آتا ہے میں گاڑی سے اتر کر آفتاب کو خدا حافظ کہتا ہوں گاڑی آگے بڑھ جاتی ہے۔ سڑک سے میرا گھر کوئی سو گز کے فاصلے پر ہے ابھی چند قدم اٹھاتا ہوں کہ شدید برف باری کی پیدا کردہ پھسلن سے پھسل کر کئی گز دور تک لڑھکتا چلا جاتا ہوں اٹھنے کی کوشش کرتا ہوں تو تانگ میں درد کی شدید ٹیسیں بے بس کر دیتی ہیں فٹ پاتھ پر دور دور تک کوئی بندہ نہ بشر۔
نہ جانے کیسے اور کن جتنوں سے میں نے وہ چند گز کا فاصلہ طے کیا اور اپنے فلیٹ والی عمارت کا خفیہ کوڈ ڈائل کیا۔ ہسپتال پہنچا تو معلوم ہوا ہنسلی کی ہڈی میں ہلکا فریکچر ہے۔ اس اجمال کا مثبت پہلو یہ ہے کہ روس کے نظام صحت کے بارے میں سیر حاصل تجربہ حاصل ہوا اور مغربی پروپیگنڈے کے بر عکس یہ خوش گوار احساس ہوا کہ روسی ہڈیوں اور امراض چشم کے شعبوں میں بہت آگے ہیں۔






