جواں مرگ سندھی صحافی و افسانہ نويس ــ حضُور بخش ”آزاد“ جتوئی
آزاد جتوئی کی پیدائش ضلع لاڑکانے کے چھوٹے سے قصبے ’محراب پور‘ میں 4 مارچ 1956 ء کو اللہ بخش جتوئی کے گھر میں ہوئی۔ ان کا پیدائشی خاندانی نام ’حضور بخش‘ تھا، مگر وہ ادبی اور صحافتی دنیا میں ’آزاد جتوئی‘ کے نام سے جانے پہچانے گئے۔ آزاد نے، ایک عملی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے گھر میں آنکھ کھولی۔ حضور بخش کے دادا حضور، مولوی غلام رسول جتوئی، سندھ کی معروف مذہبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔
جنہوں نے اپنی قلمی و تخلیقی صلاحیت کو مذہب کی ترویج کے لیے انتہائی موثر انداز میں استعمال کیا۔ مولوی غلام رسول جتوئی کو سندھ کا کم و بیش ہر خاص و عام اس لیے پہچانتا ہے، کہ ان کے تحریر شدہ منظوم خطبہ جات آج بھی سندھ کی اکثر مساجد میں جمعے کے اجتماعات میں پڑھے جاتے ہیں۔ خطبے کے پہلے قیام میں جب اللہ کا پیغام لوگ اپنی مادری زبان سندھی میں سلیس انداز میں نظم کی صورت سنتے ہیں، تو وہ انہیں تفہیم میں آسانی فراہم کرتا ہے۔
ان کے ان خطبات کی کتب، سندھ بھر کے مذہبی کتاب گھروں میں عام جام دستیاب ہیں۔ ایسے پڑھے لکھے گھرانے میں پیدائش پانے والے حضور بخش جتوئی کو انتہائی چھوٹی عمر ہی سے مذہبی تعلیم دلوا کر، 1961 ء میں رسمی تعلیم کے حصول کے لیے مقامی پرائمری سکول میں داخل کرایا گیا۔ جہاں سے (محرابپور پرائمری سکول سے ) انہوں نے 1966 ء میں اپنی پرائمری تعلیم مکمل کی اور سیکنڈری تعلیم کے لیے نواح کے قدرے بڑے شہر ڈوکری سے علم کا فیض پایا۔
اور 1971 ء میں پاکستان کے دو لخت ہونے والے دکھدائک سال میں گورنمنٹ ہائی سکول ڈوکری سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد سائنس میں گریجوئیشن (بی۔ ایس۔ سی۔ ) کی ڈگری گورنمنٹ ڈگری کالج لاڑکانے سے حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ سندھ جامشورو چلے گئے، جہاں سے اپنے لکھنے پڑھنے کے ذوق کے پیش نظر شعبۂ صحافت میں داخلہ لیا اور 1985 ء میں صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
آزاد جتوئی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز، رائیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ ڈوکری میں کلرک کی حیثیت سے اپنی خدمات کی انجام دہی سے کیا۔ صحافت کے میدان میں ان کی پہلی وابستگی روزنامہ ”نوائے وقت“ سے ہوئی، جو مختصر عرصہ جاری رہ سکی۔ اس کے بعد وہ قائد اعظم کی مادر علمی، کراچی کی تاریخی درسگاہ، سندھ مدرسۃ الاسلام کے بورڈ میں کلرک کی حیثیت سے وابستہ ہو گئے۔ یہ چند چھوٹی موٹی ملازمتیں کرنے کے بعد ان کو نہ جانے کیا سوجھی، کہ انہوں نے بنکنگ کا شعبہ اپنے ذریعۂ معاش کے طور پر چنا۔
اس ضمن میں پہلی ملازمت کے سلسلے میں انہیں کوئٹہ کا دانا پانی نصیب ہوا اور وہ ’نیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن‘ (این ڈی ایف سی) کی کوئٹہ برانچ کے مینیجر کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے بنکنگ کے شعبے میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ 1991 ء میں پاکستان کے سابقہ نجی ”پکک بنک“ کے سینیئر وائس پریزیڈنٹ بنے۔ جس کے بعد انہوں نے اسی حیثیت میں پاکستان کا ایک اور سابقہ نجی بنک ”این آئی بی“ جوائن کیا، جس کے ساتھ ان کی وابستگی تادم مرگ رہی اور وفات کے وقت وہ اس بنک کے حاضر سروس سینیئر نائب صدر تھے۔
آزاد جتوئی، اپنی کل وقتی ملازمت کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں کے بورڈز پر اعزازی طور پر بھی اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام کا وہی بورڈ، جس میں کسی زمانے میں آپ نے کلرک کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دی تھیں، 2005 ء تا 2008 ء اسی بورڈ کے معزز ممبر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں اور اس مادر علمی کی انتظامیہ کو ادارے کے متعدد انتظامی امور کے حوالے سے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے رہے۔
ذریعۂ معاش کے طور پر انہوں نے بھلے بنکاری کا شعبہ چنا ہو، مگر ان کا صحافت کے ساتھ عشق کبھی سویا نہیں۔ انہوں نے صحافت کے ساتھ اپنی لگن کا ثبوت اپنے بچپن ہی سے ”ڈیاٹیوں“ (جلتے چراغ) کے نام سے ایک سندھی رسالہ شائع کرنے کی صورت دیا تھا۔ انہوں نے ”نوائے وقت“ اخبار کے ساتھ اپنی مختصر وابستگی کے بعد صحافتی دنیا میں دوسرا بڑا قدم 1998 ء میں رکھا، جب انہوں نے سندھی میں اپنی ادارت میں ”مومل“ کے نام سے ایک ماہنامہ رسالہ جاری کیا، جو صحتمند ادبی مواد پر مشتمل ایک خوبصورت جریدہ تھا۔
مگر شاید ان کی صحافتی پیاس صرف اس ماہوار رسالے سے پوری نہ ہو سکی، کہ انہوں نے ماہنامہ ”مومل“ کی اشاعت سے ٹھیک دس برس بعد 2008 ء میں اسی نام سے کراچی سے ایک روزنامے، روزنامہ ”مومل“ کا اجراء کیا۔ جسے انہوں نے اپنا خون جگر دے کر سینچا اور تاحیات اس کی ادارت کرتے رہے۔ خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ روزنامہ ”مومل“ آج تک متواتر جاری ہو رہا ہے اور اب 14 برس کی عمر پاکر جوان ہونے والا ہے۔ جسے آزاد جتوئی کی رحلت کے بعد ان کی شریک حیات حسینہ آزاد جتوئی پچھلے 13 برس سے اپنی ادارت میں شائع کر رہی ہیں۔
گویا یہ تلخ حقیقت ہے کہ آزاد مرحوم اپنے اس لگائے گئے پودے (روزنامہ ”مومل“ ) کی دیکھ بھال محض ایک برس ہی کر سکے، جس کے بعد سے لے کر اب تک اس کی آبیاری، حسینہ آزاد جتوئی ہی کرتی آ رہی ہیں اور کرتے رہنے کا عزم رکھتی ہیں۔ اس پرعزم خاتون حسینہ میمن (جو شادی کے بعد ”حسینہ جتوئی“ کہلائیں۔ ) کے ساتھ آزاد کی شادی، اپریل 1984 ء میں ہوئی، جن سے انہیں تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کی اولاد ہوئی۔ حسینہ آزاد جتوئی بذات خود ایک باصلاحیت قلمکار اور صحافی ہیں اور پچھلے 13 برس سے ”مومل“ اخبار کی ادارت سے تو انہوں نے سندھی صحافت میں پنا لوہا منوایا ہی ہے۔
حضور بخش ”آزاد“ جتوئی، سندھی کے ایک باصلاحیت افسانہ نویس بھی تھے۔ ان کے افسانے مختلف ادوار کے معروف اخبارات اور جرائد کی زینت بنے، جن میں معاشرے کے مسائل و مصائب کی انتہائی پر اثر انداز میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ ان میں سے 27 افسانے ان کی اہلیہ، حسینہ آزاد نے ترتیب دے کر 2011 ء میں ”ڈکھیو ڈیہہ سندر سپنا“ (مشکل دیس۔ خوبصورت خواب) کے نام سے مجموعے کی صورت شائع کروائے۔ سندھ کے عملی خواہ ادبی حلقوں میں اس کتاب کی بہت پذیرائی ہوئی۔
ایک نمائندہ ادیب کی حیثیت میں آزاد، اپنے دور کے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے مختلف ادبی پروگرامز میں بھی تواتر کے ساتھ شرکت کرتے رہے۔
حضور بخش آزاد جتوئی اپنی ذات میں ایک سرگرم انسان تھے اور جیتے جی بے جا بیٹھنا انہوں نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ ان کا سرگرم تعلق سندھ کی متعدد ادبی تنظیموں کے ساتھ ساتھ سماجی تنظیموں کے ساتھ بھی رہا۔ وہ سندھ کی معروف رفاہی تنظیم ”سندھ گریجوئیٹس ایسوسی ایشن“ (سگا) کے فنانس سیکریٹری اور کچھ عرصہ اس کی کراچی شاخ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن بھی رہے۔
آزاد جتوئی کے حوالے سے سندھ کے نامور دانشور، عالم اور براڈکاسٹر، آغا سلیم کا کہنا تھا کہ ”آزاد جتوئی میں دیگر جو بھی خوبیاں تھیں، وہ سب اپنی جگہ، لیکن ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ایک محبت کرنے والا والد اور ایک محبت کرنے والا انتہائی وفادار شوہر تھا۔“ سندھی کے معروف و مقبول شاعر، شمشیر الحیدری ان کے بارے میں کہتے ہیں : ”گفتگو کا نرم لہجہ، اپنائیت والا انداز اور ہمدردانہ رویہ، ’آزاد‘ کی شخصیت کی انفرادیت تھا۔
اس کے لبوں پر تیرتا دل کو موہ لینے والا تبسم، ملنے والوں کے ساتھ ان کا خاموش تعارف ہوا کرتا تھا۔ وہ اپنے دوستوں اور ہمکاروں کے لیے انمٹ یادیں چھوڑ گئے ہیں۔ صحافت کی راہ میں ان کا مختصر سفر، حصول مقصد کے لیے محنت کی مثال ہے۔“ جبکہ سندھ کے نامور سماجی کارکن اور دانشور، ڈاکٹر سلیمان شیخ، آزاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ”آزاد جتوئی ایک در شہوار کی مانند درخشاں ستارے بن کے ابھرے۔ جہد مسلسل اور بے مثال ایمانداری کے باعث وہ اپنی حیات کی جنگ لڑتے رہے۔ ان کا جاری کیا ہوا اخبار، روزنامہ“ مومل ”سندھ کے کاک محل کی مہا رانی کا درجہ حاصل کر سکے۔ یہی تمنا لے کر آزاد ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گئے۔“
اس خوش مزاج انسان اور منفرد قلمکار و صحافی نے صرف 53 برس کی عمر پاکر، 26 اگست 2009 ء کو وفات پائی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک شام اچانک روزنامہ ”مومل“ کے دفتر میں بیٹھے بٹھائے ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ جس کے بعد وہ خود، دفتر کے قریب ہی کلفٹن کراچی میں واقع ایک نجی ہسپتال کی ایمرجنسی پہنچے، مگر جانبر نہ ہو سکے اور کچھ ہی دیر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ شاید ہر کسی سے ہنسی خوشی ملنے والے اس خوش مزاج، ملنسار (اور بظاہر صحتمند) شخص کو بڑے عرصے سے کوئی ایسا عارضہ لاحق تھا، جس کا شاید ان کو علم نہ ہو سکا اور اچانک وہی ان کی موت کی وجہ بنا۔ اور ”آزاد“ ، ’اقبال‘ کے اس شہرہ آفاق شعر کے مصداق، فطرت کے اصول کی بجا آوری کرتے ہوئے اپنے اگلے سفر کو روانا ہوئے، کہ:
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
مگر اس بات کی قوی امید ہے کہ آزاد جتوئی، اپنی قلمی کاوشوں اور روزنامہ ”مومل“ کی صورت جلائی ہوئی اپنی شمع کی صورت، سندھ کے ادبی اور صحافتی حلقوں میں تادیر یاد رکھے جائیں گے۔



