نجم الدین احمد کے ناول ”سہیم“ کا تجزیاتی مطالعہ


نجم الدین احمد کا تعلق سید ہاشمی گھرانے سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا خاندان بھارت کے ضلع ’حصار‘ سے ہجرت کر کے پاکستان آیا۔ یہاں ابتدا میں مختلف شہروں میں عارضی قیام کیا۔ جھنگ، مظفرآباد اور ساہیوال کے بعد یہ خاندان بہاولنگر پہنچا اور یہاں مستقل سکونت پذیر ہوا۔ والد کا نام بدر الدین احمد تھا جو کہ حکیم تھے۔ والدہ کا نام صدیقن بی بی تھا جو کہ گھریلو خاتون۔ نجم الدین احمد خود اپنے خاندان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ:

”والد کا نام بدرالدین احمد تھا جو کہ اپنے زمانے کے مشہور حکیم تھے۔ اور اس زمانے میں ان کی حکمت کا بھی خوب چرچا تھا۔ حکمت کی وجہ سے لوگ انھیں جانتے تھے۔ آج بھی ان کے قلمی نسخے میرے پاس موجود ہیں۔ جب والد کی وفات ہوئی تو میں تیسری جماعت کا طالب علم تھا اور میری عمر 7 برس تھی“۔

ان کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں بڑے بھائی فضل الحق بدر جو کراچی میں ہیں۔ دوسرے بڑے بھائی امیر الدین کا ذاتی کاروبار تھا جو چند سال پہلے وفات پا گے۔ تیسرے بھائی حفیظ الدین لاہور میں رہتے ہیں اور نیشنل بینک میں بطور مینیجر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ چوتھے بھائی عزیز الدین احمد المعروف جو کہ محمکہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور ایم فل اردو کر چکے ہیں۔

بہنوں کی واجبی تعلیم کو پرائمری مڈل کہہ سکتے ہیں اس زمانے یعنی ستر اسی سال کی دہائی کے حوالے سے مکمل دینی تعلیم۔ پہلی بہن بلقیس بدر ہارون آباد جو کہ ضلع بہاولنگر کی ایک تحصیل ہے میں قیام پذیر ہیں۔ دوسری بہن سلمی بدر حویلی لکھا ضلع اوکاڑہ میں قیام پذیر ہیں۔ تیسری چھوٹی بہن نجمہ بدر کو فوت ہوئے بہت بیت چکے ہیں۔

وہ اپنی کفالت کے بارے میں بتاتے ہیں کہ:
”والد کی وفات کے بعد ہم سب کفالت بڑے بھائی امیر الدین احمد اور حفیظ الدین احمد نے کی کیونکہ سب سے بڑے بھائی فضل الحق بدر جو جوانی میں ہی کراچی منتقل ہو گئے تھے۔ ”

نجم الدین احمد 2 جون 1971 کو محلہ شہزاد بہاولنگر پنجاب میں پیدا ہوئے۔ سن کے چار بڑے بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ جن میں سے ایک بھائی اور ایک بہن وفات پا گئے ہیں۔ ان کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ والد کی وفات کے بعد بڑے بھائیوں نے بڑی شفقت اور محبت سے ان کی پرورش کی۔ گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کی بدولت سب ان سے بہت پیار کرتے تھے۔ ان کا بچپن بہت ہی شاندار گزرا۔

بچپن شرارتوں سے بھرپور گزرا۔ انھیں کھیلنے کودنے میں مکمل آزادی تھی۔ سکول و کالج میں ہر جمعہ ہونے والی بزم ادب جیسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔ وہ اپنی آبائی زبان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ گھر میں شروع سے ہی اردو زبان کا رواج تھا اور یہ رواج ابھی بالکل ویسے ہی قائم ہے۔ اردو سے تعلق کافی گہرا ہے۔ انھیں بچپن سے ہی مختلف طرح کے قصے کہانیاں پڑھنے کا شوق تھا۔

نجم الدین احمد نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول عزیز ملت سے حاصل کی۔ لیکن ساتویں جماعت کے حصول کی غرض سے ہارون آباد چلے گے۔ اور وہاں ایک سال پڑھنے کے بعد واپس بہاولنگر آ گئے نویں جماعت کے لئے گورنمنٹ کمپری ہینسو سکول بہاولنگر میں داخلہ لیا۔ اور اسی سکول سے 1985 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

نجم الدین احمد بتاتے ہیں کہ:

” جب میں میٹرک میں تھا تو مجھے پڑھنے کا شوق تھا میں نے اس دوران بہت محنت کی اور میٹرک کے امتحان میں سکول بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔“

میٹرک کا امتحان پاس کرنے بعد نجم الدین احمد نے گورنمنٹ کالج بہاولنگر میں ایف ایس سی ( پری انجینئرنگ) میں داخلہ لیا۔ 1949 میں اسی کالج سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ اس نے بعد انھوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پرائیویٹ طور پر بی اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد انھوں نے 1995 میں ایم اے انگریزی کا امتحان بھی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پرائیویٹ طور پر پاس کیا۔

نجم الدین احمد ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہیں اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ بہاولنگر میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ وہ ملازمت کے دس سال بعد رشتہ ازدواج کے بندھن میں بندھ گئے۔ ان کی شادی 5 اکتوبر 2003 بروز جمعہ کے دن ان کی پھوپھو زاد کی بیٹی یاسمین اسلم سے ہوئی۔ ان کی اہلیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے شادی کے بعد بھی اپنا نام تبدیل نہیں کیا بلکہ اسی نام یاسمین اسلم سے ہی پکاری جاتی ہیں۔ ان کی اہلیہ ایک تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ انھوں نے ایم اے تاریخ کیا ہوا ہے اور ایک گھریلو خاتون ہیں۔

اپنی شادی کے بارے میں نجم الدین احمد بتاتے ہیں کہ:
”میری شادی میری مرضی سے ہوئی اس کو ارینج کم لو میرج کا نام بھی دے سکتے ہیں۔“

ان کے ہوں ایک بیٹی اور تین بیٹے پیدا ہوئے۔ بیٹی کا نام صباحت یاسمین ہے۔ بیٹوں کے نام حسنین نجم، محمد حسان نجم، حسن نجم ہیں۔ بیٹا حسنین نجم 19 جون 2010 کو وفات پا گیا اس کی وفات نے دونوں میاں بیوی پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ان کا ذکر اکثر ان کے افسانوی مجموعوں میں بھی ملتا ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے ”آؤ بھائی کھیلیں“ کا انتساب اسی کے نام سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ

”میرا خاندان عام طور پر مہاجر کہلاتا ہے۔ کیونکہ ہم بھارت سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ ہمیں کراچی والا مہاجر نہیں کہا جاتا۔“

نجم الدین احمد سانولی رنگت، تیکھے نقوش، رعب دار چہرے پر درمیانی مونچھوں اور درمیانے قد کا صحت مند نوجوان ہے۔ ان کے چہرے پر ہر وقت سنجیدگی کے اثرات نظر آتے ہیں۔ لیکن جب وہ دوستوں کے ساتھ محو گفتگو ہوتے ہیں تو اپنی بھرپور توجہ دیتے ہیں۔ وہ صوم و صلوٰۃ کے زیادہ پابند نہیں ہیں لیکن با اخلاق انسان ہیں بالکل سادہ اور انتہائی سادگی سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ مزاج کے بہت تیز ہیں۔ مگر دوستوں اور عزیز و اقارب بیت خیال رکھتے ہیں۔ جب فارغ التحصیل ہوں کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا زیادہ تر وقت دفتر میں گزرتا ہے یا دفتر کے بعد اپنا فارغ وقت زیادہ تر گھر والوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔

وہ لباس میں شلوار قمیض کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن محفل کے مطابق پینٹ کوٹ بھی زیب تن کرتے ہیں۔ جس طرح لباس ہر شخص کا انفرادی پسند ہوتا ہے، بالکل اسی طرح انسان کھانے پینے میں بھی اپنی پسند اور نا پسند رکھتا ہے۔ لیکن نجم الدین احمد اس حوالے سے ذرا مختلف ہیں کیونکہ وہ نہایت سادہ انسان ہیں تو کھانے میں بھی سادگی سے کام لیتے ہیں۔ اس بارے میں نجم الدین احمد بتاتے ہیں کہ:

”میں دراصل کھانے میں ہر انسان کی طرح پسند اور نا پسند سے کام نہیں لیتا جو مل جائے خوشی سے کھاتا ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔“

نجم الدین احمد نے آدی سفر کا آغاز 2000 میں چھوٹی چھوٹی آزاد اور نثری نظمیں لکھ کر کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ

”میں اب تک بہت سارے شعرا پڑھ چکا ہوں لیکن پسندیدہ شاعر میرا جی اور ناصر کاظمی ہیں۔“
افسانوی نثر کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔
ہونا تخلیق کا نہیں آسان
مرنا پڑتا ہے موت سے پہلے

انھوں نے ادبی سفر کے آغاز میں چند غزلیں کہیں لیکن جلدی ہی شاعری کو ترک کر دیا۔ وہ انتہائی حساس طبع ادیب ہیں جو دراصل اپنے اردگرد ماحول اور معاشرے سے ہی تحریک لیتے ہیں۔ وہ معاشرے میں ہونے والے جبر و استحصال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف حق کی آواز بلند کرتے ہیں۔

2005 کے بعد انھوں نے شاعری کو ترک کر کے افسانوی نثر کا رخ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ شاعری میں اپنے موضوعات کو بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دراصل شاعری کے اندر ماضی الضمیر کو کھل کر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے میں نے شاعری ترک کر کے نثر میں اپنا قلم اٹھایا۔ کسی شخصیت سے متاثر ہونے کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ:

”میں اپنی زندگی میں بہت ساری شخصیتوں سے متاثر ہوا ہوں میں نے زیادہ تر باہر کا ادب پڑھا ہے۔ گیبریل گارشیا مارکیز، ویلیم شیکسپیئر اور زندگی میں بہت سارے مصنفوں کی کتابوں کی مطالعہ کیا ہے۔ زندگی میں انسان کبھی بھی کسی ایک شخصیت سے متاثر نہیں ہوتا۔“ [ 8 ]

نجم الدین احمد نے نثر کا باقاعدہ آغاز ناول سے کیا۔ ان کلام کی نوعیت بڑے ہی مختلف انداز کی ہے۔ نجم الدین احمد نے غیر ملکی اخبارات اور رسائل و جرائد میں بھی مضامین لکھے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ:

”سائنس ہو یا آرٹس میں تمام قسم کے مضامین سے لگاؤ رکھتا ہوں لیکن فکشن ہمارے گھر میں شروع سے ہی پڑھا جاتا تھا اور اب بھی فکشن سے گہرا لگاؤ ہے۔“

وہ اپنے ناول اور افسانے میں زیادہ تر استعمال ہونے والے موضوعات کے بارے میں بتاتے ہیں کہ:

”میں زیادہ تر معاشرتی، سماجی جبر، معاشرتی ناہمواری سے ہی جنم لینے والے نفسیات مسائل کو موضوع بناتا ہوں۔“

نجم الدین احمد بتاتے ہیں کہ ناول اور افسانہ دونوں ہی اپنی جگہ بہت اہم ہیں۔ وہ ان کے متعلق کچھ اس طرح کی رائے قائم کرتے ہیں کہ:

”ایک کا کینوس وسیع ہے تو دوسرے کا محیط دونوں ہی زندگی کو بیان کرتے ہیں“ ۔

انھوں نے تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں۔ نجم الدین احمد بتاتے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں مجھے ایسا کوئی استاد دستیاب نہیں ہوا لیکن ادبی میدان میں سلیم الرحمن میرے استاد ہیں۔ پہلا ناول اور افسانہ کس مصنف کا پڑھا یہ تو یاد نہیں البتہ ابتدا مختلف ڈائجسٹوں کے مطالعے سے ہوا تھا۔

محبت ہے بارے میں نجم الدین احمد بتاتے ہیں کہ:

”نجم الدین احمد کہتے ہیں کہ محبت کوئی ہانڈی ٹھوڑی ہے۔ جس کو جب چاہو پکا لو۔ محبت دو طرح کی ہوتی ہے ایک جو خودبخود ہوتی ہے۔ دوسری محبت جو ہمیں سب سے کرنی چاہیے۔“

تصانیف و اعزازات
ان کے اعزازات و تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے
ناول
1۔ مدفن 2007
2۔ کھوج 2014
3۔ سہیم 2019 عکس پبلیکیشنز لاہور
4۔ میناجیت (زیر طبع)
5۔ پرچھائیاں (زیر طبع)
افسانے

1۔ ”آؤ بھائی کھیلیں“ اشاعت اول (تیرہ افسانے ) 2013 2۔ ”فرار اور دوسرے افسانے“ اشاعت اول (سترہ افسانے ) 2017

تراجم
1۔ بہترین امریکی کہانیاں 2015
2۔ نوبل انعام یافتہ ادیبوں کی کہانیاں 2012
3۔ عالمی افسانہ (عالمی ادب سے انتخاب) 2019
4۔ سلیم شہزاد کے سرائیکی ناول ”پلوتا“ کا ترجمہ 2019
نجم الدین احمد کے فن پر مختلف معاصرین کی آرا
اجمل اعجاز نجم الدین احمد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

”نجم الدین احمد صرف افسانہ نگار کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ ترجمہ اور ناول نگاری میں بھی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ نجم الدین احمد میرے پسندیدہ قلم کار ہیں اس وقت ان کے افسانوی مجموعہ فرار اور دوسرے افسانے میرے پیش نظر تھے۔ ان کے، افسانے کی بنیادی ضرورت یعنی کہانی سے مرصع ہیں اور کہانی بھی ایسی جو انتہائی باریک بنت کاری، مضبوط بیانیہ، بھرپور تجسس اور جاندار کردار نگاری کی بنیاد پر کھڑی ہو۔

جم الدین احمد نے ناول ”سہیم“ میں معاشرے کی تلخ حقیقت کو بڑھ بہادری کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سماج میں عورت کے ساتھ جو رویہ کیا گیا ہے اس کو ناول میں بڑے دلکش انداز سے بیان کیا ہے۔ انھوں نے سماج کے ایسے حالات واقعات پر قلم اٹھائی ہے جس پر لوگ بہت کم توجہ دیتے ہیں۔

ان کا ناول ”سہیم“ سماج کے لیے مکمل آئینہ ہے کیونکہ کوئی بھی فنکار اپنے معاشرے کا مکمل آئینہ دار ہوتا ہے اور اس کے تخلیق کیے گئے ادب سے ہی معاشرے کے خدو خال جو بیان کیا گیا۔ انھوں نے اس ناول میں سیاسی، معاشرتی، اور سماجی تمام طرح کے پہلوؤں کو دکھایا ہے جس کی وجہ سے ناول منفرد ہے۔

ناول کے اندر ایک ایسا بیانیہ موجود ہے جو کہ ان کے ہم عصر فکشن نگاروں کی سوچ قوت و اظہار بیان اور ابلاغ و ترسیل کے لحاظ سے منفرد ہے۔

موضوع:

یہ ناول اپنے موضوع کے اعتبار سے بھی بالکل منفرد بن کر سامنے آتا ہے۔ نجم الدین احمد نے اس میں عورت کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا، جاگیر دارانہ نظام، معاشرے کی اخلاقیات، عورت کا استحصال، سیاست سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی اجارہ داری، غلط کام کرنے پر والدین کی جانب سے روکنے کی بجائے حوصلہ افزائی ہونا اہم موضوعات ہیں۔ انسان کی زندگی میں پیش آنے والی مختلف کیفیتوں کو بیان کیا ہے۔ اقتدار کا لالچ اور اس کو بالکل ویسا ہی قائم رکھنے کے لیے انسان کس کس حد تک جاسکتا ہے۔

کسی بھی تخلیق میں موضوع بنیادی اہمیت رکھتا ہے موضوع پر ہی تخلیق کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ناول میں بیان کیے گئے تمام موضوعات انتہائی سنجیدہ ہیں، وہ کبھی کبھی لوگوں کے اندر کے احساسات کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں جس میں دکھ کی کیفیت موجود ہے کے ساتھ ساتھ ذہنی کیفیت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ نجم الدین احمد کے مطابق زندگی ہمارے لیے بڑا امتحان ہے جس میں ہم غلط فہمیوں اور مختلف طرح کے واہموں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ بیان کی گئی کہانی دراصل استحصال کی نہیں بلکہ دیگر مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ انھوں نے خاص طور پر جنسی استحصال کے نقطۂ نظر سے سماج کی حیثیت کو بیان کیا ہے۔

پلاٹ:

پلاٹ جتنا مربوط ہو گا ناول اتنا ہی شاندار اور پر اسرار ہو گا۔ ناول ”سہیم“ میں دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نجم الدین احمد کے ہاں واقعات کے اعتبار سے زیادہ تر بے ربط نہیں ہے لیکن کہیں کہیں واقعات میں بے ربطی موجود ہے۔ واقعات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ناول کا پلاٹ انتہائی سادہ سلیس ترتیب کے ساتھ ہے جس میں ایک واقعہ بغیر کسی ربط کے دوسرے کے ساتھ جڑتا جاتا ہے۔ ناول کے پلاٹ میں ہی نجم الدین احمد نے پوری کہانی کو بیان کیا ہے۔ اس کے پلاٹ میں ربط کم ہے۔

ناول میں موجود واقعات کہیں دھندلے اور کہیں بالکل واضح نظر آتے ہیں۔ انھوں نے ناول میں زمانے کی ترتیب کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ یہاں موجود پلاٹ جو کہ واقعات حقیقت اور خواب کی کیفیت میں جڑا ہوا ہے۔ ناول کی کہانی قصہ در قصہ ہونے کے ساتھ ساتھ زنجیر کی کڑیوں کی طرح باہم منسلک ہے کیونکہ سارے واقعات و حالات ایک کے بعد آہستہ آہستہ تسلسل کے ساتھ رونما ہوتے چلے جاتے ہیں۔ نجم الدین احمد کا یہ ناول روایتی ناول نہیں بلکہ یہ ناول فلیش بیک تکنیک کا ایک بہترین امتزاج ہے۔ اگر ایک پیراگراف نکال لیں تو پوری کہانی کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔

” میرے اندیشے غلط ثابت ہوتے ہیں میرے خدشات کے برعکس سکون اور آور منشی ادویات کا یکلخت اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے جب کہ میرا خیال تھا کہ مجھے ناقابل برداشت دماغی اور بدنی کرب سہنا پڑے گا اور اور شاید میں میں ہمت ہار کر کر دوبارہ رجوع کر لوں گا۔ کیونکہ مجھے مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ایسی چیزوں کی لت لگانا نا آسان ہوتا ہے لیکن اس سے پیچھا چھڑانا نا کار دارد لانے کے مترادف۔ میں گہری نیند میں ہوتا ہوں ہو مجھے الجھے آپ پریشان کرتے ہیں ہیں اور نہ ہی نہیں الٹی سیدھی سوچیں حیرت انگیز طور پر پر ماروی کی مرنے سے قبل کل کہی ہوئی کوئی بھی بات بات یاد آ کر میرا ذہن پلٹ دیتی۔“

بیانیہ:

بیانیہ میں منفی، موضوعاتی یا و ہیتی اعتبار سے کوئی قید نہیں ہوتی اس کو کو واقعہ اور قصے سے مطلب ہے۔ بیانیہ چاہے فرضی ہو اس میں حقیقت موجود ہو کہانی ایک ہی ہوتی ہے ہے ہے جس کے اردگرد سارا ماحول تشکیل پاتا ہے۔ ناول ”سہیم“ کا آغاز کہانی کے اختتام سے ہے لیکن پھر بھی کہانی ترتیب اور تہہ در تہہ لکھی ہوئی ہے جو آسانی سے کہانی کو بیان کرتی ہے جو کہ قاری کی سمجھ میں تو آجاتی ہے لیکن قاری کے ذہن میں یہ بے شمار سوالات ضرور چھوڑ جاتی ہے۔

نجم الدین احمد کا ناول ”سہیم“ بھی واقعات کو بنا کسی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ناول کی کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس میں زبان و بیان کا استعمال انتہائی منفرد انداز کے ساتھ کیا ہے۔ الفاظ کا چناؤ او اور پھر اس کا استعمال ایک خاص مہارت رکھنے والا ہی تو کر سکتا ہے ناول کا اقتباس۔

” کچھ دیر وہاں یوں سکوت طاری رہا جیسے ڈیرے میں ایک بھی روح نہ ہو۔ سب کو سانپ سونگھ گیا تھا اور اور وہاں قبرستان کا سا نجو طاری ہو گیا تھا۔ وہاں اگر کوئی چیز زندہ تھی تو صرف ڈیڈ کی آنکھیں آنکھیں جو کہ چاروں طرف صرف وہ گھماتے ہوئے لوگوں کا جائزہ لے رہی تھی کہ کس کی آنکھوں میں میں بغاوت کے آثار ہیں جنہیں کچلنا کس کے ماتھے پر بل پڑتے ہیں جنہیں نکالنے کی ضرورت ہے۔ مجھے نہیں معلوم ہو کون ہے۔“

تکنیک:

جب ہم ناول میں تکنیک کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو تو معلوم ہوتا ہے نجم الدین احمد نے اپنے ناول میں میں شعور کی رو کی تکنیک کو بھی استعمال کیا ہے۔ یہ ناول بالکل حقیقت پر لکھا گیا ہے۔ ایک مرد غلط ہونے کے باوجود بھی کسی طرح جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عورت کی ہر بات پر پر یقین کر لیتا ہے۔ اس میں فلیش بیک تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے جس میں ارسلان کے باقی تین شریک حیات کو دکھایا گیا ہے۔ جیسا کہ:

” خواب کی سب سے اہم بات خواب کا تسلسل تھا جو کہ ذرا سا بھی ٹوٹتا جس میں برابر بھی وقفہ نہیں آتا۔ جو کہ عام طور پر ایسے الجھے ہوئے خوابوں کی طرح جگہ جگہ لے کر اپنی کہانی بدلتا۔“

سہیم کے کرداروں میں تانیثیت اور مارکسزم:

کردار نگاری ناول کا اہم جزو ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ مصنف جاندار کرداروں کو ہی اپنے ناول میں بیان کرے بلکہ وہ کبھی کبھی ناول لکھتے ہوئے سماج میں رہنے والے انسانوں سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتا ہے اس دوران کچھ حیوان کے کرداروں کو بھی ناول میں بڑی ہنر مندی سے بیان کرتا ہے۔ ناول میں کرداروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک راؤنڈ (Round) جبکہ دوسرا فلیٹ (Flate) ہوتا ہے۔ نجم الدین احمد نے ناول سہیم میں مرکزی ضمنی اور ثانوی تین طرح کے کرداروں کو بیان کیا ہے۔ اس کہانی میں بیان کیے گئے کردار حقیقی ہیں۔

نجم الدین احمد کے کردار ہمارے معاشرے کے عام انسان ہیں۔ جن کے سینوں میں دل دھڑکتے ہیں جو کہ گوشت پوست سے بنے ہوئے ہیں ناول سہیم میں ہر طرح کے کردار موجود ہیں۔ جو کہ اپنی کہانی کو باخوبی بیان کرتے ہیں اور اپنی بہادری حکمت عملی اور نظم و ضبط کی اعلی مثال دکھائی دیتے ہیں۔ ناول میں کردار نگاری کبھی بیانیہ انداز میں اور ڈرامائی انداز میں سامنے آتی ہے۔

مکمل کردار کے بارے میں ڈاکٹر احسن فاروقی لکھتے :

” اچھے کردار وہی ہوتے ہیں جن کی بابرکت ناول ختم ہونے تک ہم کچھ نہ کچھ نئی بات معلوم کرتے رہتے ہیں۔ عام طور پر اچھے کردار نگار شروع میں کسی کردار کی کچھ اچھائیاں اور برائیاں بیان کر دیتے ہیں اور پھر اس کے بعد ان کو دوسرے کے کرداروں کے زیر اثر دکھا کر خاص خاص موقعوں پر پیش کر کے ذاتی تجربات کے اثر سے بدل بدلا کر خاص خاص طرز ہائے عمل کی طرف رجوع دکھلا کر اس ہر عمل کرتے رہتے ہیں۔“

ناول میں موجود اور ماروی کا کردار مکمل خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ سماج میں موجودہ حقائق پر مبنی ہے۔ ناول میں تمام حالات و واقعات کو اس قدر بے دردی سے بیان کرتا ہے کہ جو قاری اور واحد متکلم کردار ارسلان کو سوالات کے شکنجے میں جکڑ لیتا ہے بری طرح سے۔ ناول میں ماروی کے کردار میں کہیں کہیں بے انتہا جھول نظر اتی ہے۔ ماروی ناول کا پہلا نسوانی کردار ہونے کے ساتھ ساتھ مرکزی کردار اور ناول کی ہیروئن کے طور پر سامنے آتی ہے۔

ماروی ہا کردار ناول میں شروع سے اخر تک موجود ہے۔ یہ کردار جہاں بھی جاتا ہے وہاں پر اپنا اثر چھوڑتا ہے۔ ماروی کا کردار سماج میں موجود حقائق کے لحاظ سے ایک مکمل کردار ہے جو کہ خود کو کبھی بھی ماحول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتی۔ ماروی کا تعلق نچلے طبقے سے ہے اس کردار کے ذریعے نجم الدین احمد نے تانیثیت کے پہلو ہو اجاگر کیا ہے۔ اس کے کردار کے ذریعے معاشی حوالے سے بھی ناول میں عورت کا استحصال دکھایا گیا ہے۔

ناول میں ماری کے کردار کے ذریعے موجودہ صورتحال کو بیان کیا گیا ہے۔ ماروی کے کردار کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کو ایک ایسی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے جس کا اس نے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔ ناول میں موجود ماروی کے ساتھ ہونے والے واقعات کو ایک لاشعور کے ذریعے بھی دکھایا گیا ہے۔ ماروی کے ناجائز تعلقات والی بات بڑی بھیانک ہے کیونکہ وہ گھر سے باہر نہیں جاتی اور نہ ہی کسی سے اس کے ایسے تعلقات ہو سکتے ہیں۔ ماروی جو کہ دراصل الجھی ہوئی شخصیت کا حامل کردار ہے۔ ماروی کی بے بسی کے بارے میں کچھ اس طرح سے بیان کیا گیا ہے ناول کا ایک اقتباس:

”مجھے چھوڑ دو ورنہ اچھا نہیں ہو گا اس نے غراتے ہوئے دھمکی دی ورنہ میں خود کشی کر لوں گی وہ بے بسی بے کسی کے آنسو بہاتی ہوئی بولی اس کی بڑی بڑی حیرت زدہ آنکھوں سے وحشت ہوتی تھی جس سے وہ اور زیادہ حسین لگنے لگی تھی نہیں چل رہا تھا تو وہ مجھے اور ان تینوں کون سے اور واسطے دینے لگی کہ چھوڑ دے لیکن ایک نہ چلی۔“

اس کردار کے ذریعے ہمارے سماج کی تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے کہ کس طرح سے سے ایک جاگیردار مظلوم طبقے کی خواتین کو اپنے جنسی استحصال کا نشانہ بناتا ہے۔

ارسلان ناول کا مرکزی کردار ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں ہیرو کے طور پر بھی نظر آتا ہے۔ ناول میں ارسلان وہ واحد کردار ہے جو کہ اپنی طاقت کے جلال میں سماج کو اپنے محور پر گھمائے رکھتا ہے۔ ارسلان کا تعلق جاگیردارانہ طبقے سے ہے لیکن وہ اس کا بے جا طور پر غلط استعمال کرتا نظر آتا ہے۔ اصل میں ہر دور میں ہر حکمران کا سب سے پس پردہ کارندہ ہے۔ ارسلان دوہری شخصیت کا حامل کردار ہے ایک طرف تو وہ جاگیردارانہ اور سیاسی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے گاؤں کی تمام عورتوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بناتا ہے۔

تو دوسری طرف والدین کے دباؤ میں آ کر ماروی سے شادی کر لیتا ہے۔ ارسلان ناول میں مرکزی کردار کی حیثیت رکھتا ہے جو کہ معاشرے میں ایسے مردوں کی عکاسی کرتا دکھایا گیا ہے جو کہ جاگیر دار ہونے کی وجہ سے عورت کو نہ صرف بستر گرم کرنے کی حد تک ہی اہمیت دیتے ہیں۔ ہمارے سماج میں ہر پانچ میں سے دو ایسے مرد نظر آتے ہیں جو عورتوں اور لڑکیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔ ہوس پوری کرنے جنسی تشدد کرنے والے ایسے مرد سماج میں عام ہیں۔ اس ناول میں ارسلان کے کردار کو بھی بالکل ایسا ہی بھی دکھایا ہے جو کہ سماج میں ایسا مرد مفاد پرستی کے ساتھ ظلم و ستم کرنے کے باوجود سماج میں آزادانہ گھومتا نظر آتا ہے۔

ارسلان جو کہ غلطیاں کرتا ہے ماضی میں لیکن آگے چل کر ان پر شرمندہ ہوتا بھی نظر آتا ہے۔ اور آگے چل کر اس کو غلطیوں کی سزا اس سے بھی بڑھ کر ملتی ہے جس کا وہ کبھی اپنی زندگی میں وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا۔ ناول کا ایک اقتباس:

”میں کھل کر بھٹکتا چلا گیا اور مجھے کسی نے نہیں روکا کسی نے بھی نہیں نہ جا کے ساتھ چند ہی دن گزارنے کے بعد ایک گھنٹے بعد پر ہاتھ صاف کرنے لگا اور مجھے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ تھا کیوں۔“

ارسلان کی بے بسی کو اس میں دکھایا گیا ہے جو کہ طاقت اور اختیار رکھنے کے باوجود بھی کچھ نہیں کر سکتا وہ ماروی کی عزت کو تار تار کرتا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ درد ناک اذیت میں مبتلا زندگی گزارتا ہے۔ ارسلان دراصل ناول کا ایسا کردار جس کے ذریعے نجم الدین احمد نے انسان کی ذہنی کیفیت اور نفسیاتی الجھنوں کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کبھی کبھی سوچتا ہے لیکن اس کے بعد جب ماروی بستر مرگ پر اس کو حقیقت بتاتی ہے تو وہ طویل صدمے میں چلا جاتا ہے۔ اس کو کافی عرصے بعد ہوش آتا ہے۔ اس کو اپنی اولاد اجنبی لگنے لگتی ہے ارسلان کا کردار ناول میں واقعہ کے پیش نظر حکمت عملی کے تحت کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ ایک ایسا کردار ہے جو کہ ماضی میں جھانکتا ہے کہ ایسی کون سی افادیت رہی ہے جو کہ ماضی میں اس پر ہمیشہ حاوی رہی تاکہ میں قاری کو اس سے متعارف کروا سکوں۔ یہ کردار دراصل ہمیں شروع میں طاقت اور سیاست اور جاگیرداری میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن آگے چل کر یہ کردار بے بس اور انتہائی کمزور نظر آتا ہے ہمیں۔ کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ ماضی کے ذریعے قاری کو ایک واقعے اور جگہ کے بارے میں یہ سارے واقعات بیان کروں جو کہ زندگی بھر مجھ سے جڑے رہے اور آخر کار زندگی میں اذیت اور بے چینی کے سوا کچھ بھی نہیں ملا۔

موریشس کی تہذیب و ثقافت

نجم الدین احمد نے اس ناول میں موریشس چینی فرانسیسی اور یورپی ممالک کی تہذیب و ثقافت کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے اس ناول میں فرانسیسی اور موریشس کی تہذیب و ثقافت کی عمدہ انداز سے عکاسی کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ناول میں پاکستانی سماج کی عکاسی کرتے ہیں کیونکہ ناول جاگیردارانہ طبقے کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ ناول سے لیا گیا اقتباس:

”موریشس سرسبز و شاداب پہاڑوں وادیوں اور میدان والا ایک انتہائی خوبصورت اور بے حد چھوٹا ملک ہے کہ ہم اور لوئس سے اپنے ہوٹل سے صبح سویرے ٹیکسی میں سوار ہوتے اور حد شام گئے تک جزیرے کے دوسرے انتہائی سرے پر پہنچ جاتے۔“

نجم الدین احمد نے اس ناول میں میں موجود کرداروں کے ذریعے نچلے طبقے اور ان سے جڑے مسائل کو ناول میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بعض کرداروں کہ نفسیات کو بھی بیان کرتے ہیں۔ ناول میں کچھ ایسی باتیں ہیں جنہیں غربت اور افلاس کے ساتھ ساتھ

جنسی استحصال اور دوسروں کی دھمکیوں نے بھی بہت زیادہ حد تک خوف دہ کر رکھا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نجم الدین احمد کے ناول کے کرداروں میں عصری زندگی اور معاشرتی زندگی کی پیچیدگیوں کے عکس اور نقوش قدم رکھا ہیں۔ کرداروں میں باہمی ربط ہے اور انفرادیت بھی۔ لیکن ناول میں دوغلے چہرے بھی بن جاتے ہیں جہاں ضرورت پڑتی ہے۔ انگریزی الفاظ بھی استعمال کیے ہیں کیونکہ اس بات کو سمجھانے کے لیے اردو میں کوئی بھی نعم البدل نہ تھا اگر ہوتا بھی تو وہ تاثیر قائم نہ رہتی جو کہ نجم الدین احمد قائم رکھنا چاہتے تھے۔

سہیم کے مکالمات:

اگر ناول ”سہیم“ میں نجم الدین احمد نے انتہائی دلکش انداز اس سے مکالموں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہمارے سامنے ایک ربط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ مکالمے کہانی میں میں بعض مقامات پر طویل بھی ہیں۔ مکالموں میں الفاظ اور جملے کی مناسبت بھی مکالمے کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے۔ لیکن اس ناول میں میں کچھ مکالمے میں ایسے ہیں جو آسانی سے سمجھ نہیں آتے۔ پیچیدہ صورت حال پیدا کر دیتے ہیں لیکن یہ سارے مکالمے ناول کی دلکشی کو کم نہیں کرتے بلکہ ناول کو مزید دلکش بنا کر برجستہ بناتے ہیں۔

”اوہ۔ مائی گاڈ۔ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا پہلے کب؟ وہ میرے تاثرات دیکھنے کے لیے ایک بار پھر سر اٹھاتی ہے ہے اور پھر جواب سننے کے لیے دوبارہ کندھے پر ٹکا دیتی ہے۔ جب ہم دوسری اور تیسری بار ملے تھے۔ گاؤں کے باہر والی سڑک پر۔ جب تم کالج سے لوٹ رہی تھیں۔ بل کہ الٹا تم نے۔ پھر کیا ہوتا۔ ”پھر وہ کبھی نہ ہوتا جو ہوا۔“

نجم الدین احمد نے نے ناول میں جو مکالمات بیان کیے ہیں وہ موقع کی مناسبت سے ملتے جلتے ہیں۔ کبھی کبھی جب وہ مکالمے بیان کرتے ہیں تو اچانک کردار ماضی کی طرف پلٹتے ہیں۔ وہ بات کرتے ہوئے اچانک دوسرا واقعہ بیان کرنے لگتے ہیں۔ مکالمے مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات کچھ مکالمات جو کہ واضح اور مکمل ہوتے ہیں جبکہ کچھ مکالمے ادھورے پن تاثرات پیش کرتے ہیں۔

منظر نگاری:

منظر نگاری جسے مسودہ نگاری بھی کہا جاتا ہے منظر نگاری کہانی تلاش کرنے، نے بیانیہ ترتیب دینے، اسکرین پلے لکھنے اور اسے مطلوبہ صورت میں فراہم کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں تاکہ اس پر عملی کام شروع کیا جائے۔ منظر نگاری سے مراد کسی بھی چیز کی تصویر شعری پیکر میں ایسا نقشہ کھینچنا کہ آنکھوں میں میں اس کی شکل بھر جائے منظر نگاری کہلاتا ہے۔

”ناول ایک کھلی ہوئی بڑی تصویر ہے جس میں مناظر کو انتہائی دلکش انداز سے بیان کیا جاتا ہے ناول اس زمانے کی زندگی اور معاشرے کی سچی تصویر ہے جو بھی زمانے میں ہو لکھا جائے۔ ”

نجم الدین احمد نے اس ناول میں جن بھی مناظر کو بیان کیا ہے وہ ہماری معاشرتی اور عام زندگی کے انتہائی قریب ہیں۔ ناول میں موجود مناظر کو پڑھنے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ناول میں یہ سترہ کی منظر نگاری پیش کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے ناول میں تمام مناظر کو موقع و محل کی مناسبت کے مطابق ہی بیان کیا ہے۔ جس طرح نجم الدین احمد نے ناول کے آغاز سے تھوڑا آگے چل کر دریائے بی مانیا (Bee Manique) کے مناظر کو کچھ اس طرح سے بیان کیا ہے :

”جب ہم یہاں آئے تھے۔ دریائے بی مانیا اور دریائے لا چالنس (Lachaux) کے سنگم کے قریب میں واضح ضلع گراؤنڈ پورٹ کے محض آٹھ دس ہزار نفوس پر مشتمل روڈ بیلے نامی اس چھوٹے سے خوبصورت اور پرسکون قصبہ نما گاؤں یا گاؤں نما قصبے میں تو ہم یہاں کے لوگوں کو نہیں جانتے تھے ان کے
لئے مکمل طور پر اجنبی اور پردیسی تھے اور یہاں کا معاشرہ ہمارے لئے مکمل طور پر غیر۔ لیکن دام بنائے اے کام کے مصداق سب ٹھیک ہوتا چلا گیا۔ ہر جگہ دام نے کام بنائے۔ ”

Facebook Comments HS