جماعت اسلامی کا 81 واں یوم تاسیس
26 اگست 1941 ء کی بات ہے۔ مفکر اسلام سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی دعوت پر ایک بڑی اسلامی تحریک کی بنیاد رکھنے کے لئے لاہور کے اسلامیہ پارک میں 75 شخصیات کا اجتماع ہوا جس میں کلمہ توحید کی بنیاد پر اسلامی تحریک کی بنیاد رکھی گئی 75 بنیادی ارکان نے جماعت اسلامی کے نام سے تنظیم قائم کی آج اس جماعت ارکان کی تعداد 42 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ گزشتہ 81 سال دوران سید ابو اعلیٰ مودودیؒ، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن اور سراج الحق جماعت اسلامی کے علی الترتیب منتخب ہوئے ہیں۔
اس عرصہ کے دوران پلوں کے نیچے سے کتنا ہی پانی گزر گیا جماعت اسلامی کو دھڑوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن جماعت اسلامی کا تنظیمی ڈھانچہ اتنا مضبوط ہے۔ وہ کوئی آندھی طوفان یا سازش سے ٹوٹ نہ سکی بلکہ یہ سیاسی افق پر پہلے سے مضبوط بن کر ابھری مسئلہ کشمیر ہو یا امریکہ کے جارحانہ عزائم جماعت اسلامی میدان عمل میں سینہ سپر نظر آتی ہے۔ کشمیر پر سب سے زیادہ ملین مارچ جماعت اسلامی نے ہی کیے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں سیاسی جماعتوں ہجوم تو ہیں لیکن جماعت اسلامی کے سوا کسی جماعت کے پاس منظم سٹریٹ پاور نہیں اگر کوئی دوسری جماعت سٹریٹ پاور کا دعویٰ کر سکتی ہے تو وہ جمعیت علمائے اسلام ہے۔
2018 ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر اکٹھی تھیں لیکن 2018 ء کے انتخابی نتائج سے جماعت اسلامی کو اس حد تک مایوسی ہوئی کہ اس نے متحدہ مجلس عمل سے عملی طور پر سیاسی راستے ہی جدا کر لئے اگرچہ متحدہ مجلس عمل 6، 7 دینی جماعتوں پر مشتمل انتخابی اتحاد تھا لیکن اس کی اصل قوت جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام تھی۔ جماعت اسلامی اتحادوں کی سیاست سے تائب ہو گئی ہے۔ اب اس نے ”سولو فلائٹ“ شروع کر رکھی ہے۔ جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کر لیا ہے ایک ووٹ ہی ملے لیکن ترازو کے نشان پر ہی انتخاب لڑے گی کیونکہ اتحادوں کی سیاست میں ہمیں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ اتحادی سیاست کے نام پر اتحادی جماعتوں نے زیادہ فائدہ اٹھایا اس کی مثال 2018 ء کے انتخابات کی دی جاتی ہے جس میں جماعت اسلامی صرف ایک نشست حاصل کر سکی جب اس کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام نہ صرف 14 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی بلکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اچھی خاصی نشستیں حاصل کر لیں جس سے اسے سینیٹ میں بھی کچھ نشستیں مل گئیں۔
2018 ء کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر انتخاب لڑنے سے جماعت اسلامی کو ڈالے گئے ووٹوں کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا لیکن 2013 ء میں جماعت اسلامی کو ساڑھے دس لاکھ ووٹ ملے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ملک کی سب سے منظم جماعت جس کی قیادت پر عوام اندھا دھند اعتبار کرتے ہیں۔ سیلاب ہو یا کوئی قدرتی آفت جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم الخدمت کو اربوں روپے کے عطیات دیتے ہیں لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے ووٹرز کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
لیاقت بلوچ، فرید پراچہ اور سلیمان بٹ مرحوم جیسی شخصیات بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتی رہی ہیں۔ آج بھی خیبر پختونخوا سے گوادر تک ہر جگہ سیلاب زدگان کی امداد کے لئے جماعت اسلامی کا کارکن کھڑا نظر آتا ہے جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰ مودودی سے لے کر سراج الحق تک جتنے امراء آئے ہیں ان کے کردار اور دیانت پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی سراج الحق کا تعلق پاکستان کے دور افتادہ علاقہ ثمر باغ سے ہے۔ ننگے پاؤں سکول جانے والا یہ طالب علم جب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ لینے آیا تو رات بسر کرنے کے لئے اس کے پاس جگہ نہ تھی تو اس نے آب پارہ میں قصاب کی دکان کے باہر تھڑے پر بستر لگا لیا۔
میاں طفیل محمد مری گئے تو شفاء الحق ان کی شیروانی میں لگے پیوند دیکھ کر کانپ گئے اور اسی روز انہوں نے اپنے آپ کو جماعت اسلامی کے حوالے کر دیا سید منور حسن نے امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے منصورہ میں رہائش نہیں لی اور مہمان خانہ میں قیام کیا بیٹی کی شادی پر ملنے والے تمام تحائف جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کروا دیے جس جماعت کا امیر تین مرلے کے مکان میں رہائش پذیر ہو۔ راولپنڈی کا ایک عہدے دار اپنا گزر بسر کرنے کے لئے تندور سے رات کی باسی روٹیاں لے کر گھر جاتا ہو وہ عوام کیوں مقبول نہیں ایسی جماعت کے ارکان کے پارلیمنٹ تک پہنچنے میں کون سی بات رکاوٹ ہے؟
کیا جماعت اسلامی کی پالیسیوں کو عوام میں قبولیت حاصل نہیں۔ جماعت اسلامی میری پہلی محبت ہے۔ میں یہ سوال جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت سے کرتا رہتا ہوں لیکن مجھے آج تک اس کا کوئی تسلی بخش جاب نہیں مل سکا۔ جماعت اسلامی میں امارت کے لئے لابی کرنا جرم ہے۔ پارلیمنٹ کے رکن کے امیدوار نامزد کرنا جماعت اسلامی کی قیادت کا اختیار ہے لیکن اب پیمانے تبدیل ہو گئے ہیں۔ جماعت اسلامی میں بھی امیدوار بننے کے لئے نہ صرف لابی ہوتی ہے بلکہ از خود انتخابی معرکے میں اترنے کی خواہش کا اظہار کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا کئی لوگ جماعت اسلامی میں اپنا سیاسی مستقبل نہ دیکھ کر دوسری جماعتوں میں جا چکے ہیں۔
آل انڈیا مسلم لیگ کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ مسلمانان ہند کی آزادی کے لئے وجود میں آنے والی پہلی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی کا قیام 26 اگست 1941 ء کو عمل میں لایا گیا مجلس احرار اور جمعیت علمائے ہند بھی آزادی ہند کی تحریک میں سرگرم عمل رہیں جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو پچھلے 81 سال سے متحد ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد دینی جماعت ہے جس پر کسی مسلک کا لیبل نہیں یہ جماعت علاقائی اور قومی تعصبات سے بالاتر ہے۔
جماعت اسلامی میں شورائی نظام ہے جس میں کارکنان کی مشاورت کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے۔ جماعت اسلامی کی جد و جہد کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین بھی کرتے ہیں۔ قرار داد مقاصد ہو یا تحریک نظام مصطفی ﷺ، تحریک ختم نبوت، بنگلہ دیش نامنظور اور دیگر قومی تحریکوں میں جماعت اسلامی نے ہمیشہ صف اول میں کردار ادا کیا ہے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس میں موروثیت کا کوئی شائبہ تک نہیں جماعتوں میں باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد پوتا پارٹی کی قیادت پر براجمان ہو جاتا ہے۔ اگر بیٹا یا پوتا اس قابل نہ ہو اس کی بیٹی نواسی اور پوتی لے لیتی ہے لیکن جماعت اسلامی میں باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد پوتا امارت کے منصب پر براجمان ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہمارے سامنے بانی جماعت سید ابوالاعلی مودودی ؒ، میاں طفیل محمد ؒ، قاضی حسین محمدؒ اور سید منور حسن کے کسی بیٹے، بیٹی، پوتے یا نواسی پوتے یا نواسے نے کبھی خواب میں بھی جماعت اسلامی کا امیر بننے کا کبھی خواب میں بھی امیر بننے کا نہیں سوچا۔
جماعت اسلامی کے عالمی اسلامی تحاریک کے ساتھ گہرے رابطے ہیں۔ یہی وجہ ہے جب جماعت اسلامی کا اجتماع ارکان ہوتا اس میں پوری دنیا سے اسلامی تحاریک کے رہنماؤں کو مدعو کیا جاتا تھا۔ جہاد کشمیر و افغانستان میں جماعت اسلامی کے کردار سے کوئی نفی نہیں کر سکتا جماعت اسلامی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے رکن رہے ہیں لیکن کسی ایک بھی کرپشن اور اقربا پروری کا الزام نہیں لگا جماعت اسلامی آج ایک تناور درخت بن چکی ہے۔ جماعت اسلامی قوم پرست یا وطن پرست جماعت نہیں بلکہ ایک نظریاتی جماعت ہے جو پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنا نا چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک علمی، فکری، اور انقلابی تحریک ہے۔ اس کے لٹریچر کا دنیا کی 46 زبانوں میں ترجمہ موجود ہے۔

