برزنیف اور گورباچوف: ضیائی دور کے ایک پاکستانی بچے کی یادیں


لڑکپن کا زمانہ تھا اور جنرل محمد ضیاء الحق کا دور۔ آٹوگراف لینے کا شوق بوائے سکاؤٹنگ کا پہلا بیج یعنی اتحاد بیج لینے کے فوراً بعد سے شروع ہو چکا تھا۔ خاندان کے کچھ بڑوں، ابا جان کے کچھ دوستوں اور سکول کے چند اساتذہ کے آٹوگراف لیے لیکن جلد ہی کڑا انتخاب ازخود مزاج بن گیا۔ 1982 ء میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں خطبات بہاول پور دینے تشریف لائے تو میں آٹھویں جماعت میں تھا؛ پہلا آٹوگراف ان سے لیا۔ جناب مختار مسعود کی لوح ایام ابھی نہیں آئی تھی البتہ چند سال میں آواز دوست اور سفر نصیب پڑھ لیں۔ رضا شاہ کو خط لکھنے والے صاحب کی کارگزاری بھی یاد ہو گئی اور ایجنسیوں کو پیچھے لگا لینے والے کم قسمت کی بھی۔

بس یہاں سے وہ وقت شروع ہوا جب میں نے کئی لوگوں کے ڈاک کے پتے منگانے کے لیے برٹش لائبریری اور لائبریری آف کانگریس خط لکھنا شروع کیے۔ صوفیہ لارین و برجی باردوت سے لے کر لیچ ویلیسا تک، اور لیڈی ڈیانا اور اس کے نصف بدتر سے لے کر مادر ملکہ اور ہیرو ہیٹو تک، اور ریگن و نینسی ریگن سے لے کر جوڈی فاسٹر تک اور کلنٹن و مونیکا لیونسکی تک بلکہ فرح دیبا و اشرف پہلوی تک، اور یاسر عرفات و صدام و حافظ الاسد و حسین محمد ارشاد سے لے کر اندرا گاندھی تک اور مسز بندرا نائیکے و شینا وترا بلکہ کروئشیا کی کولنڈا گرابر کیٹارووک تک، اور مارٹن لنگز و محمد اسد سے لے کر عبدالسلام اور نیل آرمسٹرانگ تک، اور سر ڈان بریڈمین سے لے کر محمد علی کلے تک، کسی کو نہ چھوڑا۔

میں آٹھویں جماعت ہی میں تھا جب میں نے گھر پہ سپوتنک لگوا لیا تھا۔ یہ رسالہ میرے پاس غالباً وین گارڈ کے ذریعے آتا تھا۔ 1982 ء شروع ہونے سے پہلے دسمبر میں کئی سربراہان مملکت کو نئے سال کی مبارک کے کارڈ بھیجے تو جن کا جواب آیا ان میں سوویت یونین کے صدر برزنیف بھی شامل تھے۔ کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہوا تو صدر جنرل محمد ضیاء الحق ان کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے روس گئے اور میت کے احترام میں کھڑے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ اس دور میں کہ جب افغان جہاد زوروں پر تھا، پاکستانی صدر کا دورۂ روس بہت مشکل سے ہوا تھا۔ ہم ضیاء الحق زدگان کے لیے صدر برزنیف کی اخروی نجات کے لیے یہ بات کافی تھی کہ مرد مومن مرد حق نے ان کا جنازہ پڑھا ہے۔

صدر برزنیف کی وفات کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں آندرے پوف اور چرنینکو صدر رہ کر فوت ہوئے اور جب صدر گورباچوف نے اقتدار سنبھالا تو میں ایف ایس سی میں تھا۔ میں نے انھیں مبارک باد کا کارڈ بھیجا جس کا جوابی کارڈ موصول ہوا۔ دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ مملکت ان کے دور میں ازخود تحلیل ہوئی، جس کو ہم جذبات سے بھرے برین واشڈ نوجوان خالص اپنے زور بازو کا حاصل سمجھتے تھے اور ”روس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے“ کے ایک مضمون کو سو رنگ میں باندھا کرتے تھے۔ ہم صدر گورباچوف کو مسلمانوں کا ہیرو سمجھتے تھے کیونکہ ان کے دور میں نہ صرف سوویت یونین ٹوٹا بلکہ کئی مسلمان ممالک آزاد ہوئے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ روس کو گرم پانیوں تک نہ پہنچنے دینے اور سرخ ریچھ کو ٹکڑے کر دینے والے کارٹون کیسے ہمارا خون گرمایا کرتے تھے۔

میں اس دور میں قائد اعظم یونیورسٹی میں تھا اور تھوڑی بہت عقل آنا شروع ہو گئی تھی لیکن ہم ان بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے جو یہ نعرے لگاتے تھے کہ ”روس کو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، اب امریکہ کے ٹکڑے ہوتے دیکھیں گے۔“ تاہم جب افغان مجاہدین کے بڑے بڑے قابل احترام ناموں کو 1988 ء میں جنرل ضیا کی موجودگی میں مکہ مکرمہ میں جنگ بندی اور معاہدۂ امن کا حلف اٹھاتے اور جنرل ضیا کے پیوند خاک ہونے کے چند ہی دن بعد سفاکی سے خونریز خانہ جنگی میں گردن گردن ڈوبے اور مسلمانوں کے گوشت و خون کا کاروبار کرتے دیکھا تو اعتبار ہی اٹھ گیا اور تاریخ اسلام و مسلمین کے باہم مترادف ہونے کا یقین آ گیا۔

اس کے کچھ عرصہ بعد صدر گورباچوف نے اقتدار چھوڑا اور غالباً بورس یلٹسن آئے اور پھر پیوٹن۔ لیکن میں نے ان دونوں کو کوئی کارڈ یا خط نہیں لکھا۔ افغان جہاد کا کرزمہ ختم ہو گیا تھا۔ ابا جان اور تبلیغی جماعت کے بعض بڑے بزرگ شروع سے افغان جہاد کو فساد کہتے تھے، اس کا یقین بھی رفتہ رفتہ آ ہی گیا۔

30 اگست 2022 ء کو صدر گورباچوف کا انتقال ہوا تو یہ یادیں ذہن پر ہجوم کرنے لگیں۔ سوچا کہ انھیں لکھ دوں۔

Facebook Comments HS