الطاف بھائی، حق چار یار اور واقعی زندہ بھٹو ذوالفقار جونئیر


ٹرین حیدر آباد کی حدود میں داخل ہوئی تو اچانک ہر دیوار پر ”الطاف بھائی کو رہا کرو“ کا نعرہ لکھا دکھائی دیا۔ کراچی کی حدود میں پھر یہی نظارہ تھا اور کراچی شہر میں حسب معمول تین چار روزہ کاروباری قیام کے دوران ہر گلی محلہ میں یہی وال چاکنگ دیکھتے ذہن نے یاد دلایا کہ کسی یونیورسٹی میں طلباء گروہوں میں فائرنگ کے دوران قتل کے الزام میں جوشیلے طالبعلم راہ نما الطاف حسین جیل میں تھے۔

واپس فیصل آباد پہنچے تو ہر شہر، قصبہ گاؤں کی دیواریں ”حق چار یار“ کے الفاظ کی وال چاکنگ، پوسٹر یا بینرز سے رونق یافتہ تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں کچھ وکھرا سا محسوس ہوا جو کینسر جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے دعوے کے بعد اتنا وکھرا بھی نہ رہا تھا۔ ساتھ ہی ”جاوید ہاشمی کو رہا کرو“ کے اشتہار ابھرنے شروع ہو چکے تھے۔ جماعت اسلامی کے یہ آتش بیان طالبعلم رہنما بھی یونیورسٹی میں طلباء تنظیموں کے تصادم میں براہ راست فائرنگ کے ملزم تھے۔

اگلے چند ماہ یا برسوں میں الطاف بھائی رہا ہوکے مہاجر قومی موومنٹ کی داغ بیل رکھ علیحدہ مہاجر تشخص زبان قومیت اور ملازمت کوٹہ وغیرہ حقوق دلانے کے دعویدار بن ابھر رہے تھے۔ وہ اور ان کے ساتھی پرانی موٹر سائیکل اور بائیسکل چھوڑ ڈالے اور گاڑیاں استعمال کر رہے تھے۔ ایک گھنٹہ کے نوٹس پر سارا شہر جلسہ کے لئے نکال لانے والی شعلہ بیانی ایک گھنٹہ کے اندر پورا شہر بند کرانے کی طاقت حاصل کر چکی تھی۔ حق چار یار کے حق نواز جھنگوی سپاہ صحابہ کا نام اختیار کرتے مدرسے کی چٹائی سے کلاشنکوف تانے محافظین کے جلو میں نئی پجارو میں سوار ہو چکے تھے اور ان کی تنظیم فرقہ وارانہ رہی سہی محبت اور رواداری پہ آری چلانا شروع ہو چکی تھی اور جاوید ہاشمی رہا ہو کر جماعت اسلامی سے نکل کر شاید تحریک استقلال کے راستے کسی کابینہ میں حلف اٹھا چکے تھے۔

تماشا یہ تھا کہ بھٹو تو قتل پہ اکسانے کے جرم میں پھانسی گھاٹ جا چکے تھے مگر یہ براہ راست فائرنگ یا قتل کے مبینہ ہیرو کسی ”عدم ثبوت، عدم شہادت“ یا کس بنا پر رہا ہوئے یا ضمانت پہ آئے تھے، یاد نہیں۔ سیاسی اور صحافتی پنڈت ڈھکے چھپے الفاظ میں کراچی میں جماعت اسلامی کے زور توڑنے اور ملک کے اکثر حصوں میں تلوار کی دھار کند کرنے کے لئے اٹھی انگلیوں کی طرف اشارہ کرنے لگے تھے۔ نوے کی دہائی کی ابتدا تک عروس البلاد اور روشنیوں کے شہر کہلانے والے کراچی کی روشنیاں لاشوں اور رانوں سے نکلتے خون کے رنگوں میں بدلنا شروع ہو چکی تھیں اور بھٹو دور کی ابتدا سے ہی ”الجھائے رکھو کرسی مضبوط رکھو“ کے نسخہ کا باری باری بوئے جانا شروع ہونے والا بیج مالک مزدور کشمکش، طبقاتی، لسانی، صوبائی، قومیتی، مذہبی اور فرقہ وارانہ سمیت ہر قسم کی عصبیت کا درخت ضیاء دور کی آبیاری سے تناور درخت بننے کے ساتھ امریکی اسلحہ افغان جہاد کے نام پر حرکت اسلامی کے جہاد کی روح طالبان میں ڈالتے انہیں پورس کے ہاتھی بنا رہا تھا۔

اور گھٹیالی بلڈنگ یا مارکیٹ صدر میں سن نواسی میں شاید پہلے بم دھماکے سے ان درختوں کے پھل اندرون ملک بھی پھل دینے لگ چکے تھے اور میرے جیسے کاروباری ہر دوسرے تیسرے مہینہ کراچی جا راتوں کی رونق دیکھنے والے اب کبھی کبھار جاتے بھی تو مغرب سے پہلے ہوٹل کے کمرے میں دبک چکے ہوتے اور دن بھر منہ پر ہوائیاں اڑتی دکھاتے دکان داروں کے چہرے بھتے کی پرچیوں اور ڈرل سے سوراخ شدہ بوری بند لاشوں کی کہانیاں سناتے۔ انہی میں ہچکیاں لیتے ایک دکاندار کا خوفزدہ چہرہ ہم لاہور فیصل آباد سرگودھا سے آئے چند دکان داروں کو، کم از کم مجھے، کبھی نہیں بھولا جو بتا رہا تھا کہ دفتر سے واپس گھر جاتی جیکب لائنز کے بازار سے گزرتی اینگلو انڈین خاتون پر آوازے کسے جانے پر اس خاتون نے جب جوابی سخت سست کہتے جھاڑ پلائی تو اگلے روز گزرتے اسے سر بازار اٹھا گھسیٹ اسی دودھ والی دکان پہ کھلے عام اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ان ہی درختوں سے لٹکتے فتووں بموں دھماکوں سیاسی اور مذہبی منافرتوں دہشت گردی ملک دشمن تحریکوں، اندرونی و بیرونی دشمنوں، اقتدار کے لئے جوڑ توڑ، سازشوں، بدلتی وفاداریوں اور برائے فروخت سیاسی اور مذہبی لیڈروں نے انسانوں مسجدوں مندروں گرجا گھروں، امام بارگاہوں، عبادت گاہوں، قبرستانوں، مدرسوں درسگاہوں اور بستیوں تک کا جو حشر کیا اور دولت اور کرسی کے لئے چھینا جھپٹی، لوٹ مار، کرپشن نے اخلاقی دیوالیہ پن کے ساتھ دیانت اور رزق حلال کی تعلیم کا جو جنازہ نکالا، وہ دو ہزار بائیس کے پاکستانیوں کے سامنے ہے۔

تین چار روز پہلے یوٹیوب پہ سامنے آنے والی ایک ویڈیو کے عنوان، ذوالفقار علی بھٹو جونئیر ایک مزار پر خدمت کرتے ہوئے، نے چونکا دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر، مرتضی ’بھٹو کا بیٹا، شاہنواز اور بے نظیر بھٹو کا بھتیجا، قائد عوام کا پوتا اور اس کی اولاد میں بچا واحد اور مذکر بھٹو، فاطمہ بھٹو کا بھائی۔ کبھی کبھار خیال آتا تھا کہ یہ کہاں ہوتا ہے کہ اسی طرح چند سال قبل اچانک سامنے آنے والی ویڈیو نے دادا باپ، چچا، پھوپھی کی المناک موت کے نفسیاتی اثر نے جان بچاتے ملک نہ آتے ڈریگ آرٹ کے کسی جلوس میں زنانہ روپ میں اپنی ساتھی کا ہاتھ پکڑے واک کرتے کی ویڈیو دکھائی اور کہانی سنائی تھی۔ اب میری یادداشت نے شاہ نواز بھٹو کی خود کشی کا خطاب پانے والی موت کے بعد بیرونی ملک کے اخباروں میں کینز فرانس میں مقیم بے نظیر اور اس کے بھائیوں کے دوران بیرون ملک بنکوں میں پڑے قذافی، صدام اور دوسرے ملکوں کے مہیا کردہ کروڑوں ڈالر کی بانٹ کے تنازعہ کی افواہوں کا ذکر بھی ابھارا

اور یہ بھی یاد آیا کہ مرتضی بھٹو کے قتل کے دو چار روز بعد کراچی کی گارڈن روڈ پر آٹو مارکیٹ پر جاتے پولیس لائنز یا کالونی میں غیر معمولی رش دیکھتے مرتضی بھٹو کو گولی مارنے والے پولیس افسر بھی گھر میں سوئے نامعلوم افراد کے ہاتھوں مرتضی کے ساتھی بن چکے تھے، کی خبر سن رہا تھا۔ اور پھر لیاقت باغ راولپنڈی کے نزدیک بے نظیر کے قتل کے فوری بعد دھوئی جا چکی سڑک کا فوٹو بھی ابھر آیا۔ پھر یوں ہوا کہ ایک دو روز قبل یوٹیوب کھولتے ساتھ اوپر نیچے لگی سندھی ٹوپی پہنے اجرک لئے بھٹو جونئیر کی تازہ ویڈیوز کی قطار ابھر آئی۔

پہلی خاصی لمبی پریس کانفرنس نما تھی جس میں ذوالفقار بھٹو جونیئر اپنے خاندانی دکھ، دادا، شاہنواز بھٹو، باپ اور پھوپھی کے قتل کی طرف اشارہ کرتے اس کے نفسیاتی اثر کے تحت ڈریگ آرٹ کی پناہ لئے رکھنے کے بعد اب عوامی خدمت کا جذبہ لئے پاکستان آمد اور مزارات سے تعلق کے بعد آج کل سیلاب زدگان کی خدمت کا ذکر تھا۔ باقی ویڈیوز میں سے چند کے عنوان یوں تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر سیلاب زدگان کے لئے سامنے آ گئے۔
ذوالفقار جونیئر۔ اصل بھٹو۔ عوام وڈیروں سے تنگ ہیں۔
میرے پاس جتنی ہمت ہے، طاقت ہے، میں عوام کی خدمت کروں گا۔
ذوالفقار علی جونیئر بھٹو سیلاب زدگان کی خدمت کرتے ہوئے۔
انقلاب آنے والا ہے۔ لوگ ناراض ہیں۔ بھٹو جونیئر۔
ہاں پہلی وڈیو میں دو باتوں نے توجہ کھینچی۔

ڈریگ آرٹ کے ماہر جونیئر بھٹو کا بولتے ہوئے اپنے آرٹ کی مطابقت سے سر ہلانے کا انداز۔ اور کزن بلاول بھٹو کا بغیر ڈریگ آرٹ کی شدبد کے کافی ملتا جلتا بولنے کا انداز۔

” میں نے ابھی سیاست میں آنے کا نہیں سوچا“ ۔
ہاں اور آخری ویڈیو کا عنوان۔ ”کیا سندھ کو نیا بھٹو مل رہا ہے“
اور مجھے مہاجر قومی موومنٹ اور حق چار یار سے سپاہ صحابہ کے وجود میں آنے کی پھرتیاں کچھ کہہ رہی ہیں۔

تو گویا یہ یوں ہے کہ پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی فاطمہ بھٹو کو اس کے بھائی کے بازوؤں کی طاقت مل چکی ہے یا پکڑائی جا چکی شاید۔ اور ہارس پاور بڑھانے کا بندوبست ہوا یا نہیں اگلے چند ہفتے یہ بھی اگل دیں گے۔

لیکن ایسا ہوتا ہے تو گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں ایک اور شہید کے کتبہ کے اضافے کا امکان تو نہیں۔

(خدا تعالی واقعی جونیئر بھٹو کو حقیقی رنگ میں خدمت کا موقع دے, اس کے زخموں اور دکھوں پہ مرہم کا سامان کرے۔ اور اپنے حفظ امان میں رکھتے ملک و قوم کی مخلصانہ خدمت کی توفیق دے۔)

تو کیا واقعی سندھ کو نیا بھٹو مل رہا ہے؟ اٹلس گروپ کے بانی مرحوم یوسف شیرازی کی زبان سے اکثر (شاید یہ ان کا تکیہ کلام تھا) سنا فقرہ دہراتا ہوں۔ ”آپ بھی سوچئے، میں بھی سوچتا ہوں۔”

اگلی ویڈیوز کا انتظار بی چینی سے ہے تاہم۔

Facebook Comments HS