سندھ کے سرتاج شاعر: شاہ عبداللطیف بھٹائی
شاہ عبد اللطیف بھٹائی، سندھی زبان کے سرتاج شاعر کہے جاتے ہیں۔ وہ نہ فقط سندھ کے سب سے بڑے شاعر ہیں بلکہ برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ بھی مانے جاتے ہیں۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے حبیب، حضور اکرم ﷺ کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ واقعہ کربلا، تاریخ، ثقافت اور رومانوی داستانوں سمیت انہوں نے امن، اتحاد اور جدوجہد کا پیغام عام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تین صدیوں سے ان کا کلام ایک روشن ستارے کی طرح بلندی پر جگمگا رہا ہے۔
شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی ولادت 1689 ع میں سندھ کے تاریخی شہر ہالا میں ہوئی۔ آپ کے والد سید حبیب شاہ اپنے وقت کے عالم تھے اور ان کا شمار اس علاقے کی برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا تھا۔
شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے ابتدائی تعلیم آخوند نور محمد بھٹی سے حاصل کی۔ آپ نے اپنے والد شاہ حبیب سے دینی تعلیم حاصل کی۔
جوانی کے دنوں میں شاہ عبداللطیف بھٹائی اپنے گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک مٹی کے ٹیلے پہ آ کے تنہائی میں قیام کرنے لگے، جس کو سندھی زبان میں بھٹ کہتے ہیں، اسی لئے شاہ صاحب کو بھٹائی کہا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس مقام پہ ان کے مریدوں کی تعداد بڑھتی گئی اور وہ علاقہ آباد ہو گیا۔
شاہ صاحب کو بچپن سے ہی شاعری سے بہت رغبت تھی۔ وہ اپنے والد شاہ حبیب سے شاعری سیکھتے تھے۔ شاہ لطیف کی شاعری میں آفاقی پیغام ہے جیسا کہ شاہ جو رسالو کے پہلے سر میں فرماتے ہیں :
تیری ہی ذات اول و آخر
تو ہی قائم ہے اور تو ہی قدیم
تجھ سے وابستہ ہر تمنا ہے
تیرا ہی آسرا ہے رب کریم
کم ہے جتنی کریں تری توصیف
تو ہی اعلیٰ ہے اور تو ہی علیم
والی شش جہات واحد ذات
رازق کائنات، رب رحیم
(منظوم اردو ترجمہ: شیخ ایاز)
شاہ صاحب کے پاس ہمیشہ تین کتب ساتھ ہوتی تھیں : قرآن پاک، مولانا روم کی مثنوی اور اپنے پر دادا شاہ کریم کی شاعری کا مجموعہ۔ شاہ عبداللطیف رحہ کے کلام میں قرآن پاک کی آیات کا جابجا اثر نظر آتا ہے۔
شاہ صاحب نے جو شاعری کی اس مجموعہ کلام کو ”شاہ جو رسالو“ کا نام دیا گیا۔ یہ مجموعہ کلام تیس ابواب پر مشتمل ہے، جن کو انہوں نے سروں کے نام سے مقرر کیا۔ شاہ صاحب کے کلام کے موضوعات میں اللہ کی ثنا، قدرت کے نظارے، پیارے نبی صہ کی تعریف، امن، پیار، جدوجہد، اخلاقیات اور محبت کا پیغام ہے۔ انہوں نے تاریخی اور عشقیہ داستانیں بھی بیان کی ہیں جن میں سوہنی ماہیوال، سسی پنوں اور عمر مارئی جیسی مشہور داستانیں بھی ملتی ہیں تو واقعہ کربلا جیسی عظیم قربانی کا بھی ذکر ہے۔
شاہ جو رسالو پہلی مرتبہ انگریزوں کے دور میں 1866 ع میں ڈاکٹر ارنیسٹ ٹرمپ مے جرمنی سے شایع کروایا۔ شاہ صاحب کی شاعری کا فلسفہ سمجھنے کے لئے ایک جرمن خاتون اسکالر ڈاکٹر این میری شمل نے پہلے سندھی زبان سیکھی اور پھر انہوں نے شاہ صاحب کے کلام پر تحقیق کی۔ انہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں لکھا ہے کہ: ”میں نے پوری دنیا کے شعرا کو پڑھا مگر مجھے کسی کا بھی فلسفہ شاہ لطیف کے برابر نہیں لگا، اس حوالے سے شاہ صاحب کے کلام کو عالمی کلاسیکی شاعری سے پرکھا جا سکتا ہے۔“
شاہ صاحب کا کلام سلیس و بلیغ انداز میں بیان کیا ہوا ہے۔ سندھ کے ہزاروں لوگ شہر، گاؤں اور پہاڑوں میں بسنے والے شاہ جو رسالو کے حافظ ہیں۔
شاہ عبداللطیف بھٹائی شاعری اور موسیقی کے ماہر تھے۔ انہوں نے اپنے کلام سے کئی سر ایجاد کیے اور خود ایک ساز طنبورو بھی ایجاد کیا۔ عام طور پہ طنبورہ چار تاروں کا ہوتا ہے مگر شاہ صاحب نے ایک اضافی تار لگا کر پانچ تاروں والا طنبورہ بنایا، جس کو خود استعمال کرتے تھے اور اپنے فقیروں کو بھی اس کی تربیت دیتے تھے۔ ان کے پاس گوالیار سے کلاسیکل فنکار اٹل اور چنچل بھی لمبا سفر طے کر کے راگ سمجھنے آئے تھے۔ اکثر رات کے اوقات میں محفل سماع کرواتے تھے۔
شاہ صاحب کے زمانے میں سندھ کے حکمران خود پیر و مرشد کی گدی والے، عباسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جن کے ہزاروں مرید شاہ لطیف کے عقیدت مند بن گئے۔ یہ بات ان کو بہت بری لگی اور شاہ لطیف سے عداوت کرنے لگ گئے۔ اس حوالے سے والیٔ سندھ میاں نور محمد کلہوڑو نے شاہ لطیف کو بار بار مارنے کی سازشیں بھی کیں۔ شاہ صاحب سیاست نہیں کرتے تھے البتہ اپنے کلام کے ذریعے انہوں نے حاکموں، ظالموں اور حملہ آوروں کے خلاف مزاحمتی انداز میں آواز بلند کی ہے۔ سر مارئی میں ان کا یہ انداز واضح نظر آتا ہے، وہ فرماتے ہیں :
اس کا ذکر کچھ یوں کیا ہے،
کیا ہے قید میرے جسم و جاں کو،
عبث سے سومرا سردار تونے،
نہ جانے کیوں ہے یہ ایذا رسائی،
دیے کیوں روں کو آزار تونے،
ازل ہی سے مرے دل کو ودیعت،
ہوئی ہے پیارے، مارو کی محبت۔
( منظوم ترجمہ: شیخ ایاز)
شاہ عبداللطیف بھٹائی کا پیغام فقط ایک خطے کے لوگوں کے لئے نہیں بلکہ ان کی دعا سندھ کو سرسبز و شاداب کرنے کے ساتھ پورے عالم کو آباد کرنے کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
”اے میرے مولا، میرے وطن سندھ، کو ہمیشہ خوشحال رکھ،
اور سندھ کے ساتھ پوری دنیا کو بھی آباد رکھ۔ ”
شاہ صاحب 63 سال کی عمر میں 1752 ع میں اس جہان فانی سے رحلت فرما گئے۔ ان کا مزار بھٹ شاہ کے مقام پر ہے جو اس وقت کے سندھ کے بادشاہ میاں غلام شاہ نے تعمیر کروایا تھا۔ شاہ صاحب کا عرس ہر سال 14 صفر کو منایا جاتا ہے۔






