ممٹی کا بھوت اور ننھی عفرا

لُو کے تھپیڑوں سے سُرخ تپتی دوپہروں میں جب عفرا اور اُسکے بہن بھائیوں کو تھپک تھپک کر سُلانے کی کوشش کرتی اُنکی ماں جب خود تھک ہار کر سو جاتی تو چند ہی لمحوں بعد وہ سب بہن بھائی چُپکے سے ٹھنڈے کمرے سے نکل چھت پر بنی دھوپ سے چمکتی ممٹی پر جا کر کھیل کود میں مشغول ہو جاتے۔ معصوم کلکاریاں موسم کی حدت سے بے خبر ہو کر آسمان کو چھونے لگتیں۔ زندگی اس سے زیادہ حسین ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

پھر ایک دن جانے ایسا کیا ہوا کہ کہ عفرا ممٹی پر جانے سے گھبرانے لگی۔ اُس نے دوپہر کو بھی ماں سے لپٹ کر سونا شروع کر دیا۔ گرمی کی شدت سے گھبرائی اُسکی ماں بہتیرا کوشش کرتی کہ عفرا دُور ہو کر سوئے لیکن عفرا تو مانو بندر کے نوزائیدہ بچے کی مانند اور بھی چمٹتی جاتی۔ ساری دوپہر خوف سے لرزتی عفرا شام ہوتے ہی بالکل نارمل ہو جاتی۔ وہ کسی کو بھی نہ بتا سکی کہ کہ آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ اتنا ڈرنے لگی۔ اُسکے بہن بھائی اُسکے تھر تھر کانپنے کا مذق اُڑاتے لیکن کسی نے بھی وجہ جاننے کی کوشش نہ کی۔

Read more

الوداع مسٹر چپس

موضوع اگرچہ پُرانا ہے لیکن اس کے اثرات چونکہ دیر پا رہنے کا امکان ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس پر بات کی جائے۔ تو قصہ کچھ یوں ہے کہ کوئی دو ماہ قبل میں نے گھر داخل ہوتے ہی حسب معمول فیس بُک کا رُخ کیا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ 55 سال سے انٹرمیڈیٹ کے انگریزی نصاب کا حصہ رہنے والے ناول مسٹر چپس کو خُدا حافظ کہہ دیا گیا ہے۔ میں نے اور مجھ جیسے کئی لوگوں نے اسوقت کیا محسوس کیا ہو گا اس کو لفطوں میں بیان کرنا ذرا مُشکل ہے۔دور طالب علمی میں بوجھ سمجھ کر نپٹانے والے ناول کو جب کچھ عرصہ بعد پڑھا تو یقین جانئیے احساسات یکسر مختلف تھے۔ مسٹر چپس کی جگہ سیرت النبی ﷺ کو انگلش کے نصاب میں متعارف کروایا جا رہا ہے جو کہ یقینا ایک خوش آئند بات ہو سکتی ہے اگر اُس پر عمل کیا جائے اور عمل ایک ایسی چیز ہے جس سے ہمارا اُتنا ہی واسطہ ہے جتنا امریکی حکومت کا بین الاقوامی امن سے ہے۔

Read more

بیاہتا بیواﺅں کے نام

آج شام ہی سے سونیا کے دل کو جیسے پنکھے لگے ہوئے تھے۔ گھر کا کام ختم کر لیا۔ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر سر شام ہی سُلا دیا بےچارے کھیلنے کو ترستے ہی رہے لیکن سونیا کا بس چلتا تو سارے محلے کو نیند کی گولیاں کھلا دیتی یہ تو پھر معصوم سے بچے…

Read more

مرد، عورت اور وہ

آج کے کالم کی شروعات ایک سوال سے کرتے ہیں فرض کیجئے آپ ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ گاڑیوں کے صور اسرافیل سے مشابہہ ہارن اور چلچلاتی دھوپ میں تپتی گاڑی میں بیٹھے آپ ٹریفک کے فرسودہ نظام کو کوس رہے ہیں کہ اچانک میک اپ سے تُھپا ایک چہرہ آپ کے سامنے آتا ہے…

Read more
––>