بچیوں کی طفل کشی اور ہم
کسی بھی انسان کا قتل ایک وحشیانہ جرم ہے اور اس حقیقت سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ حضرت انسان نے پہلی جنگ عظیم سے لے کر دوسری اور پھر وار آن ٹیرر کے نام پر کیے گئے ہر قتل کا حساب رکھا ہے۔ لیکن یہاں بات بڑے پیمانے پر خاموشی سے ناک کے نیچے ہونے قتل عام کی ہو رہی ہے جو صدیوں سے جاری ہے۔ لیکن چونکہ یہ قتل عام ایک لمبے عرصے پر محیط ہے اور مقتول نوزائیدہ بچیاں ہیں تو کیا اس سے کسی کو فرق نہیں پڑ رہا اور نہ ہی کوئی بھی قاتلوں کی بربریت پر دہائی دیتا نظر آتا ہے؟
Read more



