اگر عورت کی وجائنا سے خون نہ بہے تو چالو، مگر مرد کی پاکیزگی کی جانچ کا کیا پیمانہ ہو گا؟

ایک خاتون قاری نے میرا بلاگ بعنوان ”جنسی ابال کو بیلنس کرنے کے لیے سیف سیکس سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے“ پڑھنے کے بعد ایک بڑا زبردست سوال اٹھایا ہے بلکہ یوں کہہ لیں کہ اس منافقت زدہ معاشرے کے چہرے پر جو کھوکھلے اور برائے نام قسم کے اخلاقی ضابطوں کی وجہ سے مسخ ہو چکا ہے ایک زور دار طمانچہ رسید کیا ہے۔ ظاہر ہے مردانگی پر گراں تو ضرور گزرے گا مگر جائزہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر ہٹ دھرمی، انا یا ضد کو آڑے نہ آنے دیا جائے تو بہت سے پیچیدہ معاملات چند گھنٹوں میں حل ہو سکتے ہیں اور صدیوں کے شکوک و شبہات کی دھند یا ڈسٹ بیٹھ سکتی ہے، جس سے کم ازکم سامنے کا منظر تو واضح ہو سکتا ہے، تسلیم کرنا یا نا کرنا ہر ایک کی ذاتی چوائس ہونی چاہیے اور فلسفہ انفرادیت جس کا مہذب دنیا میں چلن ہے بھی اسی فارمولے پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔ قاری کا سوال کچھ اس طرح سے ہے کہ ”جس لڑکے یا مرد نے شادی سے پہلے کہیں منہ کالا کیا ہو اس کا کیسے پتہ چل سکتا ہے؟“
اس سوال کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ سوال کسی مرد نے نہیں بلکہ ایک معزز خاتون نے پوچھا ہے نجانے کتنی خواتین کے من میں روزانہ کتنے سوالات جنم لیتے ہوں گے مگر معاشرے کی نظروں میں ایک ”مثالی“ خاتون کا کردار نبھانے کے چکروں میں انہی سوالات کو اپنے ہاتھوں سے دفن کرنے کی انہیں عادت سی پڑ چکی ہوتی ہے اور مشرقی معاشروں میں یہ عادت اب ایک طرح سے ”سیٹ پیٹرن“ یا کسوٹی بن چکی ہے جس سے انحراف کرنے والی خاتون کو گندی و نجس یا چالو جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے، غیرت کے نام پر قتل اسی روایت کا شاخسانہ ہے۔ میرا جسم میری مرضی کا ببانگ دہل اعلان کرنے والی خاتون اس منافق معاشرے کی نظروں میں گندی یا رنڈی تو ہو سکتی ہے مگر مثالی عورت بالکل نہیں ہو سکتی، ہاں وہ ایک صورت میں معاشرے کے اسٹینڈرڈ پر پورا اتر سکتی ہے اگر وہ اس نعرے کے الفاظ تبدیل کر کے کچھ اس طرح سے کر لے کہ
”میرا جسم مردوں کی مرضی“
اور مرد کی انا کے آگے خود کو سرنڈر کردے۔ مگر اس معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس معاشرے کا مرد ساری زندگی کی رنگینیاں انجوائے کرنے کے بعد عمر کے آخری حصہ میں جب عضو تناسل کارکردگی دکھانے کے قابل نہیں رہتا تو داڑھی رکھ کے سر پر ٹوپی اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ لیتا ہے اور اسی حلیے میں ذرا سی پختگی آنے کے بعد حج و عمرہ کے سفر پر روانہ ہوجاتا ہے، بقول علمائے دین ”ارض مقدس کی یاترا کے بعد بندہ اس طرح سے تروتازہ ہو جاتا ہے کہ جیسے ابھی اس کی ڈلیوری ہوئی ہو مطلب تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔“
مگر یہ سہولتیں عورت کو قطعی طور میسر نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ تو چار دیواری کی رونق ہوتی ہے، ذرا سی غلطی پر مرد کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے اگر قسمت اچھی ہو تو ماں باپ کے گھر یا سزا کے طور پر شوہر کے گھر ہی سسکتی رہتی ہے اور مرد اسی بات کا بہانہ بنا کر دوسری شادی کر لیتا ہے۔ پیشگی بتانا ضروری ہے کہ یہاں داڑھی یا عبادات کا حوالہ دینے کا مقصد ان کا مذاق اڑانا قطعی مقصود نہیں ہے بلکہ اس ”پروٹیکٹیو ماسک“ کے سہارے جو بددیانتی اور خاص قسم کی رعایت یا کالے کرتوت کیے جاتے ہیں ان سے پردہ ہٹانا ضروری ہے۔ اب اسی معزز خاتون کے سوال کو لائیک کرنے کے بعد ایک اور مرد قاری نے اسی سوال کو انتہائی خوبصورتی سے آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے فرماتے ہیں کہ
”جو لڑکا یا مرد کہیں منہ کالا کرتا ہے اسے چالو کیوں نہیں کہا جاتا؟ کیا جنسی عمل میں صرف عورت کا ہاتھ ہوتا ہے مرد کا نہیں؟“
بہت ہی حقیقی اور جاندار سوال ہے جس پر غور کرنا ضروری ہے اور یاد رہے کہ سوال پوچھنے والا ”ہیرا“ مرد بھی اسی معاشرے کا فرد ہے جہاں تمام برائیوں کی جڑ عورت کو سمجھا جاتا ہے مگر اسی بوسیدہ سماج میں ابھی کئی ایسے چہرے موجود ہیں جو اپنی جینوئن رائے دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ایک کڑوا سا سوال ہے مگر اس کا تذکرہ کرنا یہاں بہت ضروری ہے کہ
”عورت کی پاکیزگی کو ماپنے کے لیے بستر پر الگ سے ایک چادر بچھائی جاتی ہے، اس بات کا مشاہدہ کرنے کے لیے کہ خون نکلا ہے یا نہیں اور اسی پیمانے پر اس کی آگے کی زندگی کا فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے مگر عورت کے پاس مرد کی پاکیزگی کو جانچنے کا پیمانہ کیا ہوتا ہے؟“
ویسے حیرت ہے مردوں نے مل کر عورت کی پاکیزگی کو جانچنے کا معیار تو بنا لیا مگر عورت کو اتنا بھی حق دینے کی ہمت نہیں ہے کہ وہ بھی مرد کی مردانگی و پاکیزگی کی جانچ کا کوئی پیمانہ بنا لے، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟
مطلب مال بھی مرد کا اور پرکھ کا پیمانہ بھی اسی کا، مگر ان سارے معاملات میں عورت کی منشا و رضا کہاں ہے؟
جبکہ کڑوی حقیقت یہی ہے کہ مرد کی مردانگی کو عورت سے زیادہ کوئی نہیں جانتا مگر گھٹیا روایات کے نام پر جو تالا اس کی زبان و دماغ پر صدیوں سے لگایا ہوا ہے وہ بے چاری اسی کے ہاتھوں مجبور ہے۔ جس دن وہ ان پابندیوں سے آزاد ہو گئی تو یقین مانیں وہ حقیقت بتانے میں ذرا سی بھی تاخیر نہیں کرے گی کہ
”مرد کتنا مرد ہوتا ہے اور وہ اپنے عضو تناسل کے ہاتھوں کتنا مجبور ہوتا ہے؟“
اس بات کا ثبوت عطائیوں کے جنسی اشتہارات اور فارمیسی کے بڑے بڑے ریک ہیں جو مرد کو مرد بنانے والی مطلب جنسی تقویت والی ادویات سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے سودا بکتا ہے تو مال موجود رہتا ہے۔
کیا یہ جنسی ادویات خواتین خریدتی ہیں یا مرد خریدتے ہیں؟
ہاں ایسا ضرور ہوتا ہو گا کہ عورت اپنی شادی شدہ لائف کو اچھی اور متوازن بنانے کے لئے اپنے شوہر حضور کے لیے ادویات کا بندوبست کر دیتی ہو کون جانے؟
کیونکہ والدین اپنے بگڑے لاڈلے یا نواب کی شادی ایک خوش شکل اور پڑھی لکھی لڑکی سے اسی مقصد کے لیے تو کرواتے ہیں کہ آ نے والی ہمارے لاڈلے کا اچھے سے خیال رکھے اور وہ باہر منہ مارنے سے بچا رہے۔ کیونکہ عزت کا پنڈورا باکس تو عورت کے ناتواں کندھوں پر ٹکا ہوتا ہے۔ اسے اپنی عزت کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کی عزت کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے جس کی ایگو کو ہر لمحہ ٹھیس پہنچتی رہتی ہے۔ مگر ہمت ہے بھائی دونوں عزتوں کا مان رکھنے کے لیے نہ جانے عورت کو کیا کچھ سہنا پڑتا ہے، بدلے میں مرد اس کو اتنی بھی رسپیکٹ یا اہمیت نہیں دیتا کہ خود کی جنسی فراغت کے بعد چند لمحے مزید اس کے ساتھ گزار لے تاکہ اسے بھی جنسی تسکین میسر ہو سکے مگر یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے فراغت کے بعد انتہائی نفرت و حقارت سے مرد دوسری طرف منہ کر کے سو جاتا ہے اور عورت جھلستی رہتی ہے۔ جن کپڑوں کو محض ذاتی تسکین کے لیے مرد انتہائی بے دردی سے اتارتا ہے بیچاری کو پہننے بھی خود ہی پڑتے ہیں۔
”کیا عورت کے لیے یہ انتہائی اذیت ناک احساس نہیں ہے؟“
وہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ وہ تو صرف استعمال ہونے کی چیز ہے جسے مرد انتہائی رعونت سے استعمال کر کے چلتا بنتا ہے۔
اگر عورت چالو ہو سکتی ہے تو مرد بھی چالو ہو سکتے ہیں بس فرق اتنا ہے کہ مرد کو چھپنے کے لئے ہزاروں سہولیات میسر ہیں مگر عورت کو نہیں، اسی لئے وہ نگاہوں میں رہتی ہے۔ اس سے تو خلع کا حق بھی ماں باپ رخصتی کے وقت یہ الفاظ ادا کر کے چھین لیتے ہیں کہ
”بیٹی اب وہی تمہارا آخری گھر ہے پیچھے مڑ کر مت دیکھنا“
آخر میں چند سوال چھوڑے جاتے ہیں کہ
کیا ”مثالی“ صرف عورت کے لیے بننا ضروری ہے مرد کے لئے نہیں؟ کیا پاکیزگی کو برقرار رکھنا صرف عورت کی ذمہ داری ہوتی ہے مرد کی نہیں؟
کیا بہکنا صرف عورت کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے مرد کے نہیں؟
اگر پاکدامن ہونا عورت کا زیور ہے تو پھر مرد کا زیور کیا ہے؟
دو انسانوں کے پیمائشی پیمانے الگ الگ کیسے ہو سکتے ہیں؟

